مسلم لڑکی نے دیا مودی کو تحفہ میں گائے

ملک بھر میں گئو رکشا ایشو گرمایا ہوا ہے۔جہاں ایک طرف مسلمانوں میں اس ایشو کو لے کربے چینی پائی جاتی ہے وہیں کچھ لوگ اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دوسروں سے دشمنی نکالنے کا راستہ نکال رہے ہیں جیسا کہ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ کئی جگہ شدت پسند عناصر نے گئو رکشا کے نام پر بے گناہوں کا قتل کیا ۔حالانکہ گئو رکشا کو لے کر مسلمانوں کا بھی ایک اچھا خاصا ایسا طبقہ ہے جو فکر مند ہے اور وہ چاہتا ہے کہ گئو رکشا پر عمل درآمد ہو۔
یو پی میں یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد غیر قانونی بوچڑخانوںپر لگی پابندی کے ساتھ دوسری ریاستوں میں بھی گائوں کی رکشا کو لے کر اچانک آوازیں تیز ہو گئی ہیں۔ گزشتہ دنوں گجرات کے سورت پہنچے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مسلم لڑکی نے سونے کی گائے تحفہ میں دے کر انہیں گائے کو بچانے کی اپیل کی۔ اس لڑکی کا ایک ویڈیو جاری ہوا ہے جس میں اس کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ’’ میں ایک مسلمان ہوں ۔گائے کی حفاظت کریں پارٹی کی قومی میٹینگ میں حصہ لینے کے بعد اپنے صوبہ میں پہنچے پی ایم مودی نے سورت میں روڈ شو کیا۔ روڈ شو کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی بھیڑ امڈی۔اسی بھیڑ میں مودی کو تحفہ میں دینے لے لئے ایک بچی سونے کی گائے ہاتھوں میں لئے نظر آئی۔ گائے پر لکھا تھا،میں مسلمان ہوں۔ گائے کی رکشا کریں۔ مودی نے اٹھایا تین طلاق کا ایشو اس کے پہلے وزیر اعظم مودی نے بھونیشور میں چل رہی پارتی کی قومی میٹنگ میں تین طلاق کا ایشو اٹھایا تھا ور کہا تھاکہ اس بار بی جے پی کا رخ یکدم صاف ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلمان بہنوںکو اس سے پریشانی ہو رہی ہے۔ اور مرکزی سرکار اس کا حل جلد سے جلد چاہتی ہے ۔وزیرا عظم نے کہا کہ مسلم عورتون کااستحصال نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو کام کرنا چاہئے لیکن اپوزیشن اس کو مدعا بنارہے ہیں۔بہر کیف مسلمانوں کے طرف سے مودی حکومت کو پورا تعاون دیا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *