کلبھوشن یادو معاملہ ہندوستانی تشویش کو پاکستانی سینیٹر نے جائز ٹھہرایا

damiدو پڑوسی ملک ہندوستان اور پاکستان کے عوام کے احساسات تو ایک دوسرے کے قریب ہیںمگر حکومت کی سیاسی چیقلش جاری رہتی ہے۔اسی چیقلش کا نتیجہ ہے کہ باہمی تعلقات کے حوالے سے اچھی خبر تو بہت کم آتی ہے البتہ بری خبریں دونوں ملکوں کے اخبارات میں چھائی رہتی ہیں۔اگر دونوں ملکوں کے بیچ کبھی پیس ڈائیلاگ کی بات ہوتی ہے تو فوراً ہی شدت پسندوں کی طرف سے کچھکردیا جاتا ہے، اور یہ پیش رفت رک جاتی ہے۔
کلبھوشن یادو کا معاملہ بھی انہیں ان گنت بری خبروں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی جانب سے انہیں سزائے موت سنائے جانے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان کھائی کو مزید گہرا کرنے کا ایک اور ذریعہ بن گیا ہے۔ہندوستان کلبھوشن کی گرفتاری اور پھر فوجی عدالت کے ذریعے سزائے موت کے فیصلے پر ناراض ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے پارلیمنٹ میں صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ انڈیا اپنے شہری کو اس سزا سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا۔ظاہر ہے ان کا یہ بیان ہندوستان کے موقف کو اجاگر کرتا ہے ۔ ہندوستان میں سرکاری اور عوامی دونوں سطحوں پر پاکستان کے اس رویے پر ناراضگی ہے۔البتہ پاکستان میں اس بات پر سرکاری سطح پر تو ردعمل یہ ہے کہ’’جب کچھ ہوگا تو دیکھ لیں گے‘‘ لیکن عوامی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہندوستان اس مسئلے کے حل کے لئے سفارتی آپشن تک محدود رہے گا یا فوجی آپشن بھی اختیار کرسکتا ہے؟جہاں تک جہاںفوجی آپشن کی بات ہے تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات کا پہلے ہی بیڑہ غرق کرچکا ہے، اب اس آپشن کو اپنا کر تعلقات میں مزید کوئی بہتری تو نہیں لا ئی جا سکتی ہے۔ لہٰذا دوسرا آپشن یعنی سفارتی آپشن ہی رہ جاتا ہے ۔لیکن پاکستان کی حکومت نے اس سلسلے میں جو اڑیل رویہ اختیار کررکھا ہے ، اس سے تو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات مستقبل قریب میں مزید خراب ہوسکتے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے کروڑوں عوام صرف امن کے خواہشمند ہیں ۔
اس معاملے پر پاکستان کے عوام کھل کر بولنے سے گریز کرتے ہیں۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ معاملہ وہاں کی فوج کے ہاتھ میں ہے اور اس پر فوج نے جو موقف اختیار کررکھا ہے اور جو بیان دیا ہے، اس کو جو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کرے گا ،وہ ملک غدار اور انڈین ایجنٹ جیسے القاب سے نوازا جاسکتا ہے،اسی لئے عام آدمی تشویشات کے باوجود خاموشی اختیار کئے ہوا ہے۔جہاں تک حکومت کی بات ہے توپاکستان کی یہ روایت رہی ہے کہ فوج کی ہمیشہ سے سیاست میں مداخلت رہی ہے اور حکومت پر اس کا دبائو بنا رہتا ہے۔ ایسے میں فوج کا جو موقف ہے ،حکومت کے لئے اس سے الگ موقف قائم کرنا تقریبا ناممکن ہے۔خاص طور پر ایسے حساس معاملے میں جو جاسوسی سے متعلق ہوں تو اس میں شواہد جو بھی ہوں، دوسرے کا موقف کچھ بھی ہو، جب ایک مرتبہ فوج نے اس پر ایک موقف اختیار کر لیا تو پھر اس میں اِدھراُدھر دیکھنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی اور یہی سب کچھ اس وقت پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی دکھائی دے رہا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں فوجی فیصلے کا مکمل دفاع کیا ہے اور انڈین اعتراضات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ قومی سلامتی اور مفادات کے دفاع کا معاملہ ہے، اس میں کھسر پھسر کی گنجائش قطعی نہیںہے۔ ایک شخص نے جب اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو اب اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔وزیر دفاع نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ کلبھوشن کے لیے اب آرمی ایکٹ کے تحت 40 روز ہیں سزا کے خلاف فوجی اپیلٹ کورٹ میں اپیل کے لئے ۔ اس میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کے خلاف وہ رحم کی اپیل فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور صدر پاکستان ممنون حسین کو کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے کلبھوشن یادو کی سزائے موت پر ثبوت کے طور پر اس ویڈیو کلپ کو پیش کیا ہے جس میں یادونے خود کو راء کا ایجنٹ ہونے اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے جبکہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو کلپ سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ ایسے میں پاکستان کے پاس اگر دیگر شواہد ہیں تو وہ ان شواہد کو پیش کرکے ہندوستان کو مطمئن کرے اور اگردیگر شواہد نہیں ہیں تو اسے اس سزا کو کالعدم قرار دے دینا چاہئے ۔
ہندوستان کی اس تشویش کو وہاں کی ایک سینئر سینیٹر شیری رحمان نے صحیح قرار دیا ہے اور حکومت سے کچھ سوالات پوچھے ہیں۔انہوں نے حکومت سے پوچھا ہے کہ جب کلبھوشن یادو گزشتہ ایک سال سے حکومت کی کسٹڈی میں تھا تو پھر حکومت نے سینیٹ کو اس کی معلومات کیوں نہیں دی تھی کہ یادو تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔قابل ذکر ہے کہ شیری رحمان پاکستان کی سینئر سینیٹر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر ہیں اور وہ 2011-13 تک یونائٹیڈ اسٹیٹ میں بحیثیت سفیر تعینات رہ چکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بطور ثبوت یادو کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر جو ویڈیو کلپ پیش کیا ہے ، اس کلپ کو ہندوستان سچ نہیں مان رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے دوسرے شواہد مثال کے طور پر یادو کی ٹیلیفونک گفتگو پر مبنی ثبوت پیش کرے ،اگر اس طرح کا کوئی ثبوت اس کے پاس ہے تو۔نیز یادو کی جاسوسی سرگرمیاں، اس کی فرضی شناخت اور دیگر غیر قانونی نقل و حرکت کے شواہد سرکاری طور پر پیش کرے۔ رحمان نے مزید سوال کیا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت نے یادو کے تعلق سے جو پالیسی اختیار کی ہے، اس میں قانون سازوں کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے؟ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یادو کو گزشتہ سال مارچ میں گرفتار کیا گیا اور اس ایک سال کے عرصے میں اس کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دی گئی ۔ سینیٹر شیری رحمن نے پاکستان کے وزیر خارجہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں سینیٹ ممبر کو کوئی معلومات نہیں دی۔ وہ سوشل میڈیا پر سرگرم رہتے ہیں لیکن کبھی پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کوئی کھلی بحث نہیںکرتے۔ یہاں کے سفارتی کام کاج بیوروکریٹ کے ذریعہ ہینڈل کیا جارہا ہے جبکہ کسی بھی بیوروکریٹ کو رسکی فیصلہ لینے کا اختیار نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے نیشنل سیکورٹی کمیٹی سے بھی قومی سلامتی کے متعلقہ ایشو پر چرچا کی بات کہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی فوج خارجہ معاملے میں فیصلے لیتی ہے۔ہندوستان نے 14 مرتبہ یادو تک اپنے قونصلر کی پہنچ کی اپیل کی لیکن پاکستان نے ہر بار اس کی اپیل کے ساتھ ساتھ اس معاملہ میں چارج شیٹ کے مطالبہ کو ٹھکرادیا ہے، بس پاکستان صرف بیان دے رہا ہے کہ یادو کی جاسوسی کے خلاف کئی شواہد ہیں اور سزائے موت آئین کے مطابق ہے لیکن پاکستان ان شواہد کو پیش کرنے سے گریزکررہا ہے۔
ظاہر ہے پاکستان نے کلبھوشن کے معاملے میں جو رخ اختیار کررکھا ہے، اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل قریب میں بہتر رشتوں کی امید معدوم ہوتی جارہی ہے ۔اگر پاکستان واقعی چاہتا ہے کہ خطے میں امن ہو اور دو پڑوسی ملکوں کے درمیان شیریں تعلقات رہیں تو اسے کلبھوشن کے معاملے میں ہندوستان کی تشویشات کو دور کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *