کشمیر میں اقتدار پر مکمل قبضہ بی جے پی کا مشن ؟

جموں کشمیر میں اتحادی جماعتوں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ان بن اور آپسی چپقلش اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ اس صورتحال میں پی ڈی پی کی حالت دھوبی کے اُس کُتے کی جیسی ہوگئی ہے، جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔بھاجپا نے دو ٹوک لفظوں میں حریت کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرکے پی ڈی پی کو دم بخود کردیا ہے کیونکہ پی ڈی پی نے حریت کے ساتھ دلی کے مذاکرات کا کریڈٹ لینے کی پوری تیاری کرلی تھی۔گزشتہ دو سال سے پی ڈی پی کہتی رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پر امن طور سے حل کرانے کے لئے مرکز ی سرکار کو حریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر راضی کرلے گی۔
جموں وکشمیر میں بی جے پی کے نائب صدر ست شرمانے گزشتہ دنوں یہ انکشاف کیا ہے کہ ’’نئی دہلی میں اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ کشمیر میں صرف اُن لوگوں سے بات چیت کی جائے گی ، جو آئین ہند کو تسلیم کرتے ہوں۔‘‘اسکے بعد پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو نے یہ کہہ کر ست شرما کی بات کی تصدیق کی کہ ’’ مرکز کشمیر علاحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت نہ کرنے کے اپنے موقف سے ایک انچ نہیں ہٹے گی۔‘‘ رام مادھو کا کہنا ہے کہ ’’جو بھارت کے وفادار نہیں اُن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔‘‘دلچسپ بات ہے کہ رام مادھونے پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان طے پائے گئے ’’ ایجنڈا آف الائنس ‘‘ کو تیارکرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس میں دونوں پارٹیوں نے حریت کے ساتھ بات چیت کرنے پر اتفاق ظاہر کیا تھا۔ لیکن اب بی جے پی نے کھلے عام اپنے وعدے سے انحراف کرکے پی ڈی پی کو ایک آزمائش سے دوچار کردیا ہے۔ پی ڈی پی کے نائب صدر سرتاج مدنی نے ست شرما اور رام مادھو کے بیانات پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’ ایجنڈا آف الائنس میں تو بی جے پی نے حریت اور پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کی ہماری مانگ تسلیم کرلی ہے۔‘‘ سرتاج نے کہا ہے کہ ’’حریت کے بغیر کوئی بھی بات چیت بے معنی ہوگی۔‘‘
پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اور بھی کئی متعدد معاملات پر اختلاف رائے کھل کر سامنے آگیا ہے۔ گزشتہ ماہ جب سرینگر پارلیمانی سیٹ کے ضمنی انتخاب کے موقعے پر فوج کی جانب ایک کشمیری نوجوان کو جیپ کے سامنے باندھ کر کئی بستیوں کا گشت لگانے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آگئی تو ہر طرف فوج کی تنقید ہوئی لیکن بی جے پی کھل کر فوج کے اس اقدام کی حمائت میں کھڑی ہوگئی۔ رام مادھو نے فوج کی اس حرکت کا دفاع کرتے ہوئے کہا،’’ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔‘‘ لیکن پی ڈی پی کو عوام کے دبائو میں آکر اس واقعہ پر فوج کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرانی پڑی ۔ نتیجے کے طور پر وادی میں فوج اور پی ڈی پی کے درمیان ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق 24اپریل کو پی ڈی پی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس بات پر بحث و مباحثہ ہوا کہ پی ڈی پی کو فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے چاہیے تھی یا نہیں۔ بعض پارٹی لیڈروں نے اس میٹنگ میں کہا ہے کہ بی جے پی نے فوج کے حق میں بیان دیکر اسکی حمائت حاصل کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر ناسازگار حالات کے پیش نظر یہاں کوئی بھی سیاسی جماعت فوج یا دیگر سیکورٹی اداروں کی ناراضگی نہیں مول لینا چاہتی ہے۔ لیکن پی ڈی پی کو عوام کے دبائو میں آکر ایسا کرنا پڑا۔
بی جے پی ایک جانب جموں کشمیر میں فوج اور سیکورٹی اداروں کی پیٹھ ٹھونکنے میں لگی ہوئی ہے اور دوسری جانب ہندو رائے دہندگان کو اپنے حق میں یکجا کرنے کے مشن میں محو نظر آتی ہے۔بعض مبصرین کے ماننا ہے کہ در اصل بی جے پی نے ریاست میں2019ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے زمین اپنے حق میں ہموار کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے۔گزشتہ ہفتہ امیت شاہ نے جموں کے ایک روزہ دورے کے دوران آر ایس ایس کے لیڈروں کے ساتھ کشمیر کے حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے آر ایس ایس لیڈر ویر بھون سے بھی علاحدہ ملاقات کی۔ اسکے علاوہ انہوں نے بی جے پی کے ریاستی ممبران اور وزراء کی ایک میٹنگ میں شرکت کی ۔ اس موقع پر انہوں پارٹی لیڈران کو ہدایت دی کہ وہ کشمیر لداخ میں پارٹی کی جڑیں مضبوط کرنے کیلئے اقدامات شروع کریں۔ اس دورے کے دوران امیت شاہ پی ڈی پی کے کسی لیڈر سے نہیں ملے۔
بعض مبصرین کا کہناکہ پی ڈی پی کی لیڈر شپ میں بھی یہ احساس شدت کے ساتھ پایا جانے لگا ہے کہ وادی کشمیر میں پارٹی کی عوامی ساکھ بری طرح متاثر ہوجانا پارٹی کے لئے دور رس مفادات کے منافی ہے۔ شائد اسی لئے 24اپریل کو وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم مودی سے ملاقات سے چند گھنٹے پہلے پی ڈی پی کے سینئر لیڈر مظفر حسین بیگ نے کہا کہ پی ڈی پی کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد توڑنا چاہیے۔مظفر بیگ نے پہلی بار اس طرح کی بات کہی ہے۔ انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں محبوبہ مفتی کو مشورہ دیا کہ اُنہیں ’’بی جے پی کے ساتھ جڑے رہنے کے بجائے عوام کے پاس پھر جانا چاہیے۔‘‘ حال ہی میں کمونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسٹ) کے ریاستی لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے بھی محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوکر کہا کہ انہیں کولیشن چھوڑ دینی چاہیے۔تاریگامی نے کہا،’’ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ، پی ڈی پی کو مخلوط سرکار چھوڑنی چاہیے۔‘‘
ممکن ہے کہ اس سے پہلے پی ڈی پی اپنی اتحادی جاعت کے ساتھ ناطہ توڑنے کا سوچے مرکزی سرکار خود ریاستی حکومت کو معطل کرکے یہاں گورنر رول نافذ کرائے۔ کیونکہ اس ضمن میں اب تک کئی اشارے مل چکے ہیں۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ جولائی میں بھارت میں نئے صدر کی تقرری کے بعد ممکن ہے کہ مرکزی سرکار ریاست میں صدارتی راج نافذ کرائے ۔ کیونکہ متوقع طور پر ملک کا نیا صدر بھاجپا کی آئیڈیالوجی کا حامل ہوگا اور اس صورتحال میں جموں کشمیر میں گورنر رول کا مطلب ہوگا کہ ریاست براہ راست بی جے پی کے کنٹرول میں آئے۔ بی جے پی نے 2014ء کے انتخابات میں ہی ریاست کی 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میںکم از کم44سیٹیں حاصل کرنے کا مشن شروع کیا تھا۔ ان انتخابات میں اسے 25سیٹیں ملیں۔ جبکہ پی ڈی پی 28سیٹیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی کے بطور ابھری تھی۔ اب جبکہ پی ڈی پی کی عوام ساکھ بری طرح متاثر ہوچکی ہے، ممکن ہے اگلے انتخابات میں بی جے پی ہی ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کے بطور ابھر کرسامنے آئے گی اور ریاست کا اقتدار براہ راست اسکے ہاتھوں میں آجائے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بی جے پی کی تاریخی جیت ہوگی۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ظاہر ہے کہ بی جے پی کو ریاست میں پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس جیسی جماعتوں کا اثر و رسوخ کم کرنا ہوگا۔ یہ کام فی الوقت بی جے پی بخوبی کرتی نظر آرہی ہے۔ پی ڈی پی کو اپنے رائے دہندگان یعنی کشمیری عوام کی نظروں میں ذلیل کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آرہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *