کہاں نربھیا آبروریزی کا نابالغ ملزم؟

Nirbhaya-Caseنئی دہلی: گزشتہ روز سپریم کورٹ نے نربھیا اجتماعی آبروریزی کے قصورواروں کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔ نربھیا کے چار گناہگار تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ر ام سنگھ جیل میں پھانسی لگا کر خود کشی کر چکا ہے تو اس واردات کا نابالغ ملزم راجدھانی دہلی سے ہزاروں کلو میٹر دور جنوبی ہند میں کہیں ریسٹورینٹ میں کام کر کے زیادہ گزر بسر کر رہا ہے۔
نربھیا کا نابالغ زناکار اب 23سال کا ہو چکا ہے۔ تین سال کی سزا کے بعد 20دسمبر، 2015کو نابالغ کو رہا کر دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آفٹر کیئر پروگرام کے تحت نابالغ کو ایک نئی گمنام زندگی دے کر بسایا گیا۔ اس پروگرام میں شامل رہے ایک افسر نے بتایا کہ اس کو ہمیشہ مارے جانے کا ڈر لگا رہتا تھا۔
افسرنے بتایا کہ جس دن اسے رہا کیا گیا، کافی تعداد میں لوگ اسے تلاش کر رہے تھے۔ جان کا خطرہ دیکھتے ہوئے سخت حفاظت میں اسے خفیہ جگہ پر رکھا گیا۔ جس کے بعد اسے ایک این جی او کے سپرد کر دیا گیا۔ وہیں سے اسے جنوبی ہند کے کسی انجان شہر میں ریسٹورینٹ میں بطور باورچی کام دیا گیا۔
ریسٹورینٹ کا مالک بھی نابالغ کے ماضی کے بارے میں نہیں جانتا ہے۔ نابالغ کے بارے میں زیادہ جانکاری کسی کو نہیں ہے۔ افسر نے بتایا کہ نابالغ بنیادی طور پر یو پی کا باشندہ ہے۔ پیسے کمانے کی چاہ میں وہ دہلی آیا تھا۔ یہاں اس کی ملاقات رام سنگھ سے ہوئی۔ رام سنگھ نے اسے بس صاف کرنے کے کام میں لگایا تھا۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ گزشتہ روز آئے فیصلہ کے بارے میں اسے جانکاری ہے بھی یا نہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *