یہ سنجھوتہ خفیہ کیوں؟

کیا مودی حکومت نارتھ ایسٹ میں ایک اور کشمیر قائم کرنے کی کوشش میں ہے، جس کا اپنا آئین ہوگا، اپنا عدلیہ نظام ہوگا، اپنا جھنڈا ہوگا،اپنی کرنسی ہوگی، اپنا پاسپورٹ ہوگا اور اپنی فوج ہوگی،جو ہندوستانی فوج کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرے گی!ہندوستانی فوج کے اعلیٰ افسران بھی یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی ناگاؤں کو ’آزادی‘ دینے جارہے ہیں، جو آنے والے وقت میں کشمیر سے زیادہ خطرناک معاملہ ثابت ہونے والا ہے۔ نارتھ ایسٹ کے ساتھ ساتھ باقی ہندوستان کے عام لوگ بھی پی ایم مودی سے پوچھ رہے ہیں کہ کشمیری علیحدگی پسندوں کی ’آزادی‘ کی مانگ ملک سے بغاوت اور ناگا باغیوں کی آزادی کی مانگ قوم پرستی کیسے ہے؟ یہ جمہوریت کا واجب سوال ہے،ا س کا جواب وزیر اعظم نریندر مودی کو دینا ہی چاہیے۔
ناگا معاہدہ
مرکز ی اقتدار میں آنے کے سال بھر بعد ہی 3 اگست 2015 کو نریندر مودی حکومت نے نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ ’ایساک موئیوا‘ (این ایس سی این – آئی ایم) گروپ کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیالیکن ملک کے سامنے اس کی تفصیل نہیںرکھی۔ مرکزی حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ پہلے اس کی تفصیل پارلیمنٹ کے سامنے رکھی جائے گی، پھر بعد میں اسے عام کیا جائے گا۔ لیکن مرکزی حکومت نے دونوں کام نہیں کیے۔ نہ اسے پارلیمنٹ میںرکھا اور نہ ہی عوامی پارلیمنٹ کو اس لائق سمجھا۔ سمجھوتہ کو دو سال ہونے کو آئے لیکن مرکزی حکومت نے ملک کو یہ بتانے کی ضرورت نہیںسمجھی کہ سمجھوتہ کے کون کون سے اہم نکات ہیں اور مرکزی حکومت نے ’این ایس سی این‘ کی کیا کیا شرطیں مانی ہیں۔ مرکز نے اسے خفیہ بنا کر رکھا ہوا ہے لیکن نارتھ ایسٹ معاملوںکے ماہر سینئر فوجی افسر مرکزی حکومت کے ذریعہ مانی گئی شرطوں کی پرتیںکھولتے ہیں اور ان پر اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ این ایس سی این (آئی ایم) کے خودساختہ لیفٹیننٹ جنرل اور وزیر خارجہ انتھونی ننگکھن شمرے نے ضمانت پر چھوٹنے کے بعدجو باتیں کہیں ہیں، اس کے بعد سمجھوتہ کی رازداری کہاںرہ گئی؟شمرے کے بیان کو توجہ سے دیکھیں،اس نے تو بتا ہی دیا ہے کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟ شمرے این ایس سی این کے سربراہ موئیوا کا بھانجہ ہے۔ اقتدار کے اعلیٰ گلیاروں میںجس طرح کی آہٹیں سنائی دے رہی ہیں، اس سے مرکزی حکومت کے این ایس سی این (آئی ایم) کے آگے جھکنے کی کئی مثالیں سامنے نظر آنے لگی ہیں۔ غیر ممالک سے بڑی تعداد میںہتھیاروںکاذخیرہ جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے انتھونی شمرے کی ضمانت عرضی پر نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کا کوئی اعتراض نہ درج کرنا اور شمرے کو بڑے آرام سے ضمانت مل جانا،مرکزی حکومت کی عبادت کی کہانی کے بارے میں کافی کچھ کہتی ہے۔
دہلی کے پٹیالہ ہاؤس اسپیشل کورٹ کے جج امرناتھ کے سامنے این آئی اے کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے ’آن ریکارڈ‘ کہا تھا کہ انھیں ای- میل پر این آئی اے سے ہدایت ملی ہے کہ شمرے کی ضمانت کی عرضی پر کوئی اعتراض نہ داخل کیا جائے۔ این آئی اے کے وکیل نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ شمرے کی ضمانت این ایس سی این (آئی ایم) کے ساتھ چل رہے’ امن مذاکرات‘ کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔ شمرے کو ستمبر2010 میں کٹھمنڈو میں گرفتار دکھایا گیا تھا۔ اسے چین کے ساتھ ہتھیاروں کی بڑی ڈیل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن4 اگست 2016 کو این آئی اے نے ہی شمرے کی رہائی کا راستہ کھول دیا۔ رہا ہونے کے بعد انتھونی شمرے نے کہا کہ گریٹرنگالم کی خود مختاری، الگ آئین،الگ عدالتی اورانتظامی بندوبست،الگ کرنسی اور مشترکہ فوج سمجھوتہ کی اہم شرائط ہیں۔ شمرے نے اس بات کی تصدیق کی کہ سمجھوتہ کی بنیاد پر نئی ناگا ریاست کا اپناالگ عدالتی نظام، نظم و نسق اور انتظامی بندوبست ہوگا۔ دفاعی مسئلے پر نارتھ ایسٹ فرنٹیئر آرمی،ہندوستانی فوج اور ناگا فوج مشترکہ طور پر کام کرے گی۔ ناگالینڈ اور ہندوستان کی اپنی الگ الگ آزاد پہچان ہوگی۔ناگالینڈ کی زمین اور وسائل کا استعمال صرف ناگا ہی کریںگے۔

 
مسودہ کے مشمولات
نارتھ ایسٹ معاملوںکے ماہر اور نارتھ ایسٹ میںکور کمانڈر رہے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جے آر مکھرجی کا کہنا ہے کہ اب تک جو سراغ ملے ہیں، ان کے مطابق مرکزی حکومت ناگاؤں کو الگ آئین،الگ جھنڈا،الگ کرنسی اورالگ پاسپورٹ کا اختیار دینے کے لیے رضامند ہوگئی ہے۔ جنرل مکھرجی کہتے ہیں کہ اس سمجھوتہ سے ناگالینڈ کا اقوام متحدہ میںاپنا نمائندہ تعینات ہونا طے ہوجائے گا۔ ناگالینڈ کا دفاعی اور خارجہ مسئلہ حکومت ہند کے ساتھ جوائنٹ موضوع ہوگا۔ ناگالینڈ کی اپنی فوج ہوگی جو ہندوستانی فوج کے ساتھ مشترکہ طور پر کام کرے گی۔ سمجھوتہ کے تحت ناگا آبادی کے سبھی علاقے گریٹر ناگالینڈ میںشامل کرنے کی بھی اندرونی سطح پر تیاری چل رہی ہے۔ گریٹر ناگالم میںناگالینڈ کے ساتھ ساتھ منی پور، اروناچل پردیش اور آسام کی ناگا آبادی کے علاقے بھی شامل ہوںگے۔ اس تجویز کی منی پور ریاست کی طرف سے پہلے سے ہی پُرزور مخالفت ہورہی ہے، لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک طرف منی پور کی ’اسمتا‘ کو برقرار رکھنے کی تقریریں کرتے ہیں تو دوسری طرف گریٹر ناگالم کے قیام کے لیے سمجھوتے کرتے ہیں۔ فوج کی ایسٹ کمان سے منسلک ایک سینئر فوجی افسر کہتے ہیںکہ ناگا سمجھوتے میں مرکزی حکومت کی رضامندی کے یہ مدعے اگر سچ ہیں تو پھر ناگالینڈ کو ہاتھ سے نکلا ہی سمجھئے۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر ،تمل ناڈواورریاستی قوم پرستیکے جذبوںسے بھرپور کئی دیگر ریاستوں میںپُرتشدد تحریکوںکے بھڑکنے کے خدشات کو بھی خارج نہیںکیا جاسکتاہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے این ایس سی این کے تھوئنگلینگ موئیوا اور ایساک چی سی سووکی قیادت والے گروپ سے امن کا سمجھوتہ کیا، لیکن این ایس سی این کے ایس ایس کھاپلانگ اور کھولے کونیاک کی قیادت والے گروپ سمیت کئی اہم گروپوں کو امن مذاکرات سے الگ رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناگالینڈ کی الگ فوج رکھنے کی رضامندی اس دلیل پر دی گئی کہ کھاپلانگ گروپ کا مقابلہ کرنے کے لیے موئیوا گروپ کو الگ سے ہتھیار اور فوج کی ضرورت ہوگی۔ سمجھوتہ پر این ایس سی این کی طرف سے موئیوا نے دستخط کیے ہیں۔ عجیب لیکن سچائی یہ ہے کہ ناگا امن سمجھوتہ میںمرکزی حکومت کے ذریعہ مانی جانے والی شرائط پر وزارت داخلہ نے گہر ااعتراض کیا تھا لیکن وزیراعظم اور ان کے سپہ سالاروں نے اس اعتراض کو درکنار کردیا۔ وزیر داخلہ سے بڑی اوقات سیکورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووال کی ثابت ہوئی جن کی سفارش پر آر این روی ناگا شانتی سمجھوتہ کے اعلیٰ مذاکرات کار مقرر کیے گئے۔ امن مذاکرات میںثالثی کے لیے سابق انٹیلی جنس افسر آر این روی کا نام تجویز کیے جانے کی بھی وزارت داخلہ نے مخالفت کی تھی۔ وزیر داخلہ نے جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئر مین اجیت لال کا نام تجویز کیا تھالیکن مودی نے اپنے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی نہیں سنی اور ڈوبال کاکہنا مان کر سابق انٹیلی جنس افسر آر این روی کو اعلیٰ مذاکرات کار بنا ڈالا۔ اعلیٰ مذاکرات کار کی دوڑ میںلیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) آر این کپور اور آسام پولیس کے سابق چیف جی ایم شریواستو کا بھی نام تھا،لیکن پی ایم او میں ان کی نہیں چلی۔

 
مذاکرات میںصرف ایساک ہی کیوں؟
وزیر داخلہ اور نارتھ ایسٹ معاملات کے ماہرین کے اعتراضات کو نظرانداز کرکے امن مذاکرات میںصرف ایساک موئیوا گروپ کو ہی کیوں شامل کیا گیا اور کھاپلانگ گروپ کو کیوں الگ تھلگ رکھا گیا؟ یہ سنگین سوال ہے او ر اس سمجھوتہ کی مشکوک اندرکی کہانی کی جانب اشارہ کرتاہے۔ سال 2015 کے اگست مہینے میںمرکزی حکومت این ایس سی این ایساک موئیوا گروپ کے ساتھ خفیہ سمجھوتہ کرتی ہے اور 16 ستمبر کو این ایس سی این کھاپلانگ گروپ پر بین لگانے کا فرمان جاری کردیتی ہے۔ مرکزی حکومت جون 2015 میںمنی پور میں سیکورٹی فورسیز کے 18 جوانوںکے مارے جانے کے واقعہ سے کھاپلانگ گروپ کو جوڑ کر ، چار مہینے بعد اسے دہشت گرد تنظیم ہونے کا اعلان کرکے اس پر پابندی لگادیتی ہے۔ پابندی لگانے سے قبل ہی میانمار سرحد میں گھس کر کھاپلانگ گروپ کے دہشت گردوں کو مار ڈالنے اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیے جانے کی ’ملٹری اسٹرائک‘کی خوب تشہیر و توسیع کی جاتی ہے، لیکن یہ اصلیت ملک کو نہیںبتائی جاتی کہ میانمار (برما) سرکار نے اپنے یہاںساگائنگ ڈویژن کو باقاعدہ ناگا سیلف ایڈمنسٹرڈ زون ڈکلیئر کررکھا ہے، جس میںمیانمار کے چھ ضلعے تامو، مولائک ، فؤنپن، ہومالن،کھامٹی اور تانائی ضلعے شامل ہیں۔ حال ہی میں میانمار سرکار نے تین ضلعے واپس لیے ہیں اور دیگر تین ضلعوںلائشی، لاہے اور نامیُنگ میں کھاپلانگ گروپ کا آٹونومس ڈسٹرکٹ کونسل قائم ہے۔ کھاپناگ گروپ لگاتار یہ مانگ کرتا رہا ہے کہ امن مذاکرات میںاسے بھی شامل رکھا جائے لیکن کچھ نامعلوم دجوہات کے سبب مودی اور ان کے نمائندوں نے اس طاقتور گروپ کو دودھ کی مکھی بنا کر باہر کردیا۔ مشرق کے ناگاؤں کو اس بات کا بہت ملال ہے کہ مودی حکومت نے ان کو نظرانداز کیا جبکہ مغرب کے ناگاؤں کی خوب سنی۔ کھاپلانگ گروپ نہ صرف ناگالینڈ بلکہ ارونا چل پردیش اور میانمار تک ناگاؤں کے بیچ خاصا اثردار اور مقبول ہے۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ ایک گروپ کے ساتھ امن مذاکرات کرکے مرکزی حکومت نے پورے علاقے کو کس تشدد آمیز دشمنی کی آگ میں جھونکنے کا پس منظر تیار کردیا ہے؟
سال 1956کی بات ہے جب ناگالینڈ کی آزاد پہچان کی مانگ تشدد آمیز جنگ کی شکل میں بدل گئی تھی اور اے زیڈ پھیزو نے ناگا نیشنل کونسل (این این سی) کو پوری طرح اپنے کنٹرول میںلے لیا تھا۔ اس کے بعد ہی ناگا پہاڑی علاقوں کو شورش زدہ ڈکلیئر کیا گیا اور اسے فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ تب سے یہ علاقہ لگاتار شورش زدہ ہی ہے۔ تب نہرو نے کہا تھا کہ فوج کچھ ہی مہینوں میں ہٹا لی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور مختلف اسباب سے فوج کی موجودگی وہاں لگاتار بنی ہوئی ہے۔ بری فوج کی تیسری کور کا ہیڈکوارٹر دیماپور میں قائم ہے۔ ایساک موئیوا گروپ کے نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این) کے ساتھ 1997 سے جنگ بندی نافذہے۔ تب سے لگاتار حکومت ہند اور این ایس سی این کے ساتھ سمجھوتہ مذاکرات جاری ہیں۔ ہم یہ بھی یاد کرتے چلیں کہ ناگا نیشنل کونسل اور مرکزی حکومت کے بیچ 1975 میں ہوئے شیلانگ سمجھوتہ کے خلاف 31 جنوری 1980 کو ایساک چسی سوو، تھوئنگلینگ موئیوا اور ایس ایس کھاپلانگ نے مل کر نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کی تشکیل کی تھی۔ 1988 میں کھاپلانگ نے ٹوٹ کر اپنا الگ گروپ بنالیا۔

 
25 جولائی 1997 کو مرکزی حکومت اور این ایس سی این (آئی ایم) کے ساتھ سمجھوتہ ہوا اور دونوںطرف سے جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ لیکن اس درمیان کوئی مستقل حل نہیں تلاش کیا جاسکا۔ 28 جون 2016 کو ایساک چسی سوو کی وفات کے بعد تھوئنگلینگ موئیوا این ایس سی این (آئی ایم) کے ساتھ ناگا امن سمجھوتہ کیاگیا اور دعویٰ کیا گیا کہ اس سمجھوتہ سے 60 سال پرانے تنازع کا حل نکل آیا ہے۔ لیکن کیا حل نکلا؟ اس بارے میںمرکزی حکومت نے ملک کو کچھ نہیںبتایا۔ یہ سوال ملک کے سامنے کھڑا ہی رہ گیا کہ آخر ناگا امن سمجھوتہ کا کیا نتیجہ نکلا؟ وزیر اعظم بننے کے بعد سے نریندرمودی خاص طور پر نارتھ ایسٹ کو لے کر کافی سنجیدہ دکھائی دیتے رہے اور نارتھ ایسٹ کے تمام منصوبوں کی پوری تشہیرو توسیع بھی ہوتی رہی لیکن لوگوںکو یہ سمجھ میںنہیںآرہا ہے کہ ناگا امن سمجھوتہ کو لے کر مودی نے خاموشی کیوںاختیار کررکھی ہے؟ یہ بھی سرکاری طور پور واضح نہیںکیا گیا کہ ناگا امن سمجھوتہ آزاد خودمختار ناگالم راشٹر کے لیے ہوا ہے یا گریٹر ناگالم اسٹیٹ کے لیے۔ فوج کے ذرائع اور خود این ایس سی این (آئی ایم) کے اعلیٰ کمانڈر شمرے جس طرح کی باتیں کررہے ہیں، وہ ناگا آزادی کی طرف بڑھنے کا ہی اشارہ ہے۔ مرکز کو یہ تو بتانا ہی چاہیے کہ آزاد خودمختار ناگالم کی مانگ کرنے والے این ایس سی این (آئی ایم) کو آخر کن شرائط پر سمجھوتہ کے لیے راضی کیا جاسکا۔ ایسی رازداری پہلی بار برتی گئی ہے۔ حکومت نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس سمجھوتہ سے گزشتہ 60 سال سے چلا آرہا تعطل تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
این ایس سی این سمیت کئی تنظیمیں طویل عرصہ سے گریٹر ناگالم یا گریٹر ناگالینڈ کی مانگ کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے تحت منی پور، اروناچل پردیش اور آسام کی ناگا کمیونٹی کی بڑی تعداد والے پہاڑی ضلعوں کو ملا کر گریٹر ناگالینڈ بنانے کی مانگ کی جاتی رہی ہے۔ مرکزی حکومت این ایس سی این (آئی ایم) کو خود مختاری دینے پر راضی ہوگئی ہے لیکن اس کا طریقہ کار کیا ہوگا اور یہ کیسے لاگو ہوگا، اس پر سسپنس بنا ہوا ہے۔ ناگا امن مذاکرات کے عمل سے جڑی وزارت داخلہ کے ایک افسر کہتے ہیںکہ ناگا اکثریتی علاقوںکے گریٹر ناگالینڈمیںشامل کرنے کے مسئلے کو فی الحال کنارے رکھ کر باقی مسئلوںپر دونوںفریقوں میںاتفاق رائے ہوگیا ہے۔دونوںفریق کھاپلانگ گروپ اور اس کا ساتھ دینے والے گروپوں کا پوری طرح صفایا کرنے پر رضامند ہیں۔ مرکز نے ناگالم کی مانگ کو سرے سے خار ج نہیں کیا ہے۔ اسے فی الحال مستقبل پر چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ آسام، ارونا چل پردیش اور منی پور میں ہورہی شدید مخالفت کے سبب ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ لیکن ناگا سمجھوتہ کی اصل مانگ ناگا اکثریتی علاقوں کو ایک ساتھ کرنے کی ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) کے چیف تھوئنگلینگ موئیوا منی پور کے اُکھرول ضلع کے شون گرام (سومڈال) گاؤں کے رہنے والے ہیں، اس لیے ناگا اکثریتی علاقوںکے ضم ہونے کی مانگ ان کے وقار سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔

 
ملک کے لیے ایک اور خطرہ
بہرحال این ایس سی این چیف تھوئنگلینگ موئیوا کے بھانجے انتھونی شمرے کی گرفتاری اور پھر ڈرامائی انداز میںرہائی سے فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کا ’اینٹینا‘ چوکنا ہوا لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیںنکلا۔ بے لگام پی ایم او اور طاقتور سیکورٹی ایڈوائزر کے سبب فوج اور خفیہ ایجنسیوںکے اعلیٰ افسران کھلے طور پر بھلے ہی کچھ نہ کہیں لیکن ان کے اپنے دائرے میںاس بات کو لے کر چرچا اورگہری تشویش ہے کہ چین سے تعلقات کے تناظر میں ناگا سمجھوتہ ہندوستان کے لیے ایک اور خطرے کا مہانا کھولنے جیسا ہوگا۔ نارتھ ایسٹ میںدہشت گردی بھڑکانے کے لیے چین ہتھیاروںکی اندھادھند سپلائی میںلگا ہوا ہے۔ شمرے کی گرفتاری اس کی سرکاری طور پر تصدیق ہے۔ ہتھیار وں کے عوض میںچین پیسہ کم ہندوستان کی جاسوسی زیادہ چاہتا ہے تاکہ اسے نارتھ ایسٹ میںتعینات ہورہے میزائل سسٹم اور دیگر ٹھکانوںکا پتہ چلتا رہے۔ کچھ سال قبل یہ سرکاری طور پر خلاصہ ہوا تھا کہ چینی افسروں نے منی پور کے یو این ایل ایف لیڈروں سے ہندوستانی میزائلوں کے نصب ہونے اور فوجیوںکی نقل و حرکت کے بارے میں جانکاریاں مانگی تھیں لیکن حکومت ہندنے اس مسئلے کو نہیںاٹھایا اور نہ ہی اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔
شمرے نے این ایس سی این کی طرف سے چین کے سب سے بڑے اسلحہ ساز نورنکو کو ایک لاکھ ڈالر کی پیشگی ادائیگی کی تھی۔چین کے ہتھیار بنانے والے کو شمرے نے بینکاک میں پیسہ دیا تھا۔ نورنکو کی چائنا نارتھ انڈسٹریز کارپوریشن اور این ایس سی این (آئی ایم) کے بیچ دس ہزار اسالٹ رائفلیں، پستول، راکٹ لانچر ہتھ گولوں اور گولہ بارود کی خرید کے لیے ڈیل ہوئی تھی۔ یہ اطلاعات ذرائع کے حوالہ سے نہیں، بلکہ وزارت داخلہ کی سرکاری دستاویزوں کے حوالے سے لکھی جارہی ہیں۔ فوجی خفیہ ایجنسی کے افسر کہتے ہیںکہ نورنکو چینی فوج کا ہی ایک ’کور فیس‘ ہے۔ نورنکو اور این ایس سی این (آئی ایم) کا کافی پرانا رشتہ ہے۔ یعنی این ایس سی این (آئی ایم) چین کا ہی ایک مہرہ ہے۔ کچھ سال قبل بنگلہ دیش میں جو ہتھیاروںکا بڑا بھاری ذخیرہ پکڑا گیا تھا، وہ این ایس سی این (آئی ایم) کے لیے ہی آیا تھا۔ اسی وقت نورنکو کانام اجاگر ہوا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ چین کے ذریعہ اس طرح کے ہتھیاروں کی مسلسل سپلائی کا مسئلہ حکومت ہند نے دو فریقی بات چیت میں یا انٹرنیشنل فورم پر کبھی نہیںاٹھایا۔ ناگالینڈ اور نارتھ ایسٹ کے دہشت گرد آرام سے چین جاکر ہتھیاروں کی ڈیل کرلیتے ہیں۔ چین نارتھ ایسٹ کی دہشت گرد تنظیموںکو اپنی زمین پر ٹھکانے بنانے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ این ایس سی این اور الفا سمیت کئی تنظیمیں چین کے یُنّان سمیت کئی دیگر سرحدی صوبوں سے تنظیمیں چلاتی رہی ہیں، یہاںتک کہ چین کی فوج کے ذریعہ دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے کی خبریں بھی ملتی رہی ہیں اور پی ایم او میں دبتی رہی ہیں۔ چین میںٹریننگ لینے والے دہشت گردوں میںمنی پور کے یونائٹیڈ نیشنل لبریشن فرنٹ (یو این ایل ایف) کے چیف میگھین کا بھی نام ہے، جسے بعدمیںگرفتار کیا گیا تھا۔ میگھین منی پور راج گھرانے سے منسلک ہے۔ اس کے پاس سے چین کی حرکتوںسے جڑی تمام دستاویزات برآمد کی گئی تھیں۔

 
اٹل – مودی کی مقبولیت کا راز
نارتھ ایسٹ ریاستوں میں خاص طور سے ناگا لینڈ کا مسئلہ اتنا الجھا رہاہے کہ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک کسی بھی وزیر اعظم کو ناگالینڈ کی زمین پرعزت و احترام حاصل نہیںہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور موجودہ نریندر مودی اس سے استثنا ہیں۔ واجپئی نے ناگاؤں کی نایاب تاریخی ثقافت کی تعریف کی تھی اور مرکزی حکومت کے ذریعہ کی گئی غلطیوں کو عوامی طور پر قبول کیا تھا۔ اٹل نے 1962 سے لے کر 1965، 1971اور کارگل جنگ تک ناگالینڈ کے فوجیوں کی شراکت اور قربانی کو خاص طور پر اجاگر کیا تھا۔ اسی لیے ناگاؤں میںاٹل بہاری واجپئی کی تاریخی تقریر کو آج بھی ناگالینڈ کے لوگ یاد کرتے ہیں۔ اگست 2015 میںناگاؤں کے ساتھ امن سمجھوتہ کرکے نریندر مودی بھی خاصے مقبول ہوگئے لیکن اس سمجھوتہ کو لے کر اروناچل، منی پور اور آسام میں ان کی مذمت بھی ہورہی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میںاندرا گاندھی اور راجیوگاندھی نے تو کبھی بھی کوہیما کا سفر ہی نہیںکیا۔ 30 مارچ 1953 کو جواہر لعل نہرو کوہیما گئے تھے لیکن ان کی سبھا میں پانچ ہزار ناگا شہری نہرو کی طرف سے پیٹھ گھماکر بیٹھ گئے تھے ۔ اس سے نہرو نے کافی بے عزتی محسوس کی تھی۔ مرار جی ڈیسائی اور ایچ ڈی دیو گوڑا بھی ناگالینڈ گئے لیکن ان کی یاترا کہیںبھی کسی بھی سیاق و سباق میں قابل ذکر نہیںہے۔

 
مشکوک سمجھوتہ میںپیٹرول کا مشکوک رول
این ایس سی این (آئی ایم) اور مودی سرکار کے بیچ ہوئے ’ مشکوک ‘ سمجھوتے کے پیچھے تیل کا بھی کھیل ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) تیل بلاک کا پورا ٹھیکہ اپنے ہاتھ میںلینا چاہتا ہے، جبکہ کئی اہم صنعت کار اسے ہتھیانے کے فراق میں ہیں۔ 2012 کے ناگالینڈ پیٹرولیم اینڈ نیچرل گیس ریگولیشنس کے تحت تیل فیلڈ ناگالینڈ سرکار کے دائرہ اختیار میںآگئے اور سرکار نے تیل کا ٹھیکہ نجی کمپنیوں کو دے دیا۔ این ایس سی این و دیگر تنظیموں کی پُرتشدد مخالفت کو دیکھتے ہوئے جب آئل اینڈ نیچرل گیس کمیشن نے ناگالینڈ میں تیل اورگیس کے ذرائع تلاش کرنے کا کام چھوڑ دیا ، تب او این جی سی کے ذریعہ چھوڑے گئے تیل فیلڈ پر بھی ناگالینڈ سرکار نے قبضہ کرلیا۔ پیسے کا سب سے مضبوط ذریعہ ہونے کے سبب نارتھ ایسٹ کے تیل بلاک ناگا امن سمجھوتہ کی جڑ میںہیں۔ ماہرین مانتے ہیں کہ یہ تیل بلاک اگر حکومت ہند کے ہاتھ سے نکل گئے تو بڑے سرمایہ کا ذریعہ این ایس سی این کے ہاتھ لگ جائے گا، جس کے دور رس منفی نتیجے نکل سکتے ہیں۔ سرکاری اندازہ ہے کہ اکیلے ناگالینڈ میں60 کروڑ (چھ سو ملین) ٹن تیل اور نیچرل گیس کا ذخیرہ ہے۔ اگر اس کا پور ی طرح استحصال ہوا تو ملک کی تیل گیس پیداوار میں 75 فیصد کا اضافہ ہوجائے گا۔مرکز نے بہت دنوں کے بعد ایک بار پھر نئی پالیسی بناکر او این جی سی اور آئل انڈیا لمیٹڈ کے دائرہ اختیار میںرہے تیل بلاکس کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ فیصلہ بھی ناگا امن سمجھوتہ کے پینچ میںپھنس گیا۔

 
باقی گروپ نظرانداز کیوں؟
ناگا سمجھوتہ کو لے کر یہ بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت نے امن مذاکرات میںصرف این ایس سی این کے ایساک موئیوا گروپ کو ہی کیوں شامل رکھا؟ مرکزی حکومت نے کھاپلانگ گروپ پر پابندی لگاکر ایساک موئیوا گروپ کے مفاد کو کیوںسادھا؟ گریٹر ناگالینڈ کو لے کر نارتھ ایسٹ کی کئی تنظیمیں طویل عرصہ سے تحریک چلارہی ہیں، پھر سمجھوتہ مذاکرات میں ان تنظیموں کو شامل کیوں نہیںکیا گیا؟ ایساک موئیوا گروپ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے ایک ماہ بعد ہی مرکز نے غیر قانوی سرگرمیاںممنوع قانون کے تحت کھاپلانگ گروپ کو بین کرنے کا نوٹیفکیشن کس دباؤ میںجاری کیا۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ مارچ 2015 میںکھاپلانگ گروپ نے ہی امن مذاکرات میں شریک ہونے سے منع کردیا تھا۔
بہرحال ناگالینڈ میںکھاپلانگ گروپ کے علاوہ فیڈرل گورنمنٹ ناگالینڈ ’نان ایکارڈسٹ‘ (این این سی -ایکارڈسٹ) اور جھیلیانگرونگ یونائٹیڈ فرنٹ (زیڈ یو ایف) جیسی تنظیمیںکافی سرگرم ہیں۔ ان کے علاوہ ناگا نیشنل کونسل ’اڈینو‘ (این این سی -اڈینو) ، نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ ’یونیفکیشن ‘ (این ایس سی این -یو) ، نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ ’کھول – کیٹووی‘ (این ایس سی این کے کے) اور نیشنلسٹ سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ ’ریفارمیشن‘ (این ایس سی این – آر) جیسے گروپ بھی اپنی سرگرمیاں بنائے ہوئے ہیں۔ کھاپلانگ گروپ نہ صرف ناگالینڈ بلکہ منی پور، ارونا چل پردیش اور آسام کے کچھ اضلاع میںبھی سرگرم ہے۔ کھاپلانگ گروپ کو نارتھ ایسٹ کا سب سے خطرناک اور طاقتور گروپ کہا جاتا ہے۔ ناگا آدیواسیوں کی تقریباً 17 اہم ذاتیں اور 20 ذیلی ذاتیں ہیں۔ ناگا تنظیمیں ان ہی اہم ذاتوں کی الگ الگ نمائندگی کرتی ہیں۔ ان سبھی تنظیموں میںاس بات کی گہری ناراضگی ہے کہ سمجھوتہ مذاکرات میںانھیں شامل نہیںکیا گیا۔ کھاپلانگ گروپ امن مذاکرات میںشریک ہونے کی پھر سے پہل کررہا ہے۔ کھاپلانگ گروپ کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف نیکی سومی نے عوامی طور پر بیان دیا کہ کھاپلانگ گروپ کے فوجی چیف ایساک سومی نے میانمار میں ہندوستان کے سفیر وکرم مسری سے مل کر امن مذاکرات میں شریک کیے جانے کی رسمی گزارش کی۔سفیر نے حکومت ہند کو اس بارے میںاطلاع بھی کردی، لیکن مرکز نے اس پر کوئی توجہ نہیںدی۔ کھاپلانگ گروپ کے ذریعہ جنگ بندی معاہدہ توڑے جانے کو لے کر مرکز کی ناراضگی بھی اپنی جگہ جائز ہے۔

 
سمجھوتہ کہیں خودکشی ثابت نہ ہو
نارتھ ایسٹ اور چین کے معاملوں کے ماہرافسر ان کو اس بات کا خدشہ ہے کہ این ایس سی این (آئی ایم) سے ہوا سمجھوتہ ہندوستان کے لیے کہیں خود کشی نہ ثابت ہوجائے۔ ان کا ماننا ہے کہ این ایس سی این ہمیشہ سے چین پرست رہا ہے، اس کی وابستگی چین کے تئیںزیادہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیںکہ این ایس سی این حکومت ہند کے ساتھ سمجھوتہ کرکے چین کی حکمت عملی کوہی عمل میںلارہا ہو۔ خفیہ ایجنسیوں کو چین کی پلاننگ سے جڑی کچھ دستاویزیںملی تھیں۔یہ دستاویز یں چین سے ٹریننگ لے کرآئے دہشت گردوں کی گرفتاری میں برآمد ہوئی تھیں۔ چین کا پلان رہا ہے کہ ہندوستان پر پہلے تبت کے جنوب کی طرف سے ’سلی گوڑی گلیارے‘ پر دھاوا بوالا جائے، جس سے پورے نارتھ ایسٹ کو باقی ہندوستان سے کاٹا جاسکے۔ پھر باغی گروپوں کی مدد سے ہندوستانی فوج کو طویل عرصہ تک الجھائے رکھا جائے اور آرام سے ارونا چل پردیش کے وسیع علاقے پر قبضہ کرلیا جائے۔ اسی حکمت عملی کے تحت چین لگاتار ناگا،میزو، منی پوری،اُلفا سمیت کئی دیگر دہشت گرد گروپوں کو نہ صرف جدید ہتھیار مہیا کرا رہا ہے بلکہ انھیں اپنے یہاں محفوظ اڈے اور فوجی ٹریننگ بھی دستیاب کرارہا ہے۔ لیکن مودی سرکار کے لیے یہ قابل غور سوال نہیں ہے۔

 
این ایس سی این (آئی ایم) کو ہتھیار لانے لے جانے کی چھوٹ
حکومت ہند نے این ایس سی این (آئی ایم) کو ہتھیار خریدنے، رکھنے او رساتھ لے کر چلنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ انھیںہتھیار حکومت ہند سے ہی خریدنے ہوں گے۔ حکومت ہند نے این ایس سی این کے کچھ خاص کیمپوںکو بھی ہتھیار رکھنے کی چھوٹ دے دی ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) کے ممبروں کو لال، پیلا اور ہرا کارڈ دیا گیا ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) کے جن ممبروں یا کمانڈروں کے پاس لال کارڈ ہوگا،انھیںاپنے ساتھ ہتھیار لے کر چلنے کی چھوٹ رہے گی۔ لال کارڈ ہولڈر ممبر یا کمانڈر اپنے ساتھ ہتھیار لا اور لے جاسکیںگے۔حکومت ہند نے یہ غیر قانونی سہولت صرف این ایس سی این (آئی ایم) کو دی ہے۔اس کارڈ کے ذریعہ این ایس سی این (آئی ایم) کے کمانڈر اور ممبرہتھیار لے کر کہیںبھی آجاسکیں گے۔ فوج کے ایک افسر نے کہا کہ ناگا امن سمجھوتہ کی یہ بنیادی شرط ہے ۔ الگ الگ رنگ کے کارڈ الگ الگ سہولتوں کے لیے دیے گئے ہیں۔ ان کارڈوں پر باقاعدہ حکومت ہند اور این ایس سی این (آئی ایم) کی سرکاری مہر ہے۔ یہ کارڈ اس بات کی سند بھی ہے کہ حکومت ہند اور این ایس سی این (آئی ایم) کے بیچ سمجھوتہ لاگو ہونے کے عمل میںآچکا ہے۔

 
پی ایم او نے این آئی اے پر دباؤ ڈال کر شمرے کو چھڑوایا
ناگا امن سمجھوتہ میںناموزونیت بھری پڑی ہیں۔ ا س میںامن کہیں نہیں ہے، صرف سمجھوتہ ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ این یس سی این (آئی ایم) ملک کی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کو اپنا دشمن مانتا ہے۔ چین کے ساتھ ہتھیاروں کی بڑی ڈیل کرنے کے الزام میںبڑی مشقتتوں کے بعد پکڑے گئے این ایس سی این (آئی ایم)کے مبینہ لیفٹیننٹ جنرل انتھونی شمرے کو این آئی اے چھوڑنا نہیںچاہتی تھی لیکن پی ایم او کی طرف سے این آئی اے پر شدید دباؤ تھا۔ این آئی اے کا سرکاری طور پرکہنا تھا کہ این ایس سی این (آئی ایم) ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس کے ایک اعلیٰ سرغنہ کا چھوڑا جانا ملک کے لیے قطعی مناسب نہیں ہے۔ لیکن مودی حکومت کے سامنے این آئی اے کی نہیںچلی۔ پی ایم او کے دباؤ میںاین آئی اے نے شمرے کی ضمانت عرضی پر کوئی اعتراض داخل نہیںکیا اور شمرے کوضمانت مل گئی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس تنظیم کے آگے حکومت جھکی ہوئی ہے، وہ تنظیم ہندوستان میںدہشت گرد تنظیموںکے بارے میں خفیہ جانکاریاں حاصل کرنے والی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو اپنا دشمن بتاتی ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) کا کمانڈر شمرے کھلے عام کہتا ہے کہ این آئی اے ناگا امن سمجھوتہ کے مذاکرات کے عمل میںرکاوٹ ڈالنے کی سازش کررہی تھی۔ حکومت ہند اس پر شدیدردعمل ظاہر کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرکے رہ جاتی ہے۔ شمرے کا کہنا ہے کہ اسے کٹھمنڈو سے گرفتار نہیںکیا گیا تھابلکہ اسے اغوا کیا گیا تھا۔ شمرے کو اس بات کا بھی غصہ ہے کہ این آئی اے نے ہتھیاروںکے بدنام ڈیلر وِلّی نارو کو کیوں گرفتار کیا؟ ضمانت ملنے کے بعد مرکزی حکومت نے انتھونی شمرے کو امن مذاکرات کے عمل کا مستقل ممبر بنا دیا او راین آئی اے کھمبا نوچتی رہ گئی۔ آپ کو یہ بھی بتا دیںکہ مرکزی حکومت کے ذریعہ مقرر ناگا سمجھوتہ مذاکرات کے اہم ثالث آر این روی، این ایس سی این (آئی ایم) کمانڈر انتھونی شمرے کے گہرے دوست بھی ہیں۔اسی دوستی کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے این ایس سی این (آئی ایم) کے چیف تھوئنگلینگ موئیوا کے سامنے ان کے پانچ ہزار ہتھیار بند کیڈروں کو بازآبادکاری منصوبہ کے تحت بی ایس ایف میںبھرتی کرانے کی یقین دہانی کراڈالی۔ حکومت کی طرف سے مقرر اعلیٰ مذاکرات کار آر این روی کی اس یقین دہانی پر جب تنازع گہرایا تو مرکزی حکومت کو سامنے آکر اس سے انکار کرنا پڑا۔مرکز نے اس خبر کو غلط بتاکر سرے سے پلہ جھاڑ لیا۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) ناگالینڈ سرکار اور وہاںکی دہشت گرد تنظیموںکی ساز باز کا سرکاری طور پر خلاصہ کرچکی ہے۔ ناگالینڈ کے کئی سرکاری افسر این آئی اے کے ہاتھوں گرفتار بھی کیے جاچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این ایس سی این (آئی ایم) سمیت دیگر کئی دہشت گرد تنظیمیں این آئی اے کو پھوٹی آنکھ نہیںدیکھنا چاہتیں۔ ریاست کی ترقی کے مختلف منصوبوں کا پیسہ سرکاری افسروں کے ذریعہ دہشت گرد تنظیموں کے پاس پہنچتا ہے۔ این آئی اے نے مرکزی سرکار کو اس بات کے ثبوت دیے ہیںکہ ناگالینڈسرکار دہشت گرد تنظیموں کو ترقی کے فنڈ ڈائیورٹ کردیتی ہے۔این آئی اے نے ناگالینڈ میںکئی جگہ چھاپہ ماری مہم چلائی اور اہم دستاویزات برآمد کیں، جس سے یہ خلاصہ ہوا کہ ناگالینڈ سرکار این ایس سی این (آئی ایم) ، کھاپلانگ و کچھ دیگر گروپوںکو پیسہ دیتی ہے۔ این آئی اے نے دہشت گرد تنظیموں کو دینے کے لیے رکھا کچھ سرکاری فنڈ بھی برآمد کیا اور کئی سرکاری افسروںسے پوچھ تاچھ کی ۔ یہ بھی پتہ چلا کہ سرکاری ملازموں کی تنخواہ سے 24 فیصد حصہ کاٹ کر سیدھے دہشت گرد تنظیموں کو پہنچایا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے 24 فیصد حصہ کاٹنے کا کام خود سرکار کرتی ہے۔ ناگالینڈ میں سرکاری ملازمین سے یہ غیر اعلانیہ ٹیکس کاٹا جارہا ہے۔ سرکاری محکموں میںبدعنوانی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ کاٹ کر اسے دہشت گرد تنظیموں کو دیے جانے کے خلاف وسیع پیمانے پر مہم چلانے والی سماجی تنظیم ’اگینسٹ کرپشن اینڈ اَن ایبیٹیڈ ٹیکسیشن‘ (اے سی یو ٹی) نے ناگالینڈ کے کئی سینئر افسروں کے خلاف ایف آئی آر تک درج کرائی اور اس بارے میں ریاستی حکومت سے لے کر مرکزی حکومت تک کو خط لکھے، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اے سی یوٹی نے مرکزی حکومت کو بار بار لکھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ کا جبراً کاٹا گیا ٹیکس این ایس سی این (ایساک موئیوا) گروپ وصول کرتا ہے، لیکن اس کا مرکزی حکومت پر کوئی اثر نہیںپڑا۔ الٹا تنظیم کے ممبر این ایس سی این سے جان بچائے پھر رہے ہیں۔ این آئی اے نے این ایس سی این کھاپلانگ گروپ سے ساز باز رکھنے والے محکمہ سماجی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر تولولا پونجین ، ارتھ کوئیک ڈیولپمنٹ کے جوائنٹ ڈائریکٹر (ڈی ڈی او) ایلمبا پینگ جُنگ اور اسی محکمہ کے کیشئر کے لاشتو شیکی کو گرفتار کیا تھا۔ یہ افسر بھی این ایس سی این کے لیے مختلف سرکاری محکموں سے وسیع پیمانے پر وصولی اور غیر قانونی ٹیکس کاٹا کرتے تھے۔ ان افسروں کے ذریعہ این ایس سی این سمیت کئی دیگر دہشت گرد تنظیمیں دولت کما رہی تھیں۔ یاد رہے کہ ناگالینڈ کی دہشت گرد تنظیموں کو سرکاری ملازمین کے ذریعہ دیے جارہے فنڈ کے بارے میں’چوتھی دنیا‘ نے پہلے بھی دھیان دلایا تھا۔

 
کوکی اور میتئی کی کوئی سننے والا نہیں
مرکز سے امن سمجھوتہ کرنے والے این ایس سی این (آئی ایم) نے پہلے سے ہی اعلان کررکھا ہے کہ خود مختا ناگالینڈ ریاست سرکاری طور پر عیسائی ریاست نہیں بلکہ سیکولر ریاست رہے گی، لیکن دیگر مذاہب کے لوگوں کو ان کی زمینوں کا مالکانہ حق نہیں دیا جائے گا۔ اگر گریٹر ناگالم بنا تو کوکی قبیلہ جیسے کئی قبائل بے موت مارے جائیںگے۔این ایس سی این(آئی ایم) کے اعلیٰ کمانڈر انتھونی سمرے نے واضح طور پر کہا ہے کہ کوکی قبیلے کے لوگ چاہیں تو ناگالینڈ میںرہ سکتے ہیں لیکن انھیںان کی زمین کی ملکیت نہیںملے گی۔ منی پور کی کوکی اور میتئی کمیونٹی اور ناگا کمیونٹی کے بیچ جو خلیج گہری ہوئی ہے، اسے ریاست اور مرکز نے اور گہرا کرنے کا کام کیا ہے۔ یہ آنے والے وقت میںشدید تشدد کی شکل لینے والا ہے۔ کوکی قبیلہ بھی ناگاؤں کی طرح ہی ناگالینڈ، منی پور، آسام، میگھالیہ جیسے اضلاع میں بسا ہوا ہے۔ کوکی قبیلے کے لوگ بھی طویل عرصہ سے الگ ریاست کی مانگ کررہے ہیں۔ منی پور میں کوکی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہے۔ منی پور میںچھوٹی بڑی تقریباً تین درجن عسکریت پسند تنظیم سرگرم ہیں۔ جن میں کوکی نیشنل آرمی (کے این اے) ، کوکی نیشنل فرنٹ (کے این ایف)، کوکی لبریشن آرمی (کے ایل اے) اور کوکی نیشنل آرگنائزیشن (کے این او) اہم ہیں۔ دوسری سرگرم تنظیموں میںیونائٹیڈ ریوالیوشنری فرنٹ (یو آر ایف)، پیپلز ریوالیوشنری پارٹی آف کانگلیپاک (پی آر پی کے) اور کانگلیئی یاوول کانلُپ (کے وائی کے) اور کنگلیپاک کمیونسٹ پارٹی پکھانگلاکپا (کے سی پی پی) اہم ہیں۔ کوکی قبیلے کے لوگوںکی پرانی مانگ ہے کہ سیناپتی ضلع کے صدر ہلز سب ڈویژن کو ایک الگ ضلع بنا دیا جائے جبکہ ناگا قبیلے کے لوگ اس مانگ کی شروع سے ہی مخالفت کررہے ہیں۔ کوکی قبیلہ کی تنظیمیںکئی بار الگ ریاست کی مانگ پر بڑی تحریکیں چلا چکی ہیں۔ کوکی اور ناگاؤں میںباہمی تشدد بھی خوب ہوتا رہا ہے۔ این ایس سی این (آئی ایم) اور حکومت ہند کے بیچ ہوئے ناگا امن سمجھوتہ میں کوکی قبیلہ یا ایسے کئی نظرانداز کیے گئے قبیلوںکی ترقی اور ان کی حفاظت کے بارے میںکوئی غور نہیںہوا ہے۔

 
حالانکہ منی پور کے وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ کچھ چمتکار کر دکھائیںگے جبکہ سچ یہ ہے کہ منی پور کی موجودہ سیاست بھی حکومت ہند اور این ایس سی این (آئی ایم) کے بیچ ہوئے سمجھوتے کی دائرے میںہی گھوم رہی ہے۔ منی پور کے لوگوںکو خدشہ ہے کہ مرکزی حکومت نے سمجھوتے میںریاست کی علاقائی سالمیت سے سمجھوتہ کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اپنی طرف سے کہا ہے کہ منی پور کے لوگوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ منی پور کے لوگ اس سے خوف زدہ ہیں کہ گریٹر ناگالم میںکہیںمنی پور، آسام اور اروناچل پردیش کے ناگا اکثریتی علاقوں کا انضمام نہ کردیا جائے۔بیرین سنگھ نے کہا ہے کہ یہ حکومت ہند اور منی پور سرکار کو طے کرنا ہے کہ ناگا آبادی کے علاقے انھیںدیے جائیں یا نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ میدانی علاقوں میںرہنے والی میتئی کمیونٹی کے لوگوں اور پہاڑ پر رہنے والے ناگا اور کوکی کمیونٹی کے لوگوں کو قریب لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریاست میںتین اہم قبائل ناگا، کوکی او رمیتئی ہیں۔ میتئی لوگ ویشنو ہندو مذہب کو مانتے ہیں۔ طویل عرصہ سے چلی آرہی ناگا کوکی کی لڑائی کا خمیازہ منی پو رکے لوگوں کو بھگتنا پڑا ہے۔ بیرین سنگھ نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ جیل میںبند یونائٹیڈ ناگا کونسل کے لیڈررہا کردیے جائیںگے۔ انھوںنے کہا کہ منی پو رمیںمیانمار اور بنگلہ دیش سے کافی لوگ آکر بس گئے ہیں۔ لہٰذا اب اس بے روک ٹوک آمدکو روکنے کے لیے ایک قانون لانے کی ضرورت ہے۔ یہ قانون مستقبل میںہونے والی آمد کو کنٹرول کرے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *