مسئلہ کشمیر کا حل بندوق سے نہیں نکالاجاسکتا ہے

اپنی طرح کے ایک انوکھے معاملے میں کولکاتا ہائی کورٹ کے ایک جج نے سپریم کورٹ کے آؤٹ گوئنگ ججوں کو بدعنوان کہا اور سماعت کے بعد انھیں مجرم قرار دیا۔ اس کے جواب میںسپریم کورٹ نے انھیں جیل کی سزا سنادی۔ یہ واقعات عدلیہ کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔دراصل سینئر وکیل رام جیٹھ ملانی نے کولکاتا ہائی کورٹ کے جج جسٹس کرنن کو خط لکھاکہ بہت ہوگیا،اب آپ کو اس طرح کی چیزیں بند کر دینی چاہئیں۔ بہرحال اس میںخاص نکتہ یہ ہے کہ اب ججوں کی تقرری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جسٹس کرنن کی یہ شکایت تھی کہ ان کے ساتھ مناسب سلوک نہیںہورہا تھا کیونکہ وہ درج فہرست ذات کے جج تھے۔ جو باتیں ان کی طرف سے آرہی ہیں، وہ ایک افسوسناک تصویر پیش کرتی ہیں۔ اگر ہائی کورٹ کے جج کو لگتا ہے کہ ان کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟ جسٹس کرنن کاتعلق چنئی سے ہے اور وہ کولکاتا میںرہتے ہیں۔ اب ان کا تبادلہ کہیںاور کرنے کی بات چل رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے چیف جسٹس کو اس معاملے پر کوئی فیصلہ لیتے وقت زیادہ ڈسکریمنیٹو ہونا چاہیے۔ سنجے کشن کول،جنھیںحال میںمدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے پروموشن دے کر سپریم کورٹ کا جج بنا دیا گیا لیکن جسٹس کرنن نے سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے ایسی کئی مثالیںدی ہیں، جس سے مسٹر کول کی ایمانداری سوالوں کے گھیرے میں آجاتی ہے۔یہ ساری چیزیں سپریم کورٹ کے لیے ٹھیک نہیںہیں۔ سپریم کورٹ کو بھی اپنے آپ کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جسٹس چیلمیشور کی اس بات میںوزن ہے کہ کالجیم کے اندر ہونے والی بحث کی تفصیل تیار کی جانی چاہیے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کسی جج کی تقرری کیسے ہوتی ہے۔ جسٹس کرنن کے حوالے سے یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کیسے ہائی کورٹ کے جج بن گئے، جب ان کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی اور اب ان کی دماغی حالت کی میڈیکل جانچ کرانا چاہتے ہیں۔کل ملاکر میںسمجھتا ہوںکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو قیادت اپنے ہاتھ میںلے لینا چاہیے اور عدلیہ کو درست کرنا چاہیے،نہیںتو عدلیہ پر عوام کا اعتماد کم ہوجائے گا۔
دوسرا سوال ای وی ایم کا ہے۔اپوزیشن نے اس مدعے کونہیںاٹھایا، جس کی وجہ وہ خود بتاسکتاہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ اترپردیش کے انتخابی نتیجوں نے عام آدمی پارٹی کے دل میں بڑا شک پیدا کیا ہے کہ الیکشن صاف ستھرے ہوئے ہیںیا نہیں۔ اب چاہے جس وجہ سے بھی ہو،بیلٹ پیپر کے ساتھ الیکشن کرانے میںکیا برائی ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک میںبیلٹ پیپر کے ذریعہ الیکشن ہوتے ہیں۔ ای وی ایم یا کسی دیگر تکنیک کا صحیح استعمال بھی ہوسکتا ہے اور غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے۔ میںسمجھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن کو یہ اعلان کرنا چاہیے کہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ ہوںگے، جیسے پہلے ہوا کرتے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ نتیجے ایک دن کے بجائے دو دن میںڈکلیئر ہوں لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لوگ نتیجوں کا انتظار کرسکتے ہیں لیکن وہ پُریقین رہیںگے کہ الیکشن صاف ستھرے ہوئے اور اس میںکوئی ہیرا پھیری یا چوری چکاری نہیں ہوئی ہے۔ ایک واحد لیڈر جس نے اس مدعے کو سنجیدگی سے اٹھایا ہے لیکن ان کی پارٹی بہت چھوٹی ہے اور صرف دہلی میںاقتدار میںہے، اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا۔ دوسرے اپوزیشن لیڈروںکو الیکشن کمیشن کے سامنے ان کی حمایت کرنی چاہیے۔ اب جو ہوگیا ، اسے لوٹایا نہیںجاسکتا لیکن 2019 کے پارلیمانی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ ہونے چاہئیں۔ جہاںتک اترپردیش کا سوال ہے تو اگر مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو (یعنی بی ایس پی اور ایس پی) ایک ساتھ آئیں تو بے شک وہ اترپردیش میںبیلٹ پیپر کے ذریعہ نئے الیکشن کرانے کی بات کرسکتے ہیں۔ اگر اس کے بعد بھی بی جے پی جیت جاتی ہے تو کوئی بات نہیں ۔میری سمجھ میں نہیںآتا کہ اس میںالیکشن کمیشن اور بی جے پی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی کوشش صاف ستھرے الیکشن کرانے کی ہوتی ہے اور بی جے پی کو یقین ہے کہ وہ مقبول ہے، لہٰذا انتخابی عمل کی معتبریت کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک دیگر جلتا ہوا معاملہ کشمیر کا ہے۔ میںسمجھتا ہوںکہ ہر گزرے دن کے ساتھ وہاںکی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ موجودہ سرکار کے مطابق یہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے ، لہٰذا حل ہونے کا کوئی سوال نہیںہے۔علیحدگی پسندغصے میں ہیں۔ وہ ریفرنڈم چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی وجہ سے غصے میںہے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل 1947 سے زیر التوا ہے۔ دو تین بار ہم حل کے قریب پہنچے بھی۔ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والے این ڈی اے نے کہا کہ ہم اسے حل کریں گے۔ اپنے دس سال کی مدت کار میں منموہن سنگھ نے بھی وہی رخ اپنایا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم ایک بار پھر ٹکراؤ کی زبان کا استعمال کریں۔ بات چیت شروع ہونی چاہیے۔ ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کرنی چاہیے۔ کشمیر کے علیحدگی پسندوںکاکوئی ایک واحد لیڈر نہیںہے۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے بیچ اچھے تعلقات بن جاتے ہیں تو مسئلے کا حل نکل سکتا ہے۔
ایک اور مدعا چین- پاکستان کے اقتصادی کاریڈور (سی پی ای سی)کا ہے۔ سی پی ای سی پر ہندوستان میں چین کے سفیر نے ایک دلچسپ بیان دیا ہے۔ انھوںنے کہا کہ یہی ایک بڑا مدعا ہے۔ اگر اس پر ہندوستان کو اعتراض ہے (کیونکہ یہ کشمیر سے ہوکر گزرتی ہے) تو ہم اسے چین – ہندوستان- پاکستان اقتصادی کاریڈور کہہ سکتے ہیں۔ یہ بہت اہم تجویز ہے، جس میںکافی امکانات ہیں۔ ان امکانات کی تلاش حکومت کو اعلیٰ سطح پر کرنا چاہیے۔ اگر اسے اپنایا جاتا ہے اور پاکستان اس پر راضی ہوجاتا ہے تو کشمیر مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ اس کی وسیع بنیاد یہ ہونی چاہیے کہ جس کے قبضہ میںجو حصہ ہے،وہ اس کے پاس برقرار رہے اور اسی بنیاد پر امن کی اپیل کی جائے۔دونوںطرف کے لوگوںکو آسانی سے نقل و حرکت کے لیے جو رعایتیںدی جاسکتی ہیں، ان پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ کشمیر کا حل بندوق سے نہیں نکالا جاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *