سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس کی سری نگر کانفرنس

یہ تھا عنوان سرینگر کے ایک مشہور ہوٹل کے کانفرنس روم منعقد ہونے والے رائونڈ ٹیبل کانفرنس کا، جس کا انعقاد’’ سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس‘‘ نامی ایک غیر ریاستی رضاکار تنظیم نے کیا تھا۔ اس محفل کے انعقاد کے لئے نئی دہلی سے سینئر کانگریس رہنما منی شنکر ائر ، معروف سیاسی و سماجی کارکن او پی شاہ، سینئر صحافی اور ’’چوتھی دُنیا ‘‘کے مدیر اعلیٰ سنتوش بھارتیہ، ہندوستان ٹائمز سے منسلک معروف صحافی ونود شرما کے علاوہ کئی معزز شخصیات شامل تھیں۔
23مئی کی بعد دوپہر جب کانفرنس ہال میں مہمانان جمع ہوتے گئے تو یہ دیکھ کر سب دنگ رہ گئے کہ پہلی بار کشمیر کی مین سٹریم سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ ساتھ علاحدگی پسندوں کے دو نمائندے بھی پہلی نشست پر براجمان تھے۔حریت کی جانب سے عبدالمجید بانڈے نے کانفرنس میں شمولیت کی جبکہ جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک دھڑے کے لیڈر جاوید احمد میر بھی یہاں موجود تھے۔مختلف مین سٹریم سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ، بی جے پی، کانگریس اور کئی دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بھی کانفرنس میں تھے۔منتظمین نے تقریباً سب کو مذکورہ موضوع پر بات کرنے کا موقع دیا۔کانگریس لیڈر منی شنکر ائر نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ہمارے پاس مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیںلیکن اس طرح کے مذاکرہ سے رائے عامہ ہموار کرنے اور مسئلے کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔ تاہم انہوں نے کشمیر کے بارے میں بی جے پی حکومت کی پالیسی اور بی جے پی لیڈروں کے بیانات کی کھل کر مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج امیت شاہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر میں صرف ساڑھے تین اضلاع ہی تشدد سے متاثر ہیں۔ منی شنکر آئر کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں انگریز وائے سرائے کا بھی یہی کہنا تھا کہ پرابلم صرف ہندوستان کے چند اضلاع میں ہی ہے۔منی شنکر ائر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بعض نیشنل نیوز چینلز کشمیر کے حالات کی صیح رپورٹنگ نہیں کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے یہاں کے عوام میں کافی ناراضگی اور غم و غصہ پیدا ہوجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اور یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ بات چیت کے لئے متعلقہ لوگوں کو ایک جگہ جمع کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے پاکستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا وہ گزشتہ 35سال میں تقریباً35بار پاکستان جاچکے ہیں اور وہ جانتے ہیں پاکستان میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو امن اور شانتی میں یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے مراسم ہوں۔کئی مقررین نے اپنی تقریروں میں منی شنکر ائر سے مخاطب ہوکر انہیں یاد دلانے کی کوشش کی تھی کہ کانگریس نے مسئلہ کشمیر کو بگاڑنے میں رول ادا کیا ہے اور کانگریس سرکاروں نے اس مسئلے کو حل کرنے میں لاپرواہی کا مظاہر ہ کیا ہے۔ ان مقررین کے چبھتے جملوں کا جواب دیتے ہوئے منی شنکر ائر نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کانگریس نے کشمیر کے بارے میں کئی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم اُن کا استدلال تھا کہ غلطیاں سب پارٹیوں نے کی ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں ، اگر ہم سب سے غلطیاںنہ ہوئی ہوتیں تو آج کشمیر کے یہ حالات نہیں ہوتے۔‘‘
کانفرنس میں تقریر کرنے والے کانگریس رہنما سیف الدین سوز، کانگریس کے ممبر اسمبلی عثمان مجید، سی پی آئی ایم کے محمد یوسف تاریگامی، عوامی اتحاد پارٹی انجینئر رشید ، نیشنل کانفرنس کے آغا روح اللہ، بی جے پی کی حنا بٹ،حریت کانفرنس کے عبدلمجید بانڈے ، لبریشن فرنٹ کے جاوید احمد میر اور دیگر کئی اہم شخصیات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ وکلا ء اورسول سوسائٹی کے کئی نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ علاحدگی پسندوں کی نمائندگی کرنے والے عبدلمجید بانڈے اور جاوید احمد میر نے مسئلہ کشمیر کے پر امن حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر اس خطے میں دائمی امن قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔نیشنل کانفرنس کے نمائندے نے اپنی تقریر میں نئی دہلی سے شکایت کی کہ اس نے کشمیر میں مین سٹریم سیاسی جماعتوں ، جنہوں نے کشمیر اور بھارت کے رشتوں کو مضبوط بنانے میں ایک کردار ادا کیا تھا، کو بھی بے اعتبار کردیا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے نیشنل کانفرنس کی جانب کشمیر کی اٹانومی سے متعلق اُس قرارداد کا تذکرہ کیا ، جسے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے پاس کیا گیا تھا اور پھر مرکزی سرکار نے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔انجینئر رشید نے حسب توقع اپنے تند و تیز لہجے میں کشمیر کے موجودہ حالات کا ذمہ دار نئی دہلی کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے اپنی پالیسیوں کی وجہ سے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک جیسے سینئر علاحدگی پسند رہنما ئوںکو حاشیئے پر لاکھڑا کیا اور نتیجے کے طور پر آج سخت گیر موقف کے حامل عسکری کمانڈرذاکر موسیٰ سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا پہلے تو ہم آزادی چاہتے تھے لیکن اب یہاں خلافت قائم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔سی پی آئی ایم کے لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اپنی تقریر میں بی جے پی کی مرکزی سرکار کو لتاڑتے ہوئے کہاکہ آج وزیر داخلہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک سال میں مسئلہ کشمیر حل کرکے دیں گے لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں جو کام گزشتہ 70سال میں نہیں ہوا اور جو کام بی جے پی کی اب تک کی تین سالہ حکومت میں نہیں ہوا وہ اب ایک سال میں کیسے ہوگا؟ تاریگامی نے اپنے خطاب میں کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر کے حقیقی حالات سے ہندوستان کے دانشوروں اور امن پسند عوام کو واقف کرانے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے بقول مسئلہ کشمیر کے حل میں یہی بات ایک رکائوٹ بنی ہے کہ ہم نے ہندوستان کے سنجیدہ فکر اور دانشور طبقوں تک یہاں کے صیح حالات پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسوں سے یہ مقصد پورا کیا جاسکتا ہے۔صحافی ونود شرما نے اپنی تقریر میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُس خطے میںعوام کی آواز کو دبایا جارہا ہے اور وہاں اس طرح کی کانفرنس کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کانفرنس کے آرگنائزر او پی شاہ نے اپنی تقریر میں یقین دلایا کہ وہ وادی کے حالات و واقعات کو ملک میں سیکولر سوچ رکھنے والے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
نئی دلی سے آئے اس اہم وفد نے ریاستی گورنر این این ووہرا، علاحدگی پسند رہنما ئوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق ، شبیر احمد شاہ اور آغا سید حسن بڈگامی کے علاوہ متعدد سیاسی شخصیات سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
توقع کی جاسکتی ہے کہ دلی کی یہ اہم شخصیات ملک بھر میں کشمیر کے بارے میں جاری منفی پروپگنڈے کا توڑ کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کریں گے۔چونکہ نیشنل میڈیا پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر کے حالات کی عکاسی کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے انصاف نہیں کررہا ہے، اس لئے ملک کی سیول سوسائٹی کے اس طرح کے اقدامات بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *