جہاں ہر مذہب کا احترام ہوتا ہے

مذہب کو انسانیت کو فروغ دینے اور باہمی بھائی چارگی کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ کام ہر مذہب کے رہنمائوں نے اپنے اپنے طور پر انجام دیا ہے اور یہ طریقہ آج بھی جاری و ساری ہے۔مذہبی یگانگت کی مثال راجستھان کے جھنجنو کے کچھ فاصلہ پر واقع نرہڑ درگارہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔یہاں ہرمذہب کے زائرین آتے ہیں اور امن چین کی دعائیں مانگتے ہیں۔
قومی اتحاد کی یہ مثال اس وقت اور انوکھی ہو جاتی ہے ، جب جنم اشٹمی کے تہوار پر یہاں تین روزہ میلہ لگایا جاتا ہے۔حاجی شکرشاہ بابا کی درگاہ کی خصوصیت یہاں نظر آنے والی قومی اتحاد کی مثال ہے۔ یہاں جہاں درگاہ کے احاطہ میں اذان اور نماز کی آواز گونجتی ہے ، وہیں پنڈتوں کی گھنٹی اور نگاڈے کی آواز بھی آتی ہے۔
قومی اتحاد کی مثال نرہڑ کی حاجی شکر شاہ بابا کی درگاہ کے حدود میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس کو سجانے سنوارنے کی وقف بورڈ نے تیاری کرلی ہے۔ وقف بورڈ نے ریاست کے دس درگاہوں کی تزئین کاری کا منصوبہ بنایا ہے ، تاکہ گنگا جمنی تہذیب کی مثال ان درگاہوں پر آنے والے زائرین کو کوئی پریشانی نہ ہو۔
درگاہ کو بہتر بنانے کے لیے 4 کروڑ 89 لاکھ 70 ہزار روپے کی رقم منظور کی گئی ہے۔وقف بورڈ راجستھان کی جانب سے جھنجھنو ضلع کی نرہڑ درگاہ کی نشوونما سنوارنے تیاری کر لی گئی ہے۔جھالاواڑ ، ناگیر،کپاسن سمیت دس درگاہوں کو اسی طرح سے ڈیولپ کیا جائے گا۔ اس کے لئے بھی وقف بورڈ جلدی تجاویز بنا کر مرکز کو بھیجے گا۔علاوہ ازیں گائوں دیوروڑ سے نرہڑ تک ڈبل لین سڑک کی تعمیر کی جائے گی اور ٹیمپو اسٹینڈ سے نرہڑ کھیڑلا روڈ تک اور نرہڑ مڈریلا روڈ سے ٹیمپو اسٹینڈ تک بائی پاس سڑک کی تعمیر ہوگی۔درگاہ میں تخت پیرجی کی گدی کی تعمیر کے علاوہ بڑے دروازے کو بھی از سر نو تعمیر کیا جائے گا۔اس رقم سے نرہڑ درگاہ میں تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھآس پاس کے علاقوں سے درگاہ تک پہنچنے والے سبھی راستوں کی تعمیر و مرمت کا کام بھی انجام دیا جائے گا۔
بہر کیف ایسی مثالیں بنی نوع انسان کی عبرت کے لئے ہیں جہاں انسان ذات برادری، مسلک و موقف اور ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر محض روحانی تسکین کے لئے کام کرتا ہے اور یہ روحانی تسکین اسے انسانوں کی شناخت اور اس کی خدمت میں ملتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *