سمندری آلودگی دور کرنے کا عظیم جذبہ

Sea-Polutionآلودگی کو ختم کرنے کی بات تو سب کرتے ہیں مگر اس جذبے کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ کسی کسی میں ہی ہوتا ہے۔یہ مرتبہ ناروے کے ایک عظیم تاجر کو ملا ہے جنہوں نے سمندری آلودگی کو ختم کرنے کے لئے اپنی دولت کا بڑا حصہ وقف کردینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کام کے لئے مستقل ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی اور اس کے آلات مہیا کرائے جائیں گے۔ ناروے کے کیئل انگ روک سابق ماہی گیر ہیں اور انھوں نے تیل سے اپنی دولت کمائی ہے۔  ان کا کہنا  ہے کہ وہ اپنی دولت کا بڑا حصہ اس تحقیقی بری جہاز کی فنڈنگ کے لیے دیں گے جو سمندروں سے پلاسٹک نکالنے کا کام کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ا ‘میں نے جو کمایا ہے اس کا زیادہ حصہ میں معاشرے کو واپس کرنا چاہتا ہوں۔ اور یہ جہاز اسی کا حصہ ہے۔ اس تحقیقی جہاز پر 30 افراد کا عملہ ہو گا اور اس میں 60 سائنسدانوں اور چند لیبارٹریز کی جگہ ہو گی۔اخباری رپورٹس کے مطابق یہ جہاز سمندر سے یومیہ پانچ ٹن پلاسٹک کا کوڑا نکالے گا اور اس کو پگھلائے گا۔ کیئل انگ نے کہا ‘زمین کا 70 فیصد حصہ سمندر پر مشتمل ہے اور اس بارے میں بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس جہاز پر کتنی لاگت آئے گی اور اس کے علاوہ وہ اپنی دولت میں سے کیا عطیہ کریں گے۔ کیئل اور ان کی اہلیہ پہلے ہی ایک فاؤنڈیشن چلا رہے ہیں جس کے ذریعے سکالرشپس دی جاتی ہیں۔ورلڈ وائلڈ لائف کی نینا جینس کہتی ہیں کہ وہ اس طرح کے جذبے کا احترام کرتی ہیں ،انہوں نے اس سے پہلے کبھی کسی میں یہ جذبہ نہیں دیکھا۔ یہ یقینا انسانی معاشرہ کے لئے ایک عظیم جذبہ ہے۔

روک کے جذبے سے حوصلہ پاکر اب دیگر ارب پتی افراد نے بھی اس طرف قدم بڑھایا ہے ۔ چنانچہ

مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی بل گیٹس اور ان کی اہلیہ میلنڈا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ  بھی خطیر رقم عطیہ کریں گے تاکہ صحت کی سہولیات اور عالمی ترقی پر کام کیا جا سکے۔ اسی طرح امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ نے وعدہ کیا ہے کہ  وہ اس انسانی کام کے لئے عطیہ کریں گے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *