مشاعرہ ہماری تہذیب کا حصہ ہے

damiدارالحکومت دہلی کے ڈی پی ایس متھرا روڈ کے سبزہ زار پر جشن بہار ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقد 19 واںعالمی مشاعرہ تاریک رات میں رشتوں کی روشنی کا احساس دلا رہا تھا۔عیاں رہے کہ جشن بہار ٹرسٹ کی شاندار روایت رہی ہے۔شاعر اور شاعری کے حوالے سے گزشتہ 18 برس سے یہ مشاعرہ اس تاریخی روایت کے سلسلے کو مزید تقویت دے رہا ہے۔اس کے انعقاد میں ایم آر مرارکا فائونڈیشن، آئی سی سی آر، ڈی پی ایس متھرا روڈ، تکشلا ایجوکیشنل سوسائٹی، ٹاٹا سنز لمیٹیڈ،اورسیز انفراسٹرکچر لائنس، امبو جا نیوٹیا ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹید، او این جی سی لمیٹیڈ اور پٹرونیٹ ایل این جی لمیٹیڈ کا تعاون حاصل رہا ۔
اس مشاعرے میں ملک کے نامور ادیبوں ، شاعروں اور سیاست دانوں کے علاوہ بیرون ملک سے بھی بڑی تعداد میں شعراء نے شرکت کی اور قمقموں سے جگمگاتے وسیع و عریض میدان میں ہزاروں کی تعداد میں موجود سامعین کو اپنے کلام سے محظوط کیا۔ اس موقع پر نامور ادیب ونقاد،پدم شری پروفیسر شمش الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ مشاعرہ ایک ایسی روایت ہے جو دنیا میں صرف اردو میں ہی پائی جاتی ہے، نہ تو اس طرح کی روایت عربی میں ہے اور نہ ہی کسی اور زبان میں،اس کا مطلب یہ ہے کہ مشاعرہ ہماری تہذیب وثقافت کا ایک حصہ ہے جو کسی اور تہذیب میں نہیں پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اردو وہ زبان ہے کہ جس میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے ملک کے حالات کا ذکر کئے بغیر ہی کہا کہ لوگوںکو اردو پڑھادو ،اس کے بعد ملک میں امن و امان خود قائم ہوجائے گا۔اردو کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگ غلط کہتے ہیں کہ اردو سرکاری زبان رہی ہے بلکہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اردو اس ملک میں کبھی سرکاری زبان نہیں رہی۔البتہ یہ آپ کی اور ہماری زبان ضرور رہی ہے۔انہوں نے اردو کے لشکری زبان کہلائے جانے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ اردو زبان کے معنی لشکر کے نہیں بلکہ اس کے معنی دہلی شہر ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پرانی ڈکشنریوں میں تلاش کرنے پر ملتا ہے کہ اردو دہلی کو کہا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ دو ڈھائی سو سال پہلے کے کچھ خطوط میں اس زبان کو ’’اردو کی زبان‘‘ کہا گیاہے ۔اگر یہ لشکری زبان ہوتی تو اردو زبان کہا جاتا ،نہ کہ اردو کی زبان۔اردو کی زبان کہے جانے سے اشارہ ملتا ہے کہ اردو جگہ کا نام ہے اور وہ جگہ ہے دہلی۔
جشن بہار ٹرسٹ کی روح رواں کامنا پرشاد نے کہا کہ اردو زبان نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف پرچم بلند کیا ہے۔ یہ گنگا اور جمنا کے دو کناروں کو جوڑنے والی زبان ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ آج شاعری میں نفرت کی بات ہو رہی ہے اور ہم اس ذہنیت کی پرزور مخالفت کرتے ہیں اور تمام محبان اردور کو اس مہم میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
بالی وڈ کی معروف شخصیت جاوید اختر نے اپنے تازہ کلام کے ذریعہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کیا جس میں ہواؤں اور لہروں پر پابندیاں لگانے اور گلشن کو یک رنگ بنانے کی کوششوں کا ذکر تھا جو بظاہر موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کی سمت صرف اشارہ تھا۔سامعین ان سے مزید کا مطالبہ کرتے رہے مگر انہیں اسی وقت ممبئی لوٹنا تھا اس لئے معذرت کرکے ایئر پورٹ روانہ ہوگئے۔فلم اداکار اور رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا ۔ان کے خطاب کے دوران کئی بار محفل قہقہوں سے گونج گئی۔گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ بلا شبہ دلوں کو جوڑنے والی کوئی زبان ہے تو وہ اردو ہی ہے۔ اردو پوری طرح زندہ ہے اور اس کی پذیرائی بھی ہوتی ہے ۔ سابق مرکزی وزیر اور ریاست منی پور کی گورنر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ اردو اپنے ابتدائی دور سے ہی رابطے اور محبت کی زبان بن کر دلوں کو جوڑنے کا کام کرتی آرہی ہے ۔یہ زبان ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا علمبردار ہے اور عہد حاضر میں جشن بہار اردو کا چراغ روشن رکھے ہوا ہے۔
بیرون ملک سے تشریف لانے والے شعراء میں بصیر کاظمی مانچیسٹر سے تشریف لائے تھے۔انہوں نے ’’چوتھی دنیا‘‘ سے بات کرتے ہوئے یونائٹیڈ کنگ ڈم میں اردو زبان کے علاوہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی ۔دیگر غیر ملکی شعراء میں ٹورنٹو کینڈا سے جاوید دانش، اوساکا جاپان سے پروفیسر یامان، نیو یارک امریکہ سے ڈاکٹر عبد اللہ ، دوحہ قطر سے عزیز نبیل ، کویت سٹی کویت سے محترمہ شاہ جہان جعفری نے شرکت کی اور اپنے منتخب کلام سے محفل کو خوف گرمایا۔محفل مشاعرہ ختم ہوا تو اس وقت سامعین پر ایک عجیب و غریب سرور طاری تھا۔
ڈاکٹر بصیر کاظمی سے انٹرویو
کیا برطانیہ میں مشاعرے منعقد ہوتے ہیں؟
ہندو پاک کی طرح برطانیہ میں بھی مشاعرے ہوتے ہیں اور وہاں بھی سامعین اردو کی چاشنی سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہ مشاعرے مینی مشاعرہ کے نام سے رجسٹرڈ ٹرسٹ کے تحت منعقد کئے جاتے ہیں جن میں ہندو پاک کے علاوہ مقامی شعراء بھی شرکت کرتے ہیں۔
اشعار کس طرح کے ہوتے ہیں۔غزل ،نظم ،مثنوی یا کچھ اور ؟
ہندو پاک کی طرح وہاں بھی ہر طرح کے اشعار کہے جاتے ہیں اور ان اشعار میں زیادہ تر معیاری ہوتے ہیں جن پر سامعین کی طرف سے خوب داد ملتی ہے ۔کبھی کبھی غیر معیاری اشعار بھی ہوتے ہیں۔زیادہ تر یہ اشعار تحت اللفظ پڑھے جاتے ہیں ،لیکن کبھی کبھی سامعین کی فرمائش پر ترنم میں بھی پیش کردیا جاتا ہے۔
اردو داں کے علاوہ بھی سامعین ہوتے ہیں؟
جی ہاں،بہت سے ایسے لوگ جو اردو نہیں جانتے ہیں ،وہ بھی شرکت کرتے ہیں۔ میرے کئی ایسے جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ میں اردو سمجھ تو نہیں پاتا ہوں ،لیکن اردو کے اشعار کانوں کو اچھے لگتے ہیں ،اس لئے مشاعرے میں آتا ہوں اور سن کر لطف اندوز ہوتا ہوں۔
نئی نسل میں اردو کی چاہت کیسی ہے؟
مانچیسٹر کی نئی نسل میں اردو کا امکان روشن ہے۔ البتہ یہ نسل اس زبان کو رومن میں چاہتی ہے تاکہ ہر ایک آسانی سے پڑھ سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی نئی نسل اردو رسم الخط سے واقف نہیں ہے۔ اگر یہ رسم الخط رومن میں آجائے تو غیر اردو داں بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
یوروپ میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟
دیکھئے ۔ضرورت کے بغیر تو آپ اپنا سر بھی نہیں کھجاتے۔ اس زبان کو جب تک ضرورت نہیں بنائیں گے ،اس وقت تک لوگ اس میں دلچسپی نہیں لیں گے۔ اس وقت یوروپ میں ایک بڑا طبقہ اردو سے منسلک ہے ۔ان کی بول چال اردو میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ یوروپ کے کئی تعلیمی اداروں میں اردو پڑھائی جاتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو ان کے لئے ایک ضرورت بن چکی ہے۔
برطانیہ میں اسلام موفوبیا کا کیا اثر ہے؟
عام طور پر وہاں کے لوگوں میں اسلام موفوبیا کا چرچا نہیں ہوتا ہے۔البتہ کچھ شدت پسند عناصر اس کو ہوا دیتے ہیں اور ماحول خراب کرتے ہیں ورنہ عموماً بازار، محلے اور سڑکوں پر آپ کو اس کے اثرات نظر نہیں آئیںگے۔
یہی صورت حال تو ہر جگہ ہے، کچھ شدت پسند عناصر ہی ماحول کو خراب کرتے ہیں پھر برطانیہ کا ہی نام کیوں؟
دیگر ملکوں میں ان عناصر کو شہہ ملتی ہے جبکہ برطانیہ میں عوامی اور سرکاری سطح پر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔اس کا مثبت اثر یہ ہوتا ہے کہ ان کے تشدد کا دائرہ بہت جلد سمٹ جاتا ہے جبکہ دیگر ملکوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دائرہ پھیل رہا ہے۔
کیا ہند و پاک کی طرح برطانیہ میں بھی اردو تیزی سے پھیل رہی ہے؟
یہ کہنا تو غلط ہوگا۔کیونکہ ایک تو یہاں کی عام بول چال کی زبان اردو ہے ۔دوسرے یہ کہ ان دونوں ملکوں میں فلم نے اس زبان کو وسعت دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ یہ صورت حال برطانیہ میں نہیں ہے۔ پھر بھی جتنا کام ہورہا ہے وہ حوصلہ افزا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *