دس فیصد تک بڑھ سکتا ہے ٹرینوں کا کرایہ

Railway-Fairنئی دہلی: آنے والے دنوں میں ریل کرایہ بڑھ سکتا ہے۔ اس اضافہ کے لئے ریلوے کے سامنے پانچ طرح کی تجاویز آئی ہیں۔ ان تجاویز میں ہر مہینے ایک فیصد بڑھانے سے لے کر یکمشت دس فیصد کرایہ بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔ حالانکہ، کرایہ کس فارمولے پر بڑھایا جائے، اس پر حتمی فیصلہ وزیر ریل سریش پربھو ہی کریں گے۔ تجاویز میں راجدھانی، شتابدی اور دورنتو ٹرینوں میں فلیکسی فیئر کو ختم کرنے یا گھٹانے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ ریلوے بورڈ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا کہ بورڈ کے سامنے کرایہ بڑھانے سے متعلق پانچ تجاویز آئی ہیں۔ اس کا مقصد ہے کہ ریلوے کے مسافر کرائے سے ہونے والی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ حالانکہ ابھی اس معاملہ میں فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ یکمشت کرایہ بڑھانے کے بجائے یہ ضابطہ بنا دیا جائے کہ ہر مہینے کرائے میں ایک فیصد اضافہ ہوگا۔ اس سے مسافروں کی جیب پر ایک ہی جھٹکے میں بوجھ نہیں بڑھے گا۔ اس کے ساتھ ہی ریلوے پر تنقید بھی نہیں ہوگی۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سال بھر میں کرائے میں اضافہ تقریباً 15فیصد تک ہو جائے گا۔
ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سیکنڈ کلاس کے مسافروں پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔ وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل غریبوں کی فلاح کی بات کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں ریلوے نہیں چاہتا ہے کہ ایسا نظر آئے کہ وہ غریبوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ حالانکہ ریلوے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ سیکنڈ کلاس میں بھلے ہی بے حد کم کرایہ بڑھایا جائے لیکن اس میں اضافہ ہونا چاہئے۔
ریلوے کے اعداد و شمار کو دیکھیں تو اسے تھرڈ اے سی کے علاوہ ہر کلاس میں گھاٹا ہوتا ہے۔ مثلاً، اے سی چیئر کار میں اس کا ہر مسافر پر خرچ ایک روپے 13پیسے فی کلومیٹر آتا ہے، لیکن آمدنی ایک روپے چار پیسے ہی ہوتا ہے۔ وہیں تھرڈ اے سی میں یہ خرچ 93پیسے ہوتا ہے اور آمدنی ایک روپے چار پیسے ۔ اس لئے تھرڈ اے سی چھوڑ کر باقی کلاس سے کمائی کرنے کا طریقہ نکالنے کا تذکرہ ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *