فوجی مواصلاتی نظام ہندوستان کا قبضہ چین کا

damiچین نے اپنی سیکورٹی طریقہ کار میں الکٹرانک اور سائبر آپریشن طریقہ کار کو بھی اتنا ڈیولپ کر رکھا ہے کہ اس میں کوئی حیرانی نہیں کہ چینی فوج ہندوستان میں گھس جائے اور ہندوستانی فوج کا ’کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم ‘ چینی فوج کے سائبر -ریجمنٹ کے ذریعہ ہیک کر لیا جائے۔ اس وجہ سے ہندوستانی فوج کا پورا مواصلاتی نظام عین موقع پر کہیں ’ہینگ ‘ نہ ہو جائے۔ اس بات کا پورا خدشہ ہے۔ پچھلے ہی سال یہ بات سرکاری طور پر اجاگر ہوئی کہ چین کی پرومیننٹ کمپنی ہچیسن اور موبائل فون کمپنی شااومی (xiaomi) نے ہندوستانی فوج اور سیکورٹی سسٹم کی جاسوسی کرائی، جس کی وجہ سے ہندوستانی فوج کو اسمارٹ فونس اور اسمارٹ ایپس پر روک لگانی پڑی۔ پاکستانی خفیہایجنسی آئی ایس آئی کو پٹھان کوٹ بیس کے بارے میں اہم اطلاعات چین نے ہی مہیا کرائی تھیں۔ چین اب بھی اپنے کچھ خاص اسمارٹ فونس اور اسمارٹ اپلی کیشنس کے ذریعہ ہندوستانی فوج کی حساس اطلاعات حاصل کر رہا ہے۔ چینی کمپنیاں ہچیسن -ویم پوا اور شا اومی اسمارٹ فون چین کی مدد کررہی ہیں۔چین کی پیپلس لبریشن آرمی ( پی ایل اے ) کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں سائبر جاسوسی کرنے میں ہچیسن ، ویم پوا بدنام رہی ہے۔
پاکستان کی بندرگاہوں پر چین نے ہچیسن ،ویم پوا کے ذریعہ ہی دخل بنائی ہے۔ اس کمپنی سے پاکستان کو بھاری مالی مدد مل رہی ہے۔ ہچیسن کمپنی کچھ عرصہ پہلے تک ہندوستان میں کام کرتی رہی،لیکن 2005-07 میں اچانک اس نے ہندوستان کا کاروبار بند کر دیا۔ اوڈافون نے اسے خرید لیا۔ ہچ کے اس طرح ہندوستان سے کام سمیٹ لینے کے پیچھے بھاری چوری کے علاوہ کئی اور مشکوک وجوہات تھیں،لیکن ہندوستانی سرکار نے اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ وہی ہچیسن ادارہ اپنی حصہ داری شااومی کے ساتھ ہندوستانی فوج کی جاسوسی میں پھر سے سرگرم ہے۔ ’’ چوتھی دنیا ‘‘ اس کے پہلے بھی یہ اہم سوال اٹھا چکا ہے کہ ہچیسن کو ہندوستان میں گھسنے کی اجازت کس نے دی تھی؟ہچیسن کے ذریعہ ہندوستان کے چپے چپے میں چینی فوج کے کمیونیکیشن نیٹ ورک قائم ہونے کا موقع آخر کس نے دیا تھا؟کیا ہندوستانی سرکار کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ہچیسن ،ویم پوا اور چین کی فوج ساتھ مل کر کیا کام کرتی ہے؟ہچیسن کمپنی کا ہندوستان میں داخلہ کن شرطوں پر ہوا تھا؟اس داخلے کو فارن انوسٹمنٹ پروموشن بورڈ نے ٹھیک سے مانیٹر کیوں نہیں کیا اور کمپنی جب ہندوستان سے کام سمیٹ کر جانے لگی تو اس کی (اصلی ) وجوہات جاننے کی ہندوستانی سرکار نے کوشش کیوں نہیں کی؟یہ ایسے سوالات ہیں، جن کا جواب ملک کے سامنے آنا ہی چاہئے، جسے مرکزی سرکار دبائے بیٹھی ہے۔
چینی فوج کا کمیونیکیشن لنک
ملک کی سیکورٹی سے جڑا یہ عجیب و غریب پہلو ہے کہ چین کی پیپلس لبریشن آرمی کے سائبر ریجمنٹ کے ساتھ مل کر مختلف ملکوں کے کمیونیکیشن سسٹم پر سائبر حملہ کرنے میں بدنام رہی ہچیسن ، ویم پوا کو نہ صرف ہندوستان میں سرمایا کاری کی اجازت دی گئی بلکہ ہندوستان کی زمین پر ہی ہچیسن گروپ اور چینی فوج (پی ایل اے ) کے بیچ کمیونیکیشن لنک قائم کرنے کی بھی اجازت مل گئی۔ حیرت ہے کہ 90 کی دہائی سے لے کر آج تک ہندوستانی سرکار اس مسئلے پر آنکھ بند کئے ہے۔ ظاہر ہے کہ پورے ارینجمنٹ سسٹم کو اپنے ہی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں اور اسے کھو کھلہ کررہے ہیں۔ ہچیسن کے لباس میں چینی فوج کو ملک کے گھر گھر میں گھسنے کا راستہ ہندوستانی سرکار نے ہی کھولا اور اسے لبرل پالیسی اور گلوبلائز اکانومی بتا کر اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپاتی رہی۔
آج کی اصلیت یہی ہے کہ ہمارے چپے چپے پر چینی فوج کی نظر ہے۔ملک کا ایک ایک شہری چین کے لئے جاسوسی کا سامان شااومی فون کی شکل میں اپنے ہاتھ میں لئے گھوم رہا ہے۔ ہچیسن اور وی چیٹ جیسے اسمارٹ ایپلی کیشنس کے ذریعہ چین نے ہندوستان کے خلاف خوب جاسوسی کی اور اب بھی کر رہا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ وزارت دفاع سے لگاتار یہ کہتی رہی کہ چین کا بنا اسمارٹ فون شااومی اور ریڈمی جاسوسی کے کام آرہا ہے لیکن فضائیہ کی اطلاع کو ہندوستانی سرکار نے سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ پارلیمنٹ میں معاملہ بھی اٹھا، پھر بھی مرکزی سرکار نے متنازع چینی اسمارٹ فونس کو ممنوع کرنے یا معاملے کی خفیہ جانچ کرانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ سرچ انجن گوگل نے اسمیش ایپ جیسے ایپلی کیشن کو اپنے پلے اسٹور سے ہٹا دیا اور یہ مانا کہ ایپلی کیشن کا استعمال پاکستانی خفیہ ایجنسی ہندوستان کی خفیہ جاسوسی کے لئے کررہی تھی۔
چین کے بنے موبائل فونس کی کرتوتوں پر ہندوستانی سرکار کو خاموشی لگائے دیکھ کر آخر کار ہندوستانی فوج کی تینوں اکائیوں نے اسمارٹ فونس کے استعمال پر ہی پابندی لگا دی۔ ہندوستان کی لچر سائبر سیکورٹی نظام کا خمیازہ آخر کار فوج کو ہی بھگتنا پڑا۔ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ میں اسمارٹ فونس کے استعمال پر روک کے ساتھ ساتھ فیس بک، ٹویٹر، وہاٹس ایپ، اسمیش ایپ، وی چیٹ، لائن ایپ جیسے اسمارٹ فون ایپلی کیشنس ، میسنجر ایپلی کیشنس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے استعمال پر بھی پوری طرح پابندی لگا دی ۔ فوج کی تینوں اکائیوں کے فوجیوں،جونیئرکمیشنڈ افسروں اور کمیشنڈ افسروں سے کہا گیا کہ وہ اپنا ای میل آئی ڈی بھی فوری طور سے بدل لیں۔پھر بھی مرکزی سرکار بے شرمی کی چادر اوڑھے رہی۔ سرکار کو شااومی فونس کے بڑے بڑے اشتہار نظر نہیں آتے۔ چینی اسمارٹ فونس اور ایپلی کیسنس کے ذریعہ یوزر کا پورا ڈاٹا پاکستانی خفیہ ایجنسی کو مہیا کرایا جارہا تھا۔ اسمیش ایپ کا سرور جرمنی میں جسے کراچی کا رہنے والاپاکستانی ایجنٹ ساجد رانا پی بی ایکس موبی فلیکس ۔کام کے نام سے چلا رہا تھا۔ اس ایپلی کیشن کی تکنیک چین کے ذریعہ ڈیولپ کی گئی تھی۔ اسے اتنے شاطرانہ طریقے سے تیار کیا گیا تھا کہ اسے ڈائون لوڈ کرتے ہی یوزر کے فون میں درج سارے ڈیٹیلس ، ایس ایم ایس ریکارڈ، فوٹو، ویڈیو اور یہاں تک کہ کن کن لوگوں سے اس کی باتیں ہو رہی ہیں، اس کا بیورا بھی سرور کو مل جاتا تھا۔ اسی طرح شااومی اور ریڈمی فونس کے ذریعہ بھی یوزر ڈاٹا چین میں موجود سرور کو بھیجے جارہے تھے۔اسمارٹ فون کے اسمارٹ ایپلی کیشن کے استعمال سے فوج کے اہلکار یا آفیسر انجانے میں ہی خود بخود جاسوسی کے ’ٹول ‘ کی شکل میں استعمال ہو رہے تھے۔فوج کے عام آفیسر یا فوجی تکنیکی طور پر ماہر نہیں ہوتے، لہٰذا وہ سمجھ نہیں پارہے تھے کہ ان کی اطلاعات کس طرح باہر لیک ہو رہی تھیں۔ ہندوستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ( ملٹری آپریشنس) نے فوج کے سارے کمانوں کو باقاعدہ یہ ہدایت دی کہ فوج (آفیسر اور جوان ) یا ان کے خاندان کے کوئی بھی ممبر وی چیٹ جیسے ایپلی کیشن کا استعمال نہ کریں۔اس ہدایت میں ان سارے ایپلی کیشنس کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی جس کے سرور بیرون ملک میں ہوں۔ فوجی ہیڈکوارٹر نے باضابطہ طور پر یہ مانا کہ چین کے ٹیلی کام آپریٹرس وی چیٹ جیسے ایپلی کیشنس کے ذریعہ اطلاعات حاصل کر کے اسے چینی سرکار کو دے رہے ہیں۔
انڈین کمپیوٹر ایمرجینسی رسپانس ٹیم سے ملی جانکاریوں کی بنیاد پر ہندوستانی فضائیہ کی خفیہ شاخ نے بھی یہ رپورٹ مرکزی سرکار کو دے رکھی ہیں کہ شااومی اور ریڈمی اسمارٹ فونس اپنے سارے یوزر ڈاٹا چین میں بیٹھے آقائوں کو مہیا کرا رہے تھے۔ ریڈمی فون کے چین میں آئی پی ایڈریس سے کنیکٹ ہونے کے بھی کئی ثبوت سامنے آئے۔ تب یہ بات کھلی کہ سرور ( ڈبلیو ڈبلیوڈبلیو ڈاٹ سی این این آئی سی ڈاٹ سی این ) کا مالک چین سرکار کی منسٹری آف انفارمیشن انڈسٹری خود ہے۔ ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ (را ) کے آفیسر بتاتے ہیں کہ ہچیسن ویم پوا اور شا اومی کافی قریب ہیں اور ایشیا میں مشترکہ کاروبار کرتے ہیں۔ ہچ کے نام سے ہندوستان میں ہچیسن کا کاروبار تھا، لیکن اس نے ہندوستان میں کاروبار کا اختیار اوڈافون کو بیچ ڈالا۔ ہندوستانی سرکار نے کبھی اس بات کی چھان بین نہیں کرائی کہ مواصلات کا سہاا لے کر ہچیسن کمپنی ہندوستان میں کیا کیا دھندے کرتی رہی ہے اور اچانک کام سمیٹ کر کیوں چلی گئی۔ ہچیسن کمپنی اربوں روپے کا کیپٹل گین ٹیکس ہڑپ کر کے چلی گئی، اس پر کسی کو کوئی درد ہی نہیں ہوا۔ ہچیسن ،ویم پوآ کے مالک لی کا شنگ کے چین کی حکومت اور چین کی فوج ( پی ایل اے ) سے گہرے رشتے ہیں۔ لی کا شنگ کی کمپنی ہچیسن ، ویم پوا چینی فوج کی سائبر ریجمنٹ کے ساتھ مل کر سائبر وار فیئر اور سائبر جاسوسی کے شعبے میں کام کرتی ہیں۔چین کے کمیونزم کا سچ یہی ہے کہ چین کی فوج دنیا بھر میں پھیلی کئی نامی کارپوریٹ کمپنیوں کی مالک ہے یا ہچیسن ، ویم پوآ جیسے کارپوریٹ گھرانوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔ اس طرح چین کی فوج دنیا بھر میں جاسوسی بھی کرتی ہے اور پیسے بھی کماتی ہے۔ ہچیسن ،ویم پوآ اور چین کی فوج نے پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت دنیا کے تمام ملکوں کی بندرگاہوں کو اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ بندرگاہوں کا کام ہچیسن پورٹ ہولڈنگ ( ایچ پی ایچ ) کے نام سے کیا جارہا ہے۔ بندرگاہوں کے ذریعہ ہتھیاروں کی آمدو رفت بے دھڑک طریقے سے ہوتی رہتی ہے۔
ہچیسن ، ویم پوآ لمیٹیڈ کے چیئر مین لی کا شنگ چین کی فوج کے لئے بڑے کاروبار میں بچولیے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی ہیوز کارپوریشن اور چائنا ہانگ کانگ سیٹلائٹ (چائنا سیٹ ) کے درمیان ہوئے کئی بڑے سیٹلائٹ معاہدوں میں لی کاشنگ اہم کردار ادا کرچکے ہیں۔یہاں تک کہ لی نے چائنا سیٹ اور ایشیا سیٹ میں اپنا پیسہ بھی لگایا ۔ چائنا سیٹ اور ایشیا سیٹ کمپنی چینی فوج پیپلس لبریشن آرمی کی کمپنیاں ہیں۔اسی طرح چائنا ایسوسین شاپنگ کمپنی ( کاسکو) بھی پیپلس لبریشن آرمی کی ہے، جس میں ہچیسن ، ویم پوآ لمیٹیڈ کا پیسہ لگا ہوا ہے۔ لیبیا ، ایران، عراق اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ماڈرن ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں کاسکو کے ملوث ہونے کی بات کئی بار اجاگر ہو چکی ہے۔ بدنام آرمس ڈیلر اور جدید ہتھیار بنانے والی چین کی پالی ٹکنالوجیز کمپنی کے مالک وانگ جون اور ہچیسن ،ویم پوآ کے مالک لی کاشنگ کے نزدیکی تعلقات ہیں۔ پالی ٹیکنالوجیز کمپنی کا آپریٹ بھی پی ایل اے کے ذریعہ ہی ہوتاہے۔ چین کی مشہور ’دی چائنا انٹرنیشنل ٹرسٹ اینڈ انوسٹمنٹ کارپوریشن ‘ میں وانگ جون اور لی کا شنگ ،یہ دونوں بدنام ہستیاں بورڈ ممبرس ہیں۔
چین کا مؤثر سائبر دیمک
چین کے سامان پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہندوستان کے لئے بڑی مصیبت کو دعوت دے رہا ہے۔ اسٹریٹجک ماہرین اس بات کو لے کر فکر مند رہے ہیں کہ ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ہو رہا چینی تجاوز چینی فوج کی سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ ملک میں زیادہ تر بیس ٹرانسمیشن اسٹیشن ( بی ٹی ایس ) میں چینی کمپنیوں ہو آاوئی اورزیڈ ٹی ای کے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویر کا استعمال ہوا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ سبھی چینی بی ٹی ایس کو جی پی ایس سگنل کے لئے چینی مصنوعی سیاروں پر منتقل کردیا گیا ہے۔یہ خطرناک ہے،کیونکہ موبائل بی ٹی ایس کے جی پی ایس ماڈیول میں بدلائو کرنے سے پورا کا پورا کمیونیکیشن سسٹم منہدم ہوسکتا ہے۔کسی ایمرجینسی حالات میں جی پی ایس پلس کو بلاک کیا جاسکتاہے۔ یہاں تک کہ اس کے راستے میں بدلائو کرکے اس کی ٹائمنگ بدلی جاسکتی ہے۔ ملک کا 60فیصد سی ڈی ایم اے اور جی ایس ایم موبائل کمیونیکیشن چینی وینڈرس ہی چلاتے ہیں۔اس لئے 60فیصد موبائل نیٹ ورک پر سیدھا خطرہ ہے۔ اگر ایک بار یہ منہدم ہوگیا تو باقی 40فیصد پر اس کا بوجھ پڑے گا۔ اس وجہ سے سارا موبائل کمیونیکیشن نیٹ ورک ٹھپ پڑ جائے گا۔ سرکار کے پاس اس سے ابھرنے کا کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ یعنی ملک کے جی پی ایس نیٹ ورک میں تھوڑی سی بھی خرابی آتی ہے تو سارا کمیونیکیشن نیٹ ورک کا اچانک بھٹہ بیٹھ جائے گا۔
1963 میں ہی سی آئی اے نے کہا تھا، چین کا اگلا حملہ براستہ برما
امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی نے 1962 کی جنگ کے بعد ہی یہ کہہ دیا تھا کہ مستقبل میں چین برما (میانمار ) کے راستے ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ آج سی آئی اے کی وہ رپورٹ سچ ثابت ہو رہی ہے۔ سی آئی اے نے یہ بھی کہا تھا کہ چین اگلی جنگ کا دہانہ برما، تبت اور نیپال کے راستے کھولے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ اکتوبر 1962 میں چین نے لداخ اور نیفا ( نارتھ ایسٹ فرانٹیئر ایجنسی ) ، جو آج ارونا چل پردیش ہے، کے راستے ہندوستان میں گھس پیٹھ کی تھی اور ایک مہینے کے بعد ہی یکطرفہ جنگ روکنے کا اعلان کر دیا تھا۔جنوری 1963 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے چین کی چالاکی کے ساری جہتوں کی باریکی سے جانچ پڑتال کی تھی۔
مئی 1963 میں سینٹرل انٹلی جینس ایجنسی ( سی آئی اے ) اور یو ایس آئی بی ( یونائٹیڈاسٹیٹ انٹلی جینس بورڈ ) کی مشترکہ خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چین برما کی طرف سے حملہ کرے گا اور برما اس سے انکار نہیں کر پائے گا،یہاں تک کہ برما کی رضامندی سے چینی فوج برما کے ایئر فیلڈ اور ٹرانسپورٹ نظام کا بھی استعمال کرے گی۔سی آئی اے نے برما کے راستے ہونے والے ممکنہ حملے کے روٹ بھی بتائے تھے اور کہا تھا کہ چینی فوج کونامنگ ، ڈیبو گڑھ روڈ پر لیڈو سے اور کونمنگ ،تیز پور روڈ پر مندالے اور انفال کے راستے انٹری کریں گے۔حالانکہ سی آئی اے رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہندوستان پر چین کی طرف سے ہوائی حملے کا خطرہ اتنا نہیں ہوگا، کیونکہ ہمالین رینج میں چین کے مناسب ایئر بیس نہیں ہیں۔ سی آئی اے کے اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر رے کلائن نے اس وقت کے امریکی صدر اور ہندوستان کے دوست رہے جان ایف کینیڈی کے خصوصی سکریٹری میک جارج بنڈی کو یہ رپورٹ سونپی تھی اور ہندوستان کے خلاف چین کی سازشوں کا تفصیلی بیورا پیش کیا تھا۔ 55سال بعد آج سی آئی اے کی اس رپورٹ کا جواز اور اس کا ربط سمجھ میں آرہا ہے۔
ہندوستانی فوج کو برہموس کے برہما شاستر کا بھروسہ
چین کے سبب ارونا چل پردیش کی پُرامن وادیوں میں ہندوستانی فوج کو برہموس جیسی خطرناک سپر سینک کروز میزائلیں تعینات کرنی پڑ رہی ہیں۔ مرکز کی منظوری کے بعد ہندوستانی فوج کے 40ویں آرٹلری ڈویژن کے 864 ریجیمنٹ نے ارونا چل پردیش کے توانگ سے لے کر وجے نگر علاقے تک برہموس بلاک 3 کروز میزائیلیں تعینات کرنے کا کام تیز کر دیا ہے۔ 8مئی 2015 کو برہموس میزائیل کے کامیاب تجربہ کے بعد 2016 میں ہی مرکزی سرکار نے اس کی تعیناتی کی منظوری دے دی تھی۔ یہ میزائل پہاڑی علاقہ میں جنگ کے لئے درست مار کرنے والی میزائیل مانی جاتی ہے۔ برہموس کو چین کے ڈونگ فینگ 21 ڈی بیلسٹک میزائیل کی کارگر کاٹ مانا جاتا ہے۔ برہموس میزائیل کی کارگر مار کی صلاحیت پانچ سو کلو میٹر تک ہے لیکن ’میزائیل ٹکنالوجی کنٹرول ریجیم ‘ (ایم ٹی سی آر ) معاہدے کے سبب اس کی مار کی صلاحیت کو 290 کلو میٹر تک باندھا گیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ایم ٹی سی آر معاہدہ سے جڑے 35ملکوں میں ہندوستان شامل ہے،لیکن چین اس میںشامل نہیں ہے۔
ہندوستانی بحریہ کے 10جنگی جہازوں پر برہموس میزائلیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ دیگر جنگی جہازوں پر اس میزائل سسٹم کو لیس کرنے کا کام چل رہا ہے۔فضائیہ کے سخوئی 30 طیاروں کو برہموس میزائلیں فائر کرنے میں قابل بنانے کا کام اب پورا ہونے والا ہے۔ ارونا چل پردیش کے تیج پور میں فضائیہ بیس پر برہموس میزائیلوں سے لیس سخوئی 30 طیاروں کے دو اسکوائڈرن تیار رہیں گے۔ ادھر چین بھی اپنی اسٹریٹجک تیاریوں میں لگا ہوا ہے۔ چین نے اسی مہینے ایئر کیریئر جنگی جہاز سی وی 17 شان ڈانگ کو چینی بحریہ کو سپرد کیا۔ 23اپریل کو چینی بحریہ کے 68ویں سالگرہ پر اسے یہ تحفہ دیا گیا۔
لہاسا سے نیپال کے راستے ہندوستان کو گھیرے گا چین
چین نیپال کے راستے سے بھی ہندوستان کو گھیرنے کی تیاری لمبے عرصے سے کر رہا ہے۔ چین سے نیپال تک ہمالیہ کو کاٹ کر بنائے گئے ’دی فرینڈ شپ ہائی سے ‘ نے چینی فوج کے لئے راستہ آسان کر دیا ہے۔ اب چین سے نیپال تک ہمالیہ کے اندر سرنگ کھود کر ریلوے لائن بچھانے کا کام چل رہاہے۔ ’ دی فرینڈ شپ ہائی وے ‘ تبت کے ہلاسا سے ہمالیہ کے بیچ سے ہوتا ہوا جھانگمو اور نیپال کے کوڈاری تک پہنچتا ہے۔ اسٹریٹجک اور سیاسی نقطہ نظر سے بنائی گئی یہ سڑک ہمالیہ سے ہندوستان کی طرف بہنے والی ساری اہم ندیوں گنگا، برہمپتر، سندھو، ارو، کوشی اور یہاں تک کہ ہمالیہ پروت شرنکھلا کی پاکیزہ چوٹی کیلاش اور پاکیزہ مانسروور جھیل کو چھوتی اور کاٹتی ہوئی چلتی ہے۔ نیپال کے کوڈاری تک آنے والی یہ سڑک آگے بھی ارنیکو ر ہائی وے کے نام سے کاٹھمنڈو تک پہنچتی ہے۔ہمالیہ کو کاٹ کاٹ کر بنایا گیا یہ ہائی وے 5476 کلو میٹر یعنی 3403 میل کا راستہ طے کرتا ہے۔
ہندوستان پر حملے کے ایک سال پہلے ہی یعنی 1961 سے ہی چین ہمالیہ کے اس علاقے کو کاٹ کر سڑک لے جانے کی کوشش میں لگا تھا۔ ہندوستان، چین جنگ کے ایک سال بعد 1963 میں چین نے کاٹھمنڈو ،کوڈاری روڈ بنانا شروع کر دیا اور 1967 میں اسے آمدو رفت کے لئے کھول بھی دیا ۔چین نے نیپال سے لگی اپنی سرحد پر کہیںبھی سیکورٹی چوکی نہیںرکھی ہے، صرف کوڈاری روڈ پر چین کا ایک چیک پوسٹ بناہے۔ اب اسی روٹ پر چین لہاسا سے کھاسا ( نیپال سرحد پر موجود ) تک اور کاٹھمنڈو تک ریلوے لائن کی تعمیر کر رہا ہے۔ 2020 تک یہ پورا ہو جائے گا۔
اترا کھنڈ میں بھی چین ڈھونڈ رہا ہے درار
دلائی لامہ کی ارونا چل پردیش آمد کے دوران یا ان کے استقبال کی تیاریوں کے دوران سرحدی علاقے پر چینی فوج کی سرگرمی دکھاوا تھا۔ اصل میں اس کی آڑ میں وہ برما کے راستے ہندوستان میں گھسنے کی تیاری میں تھا۔ ادھر اترا کھنڈ بھی چینی گھس پیٹھ کا آسان راستہ بن رہا ہے۔ پچھلے سال 19جولائی کو اترا کھنڈ کے چمولی ضلع میں چینی فوج کی گھس پیٹھ کی خبر آئی تھی۔ اترا کھنڈ کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے بھی کہا تھا کہ اترا کھنڈ کی سرحد پر چین کی سرگرمی کافی بڑھ گئی ہے۔ اس بارے میں مرکزی سرکار کو سرکاری جانکاری بھی دے دی گئی تھی۔ فوج کا کہنا ہے کہ چمولی ضلع کے باراہوٹی علاقے میں چینی فوج نے گھس پیٹھ کی تھی۔ چمولی کے بھی 80 مربع کلو میٹر کے علاقے پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے۔ دو سال پہلے چینی فوج کا ہیلی کاپٹر بھی ہندستانی بارڈر پر تجاوز کر چکا ہے۔ 2013-14 میں بھی کئی بار چینی فوج چمولی میں گھس کر پتھروں پر’ چین‘ لکھ کر چلے گئے تھے۔ اترا کھنڈ کے قریب 350 کلو میٹر کی سرحد چین سے ملتی ہے، لیکن اس کا سرکاری طور پر نشان زد اب تک نہیں ہو پایا ہے۔
اروناچل میں پھر شروع ہوگی ہندوامریکہ کی مشترکہ مہم، پھر چِڑھے گا چین
دلائی لامہ کی ارونا شل یاترا سے بوکھلائے چین کے لئے اور چِڑھنے کا وقت آرہا ہے، کیونکہ ارونا چل پردیش میں دوسری عالمی جنگ کے دوران لاپتہ ہوئے چار سو امریکی فضائیہ کے جوانوں کی لاشوں کی تلاش کی مشترکہ مہم جلد ہی شروع کی جانے کی آہٹ ہے۔ فوجی خفیہ ایجنسی کے ایک آفیسر نے کہا کہ لا پتہ امریکی فوجیوں کی لاشیں تلاش کرنے کا کام 2010 اور 2011 میں بھی ہونا تھا، لیکن ارونا چل پردیش کو لے کر چین کی مخالفت کی وجہ سے اس وقت امریکی صدر باراک اوبامہ نے مہم ملتوی کر دی تھی۔ لیکن اب ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر ہیں اور اپنے مسئلوں پر اڑیل رخ رکھنے والے مانے جاتے ہیں۔ اب ٹرمپ کے دور کار میں اس مہم کو پھر سے شروع کرنے کی پہل ہورہی ہے، اس مہم میں ہندوستانی فوج بھی شامل رہیںگی۔400امریکی فضائیہ جوان دوسری عالمی جنگ میں آسام اور چین کے کنمنگ کے بیچ لاجسٹکس سپلائی آپریشن کے دوران متعدد ہوائی حادثات میں مارے گئے تھے۔دوسری عالمی جنگ میں چین، ہندوستان اور برما ’وار ژون ‘ میں تھا۔جنگ کے دوران کم سے کم 500 ایئر کرافٹ لاپتہ ہو گئے تھے، جن کا کچھ پتہ نہیں چل پایا۔
امریکہ کے کھوجی کلے ٹن کوہیلس نے 2006 میں ایٹانگر کے شمال، بے لانگ کے جنوب، اوپری سیانگ اور کچھ دیگر جگہوں پر قریب 19 طیاروں کی باقیات پائے تھے۔جنگ کے دوران جو امریکی فوجی مارے گئے تھے، ان کے خاندان کے دبائو پر فوجیوں کی باقیات کھوجنے کے لئے ہندوستان اور امریکہ نے 2008 کے آخر میں ہی مشترکہ تلاشی مہم شروع کی تھی۔ پھر یہ مہم بند ہو گئی اور اوبامہ حکومت نے اسے ملتوی کر دیا۔ چینی بھڑکیوں کی وجہ سے ارونا چل پردیش میں ہندوستان اور امریکی فوج کی مشترکہ فوجی مہم بھی نہیں ہو پائی تھی۔ لیکن اب اسے پھر سے منعقد کرنے کی پہل ہو رہی ہے۔ ارونا چل پردیش میں ہندوستان، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور سنگاپور کامشترکہ فوجی ٹریننگ کا پروگرام بھی پائپ لائن میں ہے۔
پاکستان کے لئے چینی فوج بنا رہے بنکر
باڑمیڑ سیکٹر میں پاکستانی سرحد کی طرف سے جو پختہ بنکر بن رہے ہیں، وہ چینی فوجیوں کے ذریعہ بنائے جارہے ہیں۔ چین کی خصوصی فوجیوں کی مدد سے ہی لمبی سرحدی علاقے میں پاکستان بنکروں کا جال بچھا رہا ہے۔ ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف ٹھوس بنکروں کے علاوہ ہتھیاروں کے کوٹ، ہیلی پیڈ، پکی سڑکیں، پانی ٹنکیاں، چوکیاں اور دوسرے کئی ڈھانچے تیار کئے جارہے ہیں۔ جیسلمیر کے کشن گڑھ بلج اور شاہ گڑھ بلج علاقے کے سامنے سرحد پار ڈیٹکا ٹوبا، ہرنگ والا، سکھیرے والا کھو، ڈنگائو ، تک، بچول، جمیوشوری، چرون پڑھ، کل فقیر علاقوں میں پکے بنکر بنتے دیکھے گئے ہیں۔فوج نے دور بین کیمرے سے ان بنکروں کی تصویریں کھینچی ہیں۔ تصویروں میں چینی فوجوں کو کام کرتے اور کراتے دیکھا جاسکتا ہے۔
شمال مشرقی خطے کی ترقی سب سے اہم
حفاظتی حساسیت کو دیکھتے ہوئے شمال مشرقی کی مجموعی ترقی انتہائی ضروری ہے۔ اب تک کی سرکاروں نے شمال مشرقی علاقے کو باقی ہندوستان کے ساتھ متفق ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے کبھی دھیان ہی نہیں دیا ۔ فوج کی مشرقی کمان میں تعینات شمال مشرقی معاملوں کے ماہر مانے جانے والے ایک سینئر فوجی آفیسر نے یہ تشویش ظاہر کی کہ ہندوستانی سرکار نے سنجیدگی سے اس طرف دھیان نہیں دیا تو شمال مشرقی بھی کشمیر بن جائے گا۔ اس خطہ کی سرحدیں چین، میانمار ، بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال سے ملتی ہیں، اس لئے یہ زیادہ حساس ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی مانا کہ اب شمال مشرقی کو لے کر سرکار کی سوچ اور سمجھداری میں بدلائو آیا ہے، لیکن اس طرف دھیان مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی سرکار کو شمال مشرقی کے سنگین جیو اسٹریٹجک ( جی او – اسٹریٹجک) اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور اس کے مطابق سارے پہلوئوں سے کام ہونا چاہئے۔ شمال مشرقی کے لوگوں میں الگ تھلگ پڑنے کا احساس گہرا رہا تھا، اس میں تھوڑی کمی آئی ہے لیکن شمال مشرقی کے لوگوں کے ساتھ باقی ہندوستان میں تفریق ، جانبداریت ، نا انصافی، اقتصادی نظر اندازی، شناخت کا مسئلہ ،نسلی تشدد جیسی مشکلیں نہ کھڑی ہو،ِ اس کا کارگر بندوبست ہونے کی طرف مرکزی سرکار اتنا دھیان نہیں دے رہی ہے۔ شمال مشرقی کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے ۔دوسری طرف خطہ میںترقی اور موثر ترقی کا فقدان ،ان میں عدم اطمینان پیدا کرتاہے۔
یہی عدم اطمینان دہشت گرد گروپوں او ر پُر تشدد ذاتی گروہوں میں بدل جاتا ہے۔ شمال مشرقی خطے کو لے کر ہوئے ایک تجزیہ کے مطابق خاص طور پر آسام کو غیر قانونی مہاجروں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ریاست کے 27 ضلعوں میں سے 9 اضلاع غیر قانونی مہاجروں کے تسلط میں ہیں۔ اسمبلی کی 126 سیٹوں میں سے 60 سیٹوں پر ان کا اثر قائم ہو گیا ہے۔ ریاست کی جنگلاتی زمین پر کئے گئے تجاوزات میں 85فیصد بنگلہ دیشیوں کی حصہ داری ہے۔ آبادی میں غیر فطری اٖضافے غیر قانونی امیگریشن کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ناگالینڈ میں بھی بنگلہ دیشی مہاجروں کی تعداد بے تحاشہ بڑھی ہے۔ اس سے مقامی لوگوں میں خوف بڑھا ہے اور سیکورٹی نہ ہونے کے سبب گروہ بندی بڑھی ہے۔ تریپورا بھی اس کی مثال ہے، جہاں بنگلہ دیشی پنا ہ گزینوں کی وجہ سے تریپورا کے حقیقی لوگوں کی مقامی پہچان مٹ گئی ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سینکڑوں دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آگئیں۔میزورم میں بھی باہری مخالف جذبات مختلف اسٹوڈنٹ موومنٹ کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔ ناگا لوگ ناگالم کی تشکیل کے لئے آسام اور منی پور کے علاقوں کو شامل کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ منی پور کی ایروم شرمیلا 17سال تک بھوک ہڑتال کرتی رہیں، شمال مشرقی کے لوگوں میں مسلح دستوں کے تئیں بھی غصہ ہے۔ شمال مشرقی کے لوگ سیاسی طور پر نظر اندازی سے بھی پریشان ہیں۔ شمال مشرقی میں پارلیمانی سیٹیں بڑھنی چاہئے اور اسمبلی میں بھی عوامی نمائندگی بڑھانے پر کام ہونا چاہئے۔
ارونا چل پردیش ہندو چین تنازع میں ہی الجھا ہوا ہے۔ جبکہ مرکزی سرکار کو ارونا چل پردیش کی مجموعی ترقی پر دھیان دینا چاہئے۔ صرف اپنا بتانے سے کام نہیں چلتا، اسے ترقی اور خوشحالی کے ذریعہ اپنا بنانا چاہئے۔ ارونا چل میں ہائیڈروپاور اور معدنی املاک کے کافی امکانات ہیں۔چین نے ارونا چل پردیش کی سرحد سے لگے اپنے علاقے میں متعدد شہر بسائے ہیں۔ وہ اتنے ترقی یافتہ ہیں کہ ارونا چل کے لوگوں کو وہ چینی شہر لبھاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے ۔ شمال مشرقی کو ہندوستان مخالف تنظیم بھی اپنا اڈہ مانتی ہیں۔پاکستانی خفیہ ایجنسی شمال مشرقی کو اپنا محفوظ ٹھکانا مانتی ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے بیچ 4096 کلو میٹر لمبی سرحد پر سیکورٹی کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہے۔ اس وجہ سے ہندوستانی خطہ میں آبادی کا ڈھانچہ بدلتا چلا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *