کیا ملائم سنگھ جے پی بن پائیں گے؟

اپوزیشن اتحاد کو گہن لگا ہوا ہے۔اتحاد ہو پائے گا،نہیں ہو پائے گا،کون کرے گا، نہیں کرے گا، کس کے ساتھ کریں گے، کس کے ساتھ نہیں کریں گے اور اس کے مرکز میں کون ہوگا، یہ تمام سوالات ہیں۔یہ گہن اترپردیش کی وجہ سے لگا ہے ،اتر پردیش کے لیڈروں کی وجہ سے لگا ہے، جنہوں نے سارے ملک کے اپوزیشن لیڈروں کو بھرم میں ڈال رکھا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے گنہگار
بہار اسمبلی انتخابات سے 6 مہینے پہلے کی بات ہے۔ ملائم سنگھ یادو کے گھر میں نتیش کمار، لالو یادو، ابھے چوٹالہ، ایچ ڈی دیو گوڑا اور کمل مرارکا کی میٹنگ ہوئی، اس میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ سبھی پارٹیاں مل کر ایک نئی پارٹی بنائیں اور اس پارٹی کا صدر ملائم سنگھ یادو کو بنایا جائے۔ جھنڈا سماج وادی پارٹی کا ہو، پارلیمنٹری بورڈ کے صدر بھی ملائم سنگھ یادو ہوں اور پارٹی کا انتخابی نشان سائیکل ہو۔ دراصل اپوزیشن کے اتحاد کے لئے اس سے بڑا کوئی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا تھا اور اس قدم کو اٹھانے میں سبھی کا اہم کردار تھا۔ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں سبھی لوگوں نے ملائم سنگھ یادو کو مالائیں پہنا کر اعلان کر دیا اور اس کے لئے قدم اٹھانے کا اختیار بھی ملائم سنگھ یادو کو دے دیا۔ اس کے بعد بہار انتخابات کا دور شروع ہوا۔ نتیش کمار اور لالو یادو نے تجویز رکھی کہ جلد سے جلد اپوزیشن اتحاد کی بات کو تکمیل تک پہنچایا جائے اور ایک نئی پارٹی بنے، جس کے نام اور انتخابی نشان پر بہار میں انتخاب لڑا جائے۔ تمام ٹکٹیں نئے صدر ملائم سنگھ یادو کے دستخط سے تقسیم کئے جائیں گے۔لیکن ملائم سنگھ نے پیغام دیا کہ پہلے بہار میں انتخابات ہو جائیں، اس کے بعد ہم ایک پارٹی بنانے کی بات کریں گے۔
اس کی جڑ میں پروفیسر رام گوپال یادو تھے، جو شروع سے نہیں چاہتے تھے کہ اپوزیشن اتحاد ہو۔ بعد میں اکھلیش یادو نے اس چاہت کو اپنی حمایت دی۔ انہوں نے سوچا کہ یہ تمام لیڈر ایسے ہیں، جن کا اتر پردیش میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اگر ایک پارٹی بن گئی تو یہ سب اتر پردیش میں اپنا حق مانگیں گے ،اپنے لئے سیٹیں مانگیں گے، نتیجہ یہ ہوگا کہ سماج وادی پارٹی انتخابات جیتے گی تو، لیکن اس میں بہت سارے لیڈروں کا حصہ ہوگا۔ شاید اس کے پیچھے پروفیسر رام گوپال یادو کی یہ سوچ تھی کہ یہ نام بڑے ہیں، چاہے وہ لالو یادو ہوں، نتیش کمار ہوں، دیو گوڑا ہوں یا چوٹالہ ہوں، ان کے مقابلے ان کی حیثیت پارٹی میں کمزور رہے گی۔ ملائم سنگھ یادو کے اس فیصلے نے بہار میں نتیش کمار اور لالو یادو کو پریشان کر دیا۔ دونوں نے ملائم سنگھ یادو سے کہا کہ وہ اس فیصلے پر از سر نو غور کریں۔لیکن ملائم سنگھ یادو نے ازسر نو غور کرنے سے منع کردیا۔ ملائم سنگھ یادو کے بیٹے اکھلیش یادو اس فیصلے کے خلاف تھے کہ ایک پارٹی بنے اور ملائم سنگھ یادو اس کے صدر رہیں۔ شاید اس کے پیچھے ان کے صلاح کار بھی تھے اور پروفیسر رام گوپال یادو بھی تھے۔ بعد میں جب سماج وادی پارٹی کا جھگڑا شروع ہوا تب یہ بات شیو پال یادو نے بھی کارکنوں کے سامنے رکھی اور ملائم سنگھ یادو نے بھی رکھی کہ پروفیسر رام گوپال یادو نے اپنے خاندان پر آئی ہوئی ایک مصیبت کو بنیاد بنا کر اپوزیشن اتحاد نہیں ہونے دیا اور بی جے پی اس امید میں اسے حمایت دیتی رہی کہ اگر اپوزیشن اتحاد نہیں ہوا تو بہار میں نتیش کمار اور لالو یادو انتخاب ہار جائیں گے اور بی جے پی انتخاب جیت جائے گی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بہار کا تجربہ غیر متوقع طور پر بہت کامیاب رہا اور بی جے پی بہت نیچے آگئی۔ اس کے باوجود، پروفیسر رام گوپال اور اکھلیش یادو اترپردیش میں اس تجربہ کو دوہرانے کے خلاف تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ ہر حالت میں دو تہائی سیٹیں پھر سے اتر پردیش میں جیتیں گے۔ جتنے بھی لوگوں نے رائے دی، صلاح دی، وہ صلاح اکھلیش یادو کو ، رام گوپال یادو کو پسند نہیں آئی۔اس لڑائی کے دوران ہی یہ پتہ چلا کہ ملائم سنگھ یادو اور شیو پال یادو اپوزیشن اتحاد کے حامی تھے، لیکن ان کے خاندان کے دو اہم ممبر اس کے حامی نہیں تھے۔ اچانک اکھلیش یادو اور کانگریس کا سمجھوتہ ہو گیا۔ لیکن اس میں سے سبھی اپوزیشن پارٹیاں باہر رہیں،مایاوتی سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی اور نتیش کمار کو اس سے دور رکھا گیا۔ حالانکہ نتیش کمار کی پالیسی تھی کہ اتر پردیش میں کورمی سماج کا وہ حصہ ،جو بی جے پی کے ساتھ روایتی طور سے تھا، اسے وہاں سے نکال کر اپوزیشن اتحاد کے ڈھانچے میں اہم مقام دے کر، بی جے پی کو انتخاب میں وہی نتیجہ دلوانے کی کوشش کی جائے، جیسا بہار میں ہوا۔
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور ملائم سنگھ یادو نے انتخابی تشہیر نہیں کی۔ شیو پال یادو کو انتخاب میں ہرانے کی کوشش ہوئی۔ افواہ ہے کہ پروفیسر رام گوپال یادو نے 15کروڑ روپے شیو پال یادو کو ہرانے میں خرچ کئے۔ دوسری طرف اکھلیش یادو نے اٹاوہ جاکر عوامی بیان دیا، جس کا مطلب لوگوں نے نکالا کہ وہ شیو پال یادو کو ہرانے کی اپیل کررہے ہیں۔ شیو پال یادو انتخاب جیتے، اکھلیش یادو کے 180 سے زیادہ امیدوار ہار گئے۔ صرف 47 لوگ انتخاب جیتے۔ انتخابی نتائج سے پہلے ہی اکھلیش یادو نے بیان دیا کہ وہ مایاوتی کے ساتھ بھی سرکار بنانے کے لئے بات چیت کر سکتے ہیں۔
اب پھر اپوزیشن اتحاد کی کوششیں شروع ہوئی ہیں۔ یہ کوششیں بھی اتر پردیش سے ہی شروع ہوئی ہیں اور ان کوششوں میں دو بیان سامنے آئے ہیں۔ اکھلیش یادو کا بیان اور پھر مایاوتی کا بیان۔مایاوتی نے کہا کہ اگر ممکن ہوا تو بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ جو ہاتھ ملانا چاہے، وہ اس کا خیر مقدم کریں گی۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ کس سے ہاتھ نہیں ملائیں گی۔ انہوں نے یہ کہا کہ جو بھی ہاتھ ملانا چاہے گا، وہ اس سے ہاتھ ملائیں گی۔ اکھلیش یادو نے ممتا بنرجی سے جاکر بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ شرد پوار کی کتاب کے اجرا سے ایک دن پہلے ہونے والے کھانے کی تقریب میں وہ شامل ہوئے اور انہوں نے چھاپ چھوڑنے کی کوشش کی، پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ اپوزیشن اتحاد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن اکھلیش یادو کی سیاسی ناتجربہ کاری یہیں نظر آئی،جب اگلے دن شرد پوار کی کتاب کی افتتاحی تقریب میں وہ اسٹیج پر نہیں گئے۔ اگر وہ اسٹیج پر جاتے تو لوگ اس کا مطلب نکالتے کہ ان میں سیاسی پختگی آئی ہے اور وہ سچ مچ سیاسی اتحاد چاہتے ہیں۔
ملائم بنائیں گے نئی پارٹی
لیکن پردے کے پیچھے واقعات دوسرے طریقے سے واقع ہورہے ہیں۔ملائم سنگھ یادو نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی پارٹی بنائیں گے۔ اس سیاسی پارٹی کی تشکیل کے پیچھے اصول اور پروگرام کو لے کر بھی انہوں نے چرچائیں شروع کردی ہیں۔ ملائم سنگھ یادو کو سماج وادی پارٹی کی یہ شکست اتنی بری لگی کہ وہ ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آپائے ہیں۔
ملائم سنگھ یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ کی حلف برداری تقریب میں جاکر ، اکھلیش یادو کو نریندر مودی سے بھی ملوایا، اس سے پہلے ایک اور اہم واقعہ ہوا۔ جیسے ہی نتائج آئے کہ اکھلیش یادو 47 سیٹیں جیتے ہیں، ویسے ہی ملائم سنگھ یادو خود اکھلیش یادو کے گھر چلے گئے۔وہاں وہ یہ سوچ کر گئے تھے کہ اکھلیش بہت دُکھی ہوں گے۔مجھے اسے ڈھارس بندھانا چاہئے۔دراصل بیٹے کے تئیں باپ کا پیار ہمیشہ زور مارتا رہتا ہے۔لیکن پتہ نہیں وہ کیا وجہ ہے کہ باپ کے تئیں بیٹے کا پیار کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔شاید ملائم سنگھ یادو کو یہ لگا ہوگا کہ اس ہار کے بعد اکھلیش یادو ان سے کہیں گے کہ وہ قومی پارٹی کے صدر کا عہدہ پھر سے سنبھال لیں۔ لیکن اکھلیش یادو نے ایک لفظ نہیں کہا،ملائم سنگھ وہاں سے یہ تاثر لے کر کے آئے کہ اکھلیش یادو ابھی اپنے منصوبوں کی دنیا میں ہیں اور وہ کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ یادو کو دوبارہ سیاست میں ہی نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس کے اشارے تب ملے جب کھلیش یادو کے نزدیکی لوگوں نے سیاسی پس منظر میں یہ افواہ پھیلانی شروع کی یا اس چرچا کو جنم دیا کہ ملائم سنگھ یادو کو اب سنیاس لے کر اپنے بیٹے کو ساری ذمہ داری سونپ دینی چاہئے۔
یہیں سے ملائم سنگھ یادو نے نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا اور ملائم سنگھ یادو نے اپنے نزدیکی لوگوں سے اس بارے میں بات چیت شروع کردی۔ حالانکہ انہوں نے جن لوگوں سے بھی بات چیت کی، انہیں ابھی ملائم سنگھ یادو پر صرف 90 فیصد بھروسہ ہے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جس دن اکھلیش یادو اپنی بیوی کے ساتھ ملائم سنگھ یادو کے پاس پہنچ گئے، اس دن ملائم سنگھ اپنا یہ فیصلہ بدل سکتے ہیں۔لیکن واقعات دوسری طرح سے وقوع پذیر ہورہے ہیں۔ملائم سنگھ نے اپنے بھائی شیو پال یادو کو مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ ملک کے اپوزیشن لیڈروں سے بات کریں۔ ہماری جانکاری کے حساب سے شیو پال یادو کی اتر پردیش کے لیڈروں میں اجیت سنگھ سے بات چیت ہو چکی ہے اور شاید مایاتی جی کے ساتھ بھی ان کا رابطہ ہو گیا ہے۔ ملائم سنگھ کا پیغام دیو گوڑا جی، چوٹالہ جی، نیتش کمار اور لالو یادو کے پاس بھی پہنچ چکا ہے۔ ان سبھی لوگوں کو اس حقیقت پر بھروسہ ہے کہ ابھی بھی اترپردیش کے گائوں میں اگر کسی کی سیاسی ساکھ ہے، تو ملائم سنگھ یادو کی ہے،کیونکہ ملائم سنگھ یادو کا اکھلیش یادو کے حق میں پرچار نہ کرنے کا نتیجہ ہی ہے کہ صرف 47سیٹیں سماج وادی پارٹی کو ملیں۔ملائم سنگھ یادو اتر پردیش کے ہر ضلع میں ایک دن اور ایک رات گزارنا چاہتے ہیں۔ اترپردیش کے ہر ضلع کے ان لیڈروں کے پاس یہ پیغام پہنچ چکا ہے، جو ملائم سنگھ یادو کے حامی ہیں کہ ملائم سنگھ یادو وہاں آکر کارکنوں کی بات سننا چاہتے ہیں۔ شاید یہ پہلا قدم ہے۔ اس کے بعد ملائم سنگھ پارٹی بنانے کا باضابطہ اعلان کر سکتے ہیں۔ ملائم سنگھ کے پارٹی بنانے کا اعلان ہوگا۔ پارٹی کا اعلان ہونے کے ساتھ پارٹی کے پہلے صدر ملائم سنگھ یادو نہیں ہوں گے اور نہ شیو پال یادو ہوں گے۔ پارٹی کا پہلا صدر سماج وادی پارٹی کا ایک سب سے سینئر لیڈر ہوگا جس کا چہرہ سبھی کو قبول ہے اور جو عمر میں، تجربہ میں، انتظامی تجربہ میں سب سے سینئر ہے۔ ملائم سنگھ یادو اس پارٹی کے سمینار میں سرپرست کی شکل میں رہیں گے اور وہ اتر پردیش میں، مغربی بنگال میں، مدھیہ پردیش میں ہونے والے سمیناروں میں پارٹی کے سرپرست کی حیثیت سے شامل ہوں گے۔
ملائم سنگھ کی کمزوری رہے ہیں رام گوپال یادو
دوسری طرف اکھلیش یادو اور پروفیسر رام گوپال یادو کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ کو سرگرم نہیں ہونے دینا چاہتے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو کی سخت ناراضگی پروفیسر رام گوپال یادو سے ہے اور ابھی کچھ لیڈروں کا ایک حصہ اکھلیش یادو اور ملائم سنگھ یادو کو یہ سمجھانے میں لگا ہے کہ اگر پروفیسر رام گوپال یادو کو سیاست سے تھوڑا الگ رکھا جائے اور اسٹیج پر ملائم سنگھ یادو، اکھلیش یاد و اور شیو پال یادو آئیں تو 2019 میں بڑا فائدہ ہوگا۔ لیکن اکھلیش یادو اس رائے کو نہیں مان رہے ہیں۔ وہ پروفیسر رام گوپال یادو کا اپنے وزیر اعلیٰ بننے کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ مانتے ہیں اور اس احسان کو وہ بھول نہیں پارہے ہیں۔ جب سماج وادی اپرٹی کی پارلیمنٹری بورڈ کی میٹنگ ہوئی، جس میں چھ یا سات لوگ شامل تھے اور جس میں یہ طے ہوا کہ اترپردیش کا وزیر اعلیٰ چنا جائے، کیونکہ اکھلیش یادو یہ اعلان کر چکے تھے کہ نیتا جی ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔جب یہ سوال اٹھا کہ وزیر اعلیٰ کون بنے گا تو سب سے پہلے پروفیسر رام گوپال یادو نے یہ کہا کہ اکھلیش یادو ہی بنیں گے اور کون بنے گا؟ملائم سنگھ جی کی موجودگی میں سارے لوگ اچانک ہکا بکا رہ گئے اور ملائم سنگھ کے بیٹے کا نام وزیرا علیٰ عہدہ کے لئے تجویز ہوا تھا، اس لئے کوئی بولا ہی نہیں۔ لیکن شیو پال یادو نے دبی زبان سے کہا کہ فیصلہ صحیح ہے،لیکن اس فیصلے کو سال بھر کے لئے ٹال دینا چاہئے۔ شروع کے پہلے سال خود ملائم سنگھ جی وزیر اعلیٰ رہیں، اکھلیش یادو ان کے ساتھ وزیر رہیں، ایڈمنسٹریشن کے طریقے سیکھیں ،لوگوںکو سمجھیں، لوگوں کو جانیں،اس کے بعد ملائم سنگھ جی استعفیٰ دے دیں اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ بنیں ۔ ملائم سنگھ نے اس بات کو یہیں روک دیا اور کہا کہ ہم اس پر دو دن بعد فیصلہ کریں گے۔دو دنوں میں ملائم سنگھ یادو پر پروفیسر رام گوپال یادو نے بہت دبائو ڈالا، تب ملائم سنگھ یادو نے شیو پال یادو سے کہا کہ ہمارے اوپر بہت دبائو پڑ رہا ہے، اس لئے اکھلیش کو ہی وزیر اعلیٰ بنا دیتے ہیں۔ دراصل پروفیسر رام گوپال یادو ملائم سنگھ کی شروع سے کمزوری رہے ہیں۔ پروفیسر رام گوپال یادو ملائم سنگھ یادو کے سگے بھائی نہیں ہیں، سگے چچا زاد بھائی ہیں۔ لیکن وہ اپنے بات کرنے کے طریقے سے، اپنی فصاحت سے، لوگوں سے رابطہ کرنے کے فن کی وجہ سے ملائم سنگھ کے انتہائی عزیز رہے اور دہلی کی پوری سیاست میں، پہلے امر سنگھ کو ری لائز کرنا ،پھر امر سنگھ کو دور بھگانا ، دوسرے لیڈروں سے رابطہ،یہ سارے کام پروفیسر رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ کے لئے کئے۔ ملائم سنگھ یادو کا اتنا زیادہ بھروسہ رام گوپال یادو کے اوپر تھا کہ وہ ان کی بات کو بغیر سوچے سمجھے مان لیتے تھے۔ اسی لئے ہندوستان کی سیاست میں پہلی بار ایک لیڈر کو سب نے ایک ساتھ، اجتماعی طور سے پبلک کے سامنے مالا پہنائی ۔ایک نئی پارٹی کا اعلان ہو گیا۔ نئی پارٹی کا صدر ملائم سنگھ کو بنا دیا گیا،لیکن اس کو بھی توڑنے کی بات جب پروفیسر رام گوپال یادو نے ملائم سنگھ یادو سے کہی، وجہ چاہے جو رہی ہو، ملائم سنگھ یادو نے اسے ایک سیکنڈ میں مان لیا۔ آج ملائم سنگھ یادو اور ان کے ساتھی حتمی طور سے مانتے ہیں کہ اگر وہ پارٹی بنی ہوتی تو کسی ریاست میں کوئی انتخاب ہی نہیں تھا، بہار میں جو نتائج آئے، اس سے بھی اچھے نتائج آتے اور باقی ریاستوں میں بہار دوہرایا جاتا۔ تب وہ لیڈر، جن میں ممتا بنرجی ہیں، نوین پٹنائک ہیں، یہ سارے لوگ ملائم سنگھ کی قیادت میں بننے والی نئی اپوزیشن پارٹی کا اتحادی حصہ ہوتے۔
ملائم سنگھ کب مایاوتی سے ملیں گے؟
ابھی پروفیسر رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو اپوزیشن اتحاد کے صحیح نقشے کو اپنے ساتھ نہیں رکھ پارہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ صرف وہ اور مایاوتی مل کر اترپردیش میں 2019 کے انتخابات لڑیں۔لیکن مایاوتی کو یہ جانکاری ہے کہ اترپردیش میں یادو ووٹ پر اکھلیش یادو کا نہیں، ملائم سنگھ یادو کا نفسیاتی راج ہے۔ جب ملائم سنگھ یادو کھڑے ہوں گے تبھی یادو سماج پورے طور پر مایاوتی کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اس کا دوسرا نتیجہ یہ نکلے گا کہ انتہائی پسماندہ طبقہ، جو کہ مایاوتی سے بھی دور چلا گیا،ملائم سنگھ یادو سے بھی دور چلا اور بی جے پی کا حصہ بن گیا ، وہ سب واپس ملائم سنگھ اور مایاوتی کے ساتھ چلے آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ملائم سنگھ یادو کب مایا وتی سے فون پر بات کریں گے یا کب مایاوتی سے ملیں گے؟اس سوال کا جواب صرف ملائم سنگھ اور مایاوتی کے پاس ہے۔لیکن ایسا ہونا اگلے دسمبر تک ناگزیر ہے۔مایاوتی کا ہر بیان یہ بتا رہا ہے کہ وہ بھی کوئی راستہ تلاش رہی ہیں جس سے وہ نئے سرے سے اپنی سیاسی بنیاد کو واپس پاسکیں۔
ملائم سنگھ یادو اب نہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں نہ وزیر اعلیٰ بننا چاہتے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو اب جے پرکاش نارائن بننا چاہتے ہیں۔ ملائم سنگھ چاہتے ہیں کہ سارے لوگ ایک ساتھ آئیں اور بی جے پی کا مقابلہ کریں۔لیکن بی جے پی کے پاس ملائم سنگھ کو، اکھلیش یادو کو اور پروفیسر رام گوپال یادو کو ڈرانے کے کئی ہتھیار ہیں۔ بڑے خاندانوں کے یا جو اقتدار میں پریوار ہیں، ان کے لڑکوں کے ذریعہ کئے گئے کئی ایسے کام ہیں ،جن کی جانچ مرکزی سرکار سی بی آئی کے ذریعہ کرا سکتی ہے۔ سی بی آئی کا استعمال وہ ایک طرف مایاوتی کو کنارے رکھنے میں اور دوسری طرف ملائم سنگھ یادو کو ڈرانے میں کرسکتی ہے۔ پروفیسر رام گوپال یادو کے اوپر یہ الزام لگ چکا ہے کہ انہوں نے سی بی آئی سے بچنے کے لئے ملائم سنگھ یادو کو اپوزیشن سے الگ کر دیا۔ اکھلیش یادو کے بنائے ہوئے کئی کام ،جن میں گومتی ریور فرنٹ، آگرہ -لکھنو ایکسپریس وے جیسے کام اہم ہیں، کی جانچ اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ تیزی سے کرا سکتے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد میں کیا ہوگا،کیسے ہوگا،کیا اکھلیش یادو اپوزیشن اتحاد کے مرکز بنیں گے یا ملائم سنگھ دوبارہ مرکز بنیں گے، اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ پروفیسر رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو ،ملائم سنگھ یادو کو کسی بھی قیمت پر اپوزیشن اتحاد کا مرکز نہیں بننے دیںگے۔ لیکن ملائم سنگھ یادو کی یہ کوشش ہوگی کہ اکھلیش یادو اس اپوزیشن اتحاد کے مرکز میں دوبارہ رہیں ۔ حالانکہ ملائم سنگھ کے دوسرے بیٹے پرتیک یادو،پرتیک کی بیوی اپرنا یادو اور ملائم کی بیوی سادھنا گپتا، ان کے اشارے کچھ الگ طرح کے ہیں۔ اس سے لوگوں میں یہ بھرم پھیل رہا ہے کہ یہ لوگ بی جے پی کے نزدیک جانے کی جلدی میں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ صحیح بھی ہو یا صحیح نہیں بھی ہو،کیونکہ بغیر ملائم سنگھ کے کسی بھی قدم کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ بغیر ملائم سنگھ کے نہ ان کی بیوی کی حیثیت ہے، نہ ان کے بیٹے کی حیثیت ہے، نہ اس کی بہو کی حیثیت ہے۔ جو حیثیت ہے، ملائم سنگھ کی حیثیت ہے۔
مضبوط اپوزیشن نہ ہونے کا قصوروار بی جے پی یا خود اپوزیشن
اس لئے، ابھی یہ لگ رہا ہے کہ اترپردیش میں ایک نئی سیاسی پارٹی کا جنم ہوگا، جس کی جڑ میں ملائم سنگھ یادو کا آئیڈیا ہوگا۔ جنوری آتے آتے مایاوتی سمیت ان سبھی طاقتوں کا تعاون اس پارٹی کے ساتھ ہوگا، جو 2019 میں نریندر مودی کا یا بی جے پی کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ ملائم سنگھ یادو کے کھڑے ہونے کے بعد، یقینی طور پر لالو یادو، نتیش کمار ،ایچ ڈی دیو گوڑا، چوٹالہ اور کمل مرارکا ،یہ سب بھی کہیں نہ کہیں حصے بنیں گے۔
لیکن یہ کام بہت مشکل ہے ۔یہ کام ہمالیہ پہاڑ کو کاٹ کر راستہ بنانے جیسا کام ہے ۔ ایک وقت یہ کام اتنا آسان تھا کہ سب لیڈر ملائم سنگھ کے گھر اکٹھے ہو گئے تھے اور اگر اس وقت پروفیسر رام گوپال یادو اور اکھلیش یادو نے ساتھ دیا ہوتا تو آج ہندوستان کی سیاست کی تاریخ دوسری ہوتی۔ لیکن سماج وادی پارٹی نے اترپردیش کو طشتری میں رکھ کر، میٹھائی کے ساتھ، جس طرح بی جے پی کو سونپا ہے، وہ تاریخ کی عظیم دانشوری کا انمٹ نمونہ بن کر لوگوں کو ہمیشہ سبق دیتا رہے گا لیکن سیاست میں کہیں بھی فُل اسٹاپ نہیں ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ملائم سنگھ یادو کی اس نئی مہم کے ساتھ اکھلیش یادو بھی جڑیں اور شیو پال یادو کی سیاسی کارکردگی کی وجہ سے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو۔
لیکن ان تمام واقعات کے درمیان میں اگر،مگر ہے،جن میں بی جے پی کا نام آبھی رہا ہے، لوگ لے بھی رہے ہیں اور الزام بھی لگا رہے ہیں کہ بی جے پی بہت کچھ نہیں ہونے دے رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے اوپر الزام کیوں لگایا جائے ؟ بی جے پی اقتدار میں ہے،بی جے پی اقتدار میں آنا چاہتی ہے، بی جے پی دیگر لوگوں کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ ٹھیک اسی طریقے سے، جیسے سماج وادی پارٹی یا کانگریس ، بی جے پی کو دور رکھنا چاہتی ہے ۔اب ہوشیاری کے اس شطرنج میں اگر بی جے پی درست طریقے سے اپنے پانسے پھینک رہی ہے اور سامنے والے کو بار بار شہہ دے رہی ہے تو قصور بی جے پی کو نہ دے کر اس کا مقابلہ کرنے والے اپوزیشن پارٹیوں کو دینا چاہئے جو مات تو دور شہہ دینے کے نزدیک بھی نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان کے عوام کو اس بساط پر بی جے پی زیادہ سمجھدار دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا اس لئے کیونکہ اب تک راج کرچکی تمام اپوزیشن پارٹیاں اپنی ساکھ اتنی نیچے لے گئی ہیں اور کئے گئے وعدے کو پورا کرنے میں اتنی بری طرح ناکام ہوئی ہیں کہ انہیں بی جے پی کی ناکامیاں چھوٹی ناکامیاں لگتی ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *