سابرمتی ایکسپریس کے ملزمان بری سیاسی پارٹیوں کو اپنے محاسبہ کی ضرورت

 2000 میں سابرمتی ایکسپریس بم بلاسٹ جس میں 9افراد کی جانیں گئی تھیں، میں مبینہ ملزم گلزار احمد وانی اور محمد عبد المبین 16برس جیل کی آہنی سلاخوںکے پیچھے رہنے کے بعد آخر کار 20مئی کو الزام ثابت نہ ہونے کی بنا پر بری ہوکر باہر آگئے ہیں۔ اس طرح ایک بار پھر دو افراد جو کہ بے گناہ اور معصوم تھے، کو 16برس تک ناکردہ گناہ کے عوض قیدوبند کا شکار ہونا پڑا۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ متعدد بے گناہ اور معصوم افراد کی مانند گلزار وانی اور محمد عبد المبین کے قیمتی 16برس کون واپس لوٹائے گا؟
عیاں رہے کہ گزشتہ 20 مئی کو اترپردیش کی بارہ بنکی ضلع عدالت نے گلزار احمد وانی اور محمد مبین کو یہ فیصلہ سناتے ہوئے بری کردیا کہ ان کے خلاف پولیس الزام ثابت نہیں کرپائی۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ یہ حزب المجاہدین سے وابستہ تھے اور سابرمتی ایکسپریس کے بلاسٹ کی سازش میں ملوث تھے۔
اس پورے معاملے میں سپریم کورٹ کا بڑا اہم رول ہے۔ اس نے 25 اپریل کو بڑے سخت انداز میں نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کے لئے یہ شرم کی بات ہے کہ وہ سابرمتی ایکسپریس بلاسٹ معاملہ کے ملزمین کو جوڈیشیل کسٹڈی میں مزید رکھنے کے لئے اصرار کرے۔ اس نے ان کی رہائی کے لئے یکم نومبر کی تاریخ ٹرائل کے مکمل نہ ہونے کی صورت میں بھی طے کردی تھی۔ سابرمتی ایکسپریس کا سانحہ 14اگست 2000 کو ہوا تھا اور اس سلسلے میں گلزار احمد وانی کو 30 جولائی 2001 کو نئی دہلی سے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر اس مقدمہ میں ملزم بنایا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے یہ سخت موقف اس لئے اختیار کیا تھا کہ اس وقت گلزار وانی کو 11مقدمات میں سے دس میں بری ہونے کے باوجود آہنی سلاخوں سے نجات نہیں مل پارہی تھی۔
گلزار وانی اس واقعہ کے وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عربی میں پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ اس وقت ان کی عمر 28برس تھی۔ اب جب ان کو رہا کیا گیا ہے تو وہ 44برس کے ہوچکے ہیں۔ گلزار وانی کے تعلق سے بارہ بنکی کے ایڈیشنل سیشن جج محمود احمد خاں کا یہ فیصلہ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے گلزار وانی کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے بغیر کسی قصور جتنے دن جیل کی مشکلات برداشت کی ہیں، ان کی تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے انہیں معاوضہ دیا جائے اور یہ معاوضہ ان ذمہ دار پولیس افسروں کی تنخواہوں سے وصول کیا جائے جن کی لاپرواہی سے انہیں اس اذیت اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
اس سلسلے میں مذکورہ جج کی یہ وضاحت بھی بڑی اہم ہے کہ اگر ریاستی حکومت معاوضہ ادا کرنے میں کسی قسم کا عذر یا بہانہ کرتی ہے تو وہ الٰہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔اس لحاظ سے یہ شاید پہلا واقعہ ہے جس میں عدالت نے ریاستی حکومت سے ہرجانہ کی رقم ذمہ دار پولیس افسروں کی تنخواہ سے کاٹنے کا آرڈر کیا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ ایک دوسرے لحاظ سے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جب جیلوں میں لمبا عرصہ گزارنے کے بعد بے گناہ اور معصوم قیدی کو دہشت گردی کے سنگین الزامات سے نجات ملی ہو۔ حقوق انسانی تنظیموں کی جانب سے یہ سوال صحیح طور پر اٹھایا جارہا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے مطابق اگر یہ مجرم نہیں ہیں تو اصلی مجرم کہاں ہیں؟جہاں تک ہرجانہ کا معاملہ ہے، اس تعلق سے تو عدالت نے بہت مناسب فیصلہ کیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا ذمہ دار پولیس افسران کی تنخواہ سے ہرجانہ وصول کرلینے سے کیا انصاف کا عمل پورا ہوجاتا ہے؟یہ پورا معاملہ ملک کی سلامتی کا ہے۔ لہٰذا اس کے گنہ گاروں اوران معصوموں کو گرفتار کرنے والے ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف قانونی کارروائی نہایت ضروری ہے۔لہٰذا اس ضمن میں بھی اقدامات ہونے چاہئے ۔یہ فیصلہ ان ایجنسیوں کے منہ پر طمانچہ ہے اور قانون و انصاف کی جیت ہے۔
جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اس نے حسب روایات کردار نبھایا ۔عین گرفتاری کے وقت شور مچایا اور خبر صفحہ اول پر نمایا ں انداز میں آئی اور متعلقہ اشخاص کو اس طرح پیش کیا گیا کہ وہ ملزم نہیں، مجرم ہیں اور واقعی دہشت گرد اور ماسٹر مائنڈ ہیں۔ نیز ان کے کردار کا بہیمانہ قتل کیا گیا اور ان کی سماجی زندگی کو تباہ و برباد کردیا گیا۔مگر جب یہ باعزت بری ہوئے تو یہ خبر اس طرح آئی کہ کوئی خاص خبر بن نہیں سکی۔
سابرمتی ایکسپریس کے ملزمین کے بری کئے جانے کا معاملہ کوئی انوکھا معاملہ نہیں ہے۔ اس طرح کے معاملے حیدرآباد کی مکہ مسجد، مالے گائوں، اجمیر اور سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ و دیگر معاملوں میں ملک کے سامنے آچکے ہیں۔ اس وقت بھی ایسے ہی بے قصور نوجوانوں کو معاوضہ دینے کی بات زورو شور سے کہی گئی تھی لیکن اس کا کوئی خاظر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔
ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے تعلق سے بے قصور نوجوانوں کی گرفتاری کا سلسلہ 9/11 کے سانحہ کے بعد سے بالخصوص جاری ہے۔ اب تک سینکڑوں بے قصور نوجوان جیلوں میں بندہوچکے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کی وسائل کی کمی کے باعث صحیح طور پر پیروی نہیں ہو پاتی ہے۔
دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار نوجوانوں اور ان کے گھر والوں کو جس اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتاہے۔ ایک طرف پورا سماج اس سے خوف کے مارے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے اور دوسرے مالی مشکلات کا جو سامنا ہوتا ہے، وہ بھی بہت ہی چیلنج بھرا ہوتا ہے۔ پھر برسوں جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے وقت گزارنے کے بعد جب وہ بے قصور ثابت ہوکر باہر نکلتے ہیں تو ان کے سامنے نئے سرے سے زندگی دوبارہ شروع کرنے کا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے۔
ؓظاہر سی بات ہے کہ یہاں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے بے گناہ اور معصوم افراد باربار گرفتار نہ کئے جائیں اور جب ایساہوجائے تو اس کے ذمہ دار افسران کے خلاف مناسب کارروائی ہو۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں ’’ چوتھی دنیا‘‘ نے بار بار حقائق کے ساتھ مختلف مقدمات کو پیش کیا اور گرفتار شدگان کی فہرستیں بھی شائع کیں مگر کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی۔ اس تعلق سے سب سے حیرت انگیز حقیقت اترپردیش سے سامنے آئی کہ اس طرح کی معصوموں کی گرفتاریاں اس ریاست میں مختلف سرکاروں کے ادوار میں ہوئی ہیں۔ چاہے وہ مایاوتی کا دور حکومت ہو یا ملائم یادو کا یا اکھلیش کا۔ قابل ذکر ہے کہ مایاوتی کے دور میں 41، ملائم سنگھ یادو کے وقت میں 12 اور اکھلیش کے زمانے میں 16مسلم نوجوان پابند سلاسل کئے گئے۔
ان تلخ حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس معاملہ میں ایک ہی حمام میں تمام سیاسی پارٹیاں ننگی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنا محاسبہ کرنا چاہے کہ حق و انصاف کے اس معاملہ میں وہ کہاں اور کس جگہ کھڑی ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *