کشمیر میں طلباء کے غصے کی حقیقت

کشمیر میں سرکار کو تازہ ترین چیلنج طلباء کی طرف سے آیا ہے۔یہاں طلباء کا غصہ کافی وقت سے سرخیوں میں رہا ہے۔دو ہفتہ تک تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کالجوں اور ہائیر سکنڈری اسکولوں کو بند کیا گیا۔ حالانکہ فی الحال طلباء کی مخالفت کی شدت کم ہوگئی ہے لیکن چنگاری ابھی بجھی نہیں ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طلباء نے کشمیر مسئلے کے سیاسی حل کی قرار داد کو کیسے قبول کیا ہے۔ سرکار کے خلاف کالجوں اور سکنڈری اسکولوں کے طلباء کے بڑے احتجاج کو یہاں بڑھتی ہوئی مایوسی کے خلاف رد عمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس کی شروعات 15اپریل کو گورمنٹ ڈگری کالج، پلوامہ سے ہوئی۔وہاں ایک پینٹنگ کمپٹیشن منعقد کرنے کی تجویز کے ساتھ فوج کے ایک میجر ایک مائن ریسسٹنٹ اورمحفوظ امبُش کیسپیئر گاڑی میں بیٹھ کر گئے تھے۔یہ وہاں لڑائی کے علاقے میں اپنے اثرات کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اسے دیکھ کر طلباء مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ان پر پتھر پھینکنے شروع کر دیئے۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ پولیس نے لگ بھگ ایک گھنٹہ تک گولی باری کی جس کے نتیجے میں درجنوں زخمی ہوئے۔
وادی میں اشتعال بھڑکانے کے لئے یہ کافی تھا۔ اسکولوں اور کالجوں کے طلباء بڑی تعداد میں باہر نکلنے لگے۔ یہاں تک کہ لڑکیوں اور نوجوان عورتیں بھی احتجاج میں شامل ہوئیں اور انہیں پہلی بار پولیس پر پتھر پھینکتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکی ایک ہاتھ سے پولیس گاڑی کو مار رہی تھی اور دوسری باسکٹ بال لئے ہوئی تھی۔ دس دنوں کے لئے کالج اور اسکول بند رہے۔کئی علاقوں میں انہیں احتجاج روکنے کے لئے بند کیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں احتجاج اب عام ہو گیا ہے۔کشمیر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین نے شروع میں احتجاج کی اپیل کی لیکن بعد میں طلباء کو اپنے اپنے کلاس میں لوٹ جانے کے لئے کہا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ کچھ اداروں میں ایک دہشت گرد تنظیم اپنے مضبوط نیٹ ورک کے توسط سے احتجاج جاری رکھے ہوئی ہے لیکن پہلی نظر میں اشتعال فطری طور دور تک پھیلا ہوا لگتا ہے اور جس طرح سے لڑکے اور لڑکیاں اس سیاسی لڑائی سے جڑ رہے ہیں ،اس سے لگتا نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں اس جذبے میں کمی ہوگی۔کشمیر کی پُر تشدد سیاست میں مضبوط طلباء تحریکوں کا بڑا حصہ رہا ہے۔

 

 

کشمیر میں اب تک نوجوان احتجاج میں کوئی منظم ڈھانچہ نہیں ہے لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ احتجاج کس سمت میں جائے گا۔کشمیر کی آبادی کا 65فیصد سے زیادہ حصہ نوجوان ہے اور یہ ایسا طبقہ ہے جس پر سیاسی لڑائی کا گہرا اثر پڑا ہے۔ متحدہ حریت کانفرنس جس میں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک شامل ہیں،کو انہیں کنٹرول کرنے میں مشکل ہو رہی ہے۔ تیزی سے پھیلتی افراتفری پر کنٹرول کرنے کے لئے کوئی حقیقی قیادت نہیں ہے۔
کشمیر یونیورسٹی کے ایک استاد یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’ ہمارے نوجوان کس سمت میں جارہے ہیں، یہ ایک خطرناک رجحان ہے اور ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے لئے کون ذمہ دار ہے‘‘؟
گزشتہ دو دہائیوں سے جاری تشدد نے نوجوانوں کے دماغ پر اثر ڈالا ہے ۔انہیں یہ یقین ہوگیا ہے کہ اب بدلائو کی گنجائش نہیں ہے۔ اس یقین نے ان کے اندر یہ سوچ پیدا کرنے میں ایک اہم رول ادا کیا ہے کہ وہ سماج میں بدلائو نہیں لاسکتے ہیں۔ اوکس فیم کے ذریعہ 2003 میں کشمیری نوجوانوں پر کئے گئے ایک مطالعہ میں دعویٰ کیا گیا کہ 90.38 فیصد نوجوان ناراض تھے اور 63.44 فیصد نوجوان ایسے تھے جن کا خاندان سیدھے طور پر تشدد سے متاثر ہوا تھا۔اس مطالعہ میں یہ بتایا گیا کہ طلباء میں تشدد کے سنگین اثرات دکھائی دیئے ،جو ان کی پینٹنگ، تحریر اور بات چیت سے ظاہر ہوتے تھے۔کشمیر میں ممکنہ طور پر اجتماعی سرگرمی محض شادیوں میںیا مسجدوں کے پروگراموں میں حصہ لینا رہ گئی ہے۔
اپنی ہی جائے پیدائش میں گھیرا بندی کے احساس، معاشی تنگی اور جمہوری کارکردگی سے محروم رکھے جانے کے سبب یہاں لوگوں میں مایوسی پیدا ہوئی ہے۔ مایوسی کے اسی احساس نے بالآخر ان نوجوانوںکو پولیس اور دیگر سیکورٹی دستوں سے بڑے پیمانے پر مقابلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ 2010 میں سدور ماچل علاقے میں فرضی مڈبھیڑ کے ایک حادثے میں فوج نے تین نوجوانوں کو مار گرایا تھا۔ مڈبھیڑ کا مقصد مبینہ طور پر ایوارڈ اور پروموشن پانا تھا۔لیکن اس حادثہ کے بعد وادی میں پُر تشدداور بد امنی کے ماحول کا لمبا دور شروع ہوا۔ اس پُرتشدد دور کے ختم ہونے تک 120 شہریوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ مرنے والوں میں 11 سے 20 سال کی عمر کے 44، 21 اور 30 سال کی عمر کے 44 ، 31برس کی عمر سے اوپر کے 16، اور 5سے 10 سال کی عمر کے 3 آدمی شامل تھے۔ مارے جانے والوں میں سب سے زیادہ 39 طلباء تھے اور باقی ہنر مند و غیر ہنر مند مزدور اور تاجر تھے۔
ایک خطرناک حقیقت یہ سامنے آرہی ہے کہ نوجوان اب اپنے ماں باپ کی بھی نہیں سن رہے ہیں۔ اسٹیٹ کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے جڑی سماجی ذہنیت ان بزرگوں کے لئے بھی مشکلیں پیدا کررہی ہیں جو ان نوجوانوں کو یہ راستہ اختیار کرنے کے خلاف صلاح دے سکتے تھے۔ حال ہی میں احتجاج کے مرکز رہے ایک کالج کے سینئر استاد نے کہا کہ ’’ جو کوئی بھی پولیس پر پتھر پھینکتا ہے، اسے ایک جنگجو کی شکل میں دیکھا جاتاہے اور جو لوگ جوابی کارروائی میں مارے جاتے ہیں وہ شہید کہلاتے ہیں۔ لہٰذا سماجی سوچ سے یہ صاف ہو جاتاہے کہ یہ صورت حال کیسے سامنے آئی ۔حقیقت میں سیاسی حوالہ ہی اس طرح کی کارروائی کو جواز فراہم کررہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *