واحد حل: انتخابی عمل کو چیلنج یا 2019 کی تیاری

گزشتہ ہفتہ اخباروںکی سرخیوں میںدوموضوع اہم رہے ۔ پہلا،جانچ ایجنسیوں کا اپوزیشن لیڈروں کو ایسے ایشوزپر گھیرنا، جو ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر کارتی چدمبرم، جو ایک بزنس مین ہیں۔ ان کی کمپنیاںصحیح ڈھنگ سے منظم ہیں۔ تین سال سے ان کے خلاف ثبوت تلاش کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اگر افواہوں پر یقین کریں تو ان تمام کوششوںکے باوجود ان کے یہاںسے پندرہ ہزار ڈالر کی رقم برآمد ہوئی تھی، جو ایک بہت ہی چھوٹی رقم ہے او رجس میںبے ضابطگی پائی گئی۔گزشتہ دنوں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی نے ان کی رہائش پر اس ا مید میں چھاپہ مارا کہ ان کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جاسکتے ہیں یا ضرورت پڑے تو انھیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا ظاہر نہیںہونا چاہیے کہ سرکاری مشینری کا استعمال کرکے سرکار اپنے مخالفین کو پریشان کررہی ہے۔ اس کا بہت فائدہ نہیںملنے والا۔ اترپردیش انتخابات میںملی عوامی حمایت کے بعد اس طرح کی چیزیں بی جے پی کے عدم تحفظ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگر پارٹی کا دعویٰ ہے کہ نریندر مودی پورے ہندوستان میںقابل قبول ہیں ،تو پھر وہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوںہے؟ حکومت ہند پی چدمبرم کو ڈرانا کیوںچاہتی ہے؟ کیا اس لیے کہ وہ ہر اتوار کو ’انڈین ایکسپریس‘ میںایک کالم لکھتے ہیں۔ میںیہاںضرور کہوںگا کہ ان کے کالم بہت ہی شائستہ اور متوازن ہوتے ہیں۔ ان کی زبان ایسی ہوتی ہے، جیسی کسی سابق وزیر مالیات کی ہونی چاہیے۔ وہ الگ الگ معاملوںپر سرکار کو تجویز بھی دیتے ہیں۔ بے شک ،وہ اس بات کی تنقید کرتے ہیںکہ حکومت ترقی کے جو دعوے کررہی ہے، وہ زمینی سطح پر نہیںدکھائی دیتے۔ زرعی شعبے او رروزگار پیدا کرنے کے لیے وہ ٹھوس تجاویز دیتے رہے ہیں۔ دراصل حکومت کی گھبراہٹ میری سمجھ سے باہر ہے۔
بہرحال ، یہ حکومت کانگریس کی نقل میںکانگریس کو بھی مات دے رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بی جے پی یہ کام ناپختگی اور بے ڈھنگے طریقہ سے کررہی ہے۔ اگر کانگریس ان کی جگہ پر ہوتی، تو وہ کہتی کہ ان چیزوںسے اس کا کوئی واسطہ نہیںہے، قانون اپنا کام کررہا ہے۔ یہاںبھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان اپوزیشن لیڈروں کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ لالو یادو، بے نامی جائیداد۔ ہم بی جے پی لیڈروںکو ٹی وی پر سننا چاہتے ہیں، سرکار کو نہیں۔ لیڈر سمجھ رہے ہیں کہ وہ ہی سرکار ہیں۔ وہ جوکروںکی طرح دکھائی دینے لگے ہیں۔ ایک ترجمان سنوت پاترا ہیں۔ ذرا ان کی زبان دیکھئے، ان کی باڈی لینگویج دیکھئے، ان کی دلیل دیکھئے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ کانگریس بھی ایسا کیا کرتی تھی تو انھیںیہ احساس نہیںہوتا کہ ایسا کہہ کر وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ صرف کانگریس کے کمپلیمنٹ ہیں، ان کے متبادل نہیںہیں۔ وہ سمجھتے ہیںکہ ایسا کرنا ٹھیک ہے کیونکہ کانگریس ایسا کرتی تھی ،اس لیے ہم بھی کریںگے۔ چاہے سی بی آئی کا بیجا استعمال ہو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا بے جا استعمال ہو، گورنر کے دفتر کابے جا استعمال ہو،اپوزیشن سے ایم ایل اے کی خرید ہو،اگر عوام نے انھیںنہیں چنا ہے تو بھی سرکار بنانے جیسے معاملے ہیں۔ دراصل کانگریس ان سے بڑے گناہ کی مجرم نہیںہے۔ لہٰذا اعلیٰ اخلاقیات کی بات، پارٹی ود ڈیفرینس (اڈوانی جی کہا کرتے تھے کہ’ ہم پارٹی ود ڈیفرینس‘ ہیں، اگر عوام ہمیں نہیں چنیں گے تو اپوزیشن میںبیٹھیںگے)،یہ ساری چیزیںکہیںکھو گئی ہیں۔اب معاملہ بہت سیدھا ہے۔ لڑائی شروع ہوگئی ہے،اقتدار ہمارے ہاتھ میںہے، ہم آپ پر مقدمہ چلائیںگے، آپ کو ہراساںکریںگے،نتیجہ چاہے جو بھی ہو۔
دوسرا موضوع اپوزیشن لیڈروںسے متعلق ہے۔ ان کی بھی بات میری سمجھ میںنہیںآتی۔فرض کر لیجئے کہ لالو یادو کی مبینہ بے نامی جائیدادوں کو اجاگر کرنے کے لیے دہلی اور گڑگاؤں کی 20 جگہوں پر چھاپہ ماری ہوتی ہے۔ اس مسئلے پر جس طرح سے رپورٹنگ ہوئی، اس پرلالو یادو کو زیادہ دھیان نہیںدینا چاہیے۔ کیا انھیںپتہ نہیںہے کہ تمام قومی اخبارات سرمایہ داروںکے ذریعہ چلائے جاتے ہیں۔ اس ملک کے سرمایہ دار کسی بھی حالت میںسرکار کے خلاف نہیںجاسکتے۔ ایک برا واقعہ ہوا، اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کا اعلان کردیا او ر سینسر شپ لاگو کردی۔ لوگوںکی آواز بند کرنے کا یہ قانونی طریقہ تھا۔ہر کسی کو پیسہ دیا گیا، کسی کو اشتہار کے ذریعہ، کسی کو دوسرے ذریعہ سے اور اس کے بعد ہر کوئی بغیر کسی دلیل کے ایک ہی سُر میںگانے لگا۔ ایسے اخبار اور ایڈیٹر ، جن کے لیے میرے دل میںاحترام ہے،وہ کہیںنہیں دکھائی دے رہے ہیں۔
اپوزیشن کی حکمت عملی ان دو میںسے ایک ہونی چاہیے۔ پہلی یا تو آپ خاموش ہو جائیے او ر2019 کے الیکشن کے لیے خاموشی کے ساتھ تیاری کیجئے او ربی جے پی کے خلاف کسی ایک امیدوار کو اتاریئے ۔ آپ کو کسی ایک پر اتفاق کرنا پڑے گا جیسا کہ 1977 میںجے پرکاش نارائن نے کہا تھا کہ جب تک آپ آمنے سامنے کی لڑائی نہیںلڑیں گے، میںآپ کے لیے نہیںلڑوںگا۔آج بھی وہی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ یہاںسوال یہ ہے کہ کیا آپ حقیقت میںبی جے پی کو 2019 میں ہرانا چاہتے ہیں؟اگر ہاں، تو پھر آپ کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہے۔اپنی انا کو چھوڑ کر تھوڑی قربانی دیجئے۔ ایک بار جب جمہوریت محفوظ ہوجائے توپھر 2024 بھی آئے گا۔ لیکن فی الحال آپ کو اپنی خواہشات کو الگ رکھنا ہوگا اور ایک ایسا امیدوار چننا ہوگا جس کی جیتنے کی امید زیادہ ہو، چاہے وہ جس پارٹی سے متعلق ہو۔ یہ پہلا متبادل ہے۔
اگر اتنا تحمل نہیںہے اور آپ آج ہی تحریک چھیڑنا چاہتے ہیں تو صدر جمہوریہ کا الیکشن لڑنا کوئی معنی نہیںرکھتا۔کیونکہ صدر جمہوریہ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ دراصل آئین میںجہاںکہیںبھی صدر جمہوریہ کا نام آیا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے حکومت ہند ۔ یہاںتک کہ کسی کو معافی دینے کا اختیار بھی صدر جمہوریہ کے پاس نہیںہے، وہ کسی کو معافی نہیںدے سکتا۔ جب بھی معافی کی کوئی اپیل آتی ہے، صدر جمہوریہ اسے وزارت داخلہ کو بھیجتے ہیں۔ وزارت داخلہ اور یونین کیبنٹ اس پر فیصلہ کرتے ہیں۔ برٹش مہارانی کی طرح صدر جمہوریہ ملک کے ٹائیٹولر ہیڈ ہوتے ہیں۔ وہ ملک کے وقار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا عہدہ کوئی سیاسی عہدہ نہیںہے۔ اگر 2019سے قبل واقعی آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ای وی ایم پر سوال اٹھائیے۔ میںان لوگوںمیںسے ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن ، الیکشن ہوتے ہیں۔ ان میںکوئی جیتتا ہے، کوئی ہارتا ہے۔ انتخابی عمل کی ایماندراری اور سچائی پر سوال کیوںکھڑے کئے جائیں؟ لیکن ای وی ایم پر کئی حلقوںسے بہت ہی سنگین شبہ ظاہر کیے گئے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے اور اپوزیشن اس کو مانتا ہے تو ای وی ایم کو مدعا بنانا چاہیے۔ انھیں کہنا چاہیے کہ 2019 میںای وی ایم کا استعمال نہیںہونا چاہیے۔ الیکشن پہلے کی طرح بیلٹ پیپر پر ہونے چاہئیں۔ اگر انتخابی نتیجے آنے میں دیر ہوتی ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جلدی کس کو ہے؟ انھیں کہنا چاہیے کہ بھلے ہی بی جے پی ایک بار پھر چن لی جائے، ہم ای وی ایم سے ہونے والے الیکشن کا بائیکاٹ کریںگے کیونکہ اگر انتخابی عمل میںچھیڑ چھاڑ ہوتی ہے تو ویسے بھی بی جے پی ہی جیتے گی۔ ہمیںافریقی ممالک کے راستے پر نہیںجانا چاہیے جہاںالیکشن چرائے جاتے ہیں یا بنگلہ دیش جہاںسبھی پارٹیوںنے الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور شیخ حسینہ دوسری بار جیت گئی۔ یہ صحیح طریقہ نہیںہے۔
ان سبھی چیزوںکو ایک نقطہ نظر میںرکھتے ہوئے ہم ایک سُر میںکہتے ہیں کہ 2019 کے انتخابات ایمانداری سے ہوں گے اور بی جے پی اور اپوزیشن کے بیچ میںہوںگے، چاہے ان کے نتائج جو بھی ہوں۔ آخرکار ہم جمہوریت میںیقین رکھتے ہیں۔ اگر لوگ واقعی بی جے پی کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، اگر وہ واقعی سیکولر نہیںرہنا چاہتے،تو ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ لیکن ایسا ہوتا نہیںدکھائی دے رہا ہے۔ کیونکہ 2014 میںانھیںصرف 31 فیصد ووٹ ملے تھے، 69 فیصد نے انھیں ووٹ نہیںدیاتھا۔ وہ بھی انھیں کل ووٹنگ کا 31 فیصد ووٹ ملا تھا۔ اس لحا ظ سے دیکھا جائے تو ملک کے 125 کروڑلوگوںمیںسے صرف 15-16 کروڑ لوگوں نے انھیں ووٹ دیا تھا۔ یہ ملک صرف 1950 میںنہرو، امبیڈکر اور دیگر لوگوںکے ذریعہ تیار آئین کی وجہ سے سیکولر، سماجوادی اور جمہوری نہیںہے، بلکہ یہ ملک اپنی روایت اور ثقافت کے سبب سیکولر، سماجوادی اور جمہوری ہے۔
اگریہ لوگ کہتے ہیںکہ اورنگ زیب نے سب کا مذہب تبدیل کرادیا ،لہٰذا ان کے نام پر سڑک نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اورنگ زیب نے تو پچاس سال تک حکومت کی، اگر اس نے سب کا مذہب تبدیل کرادیا ہوتا تو ملک میں85 فیصد ہندو کہاںسے آگئے؟ ہندوستان کو ایک مسلم ملک بن جاناچاہیے تھا؟ سیاسی فائدے کے لیے کانگریس پر مسلم خوشنودی کے الزام لگانے پر مجھے کوئی اعتراض نہیںہے۔ لیکن حقائق کو توڑ امروڑا نہیںجاسکتا۔یہ ہندو غلبہ والا ملک ہے۔ ہندو کا مطلب ہندوتو نہیںہے۔ ہندو کا مطلب سناتن دھرم ہے، جس کا صدیوںسے ’جیو اور جینے دو‘ کی روایت میں یقین ہے۔ سناتن دھرم کو کسی مسلم،عیسائی، سکھ یا جین سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ سناتن دھرم کے کبھی نہیں بدلنے والے اقدارہیں۔ ان میں سے ایک یہ ملک ہے، جو کبھی بدل نہیں سکتا۔مودی آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے۔ ہم مغلوں کو جھیل گئے، ہم انگریزوں کو جھیل گئے تو کیا ہم بی جے پی سرکار کے پانچ دس سال نہیں جھیل سکتے؟ملک بہت مضبوط ہے، گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں ہے،لیکن ہمیں صحیح راستے پر چلنا چاہئے۔یا تو ہمٰں پوری انتخابی عمل کو چیلنج دینا چاہئے یا پھر2019 کی تیاری کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ کچھ کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *