بدعنوانی کے الزام میں بی ایس پی سے بیٹے سمیت برخاست کئے گئے نسیم الدین صدیقی

Naseemuddin-Siddiqueلکھنؤ : بہوجن سماج پارٹی نے ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی کے قدآور لیڈر اور سب سے بڑے مسلم چہرے نسیم الدین صدیقی کو پارٹی سے برخاست کر دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ان کے بیٹے افضل صدیقی کو بھی برخاست کر دیا گیا ہے۔
بی ایس پی سینئر لیڈر اور مایاوتی کے سب سے قریبی ستیش مشرا نے گزشتہ بدھ کو لکھنؤ میں پریس کانفرنس کر کے یہ اعلان کیا۔ ستیش مشر نے نسیم الدین صدیقی پر سنگین الزامات لگائے۔ انھوں نے صدیقی پر پارٹی کی شبیہ خراب کرنے کا الزام لگایا۔ مشرا نے دعویٰ کیا کہ نسیم الدین صدیقی نے مغربی یو پی میں بینامی پراپرٹی اور ذبح خانے لگائے ہیں۔ نسیم الدین نے لوگوں سے بی ایس پی کی حکومت کے نام پر پیسے لئے۔
اتنا ہی نہیں ستیش مشر نے واضح طور پر کہا کہ غیر قانونی طور پر فنڈنگ کی اور بدعنوانی میں ملوث رہے۔غور طلب ہے کہ نسیم الدین صدیقی بہوجن سماج پارٹی کا سب سے بڑا مسلم چہرہ رہے ہیں۔ بی ایس پی کے قیام کے چار سال بعد ہی 1988میں وہ پارٹی سے جڑ گئے تھے۔ اس کے بعد 1995میں مایاوتی کی حکومت بننے پر وہ کابینہ وزیر بنے۔ مایاوتی حکومت میں کئی بار وزیر رہے نسیم الدین فی الحال بی ایس پی کے قومی جنرل سکریٹری ہیں۔نسیم الدین کے بیٹے افضل صدیقی نے 2017کے اسمبلی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر پرچار کیا تھا۔ افضل نے مسلم سماج کے درمیان جم کر پارٹی کے لئے تشہیر کی تھی۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *