ای وی ایم ایشو پر اپوزیشن کواتحاد کرنا چاہئے

ایسا لگتا ہے کہ پورا اپوزیشن بے ترتیبی کا شکار ہے۔حوصلہ شکنی ہونا فطری ہے، کیونکہ انتخاب کے نتائج اس کے لئے مایوس کن ہیں۔لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ ایک موثر قیادت کا فقدان ہے ۔اسے نریندر مودی کا متبادل لیڈر چاہئے۔ آپ کسی بھی لیڈر کو چن سکتے ہیں، جو کوئی ضروری نہیں کہ یوتھ ہو، لیکن تجربہ کار ہو اور سیکولر نظریہ کا حامل ہو۔ اس سلسلے میں شرد پوار سب سے بہتر آدمی ہوسکتے ہیں، لیکن اب وہ 75 سال کے ہو چکے ہیں اور مجھے نہیں معلوم کہ یہ اب ممکن ہے یا نہیں۔ بہر حال کانگریس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ اپوزیشن کی جو بھی پالیسی ہو، اس میں کانگریس کو ساتھ لینا ہی پڑے گا،کیونکہ کانگریس ہی ایسی پارٹی ہے، جس کی موجودگی پورے ملک میں ہے۔ بھلے ہی ان کی تعداد بہت زیادہ نہ ہو، لیکن ملک کے ہر گائوں میں کانگریس کے لوگ مل جائیں گے۔ پہلے جنتا گروپ کا غیر کانگریس، غیر بی جے پی ، کا تجربہ تھا، وہ ٹھیک تھا ، ہم نے 2014 میں ملائم سنگھ یادو کو لیڈر متعین کرکے اس تجربہ کو دوہرایا ،لیکن یہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ اس کے بعد جو اچھی بات ہوئی، وہ یہ تھی کہ نتیش بہار کا الیکشن جیت کر وزیر اعلیٰ بن گئے لیکن ابھی نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
فی الحال جس طرح سے انتخابات ہورہے ہیں، اس میں ای وی ایم کے اوپر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ آپ ہار گئے اس لئے آپ کہہ رہے ہیں کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ یہ کہتے ہیں کہ اگر ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہوتی، تو سکھ ویر سنگھ بادل وزیر اعلیٰ ہوتے، وہ نہیں ہوتے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں۔ لیکن میرے حساب سے اپوزیشن کے شروعاتی نکتے یہ ہونے چاہئے کہ پورا اپوزیشن ایک سمجھوتہ کرے کہ وہ ایک ساتھ آئیں گے اور ان کی پہلی مانگ یہ ہونی چاہئے کہ 2019 کے انتخابات بیلیٹ پیپر کے ذریعہ ہونا چاہئے، ای وی ایم کے ذریعہ نہیں۔یہ ایک ایسا ایشو ہے، جس پر سب کو حرکت میں آجانا چاہئے ۔ اس کا نتیجہ کیا ہوگا، یہ انتخاب کے بعد پتہ چلے گا،لیکن یہ سب کو ساتھ لینے کا ایشو بن سکتا ہے۔ بد قسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایشو ختم ہو گیا ہے۔ صرف کجریوال ہیں،جو کہ اس کو اٹھا رہے ہیں۔ بھلے ہی کجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ ہیں، لیکن میں فی الحال انہیں مین اسٹریم کے اپوزیشن میں شمار نہیں کرتا۔ جنتا دل یا جنتا پارٹی کے الگ الگ گروپوں ( سماج وادی پارٹی، جے ڈی یو، جے ڈی ایس ) کے لیڈروں کو اس قومی ایشو پر اپنا من بنا لینا چاہئے۔ انتخابی اصلاح ہمیشہ سے جنتا گروپ کے ایجنڈے پر تھی۔ اُس وقت انتخابی اصلاح میں پیسے کا خرچ وغیرہ ایشو تھے، جو اب کہیں پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اب تکنیک کے استعمال سے مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا ممکن ہے، تو پھر کوئی انتخاب ہی نہیں ہے۔ پھر تو ہم افریقہ کے جیسے بن جائیں گے، جہاں انتخاب چرائے جاتے ہیں اور ایک آدمی لگاتار اقتدار میں بنا رہتا ہے۔ دراصل وہ نام کی جمہوریت ہے ۔ ہمیں خود کو اس اسٹیج پر نہیں پہنچانا چاہئے ۔بی جے پی کو آنے والے 20 سالوں تک جیتنے دیجئے ، لیکن یہ جیت صاف ستھری اور ایماندارانہ ہو ،نہ کہ تکنیکی۔لہٰذا ہرشخص کی یہ پہلی ذمہ داری ہے کہ جمہوری عمل کی صداقت کو بحال کرے۔
مجھے نہیں معلوم کہ کانگریس کیاسوچ رہی ہے؟ انہوں نے پنجاب میں الیکشن جیت لیا، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایشو ختم ہو گیا۔ پنجاب میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی تھیوری پر بات کریں، تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ اکالی دل نے سوچا ہو کہ کانگریس اور عام آدمی پارٹی میں کانگریس بہتر ہے۔ لہٰذا جو ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں، انہوں نے عام آدمی پارٹی کے خلاف کر دیا ہوگا۔ ہمیں سچائی نہیں معلوم ہے،یہ سب اٹکلوں کا موضوع ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اپوزیشن کو پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ سب کو ایک سُر میں کہنا چاہئے کہ ملک میں الیکشن ویسے ہی ہوں، جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔ بیلٹ پیپر بھلے ہی ماڈرن نہیں ہے، لیکن ہر ماڈرن تکنیک کے دونوں پہلو ہیں، یہ تیز ہے، زیادہ ماہر ہے، لیکن اگر اس میں چھیڑ چھاڑ کا امکان ہے تو پھر یہ الیکشن نہیں ہے۔ امریکہ میں بھی جب جارج بش پہلی بار چنے گئے تھے، تو وہاں بھی مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے الزام لگے تھے۔ سپریم کورٹ نے انہیں صدر بنایا تھا۔ وہ ناقص طریقے سے چنے گئے تھے۔ لہٰذا ہمیں ہندوستان میں یہ نہیں آنے دینا چاہئے۔ ہم بہت ہی ہوشمند ملک کے ہیں۔ پنچایتی سطح تک الیکشن ہوتے ہیں۔ پنچایتی انتخاب میں جہاں ای وی ایم کا استعمال نہیں ہوتا ہے، وہاں عام طور پر سرپنچ کا انتخاب غیر جانبداریت اور ایمانداری سے ہوتا ہے۔
لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ای وی ایم وہ پہلا ایشو ہے، جس پر اپوزیشن کو متحد ہونا چاہئے،کیونکہ اگر ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے تو پھر اپوزیشن اتحاد کا مطلب کیا ہے؟جب ووٹ پہلے سے ہی طے ہو گئے ہیں، تو اتحاد کی بات کرنا اپنی توانائی برباد کرنے کے مترادف ہے۔ اس ایشو پر اپوزیشن کو ضرور اکٹھا ہونا چاہئے اور سرکار پر اتنا دبائو ضرور بنانا چاہئے کہ وہ قانون بنائے کہ الیکشن کمیشن پھر سے پرانے طریقے سے الیکشن کروائے۔ جب سبرامنیم سوامی اپوزیشن میں تھے، تو انہوں نے 2009 میں کہا تھا کہ ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے ۔انہوں نے ایک الگ تجویز رکھی تھی، جس میں ووٹنگ مشین سے ایک پرچی بھی نکلتی ہے۔ مجھے تکنیک کی بہت زیادہ سمجھ نہیں ہے،لیکن سچائی یہ ہے کہ انتخابی کارکردگی میں اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک عام عوام کا سوال ہے ،ایک بار جب نتیجے کا اعلان ہو جاتا ہے ،اسے ہر کوئی قبول کر لیتا ہے۔
بنگلہ دیش میں اپوزیشن نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ وہاں شیخ حسینہ دوسرے دور کے لئے صحت مند جمہوری طریقے سے نہیں چنی گئیں۔ لیکن وہ وزیر اعظم ہیں، پوری حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں ہندوستان میں وہ صورت حال نہیں آنے دینی چاہئے۔ اپوزیشن کو پہلا کام یہ کرنا چاہئے کہ وہ انتخابی عمل کے مصدقہ طریقہ کار کو بحال کرانے کے لئے جدو جہد کرے، اس کے لئے بھلے ہی اسے الیکشن کمیشن کے سامنے روزانہ دھرنا دینا پڑے۔ جو پہلا ایشو ہونا چاہئے وہ یہ کہ الیکشن ایمانداری سے ہو۔ کون جیتتا ہے، کون ہارتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ الیکشن میں اپوزیشن اتحاد بنتا ہے یا نہیں، یہ الگ سوال ہے۔ بی جے پی ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اپوزیشن اتحاد نہیں بنے۔ اگر بی جے پی کے خلاف پانچ الگ الگ پارٹیوں کے امیدوار ہوں گے تو بی جے پی پھر جیتے گی۔ اپوزیشن یہ کوشش کرے گا کہ بی جے پی امیدوار کے خلاف صرف ایک ہی امیدوار رہے۔ لیکن کارکردگی صاف ستھری اور شفاف ہونی چاہئے ۔
گائے کے ایشو پر اپوزیشن کو یہ کہنا چاہئے کہ گائے کے اوپر ایک پالیسی بنے یا پھر اسے ریاستوں کے اوپر چھوڑ دینا چاہئے کہ ہر ریاست اپنی گائے پالیسی کا اعلان کرے۔ لیکن ممبئی میں بیف بند کردینا اور اس کے بعد سبھی غیر ملکیوں کو میٹنگ کے لئے گوا لے جانا سمجھ سے باہر ہے۔ آپ ممبئی کے عالمی شہر کی حیثیت سے کھلواڑ کررہے ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن کو کچھ ایشوز پر اپنا دھیان مرکوز کرنا چاہئے۔ پہلا انتخابی عمل۔ دوسرا گائے اور تیسرا باقی کے ایشوز۔ حالانکہ باقی کے ایشو کہیں پیچھے چلے گئے ہیں۔ کوئی بھی یونیفارم سول کوڈ یا آرٹیکل 370 یا مندر کی بات نہیں کرتا۔ فی الحال اپوزیشن کے پاس کوئی اہم ایشو نہیں ہے۔ کچھ دیگر ایشو ہو سکتے ہیں، جیسے مانسون سے جڑا زرعی شعبہ کا بحران ، اگر مانسون خراب ہو جاتا ہے تو آپ مصیبت میں ہوں گے۔ اگر کسانوں کو مناسب پرچیزنگ پرائس نہیں دیا جاتا ہے تو کسان فائدے میں نہیں رہے گا۔ کسانوں کی آمدنی دو سال میں دوگنی کرنے کی بات کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے،لیکن ایسا صرف دو طریقوں سے ہو سکتاہے، یا تو پیداوار زیادہ ہو یا سرکاری خرید کی قیمت بڑھا دی جائے۔لیکن خرید قیمت دوگنی نہیں کی جاسکتی ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سرکاری خرید قیمت اتنی نہیں بڑھی ہے، جتنی بڑھنی چاہئے ۔ مدھیہ پردیش جیسی کچھ ریاستیں ہیں، جو زرعی پیداوار کی زیادہ قیمت دے رہی ہیں۔ خاص طور پر وہاں اتر پردیش کے جھانسی اور ریوا وغیرہ علاقے سے اناج اس لئے آرہے ہیں، کیونکہ وہاں کسانوں کو زیادہ قیمت مل رہی ہے اور اسی بنیاد پر ریاست کی زرعی پیداوار کا حساب کتاب تیار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مدھیہ پردیش اپنے حقیقی پیداوار سے زیادہ پیداوار دکھانے میں کامیاب ہو رہاہے۔ نتیجتاً اتر پردیش کو نقصان ہو رہا ہے۔یہ ایسے ایشوز ہیں جن پر پالیسی کمیشن، اگریکلچر کوسٹ اینڈ ویلو کمیشن کو دھیان دینا چاہئے۔ جو بھی ہو، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ راجوسیٹھی نے ایک بار پھر یہ دھمکی دی ہے کہ وہ ممبئی سٹی کو سبزی ، پھل وغیرہ سپلائی کرنے والے روٹ پر رکاوٹ پیدا کر دیں گے۔ لہٰذا زرعی شعبے کی طرف سے کچھ تشویشات ہیں۔ ظاہر ہے قرض ، کسان خود کشی وغیرہ کے دیرپا مسائل بنے رہیں گے،لیکن چھوٹی سطح پر ہی سہی، سرکار کو کسانوں کے مسائل کو دور کرنا چاہئے ۔ صنعت ایک دن میں نہیں لگ سکتی، صنعتی روزگار ایک دن میں پیدا نہیں کئے جاسکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ موجودہ سرکار اس معاملے میں ٹھیک ٹھاک کام کر رہی ہے۔ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ میں وقت لگے گا،لیکن زرعی شعبے سماج کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اس طرف دھیان دیا جانا چاہئے کہ کسانوں کو مقامی سطح پر ان کی فصل کی مناسب قیمت ملے۔
کسان منچ اورنگ آباد، ناسک اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سرگرم ہے، جہاں کے کسانوں نے یہ عزم کیا ہے کہ وہ اپنی ایک ایکڑ زمین پر اپنی ضرورتوں کے لئے کھیتی کریں گے اور باقی زمین پر کھیتی نہیں کریں گے، کیونکہ اس میں کوئی آمدنی نہیں ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو ممبئی جیسے شہر، جہاں یہ سبزیاں جاتی ہیں، سبزیوں کا قحط پڑ جائے گا۔ کسان منچ نے اس ایشو کو اٹھایا اور راجو سیٹھی آگے آ کر اس ایشو کو چرچا میں لے آئے۔لیکن یہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ مودی کا پروگریسیو بھارت، انفراسٹرکچر ، روزگار، الکٹرانک،ٹیکنالوجی ، آئی ٹی، پے ٹی ایم کا مفروضہ تو اچھی چیزیں ہیں لیکن زمینی چیزوں پر پہلے دھیان دینا چاہئے، کیونکہ جس دن لوگوں کے پاس کھانے کے لئے دستیاب کھانے نہیں ہوںگے تو پھر باقی چیزیں بیکار ہیں۔کوئی آپ کی عزت نہیں کرے گا۔ اگر آپ واپس انہی دنوں میں چلے جائیں جب آپ کو امریکہ سے اشیائے خوردنی درآمد کرنی پڑے تو آپ اپنی عزت نفس بھی کھو دیں گے ۔یہ ایک اہم موضوع ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سرکار اور زرعی وزارت اس کو نظر انداز نہیں کریں گی۔لیکن ایسی صورت نہیں آنی چاہئے، جب ہم زراعت کی قیمت پر ترقی کی بڑی بڑی باتیں کریں،اس سے کام نہیں چلے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *