ایران حکومت کے لئے ہیں نوری زاد

Mohammad-Noori-Zaadایرانی حکومت اب تک یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ شام میں قتل عام کے لئے باغیوں کوکوئی مالی تعاون نہیں کررہا ہے مگر مشہور ایرانی ڈائریکٹر محمد نوری زاد نے جو انکشاف کیا ہے اس سے نہ صرف ایران کی شام میں سازشوں کا پردہ فاش ہوتا ہے بلکہ سعودی عرب کی مضبوط قیادت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔تہران میں مشہور ایرانی ڈائریکٹر اور اپوزیشن شخصیت محمد نوری زاد نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کو “دہشت گرد” اور حسن نصر اللہ کو قاتل قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا  کہ القاعدہ ، داعش اور بوکو حرام جیسی دہشت گرد تنظیموں کا  وجود میں آنا  شیعیت کی اُس پالیسی کا نتیجہ ہے جو ایران میں حکمراں نظام نے اپنائی ہوئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ نوری زاد جو ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ پر اپنی جرات مندانہ تنقید کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ” کوئی بھی ایرانی خاتون یا لڑکی جو جسم فروشی پر مجبور ہوتی ہے وہ درحقیقت اُن رقوم کی وجہ سے ہے جو تہران شامی عوام کے قتل کے لیے نصر اللہ اور اس کی ملیشیاؤں کو ارسال کرتا ہے”۔انہوں نے مزید  کہا کہ ” ایرانی انقلاب سے قبل شیعہ سنی جنگوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ آپ مجھے خطے میں کسی ایک ایسے نقطے سے آگاہ کر دیں جہاں اسلامی جمہوریہ ایران نے مداخلت نہ کی ہو”۔

نوری زاد کا کہنا  ہے  کہ “نصر اللہ  نے یہ اعتراف کیا ہے  کہ اس کا ےتمام تر مال اور ہتھیار ایران کی جانب سے  فراہم  کرایا جاتا ہے اور وہ اس مال کو شامیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے  دیا جاتا ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سارا کا سارا مال حرام ہے حرام”۔اس سے قبل نوری زاد نے ایرانی پاسداران انقلاب اور مرشد اعلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد انہیں ایرانی سکیورٹی فورسز کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ نوری زاد نے خامنہ ای کے بارے میں کہا تھا کہ “وہ جنگ کے طبل بجا رہے ہیں اور اپنے پڑوسی ممالک کو جنگ اور نفرت پر اکسا رہے ہیں”۔

 تہران میں رہنے والی کسی بھی ایرانی اپوزیشن کی شخصیت کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھنے والے نوری زاد کا کہنا ہے کہ “ان کے نزدیک شاہ سلمان ایران میں بڑے حکم رانوں سے ہزار گنا زیادہ حکمت ، فہم و فراست ، دانش مندی اور مقبولیت رکھتنے ہیں

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *