پناما معاملہ کس کروٹ بیٹھے گا اونٹ

Nawaj Sharifپڑوسی ملک پاکستان کی سیاست میں پاناما معاملے کو لے کر بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے تینوں بچوں پر آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے پر سپریم کورٹ نے جو جے آئی ٹی (جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ) تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے ،اس پر ملک کی تمام اپوزیشن سیاسی پارٹیاں ناراض ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان پارٹیوں کا عدالت پر سے بھروسہ اٹھتا جارہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب سپریم کورٹ کی ہدایت پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹیم کا اعلان کیا گیا تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خاں نے ناراضگی جتاتے ہوئے اس تشکیل کو غیر منطقی کہا۔
عدالت پر سے اٹھتے ہوئے بھروسے کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے محسوس کیا اور انہیں یہ کہنا پڑا کہ پوری دنیا میں عدالتی فیصلوں میں اختلافی نوٹ لکھے جاتے ہیں لیکن ایسا کہیں نہیں ہوتا جیسا پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد پاکستان میں ہو رہا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے عمران خاں کو مخاطب کر تے ہوئے کہا کہ عدالتیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں، قوم کے لیڈر ہونے کے ناطے آپ سمیت تمام سیاست دانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عدالت کا احترام یقینی بنایا جائے۔سپریم کورٹ قانون کے مطابق کام کرتی ہے اور عدالت عظمیٰ تمام فیصلے قانون اور آئین کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی ہے۔ لوگ عدالتوں پر اعتماد کرتے ہوئے یہاں آتے ہیں ۔لہٰذا ملک میں سپریم کورٹ کے بارے میں پیدا کی جانے والی بداعتمادی مناسب نہیں ہے،اسے ختم کرنا ہوگا۔بہر کیف پناما معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد معاملہ گرما گیا ہے۔اس لئے اس پورے معاملے کو سمجھنا ضروری ہے۔
پناما معاملہ ہے کیا؟
گزشتہ سال پاناما پیپرز کے نام سے شائع ہونے والی دستاویز میں پاکستانی وزیراعظم اور ان کے رشتہ داروں کا نام آمدنی سے زیادہ اثاثہ رکھنے اور لندن میں دو عالیشان فلیٹ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شریف خاندان کے خلاف باضابطہ مہم چھیڑ دی تھی۔انہوں نے 26 صفحات پر مشتمل ایک درخواست پاکستانی سپریم کورٹ میں داخل کی اور دعویٰ کیا کہ نواز شریف اور ان کے تینوں بچے سمیت کل دس لوگ اس معاملے میں گنہگار ہیں جن میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور رکن قومی اسمبلی اور مریم نواز شریف کے شوہر کیپٹن صفدر بھی ہیں ۔
سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کے لئے 6 رکنی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ بینچ کے دو ججوں نے نواز شریف کو وزارت عظمی کے لئے نااہل قرار دیتے ہوئے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی سفارش کی جبکہ تین ججوں نے ایک کمیٹی جے آئی ٹی تشکیل دے کر 14 حقائق کو تلاش کرنے کا پابند بنانے کی ہدایت کی۔دراصل یہ وہ حقائق ہیں جن کے جوابات عدالت کو دو ماہ کی سنوائی کے دوران نہیں مل سکے ،عدالت ان کو جاننا چاہتی ہے۔
دو ججوں کا الگ فیصلہ
یہ فیصلہ تین ججوں کے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر ہوا۔ البتہ پاناما مقدمے میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے عدالت عظمیٰ کے دو جج صاحبان نے وزیراعظم میاں نواز شریف کو بد دیانتی اور خیانت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انھیں وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیا ، یہ دونوں جج جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد ہیں۔انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ میاں نواز شریف اپنے مالی معاملات اور لندن کی جائیداد کے بارے میں اس عدالت کے سامنے غلط بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے وہ سچے اور امانت دار نہیں رہے۔دونوں جج صاحبان نے الگ الگ فیصلوں میں اسی بنا پر نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ نواز شریف اپنی ملکیتوں اور لندن کی جائیدادوں کی وضاحت کرتے ہوئے قوم، پارلیمنٹ اور عدالت کے سامنے دیانت دار نہیں رہے۔اس بد دیانتی کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف آئین کی شق 62 اور عوامی نمائندگان کے قانون 1976 کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن رہنے کے اہل نہیں رہے۔انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ میاں نواز شریف کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کرے جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار پائیں۔نیز انہوں نے صدر پاکستان سے بھی کہا کہ وہ ملک میںجمہوریت اور پارلیمانی نظام کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔نیز انسداد بدعنوانی کے ادارے نیب کو بھی حکم جاری کیا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے خلاف بدعنوانی میں ملوث ہونے کے قوانین کے تحت کارروائی کرے۔جسٹس کھوسہ نے اپنے فیصلے میں نیب کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ میاں نواز شریف کے بچوں کے نام پر قائم کردہ تمام جائیدادوں اور کاروبار کا بھی جائزہ لے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ بچے اپنے والد کے لیے یہ جائیدادیں اور کاروبار تو نہیں چلا رہے؟
دوسرے جج جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ عوامی عہدیدار کی حیثیت سے یہ میاں محمد نواز شریف کی ذمہ داری تھی کہ وہ لندن فلیٹس کے بارے میں صحیح حقائق سے قوم اور اس عدالت کو آگاہ کرتے۔لیکن وہ ایسا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔اس صورتحال میں عدالت عظمیٰ محض تماشائی کا کردار ادار نہیں کر سکتی بلکہ اسے تکنیکی نکتوں سے بالاتر ہو کر انصاف کی فراہمی کے لیے ایک مثبت فیصلہ دینا ہو گا۔اس لیے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ میاں محمد نواز شریف سچے اور امانتدار نہیں ہیں اور اسی بنا پر وہ رکن قومی اسمبلی عوامی عہدے کے لیے نااہل ہو چکے ہیں اور وزیراعظم کی حیثیت سے کام جاری نہیں رکھ سکتے۔
اپوزیشن پارٹیاں ایکشن میں
بینچ کی اکثریت کی رائے کے مطابق چھ رکنی ٹیم تشکیل کرنے کی ہدایت جاری توکردی گئی مگر اس ٹیم کو عمل میں آنے سے پہلے ہی پاکستانی پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں پر اس کی مخالفت شروع ہوگئی ہے۔پاکستان کی اپوزیشن پارٹیوں نے مشترکہ طور پر جے آئی ٹی کی تشکیل کو رد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ پہلے کہہ چکی ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مفلوج ہو چکے ہیں، ان کو وزیر اعظم کنٹرول کرتا ہے اور یہ وزیراعظم کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو ایسی صورت میں جن اداروں کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی میں شامل کیا ہے وہ کس طرح انصاف سے تفتیش کرسکیں گے۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ جس قسم کی جے آئی ٹی بنائی گئی ہے، وہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔اس ٹیم میں ایف آئی اے کا ایڈیشنل ڈائریکٹر شامل ہے، وہ کیا تفتیش کرے گا ؟وہ تو وزیر داخلہ چودھری نثار کے ماتحت ہے۔ اسی طرح جے آئی ٹی میں ا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر ایک رکن نامزد کرے گا۔بھلا وہ کیسا رکن نامزد کرے گا؟ ا سٹیٹ بینک کا گورنر تو شریف خاندان کے گھرانے کا ایک فرد ہے۔ ایس ای سی پی کا چیئرمین ان کا اپنا لگایا ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے ساتھ ان کا تعلق خاندانی ہے۔ اسی طرح 19 اور 20 گریڈ کے افسران وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی تحقیقات کیسے کریں گے؟یہ سب وزیر اعظم کے ماتحت کام کرنے والے لوگ ہیں۔دراصل اپوزیشنوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے نواز شریف پہلے استعفیٰ دیں، کیونکہ اگر وہ اس بڑے عہدے پر رہتے ہیں تو تحقیقات متاثر ہوگی۔
مسئلے کا حل پیچیدہ ہے
حالانکہ وزیر اعظم نے استعفیٰ دینے سے بالکل منع کردیا ہے مگر اب تک اس کیس میں جو اتار چڑھائو ہوا ہے،اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ مسئلہ آسانی سے ٹھنڈا نہیں ہوگا۔یہ مقدمہ دائر ہونے کے بعد سے اب تک کئی نشیب و فراز سے گزرا ہے۔چنانچہ :2نومبر کو جماعت تحریک انصاف نے اسلام آباد کو بند کرنے کی کال دی مگر اس سے پہلے پکڑ دھکڑ اور پرتشدد جھڑپوں کے دوران یکم نومبر کو سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا٭15 نومبر کو سماعت نے ایک نیا موڑ لیا جس میں وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے قطر کے شاہی خاندان کے رکن حمد جاسم کی جانب سے پانچ نومبر کو تحریر کردہ ایک خط عدالت میں پیش کیا جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی، بعد میں اس سے لندن میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے٭ 30 نومبر کی سماعت میں تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کے سامنے مریم نواز اور حسن نواز کے ٹی وی انٹرویوز کا حوالہ پیش کیا تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اخباری تراشوں کو لا کر سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟ کچی دیواروں پر پیرنہ جمائیں٭
نومبر کی آخری سماعت میں ایک نیا پہلو سامنے آیا جب سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تحریری جواب اور وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں تقاریر میں تضاد ہے جبکہ اگلی سماعت میں عدالت نے وزیراعظم پر الزامات کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریروں کے دوران سچ سے کام نہیں لیا۔ لہٰذا وہ آئین کے آرٹیکل 62؍63 کی زد میں آسکتے ہیں٭اگلے ہی دن وزیرِ اعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت کی جانب سے اٹھائے گئِے سوالات کے جوابات دیے جبکہ سماعت میں عدالت نے تحریک انصاف کی استدعا پر تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل پر مشاورت کے لیے وقت دیتے ہوئے سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی۔لیکن عمران خان نے جو 19 نومبر کو اعلان کر چکے تھے کہ عدالت کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے، کمیشن کی تشکیل کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا٭یکم جنوری کو پاناما لیکس کا معاملہ نئے سال میں داخل ہوا اور سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے لیے سینئر جج آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔ کیس کی ازسرنو سماعت سے ایک دن پہلے شریف خاندان نے اپنے وکلا بھی تبدیل کر دیے٭ نئے بینچ نے سماعت کے پہلے دن ایک تو یہ فیصلہ سنایا کہ اب مقدمے کو روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے گا اور دوسرا اس نے وزیراعظم کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ قطری شہزادے کے خط کے بارے میں کہا کہ عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا سعودی عرب یا دبئی سے قطر بھیجی گئی رقم پر پاکستان کے قوانین لاگو ہوتے ہیں یا نہیں٭پرانے بینچ کی طرح 12 جنوری کی سماعت میں موجودہ بینچ کو کہنا پڑا کہ درخواست گزار اور وزیر اعظم کے وکیل سچ سامنے آنے نہیں دینا چاہتے جبکہ عوام سچ جاننا چاہتے ہیں٭ 18جنوری کی سماعت میں عدالت نے پھر کہا کہ فریقین سچ کو سامنے آنے نہیں دینا چاہتے اور کوئی بھی دستاویز عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں اب تک پیش کئے گئے دستاویزات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ تک پہنچنا آسان نہیں٭16 جنوری کی سماعت میں عدالت نے سوال اٹھایا کہ کہ قومی اسمبلی میں تقریر میں وزیر اعظم نے کوئی غلط بیانی نہیں کی تو پھر وہ اس بارے میں استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں، تاہم ایک دن کے بعد عدالت نے کہہ ہی دیا کہ وزیر اعظم کو وہ استثنیٰ حاصل نہیں ہے جو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر مملکت اور گورنر کو حاصل ہے٭18 جنوری کو عدالت کو بتایا گیا کہ کہ وزیر اعظم کے بیٹے حسین نواز نے چار سال کے دوران اپنے والد کو 52 کروڑ روپے بھجوائے ہیں۔ اس بات کو بھی اپوزیشن نے خوب اچھالا جبکہ عدالت میں جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے کبھی حسین نواز سے نہیں پوچھا ہے کہ وہ بیرون ممالک کرتے کیا ہیں اور کون سا کاروبار کرتے ہیں جس میں اتنا منافع ہو رہا ہے٭26 جنوری کی سماعت میں ایک بار پھر وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل کی جانب سے قطری شہزادے کا ایک نیا خط سامنے آیا جس میں شیخ حماد بن جاسم بن جابر الثانی نے کہا کہ وزیر اعظم کے والد میاں شریف نے 1980 میں قطر میں ایک کروڑ بیس لاکھ قطری ریال کی سرمایہ کاری کی تھی٭فروری کے آغاز میں مقدمے کی سماعت بینچ کے رکن جسٹس عظمت سعید کی طبیعت اچانک ناساز ہونے پر دو ہفتے تک ملتوی رہی اور 15 فروری سے یہ مقدمہ دوبارہ سنا گیا اور موضوعِ بحث حدیبیہ پیپرز مل سے متعلق معلومات ہی رہیں٭21 فروری کی سماعت میں نیب کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہ حدیبیہ پیپرز مل کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے پر قائم ہیں جبکہ بینچ کے سربراہ نے دورانِ سماعت اس امید کا اظہار کیا کہ اگلے دو روز میں ان درخواستوں کی سماعت مکمل ہو جائے گی٭ 23 فروری کو عدالت نے اس معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرنے کا اعلان کیا۔ عدالت نے مختصر فیصلہ جاری نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایسا مقدمہ نہیں جس کا مختصر فیصلہ سنایا جائے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد بینچ کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ان درخواستوں پر فیصلہ دے گی اور اس بات سے عدالت کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ملک کے کروڑوں لوگ ان کے فیصلے سے خوش ہوتے ہیں یا ناخوش٭ 18 اپریل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اعلان کیا کہ پاناما دستاویزات کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت چھ افراد کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر 23 فروری کو محفوظ کیا جانے والا فیصلہ 20 اپریل کو سنایا جائے گا۔
اس وقت پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے اس ہنگامے کو لے کرعوام نہ صرف پریشان ہیں بلکہ وہ منتظر ہیں کہ اب کی بار اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔نواز شریف اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات سے بری ہوتے ہیں یا پھر اپوزیشن نواز شریف کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔
تحقیقاتی کمیٹی کے 14 نکات
عدالت نے جن 14 نکات کا ذکر کیا ہے ،وہ ہیں: ٭ کیا وزیراعظم میاں محمد نواز شریف یا ا ان سے متعلق افراد نواز شریف کے اعلان کردہ آمدنی سے زیادہ اثاثے تو نہیں رکھتے؟٭ گلف اسٹیل مل (میاں محمد شریف کی ملکیت) کیسے وجود میں آئی؟٭ یہ ادارہ کیوں فروخت کیا گیا؟٭ اس کے ذمہ واجبات کا کیا تھے ؟٭ اس کی فروخت سے ملنے والی رقم کہاں استعمال ہوئی؟٭ اس مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم جدہ، قطر اور پھر برطانیہ کیسے منتقل کی گئی؟٭ کیا90 کی دہائی کے اوائل میں حسن اور حسین(نواز شریف کے دونوں بیٹے ) اپنی کم عمری کے باوجود اس قابل تھے کہ وہ لندن میں فلیٹس خریدسکیں ؟٭ کیا (قطری) حماد بن جاسم الثانی کے خطوط کا اچانک منظر عام پر آنا حقیقت ہے یا افسانہ؟٭ حصص بازار میں موجود شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟٭ نیلسن اور نیسکول نامی کمپنیوں کے اصل مالکان کون ہیں؟٭ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ نامی کمپنی کیسے وجود میں آئی؟٭ حسن نواز شریف کی زیر ملکیت فلیگ شپ انوسٹمنٹ اور دیگر کمپنیوں کے قیام کے لیے رقم کہاں سے آئی؟٭ ان کمپنیوں کو چلانے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا؟٭ حسین شریف نے اپنے والد میاں محمد نواز شریف کو جو کروڑوں روپے تحفتاً دیے، وہ کہاں سے آئے؟
عدالت کے مطابق یہ تمام سوالات اس مسئلے کی جڑ ہیں اور ان کے جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔ ان سوالوں کے جوابات تک پہنچنے کے لیے عدالت نے جن 6 رکنی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی، ان میں وفاقی تحقیقاتی ارادے (ایف آئی اے)، قومی احتساب بیورو (نیب)، سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)،ا سٹیٹ بینک آف پاکستان، مسلح افواج کے انٹیلی جنس ادارے (آئی ایس آئی) اور بری فوج کے انٹیلی جنس ادارے (ایم آئی) کے نمائندے شامل ہوں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *