ماڈرنائزیشن سے بیشتر مدارس محروم

ہندوستان میں مدارس کی جدید کاری اسکیم کا مقصد ہی یہ ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق معیاری تعلیم فراہم کی جائے۔ مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس غرض کے لئے اس نے بڑا بجٹ رکھا ہے جو کہ 2016-17 میں 294کروڑ تک جا پہنچا ہے اور جس کے نتیجے میں ملک کے مدارس میں 77.85فیصد جدید کاری ہوئی ہے جبکہ ’چوتھی دنیا ‘ کی تحقیق سے یہ پتہ چلتاہے کہ سچ کچھ اور ہی ہے اور اس جدید کاری سے بیشتر مدارس محروم ہیں
مدارس کی تعلیم کو معیاری بنانے اور اس کی جدید کاری کو لے کر تمام ہی حکومتیں فکر مند رہی ہیں ۔ ان حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ مدارس کو ماڈرنائزڈ کرکے طلباء کو عصری علوم سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ یہ طلباء مین اسٹریم میںشامل ہوسکیں ۔اس مقصد کے لئے 2009-10 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے مدارس کی تعلیم کو معیاری بنانے کی غرض سے 46کروڑ روپے کی منظوری دی تھی جس کو نریندر مودی کی موجودہ حکومت نے بڑھا کر2015-16میں 108کروڑ اور 2016-17 میں 294کروڑ کردیا تھا۔
2014کے پارلیمانی انتخاب کے موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ مسلمان کے ایک ہاتھ میں قرآن دیکھنا چاہتے ہیں تو دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر۔ وزیر اعظم کا یہ جملہ مسلمانان ہند کے لئے بڑی دلچسپی کا موضوع بنا تھا۔وزیر اعظم مودی نے اپنے 15نکاتی پروگرام میں اس کو اہمیت کے ساتھ شامل کیا ہے۔ انہوں نے ان مدارس کوماڈرنائز کرنے کے لئے نہ صرف خاص توجہ دی ہے بلکہ خطیر رقم بھی مختص کی ہے۔
حکومت کے اس اعلان پر اسد الدین اویسی نے گزشتہ سال پارلیمنٹ میں ایک سوال پوچھا تھا کہ حکومت نے مدارس کو ماڈرنائز کرنے کی جو بات کہی ہے، اس کے لئے کتنا فنڈ گزشتہ تعلیمی سال کے لئے جاری کیا ہے تو ان کے جواب میں پرکاش جائوڈیکر مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل نے کہا کہ تعلیمی سال 2014-15 میں اس مد کے لئے 10.789 لاکھ روپے اور 2015-16 میں 29,450.74 لاکھ روپے جاری کئے گئے تھے۔حکومت کی طرف سے یہ بھی دعویٰ کیاجارہا ہے کہ اس منصوبے کے تحت تقریباً 77.85 فیصد مدارس کی جدید کاری ہوئی ہے۔ بہار میں 2015-16 کے درمیان 1127مدارس کو ،یو پی میں 14,974 اور مدھیہ پردیش میں 3288 مدارس کی شناخت کی گئی۔ان مدرسوں نے اپنے نصاب میںانگریزی، سائنس، حساب ، سوشل اسٹڈی،، ہندی کو شامل کرنے کے علاوہ کمپیوٹر لیب قائم کئے ہیں۔
حکومت کے اس دعویٰ کی سچائی جاننے کے لئے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے ممبر پارلیمنٹ اورپارلیمانی کمیٹی برائے اقلیتی امور کے رکن مولانا اسرار الحق سے پوچھا کہ مدارس کے تعلق سے سرکاری اعلان کی زمینی حقیقت کیا ہے ، تو انہوں نے کہا کہ ان تین برسوں میں صرف اعلانات ہی ہوئے ہیں،زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس سلسلے میںمرکزی وزیر پرکاش جائوڈیکر سے پوچھا تو یہ بتایا گیا کہ بہار کے ادارہ شرعیہ کے ماتحت چلنے والے پٹنہ کے صرف ایک مدرسہ کو فنڈ فراہم کیا گیاہے۔اب ذرا سوچئے کہ جس ریاست میں ہزاروں کی تعداد میں مدارس ہیں، وہاں صر ف ایک مدرسہ کو فنڈ دے کر ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے کہ مدارس کی جدید کاری ہورہی ہے۔حکومت کے دعوے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سیمانچل میں 240 مدرسے ہیں۔ یو پی اے کے دور میں ایم ایس جی (مین اسٹریم گرانٹ ) کے تحت اقلیتی وزیر کے رحمن کی قیادت میں149 مدرسوں میں تعمیر کا کام ہوا۔بقیہ مدرسوں میں کوڈ آف کنڈکٹ کی وجہ سے کام مکمل نہیں ہوسکا،اس کے بعد مودی کی حکومت آگئی، ہم نے ان بقیہ کام کو مکمل کرنے کے لئے کئی بارہا اپیل کی لیکن آج تک کچھ کام نہیں ہوا۔ ہم نے حالیہ بجٹ سیشن میں بھی مدرسوں کو فنڈ جاری کرنے کی بات کہی ،مگر اس پر کبھی کان نہیں دھرا گیا۔ غرضیکہ مودی سرکار میں دعوے تو خوب ہورہے ہیں مگر ان دعوئوں پر عمل نہیں ہوتا ہے۔
جب نمائندہ نے یہی سوال سابق ایم پی محمد ادیب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ عملی طور پر کہیں بھی حکومت کا دعویٰ صحیح دکھائی نہیں دے رہا ہے۔گزشتہ 3برسوں میں مودی حکومت نے 90 فیصد صرف اعلانات ہی کئے ہیں جس کا زمینی سطح پر کوئی وجود نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اگر واقعی مدارس کو ماڈرنائز کرنے میں مخلص ہے تو وہ ان مدرسوں میں کمپیوٹر اور انگریزی اساتذہ بحال کرے مگر ان مدرسوں کے نظم و نسق کو اپنے کنٹرول میں نہ لے۔
اس سلسلے میں ممبئی کے انجمن الاسلام کے چیئرمین تاج محمد خان کہتے ہیں کہ حکومتوں کی ساری توجہ مدارس کی جدید کاری کی طرف ہے اور اس کے نام پر کسی مدرسہ کو ایک دو کمپیوٹر سیٹ فراہم کر کے یہ تصور کر لیا جاتا ہے کہ حکومت نے اپنی ذمہ داری ادا کردی۔ اس مرتبہ ’’مدرسہ جدید کاری‘‘ اسکیم کا خوب چرچا کیا گیا کہ بی جے پی کی حکومت نے بڑی فراخدلی کا مظاہرہ کیاہے مگر یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ آج تک اس مد کے پورے پیسے کبھی استعمال نہیں ہوئے۔
ابھی حال ہی میں اورنگ آباد کے آزاد علی شاہ ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے 7 مدارس میں سے ایک مدرسہ حضرت حذیمہ جوکہ ہرسلو میں واقع ہے ، میڈیا کی ایک ٹیم کو اس کے ایک ذمہ دار ساجد پاشا نام کے آدمی نے بتایا کہ مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت انھوں نے وقفے وقفے سے حکومت کو کئی تجاویز داخل کی تھں لیکن انھیں حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں دی گئی۔
دراصل ایک تو حکومت کی طرف سے فنڈ فراہم نہیں کئے جاتے ہیں اور اگر کچھ رقم دی بھی جاتی ہے تو انتظامیہ اور سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے یہ رقم صحیح جگہ پر پہنچنے کے بجائے خاص لوگوں کی جیب کی زینت بن جاتی ہے۔جیسا کہ 2016 میںیوپی اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن (ایس آئی سی ) کی طرف سے ایک درخواست کے جواب میں ایم ڈبلیو ڈی (مائنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ )کو کہا گیا تھاکہ وہ اترپردیش میں فرضی مدارس کا پتہ لگائے جوسرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایم ڈبلیو ڈی نے اپنی رپورٹ میں کمیشن کو جو بتایا تھا ،وہ انتہائی حیرت انگیزہے،وہ یہ کہ مرادآباد ، سنبھل اور امروہہ میں کئی ایسے مدرسے ہیں جہاں مدارس صرف کاغذ پر ہیں ،زمین پر اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔جب ضلعی سطح پر مائنارٹی ویلفیئر آفیسرسے اس کی تفصیلات مانگی جاتی ہے تو منع کردیا جاتا ہے۔
ممبئی کے140سالہ قدیم ادارے انجمن الاسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی ( انجمن کے تحت 100 سے زائد اسکول، کالج اور پولی ٹیکنک ادارے چلتے ہیں)، کا کہنا ہے کہ اقلیتوں سے متعلق اسکیمیں کاغذوں میں بڑی خوشنما نظر آتی ہیں۔ لیکن ان اسکیموں کا زمینی سطح پر کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں دو طرح کے مدارس ہیں ۔ایک وہ ہیں جو حکومت سے ملحق ہیں۔ان مدرسوں کی فنڈنگ حکومت کرتی ہے اور دوسرے جو نظامیہ کہلاتے ہیں اور حکومت سے ملحق نہیں ہیں۔ جو مدارس حکومت سے ملحق ہیں ان میں عصری تعلیم دی جاتی ہے۔بچے انگریزی،ریاضیات اور کمپیوٹر وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ غیر ملحق مدارس جن کی تعداد ہزاروں میں ہے، دو طرح سے اپنا نظام چلا رہے ہیں۔ان مدارس میں سے تقریباً 3ہزار ایسے مدرسے ہیں جہاں دارالعلوم دیوبند کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے ۔ بقیہ مدرسوں میں یا تو ندوہ العلماء اور مبارکپور اشرفیہ کے نصاب کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے یا پھر وہ درس نظامیہ کے تحت اپنا الگ نظام چلا رہے ہیں ۔
23-24مارچ 2015 میں دارالعلوم دیوبند کے زیر قیادت ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور اس کانفرنس میں حکومت کی پالیسی پر غور و فکر کرنے کے لئے 4000 مدارس کے ذمہ داروںنے شرکت کی تھی۔ ان میں سے بیشتر ذمہ داروں نے اپنے نصاب تعلیم میں عصری علوم کو شامل کرنے سے منع کردیا البتہ طلباء میں نئی ٹکنالوجی، کمپوٹر اور انگریزی زبان سے واقفیت کے لئے اضافی بندوبست کرنے پر اتفاق رائے کیا۔
اس سلسلے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ بہت سے ایسے مدارس جو ریاستی سرکار سے ملحق نہیں ہیں، اس کے باجوود یہ عوامی امداد سے ماڈرن تعلیم کا انتظام کئے ہوے ہیں۔ ڈاکٹر محبوب الحق نے میگھالیہ جیسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقہ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی قائم کی ہے۔ پونا میں بی اے انعام دار کی کاوشوں کی بدولت اعظم کیمپس کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالا، تمل ناڈو،آسام، راجستھان اور مہاراشٹر میں مسلمانوں کے قائم کردہ میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر اعلیٰ فنی علوم کے کالج ملک کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان میں الامین گروپ، شاداں ایجوکیشنل گروپ، دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ، انجمن خیر الاسلام ٹرسٹ، مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ، اجمل فائونڈیشن، مسلم ایجوکیشنل سوشل اینڈ کلچرل ٓآرگنائزیشن، جے ڈی ٹی اسلام گروپ آف انسٹی ٹیوشنز، رفاہ المسلمین ایجوکیشنل ٹرسٹ اور مارواڑ مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ وغیرہ قابل ذکر ہیں، جو اعلیٰ اور فنی تعلیم کے کئی ادارے چلا رہے ہیں۔ مولانا غلام وسطانوی مہاراشٹر کے کئی علاقوں میں مدرسے چلا رہے ہیں اور ان تمام مدارس میں جدید علوم کے علاوہ کمپیوٹر کی بہتر تعلیم دی جاتی ہے۔
ان کے علاوہ مختلف ریاستوں میں خاص طور پر بہار ،یوپی اور مہاراشٹر میں بڑی تعداد ایسے مدرسوں کی ہے جہاں بچوں کو صرف عربی اور مذہبی تعلیم ہی دی جاتی ہے اور وہ کسی ٹرسٹ یا انجمن سے جڑے ہوئے بھی نہیں ہیں،ایسے مدارس کو وسائل فراہم کرکے مین اسٹریم میں لانے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے حکومت کو مخلصانہ اقدام کی ضرورت ہے نہ کہ تشہیرکی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *