رواداری اور تحمل و برداشت ملک کے لیے لازمی اقدار

اس میںکوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ گزشتہ تین برس میںمیجورٹیرین (Majoritarian) یا اکثریتی حکومت کے دوران ٹوٹی ہوئی کمروالی اپوزیشن بھی اتنی زیادہ کمزور ہو گئی ہے کہ ان میں سے بعض 2019 کے بجائے 2024 میں مقابلہ کرنے کی ہمت مشکل سے جٹا پارہی ہیں۔ یہ اس ملک میں جمہوریت کے لیے اچھی خبر یقینانہیں ہے۔ دوسرا نکتہ ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ،جس سے عام آدمی بری طرح متاثر ہے۔ دال روٹی میںاسے دال تک کھانے کے لیے سوچنا پڑرہا ہے۔ ا س کے علاوہ بے روزگاری بھی ایک بہت ہی تشویشناک مسئلہ ہے ۔ 2011-12میں بے روزگاری کی 3.8 فیصد شرح 2015-16 میںبڑھ کر 5 فیصد ہوگئی، جس کا مطلب صاف ہے کہ اس عرصہ میں بے روزگاری کی شرح میں 1.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لیبر بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں2011 میں پیدا کی گئی 9.3 لاکھ ملازمتوں کے بالمقابل 2015 میں8 لیبر انٹینسو سیکٹروں میںصرف 1.35 لاکھ ملازمتوں ہی کا اضافہ ہوا۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی اصل وجہ جو بھی ہو، اس کی سنگینی سے کوئی انکار نہیں کرسکتاہے۔ لہٰذا مزید ملازمتوں کو بڑھانے کی جانب سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کو لے کر ہی اقتصادی اور سماجی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں ۔
جمہوریت کی بقا ہو یا مہنگائی پر کنٹرول یا روزگار کی فراہمی کرکے بے روزگاری کو روکنا،یہ ایسے ایشوز ہیں جن پراس شمارہ میںفوکس کیا گیا ہے۔ مگر ان ہی ایشوز کے ساتھ ساتھ ایک اور ایشو اس ملک میںآئین کا تحفظ اور اس کے تحت چلنا ہے۔ اس تناظر میں سیکولرزم بھی ایک بڑی نعمت ہے۔ یاد آتا ہے کہ مودی حکومت کے قائم ہونے کے دس دنوں بعد 4 جون 2014 کو برطانیہ میں واقع کینٹر بری کے آرک بشپ ریو رنڈ جسٹن ویلبی نے چنئی میںتقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہندوستانی سیکولرزم دنیا کو بیش قیمت تحفہ ہے۔‘‘ ان کے یہ جملے بڑے اہم تھے کہ ’’ہندوستان میں سیکولرزم خوش آئند ہے کیونکہ یہ مذاہب کو قبول کرنے اور ایک دوسرے سے نفرت کیے بغیر اختلاف کے ساتھ آمادگی کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ ایک ملک جو کہ میجوریٹرینزم کے آگے جھکتا نہیں ہے، مگر اپنی اقلیتوںکا عزت و احترام کرتا ہے، وہ دوگنے انعام کا مستحق ہے۔‘‘
مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ تین برس میں ملک کے اندر اس جذبہ میںکہیںنہ کہیں کمی آئی ہے۔ ایک دوسرے کے مذہب کو قبول کرنے کا جذبہ بھی بعض حلقہ میںکم ہوا ہے اور کچھ لوگوںکے ذریعہ ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو بڑھانے کی ناپاک کوشش بھی ہوئی ہے۔ ابتدا میںسماج کے بعض عناصر نے گھر واپسی کی بھی بات کرلی مگر یہ بھی خوش آئند ہے کہ یہ آواز اب دب سی گئی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان سب باتوں کا تعلق ہندوستان کی روایتی رواداری اور تحمل و برداشت سے ہے۔ یہ ایسی اقدار ہیںجن پر ہندوستان اور اس کے شہریوں کو ناز ہے۔ تبھی تو کینٹر بری کے آرک بشپ نے ہندوستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ معروف صحافی این رام کی نگاہ میںان اقدار کی جڑیں ہماری تحریک آزادی اور آئین میں پائی جاتی ہیں۔
خاص بات یہ ہے کہ ملک کے اندر اٹھتے ہوئے بعض حلقے میںاس الٹر انیشنلزم کے ابھار کی سنجیدہ شخصیات نے شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے ملک کے مفاد کے منافی بتایا ہے۔ ان میں دہلی ہائی کورٹ کے دو سابق چیف جسٹسیز اے پی شاہ اور راجندر سچر ہیں۔ 20 اپریل کو نئی دہلی میں سالانہ ایم این رائے میموریل لکچر کے موقع پر ایک گھنٹے کی لمبی تقریر میںاے پی شاہ نے واضح طور پر جمہوریت اور میجوریٹرینزم کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اول الذکر کا زور تمام لوگوںکو یکساں حقوق فراہم کرنے اور آخر الذکر کا اقلیت پر اکثریت کی مرضی تھوپنے کا ہوتا ہے جو کہ برابری کے اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔
ویسے یہ بات بھی نوٹس لینے کی ہے کہ اقلیتوںکے مفادات کو دیکھنے کے لیے ملک میںدو کمیشن قومی کمیشن برائے اقلیت( این سی ایم) اور قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات( این سی ایم ای آئی) قائم ہیں مگر ان تین برسوںمیں دونوں ہی کمزور ہوئے ہیں۔ اول الذکر کے چیئرمین سمیت ساتوں ارکان کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ یتیم بنا ہوا ہے اور یہی حال دوسرے کمیشن کا ہے جس میںبھی اس وقت کوئی چیئرمین نہیںہے۔مودی حکومت کے ان دونوں اقلیتی کمیشنوں کے تئیں ٹال مٹول کے اس رویہ سے یہ تاثر بھی مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ اقلیتی اداروںکو بے اختیار اور کمزور کیا جارہا ہے جبکہ یہ دونوں ادارے پارلیمنٹ کے قوانین کے ذریعہ بنائے گئے ہیں۔
17 اپریل کو ایک ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں راجندر سچر نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ہیٹ کرائمز یعنی نفرت پر مبنی جرائم بڑھ رہے ہیں۔ 93 سالہ ماہر قانون کا تویہ بھی کہنا ہے کہ یہ صرف عدم تحمل و برداشت کا معاملہ نہیںہے بلکہ یہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ان کے نزدیک یہ بات تشویشناک ہے کہ وزیرا عظم مسلمانوں کے خلاف ہیٹ کرائمز کو چیک اورکنٹرول کرنے کے لیے چند الفاظ نہیں کہتے ہیں ۔ بہرحال غنیمت ہے کہ آج کا ہندو مڈل کلاس مسلم مخالف جنون کو پسند نہیں کرتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوںمیں قوت تحمل و برداشت اور رواداری کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو انگیز کرنے اور لے کر چلنے کے سبب پہچانا جاتا ہے۔ یہی اس کی شناخت ہوتی ہے ۔ توقع ہے کہ نفرت پر مبنی ان رجحانوں کے ابھار میںکمی آئے گی کیونکہ یہ کسی بھی طرح اس ملک کو زیب نہیں دیتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *