مذہبی اتحاد کی انوکھی مثال

hindu muslim units

ایک ایسے وقت میں جب مذہبی تشدد کو ہوا دی جارہی ہے اور گئو رکشا اور دیگر باتوں کو بہانہ بنا کر ایسے ننگے کھیل کھیلے جارہے ہیں جس سے پوری دنیا میں ہماری تہذیب، کلچر اور ملک و قوم کی بد نامی ہورہی ہے ۔ایسے وقت میں ملک کے اندر ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بھائی چارگی، اتحاد باہمی اور مذہبی اتحاد کو فروغ کے لئے انتھک کوشش کررہے ہیں۔اس کی بڑی مثا لاحمد آباد کے سوریندرنگر ضلع میں دسانا گائوں میں اس وقت دیکھنے کوملی جب ایک ساتھ ہندو اورمسلم دلہا دلہن ایک ساتھ بیٹھے ہوئے نظرآئے۔ دراصل گائوں میں ایک اجتمای شادی کا انعقاد کیا گیا تھا ، جس میں سبھی مذاہب کے لوگوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی ان کے مذہبی رسم و رواج کے مطابق شادی کروائی گئی۔ اس اجتمای شادی میں 51 جوڑوں کو شادی کے بندھن میں باندھا گیا ، جس میں آٹھ مسلم جوڑے بھی شامل تھے ۔
اس طرح کے واقعات سے نہ صرف ہماری روایتی تہذیب کو تقویت ملتی ہے بلکہ ملک کے اندر امن و سکون اور بھائی چارگی کو فروغ دینے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ مثال ان لوگوں کے لئے عبرت ہے جو معمولی باتوں کو بہانہ بناکر اور فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ملک کا ماحول خراب ہوتا ہے۔حالانکہ ایسے لوگ ملک میں تھوڑے ہی ہیں لیکن اس بات سے کس کو انکار ہوگا کہ تالاب کی ایک دو خراب مچھلیاں پورے تالاب کو خراب کردیتی ہیں۔
ملک میں یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے۔یہاں ہماری روایت ہم آہنگی اور اتحاد پر مبنی ہے ۔یہی وجہ تو ہے کہ ہم مزارات پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوئوں کی بڑی تعداد کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ حاضری دیتے ہوئے پاتے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے یہاں قومی ہم آہنگی کا عنصر بہت مضبوط ہے ۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عنصر کو مزید مضبوط کیا جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *