مدھو جی سے مجھے بے شمار پیار ملا

مدھولمیے ایک قدآور سماج وادی لیڈر تھے اور رام منوہر لوہیا کے زبردست حامی تھے۔سوشلسٹ پارٹی ہندوستان میں کئی بدلائو سے گزری ہے، کبھی وہ کانگریس کا حصہ تھی تو کبھی الگ رہی۔ کبھی سی ایس پی (کانگریس سوشلسٹ پارٹی )تھی تو کبھی پی ایس پی (پرجا سوشلسٹ پارٹی ) تو کبھی سوشلسٹ پارٹی(ایس پی )۔ یہ پارٹی لگاتار ٹوٹتی رہی، ہر ٹوٹ کے بعد اس میں انضمام ہوتا رہا۔ آخر میں جب آنجہانی اندرا گاندھی نے ایمرجینسی کا اعلان کیا تو جو لوگ بھی اس کے خلاف تھے، انہیں جیل جانا پڑا۔ جب 1977 میں وہ جیل سے باہر آئے تب جنتا پارٹی کی تشکیل ہوئی۔ اس میں سبھی سماج وادی گروپ کا انضمام ہواجس میں آر ایس ایس کی پارٹی جن سنگھ بھی شامل تھی۔ جن سنگھ اپنی پہچان نہیں چھوڑنا چاہتے تھے، لیکن جے پی (جے پرکاش نارائن ) نے شرط رکھ دی کہ وہ تبھی انتخابی تشہیر کریں گے، جب سبھی پارٹیاں ایک نام اور ایک پارٹی کے تحت ہو جائیں گی۔ لہٰذا سبھی پارٹیوں کا انضمام ہو گیا۔ جنتا پارٹی اقتدار میں آگئی۔ اس کے بعد چندر شیکھر کو پارٹی کا صدر چنا گیا۔ مدھو لمیے نانا جی دیشمکھ وغیرہ کو پارٹی کا سکریٹری جنرل بنایا گیا۔یہ وہی وقت تھا، جب میں مدھو لمئے کے رابطے میں آیا۔ ان کے واضح خیالات اور ان کی دور اندیش پالیسیوں نے میرے اوپر گہر ااثر چھوڑا۔
1988 میں مَیں راجیہ سبھا کے لئے چنا گیا۔ اس کے بعد میں مدھو جی کی رہائش گاہ پر باقاعدگی سے جانے لگا۔ وہاں جانے کا مقصد یہ تھا کہ ایوان کے میز پر ہونے والی مختلف بحثوں کو صحیح سمت دینے کے لئے ان کی رائے لی جاسکے۔ انہوں نے مجھے بے شمار پیار دیا اور میری رہنمائی کی۔وہ اس بات سے بھی خوش تھے کہ میرے جیسا ایک آدمی، جس کا کوئی سیاسی بیک گرائونڈ نہیں تھا، بھی پارلیمنٹ کی بحثوں میں جوش، تیاری اور سرگرمی سے حصہ لے سکتا ہے۔ دراصل اپنے کچھ مضامین میں انہوں نے میرا ذکر کیا، جسے لے کر میں خود کو فخر محسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے کئی لوگوں سے اس کا ذکر بھی کیا کہ کمل کو پارلیمنٹ کے تئیں ذوق ہے ۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ پارلیمنٹ ایک ادارہ ہے۔ وہاں اگر بھاشن پڑھنا ہے تو کوئی بھی پڑھ سکتا ہے، لیکن میں نے کبھی اپنا بھاشن پڑھا نہیں۔ میں نے پارلیمنٹ میں ہمیشہ اپنا بھاشن برجستہ (یعنی بغیر پڑھے ) دیا ہے۔میرے عنوان واضح ہوتے تھے۔میں شری چندر شیکھر کی پیروی کرتا تھا جو ایک پکے سماج وادی تھے اور میرے خیالات زیادہ تر جے پرکاش نارائن، اچاریہ نریندر دیو ، چندر شیکھر سے میل کھاتے تھے۔
مدھو جی ہمیشہ اس نظریہ پر قائم رہے کہ اپوزیشن متحد ہو سکتا ہے، لیکن لیڈروں کی اَنا اتنی بڑی ہے کہ وہ لمبے وقت تک ایک دوسرے کا تعاون نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق یہ سوشلسٹ آندولن کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ بہر حال انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ بعد میں سماج وادی ادبیات کو اکٹھا کرنے کے لئے وہ مدد چاہتے تھے۔ ہم لوگوں نے سماج وادی نیاس کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا۔ اس میں مدھو جی، مست رام کپور، گوپی چند من چندا شامل تھے۔ ٹرسٹ کا مقصد جتنا ممکن ہو سکے، اتنا سماج وادی ادبیات کو شائع کرنے کی کوشش کرنا تھا۔یہ ساری کوششیں ہم چھوٹی سطح پر ہی سہی ، لیکن لگاتار کرتے رہے۔ اس کا افسوسناک پہلو یہ بھی تھا کہ اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جاسکتا تھا، لیکن اسی درمیان جنوری 1995 میں مدھو جی کی وفات ہو گئی۔ یہ کم سے کم دو لوگوں، میرے اور گوپی من چندا کے لئے ایک بہت بڑا خسارہ تھا۔ ہم نے ابھی ابھی سماج وادی ادبیات کو اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا تھا اور مدھو جی کی رہنمائی میں ہم نے بہت ہی اچھا کام کیا ہوتا۔
مدھو جی کی زندگی کا دوسرا پہلو بھی ہے۔سبھی سابق اراکین پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال اور لائبریری وغیرہ میں جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کی لائبریری میں باقاعدگی سے جاتے تھے۔ پارلیمنٹ کی لائبریری ہندوستان کی سب سے اچھی لائبریریوں میں سے ایک ہے، لیکن بدقسمتی سے اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ اپنے بھاشنوں کے لئے ریفرنس تلاشنے کے لئے مزید اس کا استعمال نہیں ہورہا ہے۔پہلے یہ لائبریری پارلیمنٹ بھون کے فرسٹ فلور پر تھی، اب اس کے لئے الگ عمارت بن گئی ہے۔یہاں ایسے ادبیات کی بھرمار ہے ،جو کہیں نہیں مل سکتی ہیں۔ جب تک لائبریری کی نئی عمارت نہیں بنی تھی، اس وقت مدھو جی جب لائبریری میں آتے تھے تو مجھے پڑھتے اور کتابوں سے نوٹس لیتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔ مجھے بھروسہ ہے کہ مدھو جی اگر با حیات ہوتے تو وہ سماج وادی نظریہ کو اور اعلیٰ طریقے سے پیش کرتے ۔بد قسمتی سے موجودہ سیاست یا منڈل کے بعد کی سیاست سے فائدہ اٹھانے والوں ،جنہیں اپنی شہرت کے لئے وی پی سنگھ کا شکر گزار ہونا چاہئے تھا، انہوں نے انہیں بھلا دیا اور سبھی ذات ، شخص اور خاندان اورینٹیڈ پارٹی بن کر رہ گئے۔یہ چیزیں مدھو جی کو پسند نہیں تھیں۔ مدھو جی کی سوچ ہمیشہ دو حصوں میں منقسم تھی۔ پہلا اصول، پالیسی اور سماجی بدلائو اور دوسرا حصہ عملی سیاست کا تھا۔ اگر آپ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں تو آپ کو پالیسی بنانی پڑے گی، نہیں تو آپ اپنی کسی بھی پالیسی کو لاگو نہیں کر پائیں گے ۔یہ ان کے خیالات کا مرکزی نقطہ تھا۔ جب بھی ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے ہمیں آگے بڑھنے کے لئے تعمیری صلاح دیئے۔ہم انہیں سدا یاد رکھیں گے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *