ہندوستان اور جرمنی کے درمیان معاہدوں پر دستخط

برلن : ہندوستان نے جرمنی کے ساتھ ڈیجیٹلائزیشن، مہارت کے فروغ، پیشہ ورانہ تعلیم، صحت، شہری ترقیات اور ریلوے کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون كے ایک درجن معاہدوں پر آج یہاں دستخط کئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کی مشترکہ صدارت میں یہاں ہند-جرمنی بین الحکومتی مذاکرات کے بعد ان معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔
اس موقع پر مسٹر نریندر مودی نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ جرمنی کوانجینئرنگ، مینوفیکچرنگ اور مہارت سازی کے لئے پیشہ ورانہ تعلیم میں خصوصی مہارت حاصل ہے جبکہ ہندوستان میں 125 کروڑ سے زیادہ کی بڑی آبادی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آج کی تاریخ میں دنیا جدت طرازی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔ ہمارے اقتصادی تعلقات اور تکنیکی تعاون آنے والی نسل کے روشن مستقبل کیلئے بہت ہی ضروری ہی۔
جرمنی ہندوستان کا قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر ابھرا ہے۔ ہم اس میکانیزم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جرمنی میں ہندوستان کے 13740 طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انجینرنگ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے جرمنی کو دنیا کا معروف ملک سمجھا جاتا ہے۔ دونوں لیڈروں نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سائبر سکیورٹی کے میدان میں بھی تعاون بڑھانے کا عہد کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ”ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور مرکوز کارروائی چاہتے ہیں۔ سائبر سکیورٹی اور ہوا بازی کی حفاظت میں بھی ہم آپسی تعاون مضبوط کریں گے” ۔
دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کے سلسلے میں جن معاہدوں پر دستخط کئے گئے ہیں، ان میں پیشہ ورانہ تعلیم، مشینی اوزار سے متعلق مہارت کے فروغ، صحت ، دوائیاں، فارن سروس کے اداروں میں تعاون، ریلوے کے تحفظ، سائبر سکیورٹی، شہری ترقیات، ہند-جرمن ترقیاتی تعاون، جونیئر کارپوریٹ حکام کی تربیت اور ڈیجیٹلائزیشن اور اقتصادی اثرات کے شعبوں کے تقریبا دس علاقوں میں تعاون کے معاہدےشامل ہیں۔ بعد میں سوال جواب کے سیشن میں مسٹر مودی نے ماحولیاتی تحفظ کے سلسلے میں ہندوستان کی فکرمندی کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے لئے ہمارے باپ دادا نے ہمیں فکر کرنا سکھایا ہے۔ہماری اولاد کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ اخلاقی طور پر یہ ایک جرم ہے۔ جب تک اس سوچ کو اپنایا نہیں جاتا، تب تک ماحولیاتی تحفظ کے مسئلے کو ٹھیک سے سمجھا نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 175 گيگاواٹ صاف توانائی کا اہم ہدف مقرر کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *