نظریاتی سیاست کا پیکر تھے مدھولمیے

19 سال کی عمر میںکھودی رام بوس پھانسی کے پھندے پر جھول گئے تھے۔ 14 سال کی عمر میںچندر شیکھر آزاد کو پولیس نے کوڑے مارے تھے او رشاید 14 سال میںہی بھگوان کرشن نے پانچ جنیہ شنکھ پھونکا تھا۔
15 سال کی عمر میںپونہ میںیکم مئی 1937 کو ایک لڑکے نے مزدور تحریک میںحصہ لیا تھا۔ اس لڑکے کا نام مدھو لمیے تھا۔ مدھو لمیے بعد میںہندوستان میں سماجوادی تحریک کے اہم ستون بنے۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا ،جے پرکاش نارائن، ارونا آصف علی، آچاریہ نریندر دیو جیسے لوگوں کی قربت میںمخصوص پہچان بنانے والے مدھو لمیے ہندوستان میں سماجوادی سیاست کی بہترین شخصیت مانے جاسکتے ہیں۔ مدھو لمیے کی نسل ختم ہونے کے بعد، خاص طور سے مدھو لمیے جی کے انتقال کے بعد، افکار کو لے کر سیاست کی اپیل رکھنے والے لوگ اب نہیںکے برابر رہے ہیں۔مدھو لمیے سادگی اور نظریاتی سیاست کا پیمانہ بن گئے ہیں۔ ان کی زندگی کی سادگی اب کہیں دکھائی نہیںدیتی۔ وہ خود چائے بناتے تھے۔ ان کے گھر میںجب بھی ان کا کوئی ساتھی یا مہمان آتا تھا، و وہ خود چائے بناکر اسے پلاتے تھے۔ ان کی زندگی میں جو سادگی تھی،اس سے بہت سے لوگوں نے تحریک لی، جن میںسے کچھ ہمارے بیچ ہیں۔ مدھو لمیے جی کے اوپر لوگ تبادلہ خیال کریں، ان سے طاقت لیں اور سرکار و سماج پر دباؤبنانے کا کام کریں۔ مدھو لمیے جی کی زندگی سے جڑی یاد داشتیںسنانے والے لو گ بھی اب ختم ہورہے ہیں۔ مدھوجی نے زندگی میں بہت کچھ کیا۔ یاد کریں تو انھوںنے 5 جولائی 1978 کو پارلیمنٹ میں اندرا گاندھی کے خلاف استحقا ق کی تجویز رکھی، جسے استحقاق کمیٹی نے صحیح مانا اور شریمتی اندرا گاندھی کو لوک سبھا سے برخاست کردیا گیا اور اندرا گاندھی کو ایک ہفتہ کے لیے جیل بھی جانا پڑا۔ اس سے قبل جب پارلیمنٹ کا وقت بڑھانے کی کوشش کی گئی تو مدھو لمیے نے اپنے نوجوان ساتھی شرد یادو سے کہا کہ وہ لوک سبھا سے استعفیٰ دے دیں۔ شرد یادو جبل پور سے جنتا پارٹی کے امیدوار کے طور پر الیکشن جیت کر لوک سبھا میںآئے تھے۔ انھیں پارلیمنٹ میںآئے ایک سال ہی ہوا تھا۔ شرد یادو نے مدھو لمیے کی صلاح کو مانا اور ان کے ساتھ ہی لوک سبھا سے استعفیٰ دے دیا۔
مدھو جی نے دوہری رکنیت کے سوال کو اہمیت کے ساتھ اٹھایا اور اتنا آگے بڑھا کہ جنتا پارٹی کی تقسیم ہونے کے بعد سرکار گر گئی۔ مدھو لمیے جی نے گوا مکتی آندولن میںحصہ لیا تھا۔ اس آندولن میںان کی نظریاتی پختگی کے سبب حکومت ہند کے اوپر دباؤ بنا اور گوا کو آزاد کرایا گیا۔ اس آندولن میںحصہ لینے کے کی وجہ سے مدھو لمیے جی کو 12 سال جیل کی سزاد ی گئی۔ آج خاص طور سے جو سیاست میںآتے ہیں، انھیں مدھو جی کے نام سے دلچسپی نہیں ہے۔
مدھو لمیے جی عملی شخصیت نہیں، نظریاتی شخص تھے۔ مدھو جی نے اقتدار کے ساتھ اپنا نام جوڑنے کی کبھی کوشش نہیںکی۔ انھوںنے اپنی سا ری زندگی محرومین کی زندگی میںخوشیاں لانے کے لیے لگادی۔ انھوںنے کبھی بھی اپنے خاندان کے سکھ،سہولت اور دھن دولت کے بارے میں نہیں سوچا۔ انھوںنے کبھی یہ نہیںسوچا کہ جب وہ نہیں رہیںگے تو ان کے خاندان کے لوگ کس طرح زندگی گزاریںگے۔ کیونکہ انھوںنے سارے سماج کو اپنا خاندان مان لیا تھا۔ اس لیے آج انھیںیاد کرنے والے ایسے لوگ زیادہ ہیں جو ان کے نظریاتی خاندان کا حصہ ہیں۔
آج سے 20-30 سال بعد جب کوئی شخص ہندوستانی سیاست کے ان جدوجہد کرنے والے لیڈروںکے بارے میںپڑھے گا تو اس کے دل میںضرور یہ سوال اٹھے گا کہ کیا مدھو لمیے جی جیسے لوگ سچ مچ پیدا ہوئے تھے۔ بیس سال کی بات چھوڑ دیں، آج جب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو یقین ہی نہیںہوتا کہ مدھو لمیے جیسے لوگ ہمارے اسی سماج میںتھے،جس سماج میںکار، دھن دولت،مکان اور بے شمار کرنسی ایک آدرش سیاستداں کی پہچان بن گئے ہیں۔ مدھو لمیے جی جیسے لوگ آج کے لاکھوںلوگوںکی شخصیت پر بھاری رہیںگے کیونکہ آدرش مدھو لمیے جی کو مانا جائے گا، ایسے لوگوںکو نہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *