تیس سال کی عمر کے بعد بھی خواتیناپنی جلد کی خوبصورتی برقرار رکھ سکتی ہیں

جلد کو دیکھ بھال کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔ وہ خواتین جو باقاعدگی کے ساتھ اپنی جلد کا خیال رکھتی ہیں انھیں اس کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ جلد کی باقاعدہ حفاظت چہرے کو بڑھتی عمر کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے۔ا کثرخواتین کو جلد کے مختلف مسائل جیسے کہ اسکن پگمنٹیشن ، ناہموار جلد اور حلقوں کا سامنا ہوتا ہے جس کہ وجہ سہی اسکن کیئر روٹین کا نا ہونا ہو تا ۔ جلد کی حفاظت کے یہ چند بنیادی طریقے اپنی روز مرہ زندگی میں اپنانے سے آپ اپنی جلد کو کئی طرح کے مسائل سے بچاسکتی ہیں ۔

1۔ جلد کی صفائی کا خیال رکھیں:
جلد کی کلینزنگ ، موائسچرائزنگ اور ٹوننگ کو اپنے روٹین میں شامل کریں۔ اکثر خواتین صرف نوجوانی میں ہی یہ روٹین رکھتی ہیں جبکہ 30 سال کی عمر کے بعد انھیں اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کلینزنگ ، موائسچرائزنگ اور ٹوننگ کا یہ روٹین جلد کو گرد اور کچیل سے پاک کرنے کے ساتھ جلد کو تروتازہ اور صحت مند بناتا ہے۔

2۔ جلد کے لیے مفید اجزاء کا استعمال کریں:
اپنی خوبصورتی کو بڑھانے کے لیے جو کاسمیٹکس آپ استعمال کرتی ہیں وہ چاہے قدرتی ہوں یا کمپنی کے بنے ہوئے ہوں ان میں ایسے اجزاء شامل ہونے چاہیئے جو جلد کو تروتازہ بنانے میں مدد دیں۔اینٹی اوکسی ڈنٹ ، وٹامن سی اور گلائی کولک جلد کو وقت سے پہلے پڑنے والی جھریوں اور خشکی سے بچاتے ہیں اور جلد کو تروتازہ اور چمکدار بناتے ہیں۔

 

 

3۔ اچھی غذا کھائیں:
اپنی غذا میں پھل اور سبزیاں شامل کریں ۔ تازہ پھل اور سبزیوں کی سلاد جلد کو ٹوکسن سے پاک کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اور جلد کو صحت مند بناتی ہے۔

4۔ سپلیمنٹ :
جلد کو مضبو ط بنانے اور اسکا کھنچاؤ برقرار رکھنے کے لیے وٹامن سی اور وٹامن ای کا سپلیمنٹ استعمال کریں۔ یہ وٹامنز کولاجن بناتے ہیں جو جلد کا کھنچاؤ لمبے عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

5۔ فیس ماسک کا استعمال :
اس کے لیے بازار سے مہنگے ماسک خریدنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے لیے گھر میں موجود قدرتی اجزاء سے بنے ماسک کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
m چہرے اور گردن پر دہی لگائیں۔
m پندرہ منٹ تک لگا رہنے دیں پھر نیم گرم پانی سے دھولیں۔
mمزید بہتری کے لیے دہی مین تھوڑا شہد بھی شامل کریں۔

6۔ فیشل :
خوبصورت اور تر و تازہ جلد کے لیے فیشل بھی نہایت مفید ہے۔ آپ کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہوں مہینے میں ایک مرتبہ فیشل ضرور کرائیں۔ہر ماہ فیشل کرانے سے جلد میں خوبصورت تبدیلی آئے گی۔

7۔ ورزش :
روزانہ تیس منٹ واک کریں یا ورزش کریں ۔ ورزش نا صرف جلد کو صاف کرتی ہے بلکہ خون کے خلیات کو بھی توانائی بخشتی ہے ۔ ورزش جلد سے فاضل مادے بھی خارج کرنے میں مدد دیتی ہے۔ روزانہ ورزش ذہنی دباؤ کم کرتی ہے اور ایکنی سے بچاتی ہے اور ہر طرح صحت مند رکھتی ہے۔

 

 

8۔ ایکس فولی ایٹ:
مردہ جلد کو ہٹانے اور نئی اور چمکدار جلد کے لیے جلد کو تین مرتبہ ایکس فولی ایٹ کیا جائے۔ باریک چینی ، لیموں کا رس اور شہد ملا کر اسکرب تیار کریں اور جلد پر ملیں۔

9۔ پانی:
جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ پانی پئیں ۔ دن میں ۸ سے ۱۰ گلاس پانی نہ صرف صحت کے لیے بلکہ اچھی جلد کے لیے بھی ضروری ہے۔ پانی جسم سے ٹوکسن کو خارج کرتا ہے۔

10۔نائٹ کریم:
سونے سے پہلے نائٹ کریم کا استعمال کریں ۔ نائٹ کریم جلد کی نمی برقرار رکھنے کے ساتھ جلد کو ہموار بھی بناتی ہے۔

11۔ آئی کریم:
۳۰ سال کی عمر کے بعد جلد پر باریک لکیریں اور نمودار ہونے لگتی ہیں ۔ رات کے وقت اچھی کوالٹی کی کریم استعمال کریں جو آنکھوں کے گرد بننے والی باریک لکیروں اور حلقوں کو ختم کرے اس کے لیے اچھی کوالٹی کی آئی کریم کا انتخاب کریں ۔

12۔باڈی لوشن :
صرف آپ کے چہرے کو ہی حفاظت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اپنے پورے جسم کو خوبصورت بنانے کے لیے دن میں دو مرتبہ باڈی لوشن پورے جسم پر لگائیں ۔ جسم کے زیادہ خشک حصوں خاص طور پر کہنیوں ، گھٹنوں اور ایڑھیوں پر زیادہ توجہ دیں۔

13۔ جلد کو نمی بخشیں:
جلد کی حفاظت کا سب سے اہم حصہ جلد کو نمی فراہم کرنا ہے۔ اچھی کوالٹی کا موائسچرائزر استعمال کریں ۔ موائسچرائزر کے ساتھ سیرم کا استعمال نمی فراہم کرنے کے ساتھ جلد پر بننے والی باریک لکیروں ، حلقوں اور کھلے مسام کو ختم کرتا ہے۔

14۔سن اسکرین کا استعمال:
سن اسکرین جلد کو دھوپ کی نقصان دہ شعاؤں سے بچاتا ہے ۔ اگر یہ شعائیں جلد پر اثر انداز ہو جائیں تو جلد پر چھائیاں اور دھبے رونما ہونے لگتے ہیں ۔ ان سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ لازما کریم کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ اگر آپ فاؤنڈیشن استعمال کرتی ہیں تو ایسے فاؤنڈیشن لیں جس میں ایس پی ایف شامل ہوں ۔ اس طرح آپ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔
ان تمام چیزوں کو اپنے روٹین میں شامل کر کے 30 سال کی عمر کے بعد بھی آپ اپنی جلد کی خوبصورتی برقرار رکھ سکتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *