مدھو جی کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا

damiآنجہانی موہن سنگھ
میں مدھو جی سے 1964 میں پہلی بار ملا۔ اس وقت میںالہ آباد یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ وہ رکن پارلیمنٹ چن لیے گئے تھے۔ بہار کے مونگیر لوک سبھا الیکشن کے بعد ہی سماجوادی آندولن کی دو شاکھاؤں سماجوادی پارٹی اور پرجا سماجوادی پارٹی کے اتحاد کی کوششیںچل رہی تھیں۔ سماجوادی پارٹی کی طرف سے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا جی کی پہل پر راج نارائن ، مدھو لمیے وغیرہ اس میں سرگرم تھے۔ پرجاسماجوادی خیمہ کی طرف سے ایس ایم جوشی، این جی گورے ، پریم بھسین وغیرہ پہل کر رہے تھے ۔ پرجا سماجوادی پارٹی میں اشوک مہتا، چندرشیکھر، نارائن دت تیواری وغیرہ نے کانگریس پارٹی میںجانے کا من بنا لیا تھا ۔ اشوک جی کو پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین نامزد کیا جانے والا تھا۔ پارٹی کی اتحادی تجاویز میںممکنہ پارٹی کی پالیسی،اصول کی بنیاد کیا ہو؟ اس کی کمیٹی کے کنوینر مدھو جی تھے۔
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا پرجا سماجوادی پارٹی میںبکھراؤ کو دیکھتے ہوئے فوری طور بغیر کسی شرط کے اتحاد کے حق میںتھے۔ لیکن انھوںنے عوامی طور پر اعلان کردیا کہ وارانسی میں منعقد ہونے والے ’استھاپنا سمیلن‘ میں وہ تبھی جائیںگے، جب کانفرنس تجویز پاس کرکے انھیں وہاں جانے کی پیشکش کرے ، کچھ لوگ اسے انفرادیت پسندی کو فروغ دینے والی تجویز کہہ کر اس بیان کی تنقید کررہے تھے۔ اس سے اتحاد کے لیے جو جوش پیدا ہونا چاہیے، اس میںمایوسی داخل ہوگئی۔
منفرد انداز
مدھو جی بہار سے ریل گاڑی سے دہلی جارہے تھے۔ میرے جیسے درجنوں نئی عمر کے کارکنوں نے انھیںالہ آباد ریلوے پلیٹ فارم پرگھیر کران کا خیال جاننا چاہا۔ ہم لوگوں سے زیادہ مایوس وہ خود تھے۔ انھوںنے کہا، پرجا سماجواد پارٹی کے زیادہ تر لیڈر کانگریس میں چلے گئے۔ اتحاد کے بعد ڈاکٹر صاحب کے علاوہ کوئی لیڈر نہیں ہے۔ انھیںایسا بیان دینے کی ضرورت نہیںتھی۔ نئی پارٹی کی تشکیل کے بعد جس ماحول اور جوش کی توقع تھی، اس میں کمی آجائے گی اور پرجا سماجوادی پارٹی خیمہ میںکافی مایوسی ہوگی۔ کانگریس کی تو حکمت عملی ہے،سماجوادی آندولن میںبکھراؤ پیدا کرو۔ ہم لوگ اپنے طرز عمل سے اس بکھراؤ کو رفتار دے رہے ہیں۔ گاڑی تھوڑی دیر رکنے کے بعد چلی گئی۔ مدھو جی کی پرکشش شخصیت کی میرے اوپرچھاپ پڑی۔ میںنے ان سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا اور 1967 کے بعد ہماری نزدیکی بڑھتی گئی جو 8 جنوری 1995 یعنی ان کی زندگی کے آخری سانس تک بنی رہی۔
وہ اعلیٰ درجہ کے دانشور،اپنے خیالات کے لیے مکمل وقف،سچے محب وطن اور سماج کے آخری آدمی کے دکھ درد کو اپنا دکھ مانتے تھے۔ ان کے قول و فعل میںکوئی تضاد نہیںتھا۔ یکم مئی 1922 کو مہاراشٹر کے پونہ شہر میںان کی پیدائش ہوئی تھی ان کے والد اس شہر کے ایک اسکول میںٹیچر تھے۔ ان کے والد انگریزی اور سنسکرت کے اعلیٰ استادوں میںتھے۔
1955 میں گوا مکتی سنگرام چل رہا تھا۔ مدھو جی کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور ننھا منا بچہ بھی ہوگیا تھا۔ لیکن وہ فیملی چھوڑ کر گوا مکتی سنگرام میںکود پڑے۔پرتگالی حکومت ان کے مطابق زیادہ وحشی تھی۔وہ مہاراشٹر کی سرحدپارکرکے گوا کی سرحد میں اپنے ستیہ گرہی ساتھیوںکے ساتھ پہنچے ہی تھے کہ ان کے ساتھیوںپر گوا پولیس حملہ آوروں کی طرح ٹوٹ پڑی۔ ان کا پورا جسم لاٹھیوںسے توڑ دیا گیا۔لہو لہان مدھو جی کو عدالت میںپیش کیے بغیر جیل میںڈال دیا گیا، جہاںبغیر کسی جرم کے 12 سال کی سخت سزا سنائی گئی۔ لیکن حکومت ہند کی پہل اور بین الاقوامی دباؤ میںپرتگال سرکار نے دو سال کے بعد سبھی قیدیوںکو جیل سے آزاد کردیا۔اس طرح مدھو جی کی فکر نوآبادیاتی نظام کے خلاف تھی اور انھوںنے اپنی زندگی میںمشکل کوششوں اور پوری طاقت سے سامراجوادی حکومت کی مخالفت کی۔
1971 کی شکست کے بعد
1971کا الیکشن مدھو جی ہار گئے۔ میںنے گرودوارہ رکاب گنج کی کوٹھی سے ان کا سب سامان نکالا۔ ایک چھوٹے ٹرک سے ان کا سبھی سامان باندرہ میںواقع چمپا جی کے فلیٹ میں بھیج دیا گیا۔ مدھو جی نے 200 روپے کا چیک کاٹ کر مجھے دیا کہ تم گھر واپس چلے جانا۔ میںنے کھاتے سے پیسے نکالے تو کیشئر نے کہا، مدھو جی سے کہنا، 80 روپے ہی بچے ہیں۔ میں نے ان کو بتایا تو ہنسنے لگے، اتنا کافی ہے۔ جیسے نجی دولت سے انھیںپورا اطمینان تھا۔ اس دور میںانھیںکوئی پینشن نہیںملتی تھی۔ اترپردیش کے دورے میںہم اور ہمارے دوست مختار انیس باری باری سے ان کے ساتھ رہتے تھے۔ کیونکہ ہم دونوں ان کی تکلیف اور معمول سے واقف تھے۔میں سلیپر کلاس میںان کا ریزرویشن کراتا تھا۔وہ اکثر بیچ کی سیٹ پر سوتے تھے۔نیچے میںرہتا تھا۔ سلیپر کلاس میں گدے نہیں تھے۔ میں ان کے لیے ایک موٹی دری رکھتا تھا او ربرتھ پر بچھادیتا تھا۔ وہ قومی تحریک کے دور سے دمہ کے مریض تھے اور گوا جیل اور بہار کے الیکشن میںان پر حملہ سے ان کے جسم کی ساری ہڈیاںزخمی ہوگئی تھیں۔ ٹرین کے ڈبے میںدھول بہت آتی تھی، تو اٹھ کر ناک ڈھک کر بیٹھ جاتے تھے۔ پروائی ہوا چلتی تو ہڈیا ں بہت درد کرتی تھیں۔ ہانپتے اور درد سے کراہتے ہوئے مدھو جی اپنے سارے پروگرام پورے کرتے تھے۔
1974 میںاترپردیش کے الیکشن کے لیے کسی بڑے آدمی نے انھیںپچاس ہزار روپے دیے۔ انھوںنے مجھے بلایا اور ان میںسے دو ہزار روپے ان کے ساتھ دورے پر ہمارے خرچ کے لیے تھمائے۔ پھر مجھ سے 24 امیدواروں کی فہرست بنوائی جو پارٹی کے پرانے کارکن تھے۔ انھیںدو دو ہزار روپے دیے گئے۔ ان کے لیے مدھو جی کی طرف سے دوہزار روپے بہت بڑی رقم تھی۔ آج کے امیدوار اور لیڈروںکی طرف دیکھ کر اور پرانی باتیںسوچ کر درد ہوتا ہے۔ ہماری پبلک لائف کہاںسے کہاںپہنچ گئی۔جب اراکین پارلیمنٹ کی پینشن شروع ہوئی تو اس کی انھوںنے مخالفت کی۔ زندگی بھرتکلیف برداشت کی لیکن رکن پارلیمنٹ کی مدت کار کے عوض میںپینشن قبول نہیں کی۔
وہ قومی تحریک اور گوا مکتی آندولن کے صف اول کے مجاہد تھے لیکن اس کے عوض میں پینشن کے لیے درخواست نہیں کی۔حکومت ہند نے کچھ اہم مجاہدین آزادی کے لیے خود پینشن دینے کا اعلان کردیا۔ لیکن مدھو جی نے اسے بھی عاجزی کے ساتھ واپس کردیا اور کہا کہ قومی فرض کے لیے پینشن کی کیا ضرورت ہے؟ ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیںتھا۔ کتابیںلکھ کر ان کی رائلٹی اور اخباروںمیںچھپے مضامین کے محنتانہ سے انھوںنے اپنا ذاتی خرچ چلایا۔ وہ غیر ملکی اشیاء کے استعمال کے نہایت مخالف تھے۔ 1978 میں ہم اور ہمارے دوست مختار انیس ان کے دونوںچہیتے ، اترپردیش سرکار میںوزیر ہوگئے تھے۔ علی گڑھ میں فرقہ وارانہ فساد ہوگیا تھا۔ انھوںنے بلاوا بھیجا۔ ہم دونوں کے ساتھ علی گڑھ جانا چاہتے تھے۔ سویرے ان کی کوٹھی پر پنڈارا روڈ پہنچے۔ انھوں نے کہا تم لوگوںکی سرکاری گاڑی میںتو میںبیٹھوںگا نہیں۔ میںنے اپنے پی اے سے کہا، جن پتھ جاکر ٹیکسی لاؤ۔ وہ ٹیکسی لے کر آگیا۔میںنے کہا، مدھو جی ٹیکسی آگئی، آپ چلیے۔ بولے، لیکن سرکاری دستہ ساتھ نہیںہوناچاہیے۔ہم لوگوںنے اپنے پی اے، چپراسی ہٹادیے۔ بہت خوش ہوکر نیچے اترے گاڑی میںبیٹھنے کے لیے۔جیسے ہی دروازہ کھولا،غصہ میںاپنابیگ لیے واپس اپنے کمرے میںچلے گئے۔ ہم دونوں بہت حیران ہوئے۔ بہت ماتھا پچی کے بعد بات سمجھ میںآئی کہ ٹیکسی تو غیر ملکی کار تھی۔ میںنے فوراً ہی گاڑی واپس کرائی اور ایمبیسڈر کار منگائی۔پھر اوپر جانے کی ہمت کی۔ انھوںنے دروازہ اندر سے بند کرلیا تھا۔ میرے اوپر جب کبھی ناراض ہوتے تھے تو اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے بیگم اختر کے گانے کا توا لگاکر چارپائی پر لیٹ جاتے تھے۔ میںاپنی غلطی پرپشیمان ہوتا تھا اور وہ فوراً خوش ہوجاتے تھے۔ ایسی پیار بھری ادا مجھے آج تک تکلیف پہنچاتی ہے۔ کسی طرح انھوںنے دروازہ کھولا۔ میںنے غلطی کے لیے معافی مانگتے ہوئے کہا ،ٹیکسی ایمبیسڈر آگئی۔کسی طرح گاڑی میںبیٹھے۔غازی آباد پار کرتے ہی ڈھابے پر گاڑی روکی، ہنس کو بولے،تم لوگوں کومیرے سلوک سے تکلیف پہنچی، اس لیے تم لوگوں کو کچھ کھلاتا ہوں۔ اپنے جونیئر ساتھیوں کے ساتھ بھی ان کا دوستانہ برتاؤ تھا۔ ان کے گھر میںملک کے تمام بڑے لوگوں کو میںنے چائے پلائی، کھاناکھلایا۔ سبھی سے میرا تعارف انھوںنے اپنے دوست کے طور پر کرایا۔ من ، وچن اور کرم کی کمپاؤنڈ یونٹی ان میںتھی۔
بہترین گائیڈ
وہ مجھ سے بار بار کہتے تھے، اترپردیش اسمبلی میں اپنا وقت کیوں برباد کررہے ہو؟ پارلیمنٹ میںان کے حکم پر آیا۔ شام کو روزانہ ان کے گھر پہنچنا میرا معمو ل تھا۔ چھوٹے سے گھر میںکچھ بھی اضافی نہیںتھا۔کبھی ٹی وی فریج وغیر پہنچانے کی کوشش کی تو ڈانٹ لگاتے تھے۔ کوشش تو ہمیشہ کرتے تھے کہ وہ اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر پلوائیں۔ بغیرکسی دکھاوے کے اس چھوٹے سے کمرے کے گھر میں انھوںنے اپنی زندگی کے 13سال گزارے۔ جب کبھی ملک توڑنے کی کوئی کوشش ہوتو وہ پرجوش ہونے لگتے تھے۔ بابری مسجد معاملہ ہو یا منڈل کمیشن کی سفارش کو لے کر اٹھا تنازع، اس چھوٹے سے فلیٹ سے ساری رات جاگ کر طویل خط تیار کرتے اور اسے ٹائپ کراکر میںمناسب جگہ پر پہنچاتا تھا۔بابری مسجد معاملے پر الگ سے فارمولہ بنا کر اڈوانی جی،وی پی سنگھ،ملائم سنگھ، سبھی کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی۔ نرسمہا ر اؤ کو تو کافی پیغام بھیجے۔ منڈل کمیشن کے مقدمہ میںسپریم کورٹ کے فاضل ججوںکو خط لکھے۔ ان کے خطوںکا سبھی لوگ احترام کرتے تھے اور ان میںلکھی بہت سی باتیںسپریم کورٹ کے فیصلہ کا حصہ بنیں۔
ایمرجنسی کااعلان
ہندوستان میں1975 میںایمرجنسی کا اعلان ہوا،اس دن کا رائے پور کا پروگرام پہلے سے طے تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل اسٹے کے لیے زیر التوا تھی۔ان کو احساس تھا کہ جسٹس کرشناایّر اندرا جی کے معاملہ میںشرط کے ساتھ اسٹے دیںگے۔ میںنے انھیںرائے پور کے لیے ہوائی اڈہ چھوڑا۔ انھوں نے پہلے ہی ایک بیان لکھ کر دے دیا تھا۔ اس بیان کو لے کر میںیو این آئی کے دفتر میںبیٹھا تھا۔چار بجے تک ٹیلی پرنٹر پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور تبھی میںنے مدھو جی کا ردعمل دیا جو اس وقت کے لیڈروں میں سب سے پہلا ردعمل تھا۔ وہ وقت کی چال کو ٹھیک سے سمجھ کر آگے کی بات کا اندازہ لگا لیتے تھے اور اسی حساب سے قدم آگے کرنے کے حق میںتھے۔ان کی رائے پور میںہی گرفتاری ہوگئی۔ رکاب گنج روڈ کی کوٹھی پر پولیس کا چھاپہ پڑا۔ میںپیچھے کے دروازہ سے فرار ہوگیا۔ دس دن بعد میری بھی گرفتاری ہوئی۔ ہم دونوںکو چھ مہینے بعد پتہ چلا کہ مدھوجی نرسنگھ گڑ ھ جیل میںہیں اور میںبریلی سینٹرل جیل میںہوں۔وہ مجھے بانکے بہاری کے نام سے خط لکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ کی تحریر سے میںمدھو جی کا خط سمجھتا تھا۔ وقت اور حالات کے حساب سے وہ پورے اپوزیشن کے اتحاد کے حق میںتھے۔
جیل سے چھوٹنے کے بعد جنتا پارٹی کی سرکار بنی، جسے بنانے میںان کا پورا رول تھا۔ لیکن وزیر بننے کا وزیر اعظم کا اصرار وہ لگاتار ٹھکراتے رہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ لمبا نہیںچلے گا۔ وہ قومی تحریک کے مدعوں کو مضبوطی سے اٹھاتے تھے۔ ان اقدار میںان کی گہری آستھاتھی۔ وہ نجی زندگی میںبھی مذہبی نہیںتھے۔ دلیل کی کسوٹی پر جس بات کو سچ مانتے تھے اسی پر عمل کرتے تھے۔ جمہوریت، مساوی معاشرہ، قومیت اور سارے مذاہب کا احترام ان کی زندگی میںکوٹ کوٹ کر بھرا تھا،جسے ایماندار سالک کی طرح انھوں نے اپنی بیش قیمت زندگی کے خزانے کے روپ میںسجاکر رکھا تھا۔ مدھو جی فطری طور پر بیراور لالچ نہیںرکھتے تھے۔ پارٹی اور نظریہ سے دورجانے والے شخص کا تیاگ کرنے میںانھیںوقت نہیںلگتا تھا۔ شروعاتی دور سے اپنے بہت قریبی اور اچھے تعلق والوں کی انھوںنے نظریاتی سوال موجود ہونے پر مخالفت کی۔ قربانی تو ان کی شخصیت کی زیب و زینت تھی۔ حساسیت ان کے روم روم میںبسی ہوئی تھی۔ وہ ذاتی زندگی میںکمزوری سے بہت اوپر تھے۔ عورت کا احترام اور انھیں آگے لانے کی ہمیشہ تحریک دیتے تھے۔ انھوںنے اقتصادی اثر اور ذرائع کے اثر میں صرف حکمت اور ایثار کی بدولت برتری حاصل کرلی تھی۔ نجی گاڑی تو کبھی انھیںمیسر نہیںہوئی۔ بار بار اصرار کرنے پر ایک ہی جواب، گاڑی رکھنا خرچیلا کام ہے۔ ٹیکسی اور تھری وہیلر سے کام چل جائے تو نجی گاڑی ناقابل استعمال ہے۔ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط کرنے پر زور دیتے تھے ۔
سادگی کا نمونہ
زندگی میںکبھی بھی آدمی کے ذریعہ کھینچے جانے والے رکشے پر نہیںبیٹھے۔ اسے اوور ویٹ کا کام کہتے تھے۔ 1972 کی بات ہے، سماجوادی پارٹی میںجھگڑے تھے۔ وہ مشرقی اترپردیش کے دورے پر تھے۔ میںان کی مدد کے لیے ساتھ تھا۔ انھیں دیوریا سے اعظم گڑھ لے جانا تھا۔ صبح تین بجے چھوٹی لائن کی ریل گاڑی دیوریا صدر- گورکھپور سے آتی، جو مئو ہوتے ہوئے وارانسی جاتی تھی۔ اُگرسین جی اس دور کے، اس خطہ کے مشہور لیڈرتھے۔انھوںنے کسی کو جیپ دے کر مدھو جی کو دیوریا محکمہ تعمیرات عامہ کے ڈاک بنگلہ سے دیوریا اسٹیشن چھوڑنے کی ذمہ داری دی تھی۔ رات کے ڈھائی بجے نیند کھلی،دیکھا کہ متعلقہ شخص نہیںآیا تھا۔ میںنے کہا ٹرین کا وقت تو ہوگیا۔ گاڑی نہیںآئی، کیا رکشہ بلالیں؟ مدھو جی ناراض ہوکر بولے،خود ڈھونے بھر کاسامان لے کر چلنا چاہیے۔ میںاپنا سامان لے کر پیدل چل دیتا ہوں،کتنی دوری ہے۔ میںنے کہا،دو کلومیٹر۔ ایک ہولڈال، ایک اٹیچی، آپ کا ایک بڑا بیگ اور میرے سامان کا جھولا کیسے جائے گا؟ اتنے میںانھوںنے اپنا سامان اٹھالیا۔ میںنے ضد کرکے ان کے ہاتھ سے چھینا،ہولڈال کندھے پر لٹکایا اور چمڑے کی اٹیچی کو دوسرے ہاتھ میںلیا۔ میرا جھولا،جس میںکافی سامان تھا اور اپنا بیگ دونوںہاتھ میںانھوںنے لٹکا لیے۔ ساتھ میںتیزی سے چلے تاکہ کہیںٹرین چھوٹ نہ جائے۔ایک کلو میٹر چلنے پر ایک پاؤں رکشہ دکھائی دیا۔میںنے اصرار کیا ، اسے روکتا ہوں، اس پر سامان رکھ دیتا ہوں اور پیچھے سے دھکیلتے ہوئے ہم لوگ پیدل چلتے ہیں۔ انھیں یہ فارمولہ پسند آیا اور کافی دور تک رکشہ کو خود بھی دھکیلتے آئے۔ اسٹیشن پہنچنے کے ساتھ ہی ٹرین آگئی۔ہمارا ایک ساتھی تیسرے درجہ کا ٹکٹ لے کر اسٹیشن پر کھڑا تھا۔کسی طرح مئو اسٹیشن پر اتر کر اعظم گڑھ کی ٹرین سے اعظم گڑھ پہنچے۔مشہور لیڈر ہونے کا گمان تو انھیںدور دور تک نہیںچھو سکا تھا۔انھوںنے اپنی ذاتی زندگی کے عمل سے ہم لوگوںپر ایسی چھاپ چھوڑی جو حکمت، علم ، ایثار اور سیاست کی اونچائی کو چھونے کی سیڑھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *