کہاں گئے بڑے بڑے وعدے؟

26 مئی کو مودی سرکار کے تین سال پورے ہوچکے ہیں۔ اس دوران سرکار نے کئی اعلانات کیے، ہوا یوں کہ ان ڈھیروں وعدوں کو پورا کرنے کے لیے پروگراموں کے اعلان میںہی زیادہ تر وقت گزر گیا۔ ادھر کانگریس نے ’3 سال 30 تکڑم‘ نام سے ایک ویڈیو جاری کرکے سرکار پر تمام محاذ پر ناکام ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ایسے میںسرکار کے دعووںکی جانچ ضروری ہے۔ اس رپورٹ کارڈ میںجہاںتوانائی اور روڈ ٹرانسپورٹ وزارتوں کی صورت حال بہتر دکھائی دیتی ہے تو وہیںتعلیم صحت اور ریلوے جیسی وزارتیںرینگتی نظر آتی ہیں۔
کب دور ہوگا گاؤں کا اندھیرا
مودی سرکار نے آزادی کے 70 سال بعد بھی بجلی سے محروم رہے 18,452 گاؤوں کو 2018 تک روشن کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے قبل بجلی سے محروم گاؤوں کو دسمبر 2017 تک روشن کرنے کا منصوبہ بنا تھا۔ اگر زمینی سطح پر دیکھیںتو اکتوبر 2016 تک 7500 گاؤوں تک روشنی نہیں پہنچی تھی جبکہ 6300 گاؤوںمیںبجلی کی کھمبے اور تار لگنے کا کام شروع ہوگیا تھا۔ ایسے میںیہ امید بھی کرنا بے معنی ہوگی کہ ایک سال میںان گاؤوں تک بجلی پہنچ جائے گی۔ وزارت برائے توانائی امور کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ 60 فیصد کام پورا ہونے میں ہی تقریباً ڈیڑھ سال لگ جائیںگے۔ دسمبر 2017 تک تو یہ کام پورا ہوناناممکن ہے۔جھارکھنڈ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ،اوڈیشہ جیسی کئی ریاستیںاپنے گانووںکو روشن کرنے میںخاص دلچسپی نہیںدکھائی رہی ہیں۔ حالانکہ وزیر توانائی پیوش گوئل دعویٰ کررہے ہیں کہ 750 دنوںمیں باقی بچے گاؤوں تک بھی بجلی پہنچا دی جائے گی۔ سرکاری ویب سائٹ پر بھی یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ملک کے 99.3 فیصد گاؤوں تک بجلی پہنچا دی گئی ہے۔گوئل کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجلی قلت کی جگہ ہندوستان اب بجلی بہتات والاملک بن گیا ہے۔سرکاری دعوے چاہے جو بھی ہوں،لیکن گاؤوںمیںبجلی پہنچے اور لوگوںکو مناسب بجلی کی سپلائی ہو،اس میںابھی سالوںلگیںگے۔
حالانکہ مودی سرکار کے تین سال پورے ہونے پر ایک راحت بھری خبر آئی ہے۔ ہندوستان بجلی سہولت کے معاملے میں2014میںورلڈ بینک کی رینکنگ میں 99 ویں مقام پر تھا، جواب 2017 میں26 ویں مقام پر آگیا ہے۔ گزشتہ دو سال میںموجودہ روایتی بجلی کی صلاحیت میں20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور شمسی توانائی کی صلاحیت میں15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
شمسی توانائی میں ہدف سے پیچھے
یوپی اے سرکار نے 2020 تک ملک کی شمسی توانائی 20 ہزار میگاواٹ کرنے کا ہدف طے کیا تھا۔ مودی سرکا رنے اقتدار میںآتے ہی اسے ایک لاکھ میگاواٹ کردیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 میگاواٹ کے اپنے ہدف کو پانے کے لیے ہندوستان کو اگلے سات سال تک ہر سال 14 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی پیدا کرنی ہوگی جبکہ گزشتہ پانچ سال میں ہندوستان نے قائم شمسی توانائی میں صرف 2000 میگاواٹ کا ہی اضافہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار ایک طرف شمسی توانائی کو فروغ دینے پر زور دے رہی ہے، وہیںاس پر دی جارہی 30 فیصد سبسڈی کو کم کرکے 15 فیصد کردیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں،جہاں سرکار پہلے شمسی توانائی پیدا کرنے والوں کو 8 سے 9 روپے فی واٹ کا ریٹ دیتی تھی، وہ اب گر کر 3.50 یا4 چار روپے تک رہ گیا ہے۔ سرکار کے اس قدم سے متبادل توانائی کے استعمال کو لے کر عام لوگوں میں مایوسی پیداہوئی ہے۔
ہدف سے کوسوں دور ہے سڑک کی تعمیر
وزیر اعظم نریندر مودی کے مئی 2014 کو اقتدار سنبھالنے کے دوران سڑک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میںبڑے چیلنجز تھے۔ سرکار نے سڑک کی تعمیر میں تیزی لانے کے لیے 2016-17 میں22 کلومیٹر یومیہ ہائی وے کی تعمیر کی جبکہ ہدف 30 کلومیٹر یومیہ تھا۔اعداد و شمار سے واضح ہے کہ 2016-17 کے دوران نیشنل ہائی وے کی تعمیر میںکچھ تیزی آئی،لیکن سرکار سڑک کی تعمیر میں اب بھی اپنے ہدف سے کافی پیچھے ہے۔ اس سال یومیہ 41 کلومیٹر روڈ بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
سڑک اور وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے خود قبول کیا ہے کہ 16,271 کلومیٹر نیشنل ہائی وے کے ٹھیکے دیے گئے تھے،جس میںسے 2016-17 میں 8321 کلومیٹر کی تعمیر کی گئی۔ وہ مانتے ہیںکہ کام میںابھی اور تیزی لانے کی ضرورت ہے، وہیں’ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا‘ کے تحت 47,350 کلو میٹر سڑک کی تعمیر ہوئی جبکہ یوپی اے سرکار کے دوران 2013-14 میںیہ محض 25,316 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان میںتقریباً 47 لاکھ کلومیٹر لمبی سڑکوں کا جال ہے۔ ان میں نیشنل ہائی وے کی لمبائی تقریباً 58 ہزار کلومیٹر ہے۔
2017-18 کے دوران سرکار روڈ ٹرانسپورٹ اور نیشنل ہائی وے پر 64,900 کروڑ وپے خرچ کرے گی۔ یہ 2016-17 سے 24 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں سے 10,723 کروڑ روپے رکھ رکھاؤ اور مرمت پر خرچ ہوں گے جبکہ 54,177 کروڑ روپے نئے ہائی ویز اور پُلوں کی تعمیر پر خرچ ہوںگے۔ اس طرح نریندر مودی سرکار نئے ہائی ویز کے تعمیری کاموں پر مرمت سے زیادہ خرچ کررہی ہے۔
روڈ سیفٹی پر خراب رویہ
سڑک حادثوں میں ملک میںہرسال ڈیڑھ لاکھ لوگوںکی جان چلی جاتی ہے۔ ان میںآدھے سے زیادہ 35 سال سے نیچے کے ہوتے ہیں۔2005 سے 2015 کے بیچ سڑک حادثوں میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وہیں ان میں ہونے والی اموات میں 54 فیصد کا اضافہ ہوگیا جبکہ 2022 تک سڑک حادثوں میں ہونے والی اموات کو آدھا کرنے کا ہدف ہے۔ سرکار کی تمام کوششوں کے بعد بھی سڑک حادثوں میںلگاتار اضافہ ہوا ہے۔ غور طلب ہے کہ سڑک حادثات سے ہر سال تقریباً 55 ہزار کروڑ سے 60 ہزار کروڑ وپے کا نقصان ہوتا ہے،جو جی ڈی پی کا تین فیصد ہے۔ جنوری 2016 میںسرکار نے حادثات روکنے کے لیے سڑک سدھار پر 11 ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کیا۔ سوا سات سو سے زیادہ ایسے مقامات کی پہچان کی گئی، جہاں زیادہ حادثے ہوتے ہیں۔ اگلے پانچ سال میں ایسی سڑکوں اور چوراہوں کو درست کیا جانا ہے۔
2014 میں دہلی میں جام کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی رنگ روڈ بنانے کی بات کی گئی تھی۔ گڈکری نے سینٹرل روڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے جام سے نمٹنے کے لیے متبادل تیار کرنے کوکہا تھا۔ اس کے باوجود رنگ روڈ کی تعمیر کا کام لٹکا ہوا ہے اور روڈ سیفٹی و جام کو لے کر حالات جوںکے توں برقرارہیں۔
بڑھتے ہوئے ریل حادثے
ٹرین حادثے تھمنے کی بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔ اس سال اب تک چھوٹے بڑے 80 حادثے ہوچکے ہیں جبکہ 2016 میں اسی دوران 69 حادثے ہوئے تھے۔ ریلوے میںحفاظتی کام کاج دیکھنے والے اسٹاف کے 1.27 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔ نتیجتاً باقی ملازمین پر کام کا بھاری دباؤ ہے۔ اس سے بھی ریل حادثے بڑھے ہیں۔
ریل حادثوں کے لیے ریلوے منسٹر نے آئی سی ایف ڈبوںکو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ریلوے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرانے ڈبوں کو جرمن تکنیک سے بنے ایل ایچ بی ڈبوں سے بدلنے کا عمل اتنا دھیما ہے کہ اس میں25سے 30 سال لگ جائیں گے۔ ملک میںہر سال محض 15 سو ایل ایچ بی ڈبے بنتے ہیں۔ایل ایچ بی ڈبوں کی خاصیت یہ ہے کہ حادثہ کی صورت میںیہ ایک دوسرے پر نہیںچڑھتے۔ پہلے سرکار نے سال 2020 تک ان ڈبوںکے سو فیصد استعمال کا ہدف طے کیا تھا۔ ریلوے منسٹر سریش پربھو نے اس سال ریل کی پٹریوں کو اَپ گریڈ کرنے، نئے برج بنانے اور سگنل سسٹم کو جدید ترین بنانے کے لیے وزارت مالیات سے .19 1 لاکھ روپے مانگے تھے، لیکن کہا گیا کہ ریلوے کو انوسٹمنٹ کے لیے پہلے ہی کافی رقم دی جاچکی ہے۔
کتنے کھلے پبلک ڈرگ سینٹر؟
سستی شرح پر بہتر کوالٹی کی دوا فراہم کرانے کے لیے یو پی اے سرکار نے 2008 میں پبلک ڈرگ سینٹر کھولے جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے بعد مودی سرکار نے 2017 تک 3000 پبلک ڈرگ سینٹر کھولے جانے پر زور دیا۔ لیکن فی الحال 1000 پبلک ڈرگ سینٹر ہی کھل سکے ہیں جو سرکار کے ہدف سے کافی کم ہیں۔ سرکار نے اب ریلوے اسٹیشنوں پر 1000 پبلک ڈرگ سینٹر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں پر پبلک ڈرگ سینٹر کھلنے سے اس اسکیم کی تشہیر تو ہوگی، لیکن اب بھی دوا کے لیے لوگ بازار یا اسپتال کے آس پاس کے میڈیکل اسٹور پر ہی منحصر ہیں۔ ایسے میںریلوے اسٹیشنوں پر ان مراکز کے کھلنے کا فائدہ کم ، نقصان ہی زیادہ نظر آتا ہے۔ پہلے بھی سیل کی فقدان میںیا دوا دستیاب نہ ہونے پرکئی پبلک ڈرگ سینٹر پر تالا لٹک چکا ہے۔
5 لاکھ ڈاکٹروں کی کمی
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق ہندوستان میں پانچ لاکھ ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہندوستان میں 1700 لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہے، جبکہ ایک ہزار لوگوں پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے۔ وہیں سرکار نے دسمبر 2015 کو بتایا کہ ملک میں ہرایک 1681 مریض پر ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانچ سال کی مدت تک ہر سال سو میڈیکل کالج کھلیں گے تبھی 2029 تک ملک میں مناسب ڈاکٹر فراہم ہوسکتے ہیں۔
دیہی علاقوں میںواقع پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) بھی ڈاکٹر اور نرسوں کی کی کمی سے نبردآزما ہیں۔ ہندوستان کو پی ایچ سی میں کم سے کم 70 ہزار ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ حکومت نے ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں کے رٹائر ہونے کی عمر بڑھاکر 65 سال کردی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی سال 2017-18 کے لیے میڈیکل پوسٹ گریجویشن میں 4193 سیٹوں کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔ لیکن جہاں کئی میڈیکل کالج کھولنے کی ضرورت ہے، وہاں کچھ میڈیکل سیٹیں بڑھا نے اور رٹائرمنٹ کی عمر بڑھا نے سے مسئلے کا نمٹنا مشکل ہے۔ غور طلب ہے کہ 30 جون 2015 تک ملک میں9,59,198 ڈاکٹر رجسٹرڈ تھے۔
ایمس پر ہی انحصار کیوں؟
پردھان منتری سواستھ سرکشا یوجنا (پی ایم ایس ایس وائی) کے پہلے مرحلے میں 6ایمس کھولے جانے تھے۔ فی الحال جودھپور، رائے پور اور بھوپال ایمس میں یہ محکمے شروع نہیں ہوسکے ہیں جبکہ پٹنہ، بھونیشور اور رشی کیش میںیہ محکمے جزوی طور پر شروع ہوچکے ہیں۔ وزیر صحت جے پی نڈا نے کہا کہ منظور ہوئے چھ ایمس کی تعمیر میں تاخیر ہونے کی وجہ پروجیکٹس سے متعلق بنیادی مسئلے ہیں۔ اس کے بعد سرکار نے دوسرے مرحلے میں بھی دس ایمس کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکار نے 2016 میںدہلی ایمس کی صلاحیت دوگنی کرنے کی بات کی تھی لیکن یہاں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حالات میں کتنا سدھار ہوا ہے۔ اس کے علاوہ 2016 میں ملک بھر میں 20 کینسر انسٹی ٹیوٹ کھولے جانے کا اعلان کیا گیا تھاجس پر ابھی تک کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ یہ حال تب ہے جبکہ پانچ لاکھ لوگ ہر سال کینسر سے مرتے ہیں۔
کالا جارپر قابو پانے کا ہدف ادھورا
ملک سے کالاجار کی جان لیوا بیماری کے خاتمہ کا ہدف پورا ہونے کا امکان ایک بار پھر کمزور ہوتا ارہا ہے۔مئی 2016 تک اس کے 2943 معاملے سامنے آچکے ہیں۔ وزیر صحت دعویٰ کرچکے ہیں کہ 2017 تک اسے ختم کرلیا جائے گا۔ حالانکہ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ماہرین 2017 تک اس پر قابو پانے کو مشکل بتارہے ہیں۔
ڈائبٹیز کے 6.91 کروڑ مریض
انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن (آئی ڈی ایف) کے حوالے سے نڈا نے بتایا کہ 20 سے 70 سال کی عمر کے 2014 میںذیابیطس (ڈائبٹیز) کے 6.68 کروڑ اور 2015میں 6.91 کروڑ مریض تھے۔ 1980 سے 2014 کے دوران ہندوستان میں ذیابیطس سے متاثرہ خواتین کی تعداد میں 80 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
دوگنی ہوئی آئی آئی ٹی کی فیس
وزار ت برائے انسانی وسائل کی ترقی نے 2016 میں آئی آئی ٹی کی سالانہ فیس 90 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ کردی۔ اب وزارت آئی آئی ٹی کے طلبہ کو انٹریسٹ فری لون دینے کے لیے ایک اسکیم لے کر آئی ہے تاکہ طلبہ کو فیس کی ادائیگی کرنے میں مدد ملے۔
2017 میں پرکاش جاوڈیکر نے اعلان کیا ہے کہ آئی آئی ٹی میںلڑکیوں کی حصہ داری 8 سے بڑھاکر 20 فیصد کی جائے گی۔ ابھی حال یہ ہے کہ مختلف آئی آئی ٹی میں داخلہ کے لیے ہونے والے جوائنٹ انٹرینس ایکزامنیشن(جے ای ای) میں 4,500لڑکیاں پاس کرتی ہیں ، وہیں ان میں سے صرف 800 لڑکیاں ہی مختلف کورسوںمیں داخلہ لے پاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سرکار نے قبول کیا کہ کالج سے پاس ہونے کے بعد محض 40 فیصد انجینئرنگ گریجویٹس کو ہی روزگار مل پاتا ہے۔ انسانی وسائل کی ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ سرکارنے اگلے پانچ سال میں کم سے کم 60 فیصد انجینئرنگ کے طلبہ کو قابل روزگار بنانے کا ہدف بنایا ہے۔
ڈیڑھ درجن یونیورسٹیوں میں وی سی نہیں
جب اسمرتی ایرانی وزیر تھیں تو تقریباً ڈیڑھ درجن یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر (وی سی ) کے عہدے خالی پڑے تھے، جن میں سے زیادہ تر اب بھی خالی ہی ہیں۔ ایرانی کے بعد بھی وزارت کئی اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں نہیں کرپائیہے۔ مثال کے طور پر اے آئی سی ٹی ای، این سی ای آر ٹی اور سی بی ایس ای کے چیئرمین کے عہدے خالی ہیں۔ ان عہدوں پر تقرری کب ہوگی، کسی کو نہیں معلوم؟
آئی آئی ٹی میں 40 فیصد کم فیکلٹی
پرکاش جاوڈیکر نے حال ہی میںبتایا کہ آئی آئی ٹی اور سینٹرل یونیورسٹیوں میں 40 فیصد کم فیکلٹی ممبرہیں۔ وزیر موصوف نے اقرار کیا ہے کہ طلبہ کو عالمی سطح کی سہولتیں او ر بنیادی ڈھانچے دستیاب کرانے کے لیے ہمارے پاس مناسب فیکلٹی نہیں ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *