آخر کیوں سعودی عرب سے لوٹ رہے ہیں 20 ہزار ہندوستانی ؟

Indian-in-Saudiچنئی: ہندوستانی مزدوروں کے لئے روزگار کے اعتبار سے سعودی عرب ہمیشہ سے ہی کشش کا مرکز رہا ہے۔اس لئے ہزاروں مزدور سعود عرب میں غلط طریقہ سے پہنچ جاتے ہیں۔ کچھ ویزا ختم ہونے کے بعد بھی وہاں سے نہیں لوٹتے ۔ سعودی عرب کی حکومت نے ایسے لوگوں کو 90دنوں کے اندر ملک چھوڑنے کی مہلت دی ہے۔ وہاں کی شاہی حکومت نے ان ہندوستانیوں کو شاہی معافی دی ہے۔ ان ملازمین میں سب سے زیادہ تعداد تمل ناڈو کے لوگوں کی بتائی جا رہی ہے۔ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔
ایسی صورت میں سعودی عرب میں غیر قانونی طریقہ سے رہ رہے بیس ہزار سے زیادہی ہندوستانی مزدور وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ ٹائمس آف انڈیا سے ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت میں ہندوستانی سفارخانہ میں کاؤنسلر(کمیونٹی ویلفیئر) انل ناٹیال نے گزشتہ روز بتایا کہ حکومت کے ذریعہ دی گئی شاہی معافی کے تحت اب تک 21,231لوگوں نے ہندوستان لوٹنے کے لئے درخواست داخل کی ہے۔
ناٹیال نے بتایا کہ ان میں سب سے زیادہ 1500مزدور تمل ناڈو سے ہیں۔ وہیں اتر پردیش اور بہار کے لوگوں کی تعداد بھی کافی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے ریاض میں اسپیشل مرکز بنایا ہے، جہاں ہندوستانی وطن واپسی ی عرضی داخل کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی سفارتخانہ نے سعودی عرب میں غیر قانونی طریقہ سے رہ رہے تمام ہندوستانیوں سے واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔ اس سے قبل 2013میں بھی اسی طرح کی ایک تجویز پیش کی گئی تھی۔ حالانکہ وہ تجویز صرف ریاض اور جدہ میں رہنے والے ہندوستان کے لئے ہی تھی۔
ہندوستان لوٹنے کے لئے جن مزدوروں نے ابھی تک عرضیاں داخل کی ہیں، وہ بے حد برے حالات میں یہاں کام کر رہے ہیں۔ ایک ہندوستانی مزدور نے بتایا کہ میں گزشتہ چار سالوں سے یہاں جہنم جیسے حالات میں کام کر رہا ہوں۔ میں کئی جگہ کام کیا، زیادہ جگہ مجھے پیسے بھی نہیں ملے۔ یہاں مزدوروں کے لئے حالات بے حد خراب ہیں۔ میں حکومت کا شاہی معافی دینے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں یہاں سے خالی ہاتھ لوٹ رہا ہوں اور پتہ نہیں مستقبل میں کیا کروں گا، لیکن اس کے باوجود میں خوش ہوں۔ بتا دیں کہ سعودی عرب حکومت ہندوستانی شہریوں کو فری میں ون وے ایگزٹ ویزا دے رہی ہے۔لوگوں کو صرف فلائٹ کی ٹکٹ کی قیمت چکانی ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *