بی جے پی کی قوت کے سرچشمے ایچ ایل دوساد

damiمودی – شاہ کی قیادت میں کامیابی کی نئی نئی منزلیں طے کر رہی بی جے پی اب اس قدر ناقابل مزاحمت بن گئی ہے کہ اس کا اکیلے مقابلہ کرنے کی ہمت کسی بھی پارٹی میں رہ ہی نہیں گئی ہے۔ اس بات کو محسوس کرتے ہوئے اب سخت مخالف پارٹی بھی ایک دوسرے کے قریب آنے لگی ہیں۔11 مارچ 2017 کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سے اکھلیش یادو، شرد پوار، لالو پرساد یادو، سونیا گاندھی ، مایاوتی ، نتیش کمار، کجریوال وغیرہ اپنے اپنے طریقے سے لگاتار اشارے دیئے جارہے ہیں کہ اپوزیشن کے سامنے اپنا سیاسی وجود بچانے کے لئے گٹھ بندھن کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ کیا صرف سیاسی پارٹیاں یا نان نیشنل انٹلکچول بھی اس کے خلاف متحد ہونے کی قواعد میں لگ گئے ہیں۔
بہر حال یہ طے سا دکھائی دے رہا ہے کہ بی جے پی کو روکنے کے لئے مستقبل میں نہ صرف سیاسی پارٹیوں بلکہ دانشوروں کا بھی مورچہ وجود میں آئے گا۔ ایسے میں جس بی جے پی کے پاس دنیا بھر میں سب سے زیادہ 10کروڑ سے زیادہ ممبر ہیں،13ریاستوں میں خود کی اور 4ریاستوں میں گٹھ بندھن کی سرکار چلا رہی ہے، جو بی جے پی 1489 ایم ایل ایز اور 283 اراکین پارلیمنٹ کی نمبری طاقت سے مالامال ہے ،اس کی طاقت کے ذرائع کی صحیح جانکاری اپوزیشن کے لئے بہت ضروری ہے۔
قوت کا پہلا سرچشمہ
اب جہاں تک بی جے پی کی طاقت کیذرائع کا سوال ہے ’ہری اننت ہری کتھا اننت ‘کی طرح اس کی طاقت کے ذرائع کے بھی سِرے کو پانا آسان نہیں ہے۔ پھر بھی اس کے ایسے کچھ اہم ذرائع کو نشان زد کیا جاسکتا ہے جس کے بل پر اس نے آج کی تاریخ میں ہندوستان کے چپے چپے پر قبضہ جمانے کا امکان اجاگر کر دیا ہے۔ بہر حال 1925 کی وجیہ دشمی کو جدید ہندوستان کے سب سے زیادہ بصیرت والے برہمن لیڈر ڈاکٹر کیشو رائو بلی رام ہیڈگوار کے ذریعہ قائم راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ہی بی جے پی کی طاقت کا بنیادی ذریعہ ہے، اس بات سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔
اپنی نوعیت کی دنیا کی اکلوتی تنظیم آر ایس ایس کے بھارتیہ مزدور سنگھ، سیوا بھارتی، راشٹریہ سیوکا سمیتی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، ویشو ہندو پریشد، سودیشی جاگرن منچ، سرسوتی شیشو مندر، ودھیا بھارتی،بنواسی کلیان آشرم، مسلم راشٹریہ منچ، بجرنگ دل ، انوشوچت ذاتی آرکشن بچائو پریشد،لگھو اودیوگ بھارتی ، بھارتیہ وچار کیندر، ویشو سنواد کیندر، راشٹریہ سیکھ سنگٹھن، ویویکانند کیندر اور خود بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دو درجن سے زیادہ سبسیڈری آرگنائزیشن ہیں،جن کے ساتھ 28ہزار 500 ودیامندر، 2لاکھ 80ہزار اچاریہ ، 48لاکھ 59 ہزار طلبائ، 83 لاکھ 18ہزار 348 مزدور، 595 پبلیکیشن ممبر، ایک لاکھ سابق فوجی، 6 لاکھ 85ہزار وی ایچ پی – بجرنگ دل کے ممبر جڑے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں اس کے ساتھ بے حد جانثار اور ایماندار 4 ہزار کل وقتی کارکن ہیں، جو ملک بھر میں پھیلے 56ہزار 859 برانچوں میں کام کررہے 55 لاکھ 20 ہزار سوئم سیوکوں کے ساتھ مل کر اس کی پالیسی ساز تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کو طاقت دیتے رہتے ہیں۔
پہلے بی جے پی کا نام ’’ بھارتیہ جن سنگھ ‘‘ تھا۔سنگھ کے قیام کے 50 سال بعد 1975 میں جب ملک میں ایمرجینسی لگی، سنگھ کے ساتھ جن سنگھ پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ایمرجینسی ہٹنے کے بعد جن سنگھ کا انضمام ’جنتا پارٹی ‘ میں ہوا اور مرکز میں مرارجی دیسائی کی وزارت عظمیٰ میں ملی جلی سرکار بنی جس میں مشہور سوئم سیوک ایل کے اڈوانی اور اٹل بہاری واجپئی نے بالترتیب وزیراطلاعات و نشریات اور وزیر خارجہ کی شکل میں گہری چھاپ چھوڑی۔بعد میں جنتا پارٖٹی سے الگ ہوکر بی جے پی وجود میں آئی اور سنگھ کے قیام کے 75 سال بعد 2000 میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار میں عظیم سوئم سیوک اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم بنے۔ آج سنگھ کے اسی سیاسی تنظیم کے چیف نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی ناقابل مزاحمت پارٹی بن کر ابھری ہے۔
قوت کا دوسرا سرچشمہ
سنگھ کے بعد بی جے پی کی دوسری بنیادی طاقت کے ذرائع میں نظر آتے ہیں وہ سادھو سنت جن کا آشیرواد لے کر ملک کے کئی پی ایم ، سی ایم اور صدر، گورنر خود کو فخر محسوس کرتے رہے ہیں۔ وقت بوقت 90 فیصد سادھو سماج کا آشیرواد بی جے پی کے ساتھ رہا ہے۔ 7اگست 1990 کو منڈل رپورٹ شائع ہونے کے بعد جب پسماندوں کو ریزرویشن ملا اور بہوجنوں کی بیداری کی وجہ سے اعلیٰ طبقہ سیاسی طور سے لاچار ہوا، تب سنگھ کے دوررس ہدف کو دھیان میں رکھ کر ستمبر 1990 میں بی جے پی کے اڈوانی نے جو رام جنم بھومی مُکتی آندولن چھیڑا، اسے انتہا تک پہنچانے میں سادھو سنتوں نے تاریخی کردار ادا کیا۔ چونکہ سنگھ کا مقصد اپنی سیاسی تنظیم کے ذریعہ برہمنوں کی قیادت میں اعلیٰ ذات کے مفاد کو مضبوط کرنا رہا اور سادھو سنت اصولی طور پر اعلیٰ ذات سے آتے ہیں، اس لئے انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے پَرلوک سے دھیان اہلوک کی طرف کرنے میں کوتاہی نہیں کی جس کا بھرپور فائدہ بی جے پی کو ملا۔ اگر سادھو سنتوں کی مکمل حمایت سے بی جے پی مستفید نہیں ہوتی تو ناقابل مزاحمت بننا شاید اس کے لئے دشوار ہوتا۔
قوت کا تیسرا سرچشمہ
طاقت کے ذرائع کی شکل میں تیسرے نمبر پر میڈیا (پرنٹ-الکٹرانک ) کو نشان زد کئے جانے سے بھی شاید کم ہی لوگوں کو اعتراض ہوگا۔ منڈل کے ذریعہ پسماندوں کو ملے ریرویشن سے عام اعلیٰ ذات کی مانند اعلیٰ ذات پرست میڈیا کو بھی بھاری صدمہ لگا تھا ۔بالآخر اڈوانی نے مذہبی بیداری کے سیاسی کرن کے ذریعہ سنگھ کا سیاسی ہدف پورا کرنے کے لئے ستمبر 1990 سے منصوبہ چلایا جس میں میڈیا نے قدم تال کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ حالانکہ پچھلی صدی میں میڈیا بنیادی طور پر اخباروں اور ریڈیو تک محدود رہنے کی وجہ سے بہت موثر کردار ادا نہیں کیالیکن نئی صدی میں چینلوں کے پھیلائو نے میڈیا کو اقتدار کو متاثر کرنے میں بے انتہا طاقت عطا کردی۔ اسی لئے تو میڈیا کے زور سے سات کلاس پاس ایک شخص سی ایم بن گیا۔ ایسی طاقتور میڈیا کی غالباً90فیصد حمایت سے مستفید کوئی پارٹی ہے تو سنگھ کی بی جے پی ہی ہے۔
قوت کا چوتھا سرچشمہ
بی جے پی کی چوتھی بنیادی طاقت کے ذرائع کی شکل میں مصنفین ہی نظر آتے ہیں۔ راشٹر وادی اور غیر راشٹر وادی۔90 فیصد مصنفین ہی بی جے پی کے حق میں نظریات تشکیل کرتے دیکھے جاسکتے ہیں لیکن جس طرح سیکولر خیمے کے مصنفین نے بی جے پی کے دشمن کے لباس کا رول ادا کیا ہے، اس پر پینی نظر رکھنے والے یقینا مانیں گے کہ ملک کے 90-80 فیصد مصنفین براہ راست یا بالواسطہ طور سے بی جے پی کے لئے کام کرتے ہیں۔
شروع سے ہی بی جے پی کی پہچان بنیادی طور پر برہمن، چھتریہ،بنیوں کی پارٹی کی شکل میں رہی ہے۔ ان میں بنیا کون۔ہندوستان کا مالدار طبقہ ہی تو ہے۔ بی جے پی سے بنیوں کے لگائو میں آج بھی ذرہ بھر کمی نہیں آئی ہے۔ ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ آج کی تاریخ میں ہندوستانی سرمایادارطبقہ سے سب سے زیادہ تقریباً 90فیصدتک مستفید ہونے والی سیاسی پارٹی بی جے پی ہی ہے۔ صرف سادھو سنت ، رائٹر ، صحافی اور سرمایا دار ہی نہیں ،کھیل کود، فلم ،ٹی وی دنیا کے تقریباً 90 فیصد سیلیبریٹی بی جے پی کے ساتھ ہی ہیں۔بی جے پی کی طاقت کے کتنے وسیع ذرائع ہیں،ان کا اندازہ و ہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے شتروگھن سنہا، ونود کھنہ، ہیما مالنی، نوجوت سنگھ سدھو ، چیتن چوہان، منوج تیواری، اسمرتی ایرانی وغیرہ کے اجلاس میں جمع ہونے والی بھیڑ کا جائزہ لیا ہے۔
قوت کا پانچواں سرچشمہ
بی جے پی کی طاقت کا ایک بڑا ذریعہ اعلیٰ ذات کے ووٹرس ہیںجن کا لگ بھگ 90 فیصد حصہ اسی کے ساتھ ہے۔ سنگھ – بی جے پی کے ذریعہ ہندو مذہبی ثقافت کے بہتر کرنے کی تشہیر اور مسلم شبیہ بگاڑنے کی تشہیر نے اسے متوجہ کیا ہی ہے، لیکن یہ بی جے پی پر فدا رہتا ہے ،خاص طور سے ریزرویشن کے خاتمے کے امکان کو لے کر ۔اعلیٰ ذات کے ووٹر دل و جان سے بھروسہ کرتے ہیں کہ جب بی جے پی بھرپور طاقت کے ساتھ اقتدار میں آئے گی تو وہ ریزرویشن کا خاتمہ کر دے گی، جس کی وجہ سے ہندو ایشور کے گھٹیا انگ (پیر) سے جنم لینے والے لوگ ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر وغیرہ بن کر ہندو ایشور دھرم ،شاخوں کو کنفیوژ کرنے کے ساتھ ہی انہیں کچھ مواقع پر محروم کر دیتے ہیں۔ بہو جن ڈش فیگر ، اعلیٰ ذات کے ووٹروں میں بی جے پی کی طاقت کا خصوصی ذریعہ اس لئے ہیں کیونکہ ایک اعلیٰ ذات اوسطاً 5 بہو جن ووٹروں کو متاثر کرنے کا سماجی اثر رکھتا ہے۔ بہر حال اعلیٰ ذات کے ووٹر اگر بی جے پی کی طاقت کا بڑا ذریعہ ہیں تو ہندو دھرم شاستروں کے ذریعہ خدائی غلام ( ڈیوائن سلیو ) میں تحویل کیا گیا بہو جن اور بڑا ذریعہ ہے۔ دلت ، آدیواسی اور پچھڑوں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا طبقہ مذہبی ہدایات کی توضیح کرتے ہوئے صدیوں سے ہی طاقت کے ذرائع ( اقتصادی، سیاسی، مذہبی، تہذیبی ،تعلیمی وغیرہ ) سے پوری طرح محروم رہا۔
جدید دنیا میں انقلابات کے ہزارہا باب اور پھولے امبیڈکر لٹریچر بھی اس کی نفسیات میں واجب بدلائو نہیں لا سکا ہے۔اس کے لئے طاقت کے ذرائع میں حصہ داری سے کہیں زیادہ آج بھی اس کے لئے دھرم کی کشش زیادہ بڑی ہے۔اس لئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے ریزرویشن کے خلاف مذہبی آندولن چلا کر ہی بی جے پی یہاں تک پہنچی ہے، وہ اس سے دور جانے کا من نہیں بنا پاتا۔ خدائی غلاموں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ تاریخی وجوہات سے ان میں اقلیتوں کے تئیں نفرت بھی کوٹ کوٹ کر بھری رہتی ہے۔ بی جے پی کی اساسی تنظیم یہ جانتی ہے ، اس لئے وہ مختلف مذہبی ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعہ اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے میں طاقت لگاتی رہتی ہے۔
قوت کا چھٹا سرچشمہ
بی جے پی کی طاقت کے ذرائع میں ، اس کے ترجمانوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ گوایبلس اصول میں زیادہ قابل سنگھ کے ذریعہ تربیت یافتہ بی جے پی کے ترجمان اتنے تجربہ کار ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے کرتوتوں کو بھی توجہ سے سننے کے لئے پابند ہوتے ہیں۔ سنگھ شاخوں میں سب سے زیادہ زورتجربہ کار ترجمان بنانے پر دیا جاتاہے کہ غلط کو بھی کامیابی کے ساتھ سچ میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ان کے سامنے اپوزیشن ترجمان قابل رحم لگتے ہیں اور جب ڈاکٹر سنویت اور سودھانشو تریویدی جیسے لوگ بی جے پی کے حق میں دلیل رکھنا شروع کرتے ہیں، اپوزیشن کی صورت حال قابل رحم ہو جاتی ہے۔
لیکن بی جے پی کی طاقت کے ذرائع کی شکل میں ملک و بیرون ملک کا کوئی بھی آدمی جس کی اندیکھی نہیں کرسکتا، اس کا نام ہے نریندر مودی۔ مودی سنگھ سے نکلے ایسے نایاب ہیرا ہیں جنہیں منفرد کہنا کہیں سے بھی مبالغہ نہیں ہوگا۔ آج ملک میں ایک سے 9 تک کوئی لیڈر ہے تو وہ مودی ہی ہیں، باقی کی گنتی دسویں سے شروع ہوتی ہے ۔غیر ملکیوں کے ذریعہ سیاست کے راک اسٹار کی شکل میں نشان زد مودی نے اپنی قائدانہ صلاحیت سے بی جے پی کی طاقت کے ذرائع کو مطلوبہ سمت دینے میں رہنمائی کرتے ہوئے ایک سیلاب میں تبدیل کردیا ہے۔ اپنی قابل قیادت میں جس طرح مودی سنگھ ، بی جے پی کے لاکھوں کارکنوں کو حوصلہ مند، جوش اور ولولہ انگیز کرتے ہوئے ہدف پانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اس کا مقابلہ کرنے کے لئے اپوزیشن کے سامنے وقار و رسوائی کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہونے کے علاوہ کوئی متبادل ہی نہیں بچا ہے۔
(مضمون نگار بہو جن ڈائیورسٹی مشن کے قومی صدر ہیں )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *