بیٹی کی جہیز میں گائے

میوات کے لوگ حقیقت میں گئو رکشک ہیں لیکن کچھ شر پسند عناصر جو فرقہ وارانہ ماحول بنائے رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ان رکشکوں کو ہی گئو کشی کرنے والا کہہ کر اذیت پہنچاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں الور میں جو کچھ بھی ہوا یہ میواتیوں کے مزاج کے بالکل برعکس تھا،وہاں کے لوگ قطعی گائے کشی کی حمایت نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ تو اپنی بیٹیوں کو جہیز میں گائے دیتے ہیں۔
: میوات کے مسلمانوں میں بیٹی کی شادی کے بعد لڑکے والوں کو گائے تحفہ میں دینے کی روایت ہے، جس کی وجہ سے تقریبا ہر گائوں میں گائے ضرور ملیں گی۔ جبکہ گروگرام سے الور تک محیط اس علاقہ کو گایوں کی اسمگلنگ کے لئے بدنام کیا جاتا رہا ہے۔مسلم اکثریتی اس ضلع کے فیروز پور جھرکا قصبہ کے نزدیک ایک گائوں ہے پانکھوری۔ اس میں تقریبا ایک ہزار گائیں ہیں۔ضلع میں پانچ سو سے زیادہ کنبے ایسے ہیں جن کے پاس 50 سے لے کر 100 گائیں ہیں۔خیال رہے کہ یہاں کی تحصیل نوح کے گائوں جے سنگھ پور کا ہی رہنے والا پہلو خاں بھی تھا، جس کا مبینہ طور پر گایوں کی اسمگلنگ کے الزام میں گئو رکشکوں نے الور (راجستھان) میں پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔پانکھوری گائوں کے ایک گائے پالنے والے ذاکر کے مطابق گائے تو ہمارے باپ دادا بھی رکھتے آئے تھے، گایوں نے تو ہمیں دودھ دیا ہے، ہمارا پیٹ بھرا ہے ، یہ تو مٹھی بھر لوگ ہیں جو اس کام میں ملوث ہیں، جس کی وجہ سے پورے میوات کو گئو کشی کے لئے بدنام کیا جارہا ہے۔میوات میں مویشی پروری محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر نریندر سنگھ کے مطابق اس وقت میوات میں تقریبا 45 ہزار گائے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا اصل کام ہی فصل اور مویشی پروری ہے۔میوات میں گائے کیئر مہم سے وابستہ رضی الدین بتاتے ہیں کہ یہاں 50 سے 100 گائے پالنے والے کم از کم 500 کنبے ہیں، دو تین گائے تو ہزاروں کنبوں کے پاس ہیں۔ان کے مطابق نگینہ کے رمضان کے پاس 200، جھمراوٹ کے مبارک کے پاس 105 اور یہیں کے حکیم الدین کے پاس 100 گائے ہیں۔ آر ایس ایس سے وابستہ مسلم راشٹریہ منچ کے ریاستی صدر خورشید راجاکے مطابق یہاں کے لوگ گایوں کے محافظ ہیں۔ وہ گئو کشی کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *