بچہ چوری کے الزام میں جھارکھنڈمیں7افراد کا قتل لاقانونیت کا بڑھتا ہو ارجحان خطرناک

ادھر ملک کی متعدد ریاستوں میں اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں جس میں پولیس تماشہ بیں بنی رہتی ہے یا موقع پر موجود نہیں ہوتی ہے اور بھیڑ یا کچھ افراد قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر جو چاہتے ہیں، کرتے ہیں۔لاقانونیت کا یہ رجحان دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے۔ یہ کبھی اترپردیش میں دکھائی دیتا ہے تو کبھی بہار یاجھارکھنڈ میں یا کسی اور ریاست میں۔یہ واقعات کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی کسی اور معاملہ میں ہوتے رہتے ہیں۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک میں اب پولیس اور عدالت کے بجاے بھیڑ ہی جس سے چاہتی ہے،کسی بھی ایشوپر نمٹ لیتی ہے اور جان تک لے کر اسے خود ہی سزا بھی دے دیتی ہے۔گزشتہ تین برسوں میں ملک کی مختلف ریاستوں میں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں بھیڑ نے محض افواہ یا قیاس کی بنیاد پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ دو برس قبل ناگالینڈ کے دیما پور کی جیل میں بند ریپ کے ایک ملزم کو پولیس کی موجودگی میں جیل کا دروازہ توڑ کر بھیڑ کے ذریعے مار مار کر ہلاک کردینے کا ہے۔ 28ستمبر 2015 کو اتر پردیش کے دادری میں بھیڑ گائے کے گوشت کی افواہ کی بنیاد پر محمد اخلاق کو زود کوب کرکے ہلاک کردیا گیا۔ گجرات بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ وہاں بھی ایک برس قبل اعلیٰ ذات کے لوگوں نے دلتوں کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔ بھیڑ کے ذریعے اسی سال اپریل میں الور( راجستھان) میں میوات کے پہلو خاں کو گائے رکشا کے نام پر قتل کا واقعہ تو بالکل تازہ ہے۔گزشتہ 24 مئی کو اترپردیش کے جیور -بلند شہر ہائی وے پر لوٹ مار کے نتیجے میں ایک شخص کی موت اور چار خواتین کی عصمت دری بھی اسی طرح کی لاقانونیت کی ایک اور مثال ہے۔
اسی تناظر میں ریاست جھارکھنڈ کے دو واقعات ابھی حال کے ہیں۔ ایک ہفتہ میں افواہ کی بنیاد پر بھیڑ نے الگ الگ واردات میں 7افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ بھی اتنا بھیانک اور تکلیف دہ ہے کہ اس نے ملک بھر کی توجہ مبذول کرالی ۔آئیے تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ معاملہ کیا ہے؟
بات 19مئی 2017 کی ہے۔ جھارکھنڈ کے راج نگر میں اچانک سوشل میڈیا کے ذریعہ بچہ چوری کا ہنگامہ ہوا اور شک وشبہ کی بنیاد پر آناً فاناً چار افراد کو بری طرح پیٹ پیٹ کر ماردیا گیا۔یہ لوگ کاروباری تھے۔یہ افراد ایک نہیں، بلکہ الگ الگ مقام پر ہلاک کئے گئے۔ ایک ہلاکت شوبھا پور تو دوسری ڈانڈو، تیسری سوسومالی گائوں اور چو تھی دھودو دوگری کے جنگل میں کی گئی ۔ہلدی پور کے باشندے شیخ حلیم، محمد نعیم، سجاد اور سراج آدھی رات کے بعد راج نگر کی جانب جارہے تھے۔ اچانک ان کی گاڑی کو کچھ افراد نے روکنے کی کوشش کی۔ خوف کے مارے ان لوگوں نے پڑوس کے گائوں میں کسی رشتہ دار کے گھر جاکر پناہ لیا۔ مگر بھیڑ وہاں بھی جاپہنچی اور گھر والے کو دھمکا یا کہ جو لوگ آئے ہیں،انہیں ہمیں سونپو ورنہ پورے گھر کو نذر آتش کردیں گے۔ اس طرح زور زبردستی سے ان لوگوں کو بھیڑ اپنے ساتھ لے گئی اور الگ الگ کرکے ایک ایک کو موت کے گھاٹ اتار کر لاش الگ الگ جگہ پھینک دی۔ ان چاروں افراد پر بچہ چوری کا الزام تھا۔
اسی طرح کا دوسرا واقعہ گوتم کمارورما ، وکاس کمار ورما اور گنگیش کمار کا ہے۔ ان کو بھی بچہ چوری کے الزام میں اسی دن ہلاک کیا گیا۔ یہ واقعہ بھی 18مئی کی شب کا ہے۔ باگ بیڑا کے ناگاڈیہہ گائوں میں ان تینوں کو بھیڑ نے اسی طرح پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا ۔ 65 سالہ رام چندر سیوی کو بھی خوب پیٹا۔ ان کی حالت ہنوز نازک ہے۔ اول الذکر دونوں گوتم کمار ورما اور وکاس کمار ورما حقیقی بھائی تھے۔ ان کے تیسرے بھائی کو بھی بھیڑنے پکڑلیا تھا لیکن وہ بچ نکلنے میںکامیاب رہے۔اطلاع کے مطابق اتم کا ہی بیان ہے کہ بھیڑ نے ان سے پوچھ تاچھ کی اور اچانک بچہ چوری کی بات چھیڑ کر ان پر حملہ کردیا۔ ان کے مطابق ان کے دونوںبھائیوں گوتم اور وکاس کو پہلے بجلی کے کھمبے سے باندھ دیا گیا اور پھر ان کی پٹائی ہوئی۔
عجیب بات تو یہ تھی کہ آس پاس کے گائوں کے لوگ ہی نہیں،پولیس کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ بھیڑ نے پولیس پر بھی حملہ کردیا اور ایس ایچ او زخمی ہوئے۔ دس بجے رات کے بعد سٹی ایس پی آئے۔ تب تک دونوں بھائی گوتم اور وکاس کے ساتھ گنگیش کو بھی مارا جا چکا تھا۔
ان واقعات میں سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا۔ پہلے بچہ چوری کی افواہ کو وہاٹس ایپ گروپ پر پھیلایا گیا۔ پھر متشدد نوجوانوں کی ٹولی تیار کی گئی۔ اول الذکر واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوا۔ ویڈیو میں پولیس اہلکار دکھائی بھی پڑ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ بڑے ہی منظم انداز میں سوشل میڈیا کا سہارا لے کر یہ واردات کی جارہی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ بھیڑ کے ذریعے قانون کو اپنے ہاتھ میںلینا اور پولیس کو مجبور محض پانا بڑی بھیانک صورت حال کی طرف اشارہ کرتاہے۔ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ویسے یہ افسوس کی بات ہے کہ لاقانونیت کی ان واردات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھی بلا وجہ کوشش کی گئی جبکہ یہ حقیقت کھل کرسامنے آگئی ہے کہ بھیڑ نے جن لوگوںکو موت کے گھاٹ اتارا ہے ،ان میں تین ہندو نوجوان ہیں تو چار مسلم نوجوان۔واقعہ کے فرقہ وارانہ ہونے کی افواہ اس لئے پھیلی کہ جن لوگوں کا قتل ہوا، ان مین سے تین اور چار کا الگ الگ قتل ہوا جبکہ الزام دونوں گروپ کے افراد پر بچہ چوری کا ہی لگایا گیا۔ علاوہ ازیں یہ بھی ہوا کہ جب چار مسلمانوں کے تعلق سے ہلاکت کی خبر پھیلی تو مسلمانوں کے ذریعے احتجاج کیا گیا جس سے یہ تاثر گیا کہ یہ معاملہ فرقہ وارانہ ہے جو کہ سراسر غلط تھا۔
قومی انسانی حقوق کمیشن نے بچہ چوری کے شبہ میں جھارکھنڈ میں بھیڑ کی جانب سے سات افراد کا مبینہ طورپر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردینے کے واقعات کے بارے میں نوٹس لیتے ہوئے ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کیاہے اور ان سے ایک ماہ کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن کا یہ بیان صحیح ہے کہ ایک مہذب معاشرہ میں ایسے جرائم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی ہے جس میں مشتعل بھیڑ سماج دشمن عناصر ہونے کا محض شبہ ہونے پرلوگوںکی جان لے لے۔کمیشن نے کہا کہ یہ بے گناہ لوگوںکی زندگی کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سے صاف طورپر اندازہ ہوتا ہے کہ ریاست کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اپنی ذ مہ داری کو نبھانے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے۔
ویسے ملک بھر میں بچہ چوری کے الزام میں ان دونوں واقعات میں سات افراد کی ہلاکت پر پورا ملک دہل گیا ہے۔سیاسی پارٹیوں نے بھی نوٹس لیا ہے۔ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کرکے پی ایم مودی سے جواب مانگا ہے۔ انہوں نے اخبار میں شائع ہوئی اس خبر اور تصویر کو بھی انہیں پوسٹ کیا ہے جس میں خون سے لتھ پتھ ایک شخص اسے پیٹنے والی بھیڑ سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ٹویٹ پر لاقانونیت کے اتنے سنگین ایشو پر وزیر اعظم کی توجہ مبذول کرانے اور صرف بی جے پی ریاستوں پرالزام لگانے سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اس پورے مسئلہ پرقابو پانے کے لئے جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے ،وہیں اپوزیشن پارٹیوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ معاشرہ میں بڑھتے ہوئے اس رجحان کو روکنے کیلئے عملی کوششیں کریں۔ ان کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ انتخابات کے وقت ملک کے اندر جائیں اوربعد میں کسی واقعہ کے ہونے پر اپنے بیان یاٹویٹ کے ذریعے احتجاج کو نوٹ کرادیں۔
غیر سرکاری تنظیموں کو بھی معاشرہ میں اس منفی رجحان کو روکنے کے لئے باضابطہ مہم چلانی چاہئے، پولیس کی تو ذمہ د اری ہے ہی مگر اسے بھی سماج کا تعاون ملنا چاہئے ، مشترکہ کوشش سے ہی لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے اس رجحان پر قابو پایا جاسکتاہے۔ویسے اب تو یہ بات بھی ریاستی حکومت کی انکوائری کمیٹی کی انٹریم رپورٹ کے ذریعہ سامنے آگئی ہے کہ بچہ چوری کی بات سراسر افواہ اور بے بنیاد تھی اور 18مئی کو جو کچھ ہوا، وہ منصوبہ بند تھا۔ انکوائری کمیٹی کی فائنل رپورٹ سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ پھراس منصوبہ بند قتل و غارت گری کا محرک اصلاً کیا تھا اور کون تھا؟ اب آنے والاوقت ہی ان تمام حقائق کو اجاگر کرپائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *