تین طلاق دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ ناقابل عمل فیصلہ

طلاق ثلاثہ امت میں کبھی بھی پسندیدہ نہیںرہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے طلاق مغلظہ یا طلاق بدعت بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ’چوتھی دنیا‘ نے اس تعلق سے آدھے درجن اس امور کی ماہر مسلم خواتین سے رائے لی تھی اوراسے شائع کیا تھا۔ شمارہ نمبر 357 (مورخہ 17 تا 23 اپریل 2017) میں شائع طلاق ثلاثہ کے خلاف یہ آراء عمومی بالخصوص مسلم خواتین میں پسند کی گئیں۔ 15-16 اپریل 2017 کو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کی دو روزہ اہم و غیر معمولی میٹنگ میںبھی اس کی گونج رہی۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر بورڈ نے آخر میںجو ’کوڈ آف کنڈکٹ ‘ جاری کیا، اس میں ایک ساتھ تین طلاق کو غیر مناسب قرار دیا گیا اور ایسا کرنے والوںکا سماجی بائیکاٹ کرنے کو کہا گیا ۔
سچ تو یہ ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سماجی بائیکاٹ کا یہ فیصلہ حکومت اور عدلیہ ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے تیور کو دیکھتے ہوئے آدھے دل سے کیا گیا ہے۔ بورڈ کے اس فیصلہ کا مذکورہ بالا آدھے درجن ماہرین عائلی قوانین نے طلاق ثلاثہ کے معاملے میں اصولی طور پر خیرمقدم کرتے ہوئے ’چوتھی دنیا‘ کو بتایا کہ ’’اس معاملہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا یہ فیصلہ مبارک قدم ہے کیونکہ اب تک وہ اس پر کھل کر کوئی موقف اختیار کرنے سے گریز کرتا تھا۔‘‘
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں واقع سروجنی نائیڈو سینٹر فار ویمن اسٹڈیز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر صبیحہ حسین نے بورڈ کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’قرآن میںاس تعلق سے واضح ہدایات رہنے کے باوجود آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ طلاق ثلاثہ پر دوٹوک انداز میںکچھ کہنے سے کتراتا تھا لیکن اب اس کا یہ کہنا کہ ایک ساتھ تین طلاق نہ دی جائیں اور طلاق ثلاثہ دینے والوںکا سماجی بائیکاٹ کیا جائے، یقیناً اس کی جانب سے مبارک قدم ہے مگر سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ ناقابل عمل ہے۔‘‘
اسی سینٹر میںعائلی قانون پر گہری نظر رکھنے والی شائستہ عنبر تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے فیصلہ پر کہتی ہیں کہ ’’اس لحاظ سے یہ فیصلہ مبارک ہے کہ اس نے پہلی بار کھل کر یہ اعتراف کرلیا کہ طلاق ثلاثہ مناسب نہیںہے مگر مجھے طلاق ثلاثہ دینے والوں کے خلاف اس کے محض سماجی بائیکاٹ کے فیصلہ میں کوئی دم نظر نہیں آتا ہے کیونکہ ایسے کسی مرد کے سماجی بائیکاٹ کے باوجود اس کی مطلقہ بیوی کی مظلومیت میں تو کوئی کمی نہیںہوگی اور اس کا گھر بار اور اولاد، سب کا سب بربادی کی طرف پڑھ چکا ہوگا جبکہ وہ مرد مزید نکاح کرکے اپنی نئی زندگی کی شروعات کررہا ہوگا۔
شائستہ عنبر اپنی بات پر زور ڈالتی ہوئی کہتی ہیں کہ ’’طلاق ثلاثہ کے تعلق سے اعتراف حق کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو مزید قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایسی مظلوم خواتین کا ساتھ دینا ہوگا، صرف ایسے مردوںکے سماجی بائیکاٹ سے ظلم ختم نہیں ہوگا۔ چونکہ بورڈ کے پاس قوت نافذہ نہیںہے، اس لیے ا سے متعلقہ عدالتوں میں ایسے مردوں کے خلاف سزا دینے کا دروازہ بھی کھلوانا ہوگا، تبھی غیر ضروری طلاق سے صحیح انداز سے نمٹا جاسکے گا۔‘‘
انھوں نے چند خواتین کے حوالے سے کہا کہ ایسی متعدد مسلم خواتین ہیں جو کہ طلاق کے بیجا استعمال سے سخت پریشان ہیں اور حال ہی میں انھوںنے ایسے متعدد معاملے جمعیت علماء ہند (محمود مدنی) کے پاس بھجوائے ہیں۔
مذکورہ آدھی درجن ماہر خواتین میں سے دیگر خواتین ڈاکٹر ثریا تبسم، ڈاکٹر فردوس صدیقی اور ڈاکٹر ترنم صدیقی کی بھی کم وبیش یہی رائے ہے۔ ان سب کو اس بات پر اطمینان ہے کہ ان کی ’چوتھی دنیا‘ میںاظہار کی گئی رائے نے اپنا اثر دکھایا اور اس سے برف کے پگھلنے میںمدد ملی۔
عائلی قوانین بالخصوص طلاق ثلاثہ سے جڑے مسائل پر غور کرتے ہی اس کی تھیوریٹیکل اور پریکٹیکلی مجاہدہ عظمیٰ ناہید کا نام ذہن میں آتا ہے۔ یہ دینی و عصری دونوںعلوم سے لیس ہیں۔ انھوںنے دینی تعلیم اپنے والد مشہور عالم دین اور مہتمم دارالعلوم دیوبند (وقف) اور عصری تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ہے۔ قاری محمد طیب ان کے دادا اور بانئی دیوبند مولانا قاسم نانوتوی ان کے پیر دادا تھے۔ یہ عائلی قوانین کے تعلق سے مسلم خواتین میں تقریباً بیس برس سے کام کر رہی ہیں اور ان کے لیے آواز اٹھارہی ہیں۔ یہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی رکن ہیں مگر بورڈ ان کی بے باک رائے کو پسند نہیںکرتا ہے۔ لہٰذا ’چوتھی دنیا‘ نے جب ان سے لکھنؤ کی حالیہ میٹنگ میںکیے گئے فیصلہ پر ردعمل جاننا چاہا تو انھوںنے برجستہ کہا کہ ’’ اگرچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سپریم کورٹ میںپیش کردہ ایفی ڈیوٹ کے برخلاف حالیہ بیان جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قرآن کریم کی مجوزہ طلاق کا استعمال کریں، ایک مثبت پیغام ہے، اچھا قدم ہے اوریقین ہے کہ بورڈ کے اس اقدام سے عوام کا رویہ بھی بدلے گا لیکن طلاق ثلاثہ کا مسئلہ آج بھی اٹکا ہوا ہے۔ اس پر یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ اس کا استعمال کرنے والوںکا بائیکاٹ کردیا جائے۔ یہ خود پریکٹیکل نہیںہے۔ یہ عمل وہاںتو کارگر ہوسکتا ہے جہاں برادری’صمم‘ بنی ہوئی ہے، خاندانی نظام قائم ہے، چھوٹی بستیاں ہیں۔ لیکن اب تو گاؤں بھی سمٹ کر شہروںمیںآلگے ہیں۔ اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ اترپردیش والے کا پڑوسی تمل ہے اور کرناٹک کی فیملی کا پڑوسی بہاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میںکون کس کا سماجی بائیکاٹ کرے گا اور کیوںکرے گا؟ اس وقت کے موجودہ سماجی ڈھانچے میں ’سماجی بائیکاٹ‘ کا یہ نسخہ ہی بے معنی ہے۔ ‘‘
عظمیٰ ناہید بورڈ کے حالیہ فیصلہ پر یہ بھی کہتی ہیں کہ یہ قانونی باتیںتھیں ۔ ان کو عوام الناس کی صوابدید پر چھوڑنے کا کیا مطلب ہے؟ جس مسئلہ کو پوری تنظیم نہیں حل نہیں کرسکتی ہو، اس سلسلے میں عوام سے مطالبہ کے کیا معنی ہیں؟ یہ جانتے ہوئے کہ اب یہ معاملہ رکنے والا نہیں ہے اور جو حکومت کھانے پینے تک پر پابندیاں عائد کررہی ہے،اس کے ایسے قوانین جس کی افادیت سے زیادہ نقصان سامنے آرہے ہیں، ا س کو عزت نفس کا مسئلہ نہیںبنایا جانا چاہیے۔
عظمیٰ ناہید سے جب ’چوتھی دنیا‘ نے یہ سوال کیا کہ آخر پھر اس کا حل کیا ہے؟ وہ کہنے لگیںکہ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ بیسویںصدی کے مشہور عالم دین اور مصلح مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ’الحیلتہ الفائزہ‘ سے استفادہ کیا جائے۔ انھوںنے اپنے دور میں ہر مسلک کے فقہا کو بلاکر یہ فرمایا تھا کہ آپ کے فقہ میں خاتون کے تحفظ کے جوبھی قوانین ہوں، وہ پیش کریں۔ اس کے لیے انھوں نے فقہ مالکی کے اس قانون کو اپنے ’کاتبین نامے‘ میں درج کیا تھا کہ اگر کوئی محض معصوم کو طلاق دیتا، یعنی شرعی وجوہات نہ پائی جاتی ہوں تو اس کو اپنا گھر اس خاتون کے حق میں چھوڑنا ہوگا یا مہر کی رقم دوگنی ہوجائے گی۔ عظمیٰ ناہید اپنی اس دلیل کو پیش کرتی ہوئے ’ چوتھی دنیا‘ سے کہتی ہیںکہ عظیم فقیہ اور سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کو بھی ان دونوںنکات سے اتفاق تھا اور انھوںنے خود مجھ سے کہا تھا کہ آپ یہ نکات اپنے نکاح نامہ میں شامل کیجئے۔
عظمیٰ ناہید کو عائلی قوانین پر مہارت ہے۔ انھونے اس سلسلے میں متعدد مفتیوں سے بھی استفادہ کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’اس سلسلے میںپنجاب کے مفتی اعظم مفتی فضیل الرحمٰن ہلال عثمانی ، جنھوںنے سب سے پہلے نکاح، طلاق، وراثت کے بارے میں انگریزی اور اردو میںلکھا، سے جب میںنے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا کہ طلاق ثلاثہ پر بحث عرب کلچر سے ماخوذ ہے لیکن عرب میںطلاق عیب ہے نہ کہ نکاح ثانی، لہٰذا ہمیںہندوستانی معاشرے کو سمجھنا چاہیے۔ ہم نے طلاق کو آسان بنادیا اور نکاح ثانی کو مشکل۔ اس لیے معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جس وقت یہ باتیں وزیر اعظم راجیو گاندھی کو پیش کی گئیں تو وہ شریعت کی آسانیاں اور مکمل قانون کو سمجھ کر ادب میںکھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ قوانین تو سب مولویوںکے لیے فائدہ مند ہیں۔ ‘‘
عظمیٰ ناہید کے یہ حوالے بڑے اہم ہیں۔ وہ کہتی ہیںکہ اس سلسلے میںمتعدد حوالے اور بھی ہیں جن سے ہم اس پورے مسئلہ کو سمجھ سکتے ہیں اور مسلم سماج کی جو ایک عجیب تصویر بنتی جارہی ہے کہ یہ غیر قانونی، ضدی اور احتجاج کرنے والی کمیونٹی ہے اور اس کے رہنما زمینی حقائق سے ہی نابلد ہیں، اسے ختم کرسکتے ہیں۔ ان کا صاف طور پر کہنا ہے کہ آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے سماجی بائیکاٹ کے فیصلہ سے مسئلہ قطعی حل نہیں ہوگا۔ ان کی نظر میںسپریم کورٹ میںپیش کیے گئے ایفی ڈیوٹ اور بورڈ کی لکھنؤ میٹنگ کے فیصلہ میںصاف طور پر تضاد ہے۔ لہٰذا بورڈ اگر اس ایشو پر سنجیدہ ہے تو اسے غیر مبہم انداز میںکوئی واضح موقف اختیار کرنا پڑے گا۔
عظمیٰ ناہید ، ڈاکٹر صبیحہ حسین اور شائستہ عنبر جیسی خواتین جو کہ طلاق ثلاثہ کے مضر اثرات سے مسلم معاشرے کو بچانا چاہتی ہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مبہم انداز سے مسلم کمیونٹی کی جو امیج بگڑ رہی ہے، اسے ٹھیک کرنا چاہتی ہیں، کو ہرگز نظرانداز نہیںکیا جاسکتا ہے۔
ویسے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا لکھنؤ میٹنگ میںطلاق ثلاثہ کو نامناسب اور غلط قرار دینا یقیناً مبارک قدم ہے۔ اس سے وہ اس جانب ایک قدم آگے بڑھا ہے اور اس کے بڑھتے ہوئے اس قدم میںان مسلم خواتین کاا ہم رول ہے جو کہ مظلوم ہیں۔ ان کی مظلومیت نے آخر اپنا کام کیا۔ ان مظلوم خواتین کی پشت پر عظمیٰ ناہید، صبیحہ حسین اور شائستہ عنبر جیسی عائلی قوانین کی ماہر خواتین کا کھڑا رہنا بھی ایک بڑا فیکٹر ہے۔ کسی بھی کمیونٹی کے عائلی قوانین اس کے اپنے نجی قوانین ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی عملی دشواری ہے تو اس کمیونٹی کو اسے خود ہی دور کرنا چاہیے اور اس کے لیے غیر مبہم انداز میںاپنی کتاب و سنت کی روشنی میں حل نکالنا چاہیے۔ ہمارے ملک کا آئین مختلف کمیونٹیوںکے عائلی قوانین کے تحفظ کی گارنٹی دیتا ہے۔ لہٰذا کسی خوف و ہراس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
جب ہم لکھنؤ میٹنگ کے پورے فیصلہ پر غور کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ یعنی طلاق بدعت سے باز رہنے اور اگر طلاق کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہے تو ’طلاق احسن پر عمل کرنے کی ’اپیل‘ کی ہے ، ہرچند کہ یہ اپیل جاری کرکے بورڈ نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کیا ہے لیکن یہ ناقص اور ناکافی ہے۔ سماجی بائیکاٹ کی اپیل پر ماہر عائلی قوانین ڈاکٹر طاہر محمود نے بھی ’انڈین ایکسپریس‘ میںلکھے ایک مضمون (18 اپریل 2017) میں یہی سوال اٹھایا ہے کہ سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کون کرے گا؟ اور یہ کس طرح نافذ ہوگا؟ اس سے اس مظلوم خاتون کا کیا فائدہ ہوگا جس کوطلاق دے کر گھر سے نکال دیا گیا ہے؟ یہ سوالات اہم ہیں۔ اس سے نئے فتنوںکا اندیشہ لاحق ہے۔ حیرت ہے کہ بورڈ نے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کرتے وقت ان اندیشوں پر غور کیوں نہیںکیا؟
یہ تلخ حقیقت ہے کہ طلاق ثلاثہ کا ہندوستان میں خاصا رجحان پایا جاتا ہے۔انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ ) 24 فروری 2017)کے مطابق ایک این جی او کے سروے کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں میںطلاق کے 525 معاملوں میں349 معاملے طلاق ثلاثہ کے ہیں۔ طلاق دینے والے تین چوتھائی افراد نے طلاق ثلاثہ کا استعمال کیا۔اگر اس سروے کو مان لیا جائے تو اس طرح کے رجحان یقیناً بڑے ہی خطرناک رجحان ہیں۔ لہٰذا امت کو اسے بہت ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے اور سماجی برائی کو دور کرنے کے لیے خود ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ ورنہ سرکار اور عدالت کی تلوار اس سماجی برائی کو ختم کرنے کے لیے لٹکے گی ہی۔ ہمیںیہ ماننا ہوگا کہ معاشرہ کی اصلاح کی ضرورت تو ہے اور یہ صرف سماجی بائیکاٹ سے نہیں ہوگا۔ اور وہ بھی وہ سماجی بائیکاٹ جوناقابل عمل ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *