تھریسامے ایک بار پھر حکومت بنائیں گی

لندن:برطانیہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی 650 میں سے محض 318 سیٹیوں پر کامیابی حاصل کرسکی جبکہ سادہ اکثریت کے لیے کم سے کم326 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ چنانچہ پارٹی ایک اور پارٹی سے شراکت اقتدار کے حوالے سے رابطہ قائم کررہی ہے۔اس کے لیے پارٹی نے ڈیموکریٹک یونینسیٹ پارٹی (ڈی یوپی) سے بات چیت کی ہے۔

حالیہ انتخابات میں ڈی یو پی نے 10سیٹیں جیتی ہیں۔ اس طرح دونوں پارٹیوں کی شراکت سے حکومت سازی کے لیے سیٹوں کا مطلوبہ ہدف مکمل ہوجائے گا۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ دونوں جماعتو ں کے درمیان حکومت سازی کے لیے معاملات طے پاجاچکے ہیں۔ اسی بنیاد پر تھریسامے نے اپنی پارٹی سے استعفیٰ کے لیے اٹھنے والی آوازوں پر کان دھرنے کے بجائے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کرکے حکومت سازی کی اجازت حاصل کرلی۔ اس ملاقات کے بعد ہی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تھریسامے نے دوبارہ حکومت بنانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ بریگزٹ کے معاملے پر بات چیت دس دن کے اندر شروع کردی جائے گی۔واضح ہو کہ رواں سال اپریل میں برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے ملک میں قبل ازوقت عام انتخابات کا اعلان کردیا تھا ، جس کے نتائج اب آئے ہیں۔

حالیہ الیکشن میں لیبر پارٹی ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اس کے اراکین کی تعداد 261 ہے۔ اس کے علاوہ ایوان زیریں میں تیسری سب سے بڑی طاقت اسکاٹش نیشنل پارٹی ہے، جس نے35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے لیبر پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے جس کے نتیجہ میں دونوں جماعتوں کے مجموعی ارکان کی تعداد 296 ہوجائے گی۔بہرحال ڈی یوپی کے اشتراک سے تھریسامے برطانیہ کی دوبارہ وزیر اعظم بننے جارہی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *