انصاف کا منتظر ہے پہلو خاں سانحہ

damiان دنوں ہریانہ اور راجستھان سرحد پر مشہور خطہ میوات یکم اپریل کو الور کے نزدیک بہرور میںجے پور – دہلی نیشنل ہائی وے نمبر 8 پر پالنے اور دودھ کا کاربار کرنے کے لیے گائے اور اس کے بچھڑوں کو مویشی کے بازار سے خرید کرلے جاتے ہوئے جے سنگھ پور کے 55 سالہ پہلو خاں و دیگر چار افراد سے متعلق سانحہ کو لے کر سخت خوف وہراس میںمبتلا ہے اور اس کا اثر ملک کے دیگر حصوں پر بھی پڑ رہا ہے اور ملک کی مسلم کمیونٹی ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتیں اور کمزور طبقات بھی دہشت کے خوف میںآگئے ہیں۔ مذکورہ سانحہ میں مبینہ طور پر گئورکشکوں کے ذریعہ کئے گئے حملے میںزخموں کی تاب نہ لاکر پہلو خاں نے تین دن بعد بہرور کے کیلاش اسپتال میں دم توڑدیا اور باقی دیگر چار بری طرح مجروح افراد دہشت زدہ ہیں۔ حملے کے دوران ان کے مویشی اور کل 75 ہزار روپے چھین لیے گئے ۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ جائے وقوع پر پہنچی پولیس انھیں اسپتال تو لے گئی مگر ان کے حق میں ایف آئی آر دج کرنے کے بجائے ان کے خلاف ہی تسکری کے الزام میں ایف آئی آر درج کردی۔دریں اثنا پہلو خاں نے پولیس کو دیئے گئے اپنے بیان میں حملہ آوروںمیں سے 6 افراد کے نام بھی لئے پھر تین دنوں بعد پہلو خان کے انتقال ہوجانے سے صورت حال بدل گئی اور پھر باقی چار افراد میں پہلو خاں کے دونوں بیٹوں 25 سالہ ارشاد اور 22 سالہ عارف، 24 سالہ بھتیجہ رفیق اور 28 سالہ عظمت کی طرف سے حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاسکی۔ اس وقت درد سے کراہتے ہوئے غربت کے مارے ہوئے متاثرین اپنے اپنے گھر پر رنج و غم سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں۔
میوات خطہ میں گائے بھینس کا پالنا اور ان کی خرید و فروخت عام سی بات ہے۔ ان کا پیشہ زراعت کرنا اور گائے بھینس پال کر ان کے دودھ بیچنا ہے۔اس وجہ سے ان کی جھگی جھونپڑی ، نیم پختہ اور پختہ مکانوں کے سامنے گائے بھینس اور بچھڑے بندھے ہوئے ملتے ہیں۔ دراصل ا سی سلسلے میں یہاںکے باشندے مویشی خریدنے مویشی کے بازار جاتے ہیں۔ 31 مارچ کی آدھی شب میںپہلو خاں اپنے دونوں بیٹوں ارشاد اور عارف، بھتیجہ رفیق اور عظمت کے ساتھ جے پور سے نزدیک ہفتہ وار مویشی بازار پہنچے تھے۔ صبح خریداری کے وقت بھینس مہنگی ہونے کے سبب ان لوگوںنے مجموعی طور پرپانچ جرسی گائیں بچھڑوںکے ساتھ خریدیں۔ اس کے بعد یکم اپریل کی شام یہ پانچوںجے سنگھ پور واپس لوٹ رہے تھے۔ راجستھان کی ایک گاڑی میں پہلو او رعظمت دو دو گائے اور بچھڑوں کے ساتھ تھے۔ گاڑی جے پور کے ہی قرب و جوار کا ڈرائیور ارجن چلارہا تھا جبکہ دوسری گاڑی میںعارف، ارشاد اوررفیق تین تین گایوںاور بچھڑوںکے ساتھ تھے۔ اس گاڑی کو ارشاد چلارہا تھا۔ یہ دونوںگاڑیاں جے پور-دہلی نیشنل ہائی وے نمبر 8 پر آگے پیچھے چل رہی تھیں۔
اب آئیے، ان پانچوں میں سے ایک رفیق جو کہ پیچھے والی گاڑی میں سوار تھا، کی زبانی سنتے ہیں کہ پھر کیا ہوا؟ رفیق نے ’چوتھی دنیا‘ کو خصوصی بات چیت میں ایک ہفتہ کے بعد دہلی سفر کے دوران بتایا کہ ’’غروب آفتاب کے وقت یکے بعد دیگرے دونوںگاڑیوںکو بہرور میںنیشنل ہائی وے نمبر 8پر بائیک پر سوار دس پندرہ ہندو نوجوانوں نے زبردستی روکا اور ہم لوگوںکو زدوکوب کرتے ہوئے چلاتے ہوئے کہا کہ کہاں گائے لے جارہے ہو، کیا کروگے ان گایوں کا، کب سے تم لوگ گائے کی تسکری (اسمگلنگ) کررہے ہو۔ اس پر پہلو خاں سمیت ہم سبھی لوگوں کا ایک ہی جواب تھا کہ ہم لوگ دودھ کے لیے یہ گائیں خرید کر جے سنگھ پور لے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس رسید ہے۔ عجب بات یہ تھی کہ ادھر یہ لوگ یہ سب کچھ کررہے تھے، اُدھر مشتعل نوجوانوںکی بھیڑ جمع ہونی شروع ہوگئی تھی جو کہ خود کو گئورکشک کہہ رہے تھے۔ ان کی زبان سے گالیاںنکل رہی تھیں اور ان کے ہاتھ پاؤں چل رہے تھے۔ ان کے ہاتھوںمیںلاٹھیاں، ہاکیاں اور ڈنڈے کے ساتھ بیلٹ بھی تھے۔ وہ ہمیںزمین پر گرا کر لاتوں اور گھونسوںسے بھی مار پیٹ رہے تھے۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری جانیں نہیںبچیں گی اور یہی وجہ ہے کہ جب تک ہم لوگ بدحال یا بیہوش نہیں ہوئے تب تک پیٹنے کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہ لوگ ہمیںزندہ جلانے کی بھی بات کررہے تھے۔ دریںاثناء پولیس آگئی او راس نے ہمیںکسی طرح سے بچالیا۔‘‘
رفیق نے یہ بھی بتایا کہ ہم پانچوں افراد کے پاس ایک لاکھ روپے سے زائد بچے ہوئے تھے کیونکہ ان لوگوںنے مہنگی بھینس کے بجائے زیادہ دودھ دینے والی جرسی گائیں لے لی تھیں۔ رفیق سے ملی اطلاع کے مطابق ’’ان لوگوں نے یہ رقم ہم سب سے چھین لی، ہماری خریدی ہوئی گایوں اور بچھڑوں پر قبضہ کرلیا۔ نیز گائے خریدتے وقت انتظامیہ سے بنوائی گئی رسید کو بھی ان مشتعل نوجوانوں نے ہم سے جھپٹ لیا۔ ستم ظریفی تو یہ ہوئی کہ پولیس نے رسید نہ پاکر ہمیں ہی ملزم بنادیا اور گائے کی تسکری کا الزام لگا کر ایف آئی آر درج کرادی۔ اس دوران بہرور اسپتال میں ہم لوگوں کا علاج چلتا رہا۔پھر جب تین دنوںکے بعد پہلو خاں زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کرگئے، تب عمومی طور پر ماحول ہمارے حق میںبنا اور اخبارات میںبھی کچھ تفصیلات آنے لگیں۔ لہٰذا تب بدلے ہوئے حالات میںہم باقی چار افراد کے ذریعہ اس پورے واقعہ کے تعلق سے ایف آئی آر درج کرائی جاسکی۔‘‘
’چوتھی دنیا‘ نے مرحوم پہلو خاں کے دونوں بیٹوں عارف اور ارشاد نیز عظمت سے بھی فون پر بات کی اور حقائق جاننا چاہے۔ عارف اور ارشاد کا کہنا ہے کہ ’’ہماری روزی روٹی کا واحد ذریعہ دودھ کا کاروبار ہے۔ ہم اسی سلسلے میںاپنے والد پہلو خاںکے ساتھ جے پور کے پاس ہفتہ وار مویشی ہاٹ گئے تھے۔ ہمارے پاس خریدی ہوئی گایوںکی رسید بھی تھی لیکن تشدد پر آمادہ بھیڑ نے ہماری ایک بھی نہیں سنی اور زبردستی گاڑی روک کر ہم پر حملے شروع کردیے ، ہماری گائیں ، رسید اور نقدی بھی چھین لی اور ہم سب کو بری طرح مارا پیٹا۔ ہمارے والد تو گرکر بے ہوش بھی ہوگئے۔ ہم سب بری طرح زخمی ہوئے۔ پولیس دیر سے آئی اور ہمیں اسپتال لے گئی۔ پولیس نے ہمارے خلاف گائے کی تسکری کا الزام اپنی ایف آئی آر میںلگایا۔ بعد میں والد کی موت کے بعد ہم نے بھی ایف آئی آر درج کرائی۔ ابھی تک ضلع انتظامیہ اور نہ ہی ریاستی حکومت کے کسی نمائندہ نے ہماری خیریت دریافت کی ہے۔ ہم تو بس یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے والد کے قاتلوںکو فوری طور پر پکڑاجائے، ان کے خلاف مقدمہ چلے اور انھیںسخت سے سخت سزا ملے۔‘‘
اس سانحہ میںپہلو خاں کے بعد سب سے زیادہ مجروح عظمت خاںکہتے ہیں کہ ’’پولیس انتظامیہ نے ہمیں بے حد پریشان کیا، زخمی حالت میںاسپتال سے نکال کر بہرور تھانہ لے گئے اور وہاں24 گھنٹے تک رکھا جس سے میری طبیعت اور زیادہ بگڑ گئی۔ ہماری تو ایک ہی مانگ ہے کہ ہمیںجلد از جلد انصاف ملے۔‘‘
پہلو خاں کے دونوںبیٹوں عارف اور ارشاد، بھتیجے رفیق اورعظمت کی زبانی اس سانحہ کے تعلق سے جو کچھ براہ راست ’چوتھی دنیا‘ نے معلوم کیا،اس سے کئی بے بنیاد باتوںکی قلعی کھل گئی۔ پہلوخاں و دیگر چار افراد کے ذریعہ تسکری کا الزام بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میںسب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ 5-5 گایوںاور بچھڑوں کی جوخریداری جے پور کے پاس مویشی کے مذکورہ ہفتہ وار ہاٹ سے ہوئی ہے اس کی رسیدیں کٹی ہیں۔ اگر رسیدیں اینٹی سوشل عناصر کے ذریعہ چھین لی گئی ہیں اور ان متاثرین کے پاس موجود نہیںہیں تو جہاںسے یہ رسیدیں کٹی ہیں، وہاں تو اس کے حوالے موجود ہیں۔ دوسرا ہم نکتہ یہ ہے کہ پہلو خاں نے موت سے قبل پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میںچھ افراد کے نام لیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان میں سے تین 19 سالہ وپن یادو، 32 سالہ رویندر، 44 سالہ کالو رام نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔ یہ تینوںبہرور کے باشندے ہیں۔تیسر ا ہم نکتہ یہ ہے کہ پہلو خاں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ او رمیڈیکل رپورٹ میںواضح طور پر کہا گیا ہے کہ اس کی موت جسمانی طور پر زدو کوپ سے ہوئی ہے۔ اس سے وہ مفروضہ ختم ہوجاتا ہے کہ اس کی موت کا سبب دل کا دورہ ہے۔
ویسے پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے معاملے میںتین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ مرحوم پہلو خاںاور دیگر چار افراد کے خلاف ایک ایک اور ایک پہلو خاںو دیگر چار پر حملہ کرنے والے افراد کے خلاف۔
اسی بیچ خطہ میوات ہی نہیں دونوں ریاستوں ہریانہ اور راجستھان میں سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں نے پہلو خاں سانحہ معاملہ کو لے کر متعدد تعزیتی و احتجاجی میٹنگیں کیں جس میں متاثرہ خاندان کو 50 لاکھ روپے کا ہرجانہ اور خاندان کے کسی ایک فرد کو سرکاری نوکری کا مطالبہ کیا گیا۔ نیز صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم ہند کو عرضداشت بھی بھیجی گئی تاکہ اس پورے معاملے میں انصاف ہوسکے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہروار، الور میں ہوئے اس واقعہ کے 20 دن گزرنے کے بعد بھی نامزد کسی بھی ملزم کو اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے۔حکومت راجستھان نے اس سانحہ کی جانچ ڈی ایس پی پرمال کو سونپ دی تھی جس کی میو سماج نے مخالفت کی۔ اس کے نزدیک پرمال کا رول پہلے بھی اقلیتوں کے تعلق سے مشکوک رہاہے۔ میو سماج کا مطالبہ ہے کہ پہلو و دیگر چار افراد پر حملہ کرنے والے افراد کی تعداد 20-25 تھی۔ لہٰذا ان سبھی کو گرفتار کیا جائے۔عیاں رہے کہ پہلو خاں سانحہ کے نامزد ملزمان کو گرفتار نہ کرنے اور جانچ ڈی ایس پی پرمال کو سونپنے کے خلاف میو پنچایت نے حکومت کو دودھ دینے والی تمام گایوں کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن پولیس نے اس پرروک لگادی۔ میو پنچایت کے صدر بشیر محمد نے بتایا کہ دبائو پڑنے پر الور کے کلکٹر نے میو پنچایت کے مطالبات کو مانا اور جانچ کے معاملہ سے ڈی سی پی پرمال کو ہٹا دیا۔ بہر حال جے سنگھ پور میں صورت حال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پورے معاملہ کی جانچ جوڈیشیل کمیٹی کے ذریعے ہو اور متعلقہ گائوں کے لوگوں میں یقین و اعتماد پیدا کیا جائے اور کسی کو بھی گئو رکشا کے نام پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔
اس سانحہ کی مذمت پورے ملک میں کی جارہی ہے۔مذمت کرنے والوں میں بی جے پی کو چھوڑ کر سبھی سیاسی پارٹیاں شامل ہیں۔اسی کے تحت 19اپریل کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر دہلی اسٹیٹ میو سبھا کے زیر اہتمام دھرنا اور مارچ کا اہتمام ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے میو سماج و دیگر کمیونیٹیوں کے لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پرپارلیمنٹ تک نکالے گئے مارچ کے دوران ایک عرضداشت وزیر اعظم ہند کے نام جاری کی گئی جس میں گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کا قتل کرنے والی نام نہاد گئو رکشک تنظیموں پر پابندی لگانے اور ظلم و تشدد کے ذریعے دہشت پھیلانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور گائے کو قومی جانور بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔اسی روز اسی جنتر منتر پر بھومی ادھیکار آندولن اور آل انڈیا کسان مہا سبھا،کسنا سنگھرش سمیتی نوح و ہریانہ کے زیر اہتمام احتجاجی میٹنگ میں جنتا دل یونائٹیڈ کے چیف جنرل سکریٹری اور ترجمان کے سی تیاگی نے کہا کہ پہلو خاں سانحہ کوئی ایسے ہی ہونے والا معاملہ نہیں ہے بلکہ دانستہ طور پر انجام دیا جانے والا عمل تھا۔ سب سے اہم بات تھی کہ انصاف کے مطالبہ کئے جانے والی اس میٹنگ میں اسٹیج پر پہلو خاں کی والدہ اور دیگر اہل خانہ موجود تھے۔ سی پی ایم کی برنداکرات نے اس موقع پر کہا کہ یہ جدو جہد صرف ایک یادو خاندانوں کے لئے نہیں بلکہ ملک کے آئین اور اس کے قانون و نظام پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ہے۔ میٹنگ میں موجود کسانوں نے مرحوم پہلو خاں کی والدہ کو تین لاکھ روپے جمع کرکے دیئے۔
مگر اس پورے سانحہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ابھی تک حکومت ہریانہ و راجستھان کا کوئی ذمہ دار یا بی جے پی کا کوئی لیڈر متاثرین سے ملنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی اس ضمن میں ان کا کوئی واضح بیان آیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس بے حسی کو کیا نام دیا جائے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *