چین میں مذہبی اقدار کی ناقدری

چاہے معاملہ سیاسی ہو یا مذہبی ،ملک چین کہیں بھی جمہوری پاسداری کا خیال نہیں رکھتا۔ حالانکہ وہ خود کو عالمی برادری میں جمہوری اقدار کا حامل ملک کہلوانا چاہتا تھا مگر دنیا جانتی ہے کہ وہاں کی حکومت اپنے لوگوں کو خوب نوازتی ہے اور اپوزیشن خاص طور پر مسلمانوںکو چن چن کو نشانہ پر لیتی ہے۔ یہ بات صرف سیاست تک ہی محدود نہیں ہے ،مذہبی معاملوں میں بھی بے جا مداخلت کرکے عالمی جمہوری اقدار کی ناقدری کرتا ہے اور مسلمانوں کے شہری و انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتاہے۔
چین کے صوبہ سنکیانگ جہاں ایک کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں،کی ریاستی حکومت نے انتہا پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے مسلمانوں پر رمضان المبارک کے روزے رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایک طرف فیکٹریو ں اور کارخانوں میں کام کرنے والے مسلمانوں کو روزے نہ رکھ کر کام کو پورے اوقات جانفشانی سے کرنے کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے مالکا ن کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے تقدس کا خیال کئے بغیر کھانے پینے کے کاروباری مراکز کھلے رکھیں۔اسی طرح مسلمانوں کو اپنے بچوں کے اسلامی نام، داڑھی رکھنے اور مساجد میں جا کر نماز ادا کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ سنکیانگ کی ریاستی حکومت کے اس ظالمانہ فیصلے سے مسلمان بے حد پریشان ہیں۔ وہ اس بات کو محسوس کررہے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم کیاجارہا ہے اور مذہبی آزادی پر قدغن لگایاجارہاہے تاکہ وہ اسلام کے احکام پر عمل نہ کرسکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *