عدم توازن کی شکار ہوئیں خارجہ اور دفاعی پالیسیاں

خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی ایک دوسرے کا ضمیمہ اور متعلقہ ہوتی ہیں۔دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ملک جب سے آزاد ہوا ہے، مرکزی سرکاروں نے خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی میں قسم قسم کے یوز اور مِس یوز کئے جس کا نتیجہ مسئلہ کشمیر سے لے کر ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ سلسلہ وار جنگ اور تاریخی شکست کے ساتھ ہندو چین جنگ ہماری پیشانی پر چپک گیا۔ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک مرکز ی اقتدار پر سب سے زیادہ وقت کانگریس کا قبضہ رہا ہے، اس لئے خارجہ اور دفاع کے مورچے پر ہماری کامیابیوں اور ناکامیوں کا انجام بھی کانگریس کے نام ہی زیادہ جاتا ہے۔ 2014 میں مرکز میں بی جے پی کی سرکار آئی۔ مکمل اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بنے نریندر مودی نے خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کو ترجیحات میں رکھنے کا اعلان کیا اور کانگریس کی اب تک کی ’’لیک ‘‘ سے الگ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔
ان تین سالوں کا موازنہ گزشتہ تقریباًسات دہائی کی حکومت سے نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ان تین برسوں کو الگ رکھ کر اس کا تجزیہ تو کیا ہی جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے تین سال کے دور حکومت میں خارجہ پالیسی کو ترجیح دی لیکن دفاعی پالیسی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ مودی کے غیر ملکی دوروں کولے کر جس طرح کی تشہیر کی گئی، جس طرح کے مضحکہ خیز ڈرامے کھیلے گئے ، جس طرح کی ہوا باندھی گئی، اس کے مطابق نتیجہ بھی تو آنا چاہئے تھا ۔ مودی کے غیر ملکی دوروں سے ملک کے دفاع سے جڑا پہلو مضبوط ہونا چاہئے تھا،لیکن ایسا بالکل نہیں ہوا۔ اس کے برعکس دفاعی شعبے میں کمزوریاں اور بڑھتی چلی گئیں اور فوج پر دبائو غیر متوقع طور سے بڑھتا چلا جارہا ہے۔دفاعی شعبے میں بجٹ کی کٹوتی مودی سرکار کی سب سے مضحکہ خیز اور قابل مذمت پالیسی رہی ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان اور چین کی طرف سے دفاعی چیلنجز لگاتار بڑھتے جارہے ہیں،وہ اپنا دفاعی بجٹ لگاتار بڑھا رہے ہیں، ہم اپنے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کردیں، یہ عجیب بات ہے۔یہی بی جے پی کی قوم پرستی کے ڈھول کی اصلی پول ہے۔ دفاعی پالیسی کو نظر انداز کرکے غیر ملکی دوروں کے پھر کوئی معنی مطلب نہیں رہ جاتے۔
مودی کے 56 غیر ملکی دورے
وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی نے 56 غیر ملکی دورے کئے، لیکن ان دوروں سے ملک کو حاصل کیا ہوا،یہ بڑا سوال ہے۔ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی پالیسی میں تھوڑی کامیابی ملی، لیکن اس کا کوئی بڑا اثر نہیں دکھائی دیا۔ کافی مشقت کرنے کے باوجود ہندوستان، پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد مسعود اظہر کو اقوام متحدہ سے دہشت گرد اعلان نہیں کرا پایا۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں ہندوستان کی رکنیت کا مسئلہ پس پشت چلا گیا ۔نیو کلیئر سپلائیر گروپ میں بھی ہم شریک نہیں ہو پائے۔ ہماری خارجہ پالیسی کا اثر چین پر کچھ نہیں پڑا۔ الٹا چین کی طرف سے دادا گری اور بڑھتی گئی۔ سلک روٹ کو لے کر چین نے ہندوستان کے پڑوسی ملکوں، خاص طور پر نیپال کو اپنی طرف کرنے میں کامیابی پائی، ہم ایران سے تعلق ہموار کرنے کی تقریریں کرتے رہ گئے اور ایران نے ہندوستان کے سابق بحری آفیسر کلبھوشن جادھو کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کر دیا۔ پاکستان نے جادھو کو پھانسی کی سزا دے دی۔ ہندوستان اپنی غیر ملکی پالیسی میں اتنا ہی کامیاب ہو پایا کہ اس نے انٹر نیشنل کورٹ سے جادھو کی پھانسی کی سزا پر فوری طور پر روک لگوا لی۔ حالانکہ یہ جادھو کی پھانسی روکنے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اپنی غیر ملکی پالیسیوں میں بدلائو کا کیا ایوارڈ پایا؟کیا مودی کے غیر ملکی دوروں سے ہی کام چل گیا؟اپنے تین سال کے دور حکومت میں وزیر اعظم نریندر مودی چار بار امریکہ ، نیپال، جاپان، روس اور افغانستان کے دورے پر گئے۔ مودی کو ان دوروں کے نفع و نقصان پر عوامی چرچا کرنا چاہئے۔ مرکز میں اقتدار سنبھالتے ہی سب سے پہلے جون 2014 میں مودی بھوٹان گئے تھے۔ اس کے بعد امریکہ، نیپال، جاپان، روس اور افغانستان کے چار چار بار دورے کئے۔ دو بار چین کے دورے پر گئے۔ مودی نے منگولیا کا بھی دورہ کیا۔ منگولیا کا دورہ کرنے والے مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں۔ وزیر اعظم مارچ 2015 میں سیشلس کے دورہ پر گئے۔ اگست 2015 میں مودی متحدہ عرب امارات اور اپریل 2015 میں کینڈا اور نومبر 2015 میں برطانیہ اور ترکی کا دورہ کیا۔ اس کے بعد ہی مودی نے ملیشیا اور سینگاپور کا دورہ کیا۔ وزیراعظم نے اسکے پہلے نومبر 2014 میں اسٹریلیا کا دورہ کیا تھا۔ مودی کے غیر ملکی دوروں میں بنگلہ دیش، ماریشس، فرانس، جرمنی، جنوبی کوریا، ازبکستان، قزاخستان، پاکستان، متحدہ عرب امارات، برازیل،میانمار، فیجی اور سری لنکا بھی شامل ہیں۔مودی کے ان غیر ملکی دوروں کے مثمرات کو لے کر سوال اٹھتے رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ مودی کے غیر ملکی دورے ضروری بھی تھے۔
دورے کے اثرات کیا پڑے ؟
عالمی تعلقات کے تجزیہ کار یہ بھی مانتے ہیں کہ مودی کے دوروں سے عالمی برادری کے درمیان ملک کا قد اونچا ہوا ہے اور مقیم ہندوستانیوںکو طاقت ملی ہے ۔مرکزی سرکار کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کے دوروں کے سبب غیر ملکی سرمایا کاری میں اضافہ ہوا ہے۔لیکن ان دوروں کا اثر ہمارے دفاعی نظام پر کیا پڑا؟ اس سوال کا اطمینان بخش جواب دینے سے مرکزی سرکار لگاتار بچ رہی ہے۔ مودی کابینہ کے سمجھدار وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کر دی۔ فوج کی جدید کاری کا مسئلہ طاق پر چلا گیا۔ فوج کے ویپن میوزیم میں رکھے جانے لائق ہیں، انہی کے بل بوتے پر پاکستان اور چین سے لڑنے کے قوم پرستانہ تقریریں کی جارہی ہیں۔ فوج کی قربانی جاری ہے، لیڈروں کی تقریری جاری ہیں۔ فوج کو ملنے والی تمام سہولتیں چھینی جاچکی ہیں۔یہاں تک کہ فوج کو ساتویں پے کمیشن کی سفارشوں کے مطابق تنخواہ بھی نہیں دی جارہی ہے۔ ون رینک ون پنشن کی دھوکہ دہی کی قلعی بھی کھل چکی ہے۔ دفاعی شعبے میں مودی سرکار کے تین سال دھوکہ بازی، جھانسہ اور جملہ بازی میں ہی نکل گئے۔ ان تین برسوں میں فوجیوں اور سرحدی فورسز کے جوانوں کی شہادتیں کتنی ہوئیں ،اس کا بیورا سامنے رکھیں تو مرکزی سرکار کی بے شرمی سامنے دکھنے لگے گی۔
دفاعی بجٹ میں کٹوتی کرنے کے مودی سرکار کے فیصلے پر وزارت دفاع کودیکھنے والی پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی بھی حیرت ظاہر کر چکی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے وزارت دفاع کے بجٹ میں مختص فنڈ الاٹمنٹ کم کرنے پر سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس سے مسلح افواج کی جدید کاری کی مہم بری طرح متاثر ہوگی۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں ہندوستانی سرکار کے فیصلے پر حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ فنڈ کے فقدان کی وجہ سے فوج اپنے لازمی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔ کمیٹی نے مرکزی سرکار کو ہدایت دی کہ فوج کی جدید کاری کے کام میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں آنی چاہئے۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس بات کو بھی سنجیدگی سے لیا کہ 2000-2001 کے دفاعی اخراجات 2.36 فیصد تھے ، جوکہ 2017-18 میں کم ہوکر محض 1.56 فیصد رہ گئے۔جبکہ مہنگائی اور بدلے دور کو دیکھتے ہوئے دفاعی بجٹ کافی اوپر رہنا چاہئے تھا۔ پارلیمانی کمیٹی نے مالی سال 2017-18 کے لئے 2.74 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی بجٹ کو ضرورت سے کافی کم بتایا۔ فوج ایک طرف پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گرد کا سامنا کررہی ہے تو دوسری طرف جدید کاری کے مسئلے کا سامنا کررہی ہے۔ فوج کی جدید کاری کے لئے 42,500 کروڑ روپے کی ضرورت تھی لیکن بجٹ میں صرف 25,254 کروڑ روپے ہی دیئے گئے۔ اس میں سے 23,000 کروڑ روپے پہلے کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ہی خرچ ہو جائیںگے۔ لہٰذا فوج کی جدید کاری کے لئے محض 2,254 کروڑ روپے مل پائے۔ اس سے فوج کو کیا ملے گا اور ہم پاکستان اور چین سے لڑنے میں کتنا اہل بن پائیں گے، اس کا جواب وزیر اعظم نریندر مودی ہی دے سکتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بجٹ مسلح افواج کی جدید کاری کے لئے کافی کم ہے۔ کمیٹی نے فوج کے تینوں حصوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج کے تمام اسلحات اور آلات پرانے ہو چکے ہیں اور دیگر وسائل کی بھی بڑی کمی ہے۔ ایئر فورس کی رپورٹ کہتی ہے کہ اگلے 10سال میں اس کے 33اسکواڈن کم ہوکر صرف 19 رہ جائیں گے۔ 2027تک مِگ 21، مِگ 27 اور مِگ 29 طیاروں کے 14 اسکوائڈن ریٹائر ہو رہے ہیں۔ لیکن ان کی بھرپائی کیسے ہو، اس پر سنجیدگی سے سوچنا وزیر دفاع کی ترجیحات میں نہیں ہے اور وزیر اعظم کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں ہے۔
فوج کی اصل مضبوطی
پاکستان میں کئے گئے سرجیکل اسٹرائک یا میانمار کے سرحدی علاقوں میں گھس کر چلائے گئے آپریشن کی تشہیر سے فوج کو مضبوطی نہیں ملے گی۔ فوج کی اصلی مضبوطی دفاعی آلات، ہتھیاروں،گاڑیوں ، طیاروں ، ٹینکوں، توپ خانوں، جنگی جہازوں، آبدوز اور میزائلوں کی جدید کاری سے ہوگی۔ کانگریس کے دور حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی پر زور مخالفت کرنے والی بی جے پی اقتدار میں آتے ہی بدل گئی اور اس نے دفاعی جیسے حساس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا دروازہ کھول دیا۔ مودی سرکار نے انیل امبانی ، ٹاٹا سمیت کئی صنعتی گھرانوں کو بھی ملک کے ڈیفنس پروڈکشن ایریا میں گھسنے کے لئے راستہ کھول دیا ہے۔
تجزیہ کاوں کا ماننا ہے کہ ڈیفنس پروڈکشن کے حساس شعبے میں باہری گھس پیٹھ کے بجائے اسرائیل کی طرح خود کو مضبوط کرنا زیادہ کامیاب اور دوررس اثر پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ ڈیفنس پروڈکشن کے شعبے میں باہری سرمایہ کاری (گھس پیٹھ) سے جنگی جہاز، طیارے اور ٹینک جیسے حساس ہتھیار بنانے میں پرائیویٹ کمپنیوں کی اجارہ داری کا خطرہ رہتاہے۔ پرائیویٹ شعبے کی اجارہ داری سرکاری شعبے پر بھاری پڑے گی۔ دفاعی شعبے میں پرائیویٹ شعبے کی حصہ داری کی بیوقوفانہ صلاح دھرمیندر سنگھ کمیٹی نے مرکزی سرکار کو دی تھی۔ کمیٹی میں وزارت دفاع کے موجودہ اور سابق کئی خصوصی افسران بھی شریک تھے، جنہوں نے دفاعی شعبے کے دروازے کیپٹیل لیورلی کے لئے نہیں کھولنے کی سفارش کی تھی۔ پھر ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( ڈی آر ڈی او) کے سابق چیف وی کے اترے کی قیادت میں ایک اسپیشل ورکنگ گروپ تشکیل کی گئی۔ اترے کمیٹی کو طیارہ اور ہیلی کاپٹر ، جنگی جہاز اور آبدوز ، جنگی گاڑیاں ، میزائیل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سمیت کئی اہم دفاعی آلات کے پروڈکشن میں پرائیویٹ کمپنیوں کی حصہ داری کے امکانات پر جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اترے کمیٹی نے اس معاملے میں پوری رائتہ ہی پھیلا دی۔ اتنی گتھیاں الجھا دیں کہ سب گھال میل میں پھنس گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کمیٹیوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی،کیونکہ اس معاملے میں 2000کی وجے کیلکر کمیٹی کی رپورٹ پہلے سے حکومت کے گلیارے میں دھول چاٹ رہی تھی۔
باکس
مودی کے غیر ملکی دورہ سے دفاعی شعبے کو فائدے
وزیر عظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں سے دفاعی شعبے میں کچھ قابل ذکر پیش رفت بھی ہوئی ہے، اسے بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ مودی کے روس دورے میں ہندوستان نے روس کے ساتھ ایس 400 ٹرنف فضائی دفاعی نظام کا سودہ کیا۔ یہ سودہ پانچ ارب ڈالر سے بھی زیادہ ویلیو کا ہے۔ یہ سودہ جنوبی ایشیائی خطے کے دفاعی شعبے میں کافی اہم مانا جارہاہے۔ ایس 400 ٹرنف فضائی دفاعی میزائیل نظام سب سے ماڈرن روسی میزائیلی سسٹم ہے۔ اس میں لمبی رینج والے راڈار لگے ہوئے ہیں جو ایک ساتھ سینکڑوں اہداف کی شناخت (ٹریک) کر سکتا ہے اور یہ امریکی اسٹیلتھ ایف 35 جیٹس جیسے طیاروں کو بھی مار گرا سکتا ہے۔ ایس 400 ٹرنف فضائی دفاعی میزائیل نظام 400کلو میٹر کی رینج میں دشمن کے ذریعہ بھیجے گئے میزائیلوں ، طیاروں اور ڈرونس تک کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک ارب ڈالر کا ہندوروس سرمایہ کاری فنڈ (نیشنل اسٹرکچرل انوسٹمنٹ فنڈ ) کی تشکیل کو بھی اہم کامیابی مانا جارہا ہے۔ ایک اور ہندو روس متحدہ منصوبہ 200 ہیلی کاپٹروں کے بنانے کا ہے۔ روس کے ساتھ نئی دفاعی پالیسیوں کی لسٹ میں آندھرا پردیش میں مخصوص تربیت اور جہاز تیار کرنے پر روس کے ساتھ ہندوستان کا مشترکہ سمجھوتہ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ مودی کے امریکہ دورے میں ایشیا پیسفک ایریا اور دو طرفی دفاعی مفاد کو متاثر کرنے والے کئی ایشوز پر باہمی سمجھوتہ ہوا۔ امریکہ سے تین دو طرفی دفاعی سمجھوتے ہوئے۔یہ سمجھوتے ہیں، بیسک ایکسچنج اینڈ کوآپریشن اگریمنٹ ( بی ای سی اے)، لاجسٹکس سپلائی اگریمنٹ ( ایل ایس اے ) اور کمیونیکشن اینڈ انفارمیشن سیکورٹی میمورنڈم آف اگریمنٹ ( سی آئی ایس ایم او اے)۔ ایل ایس اے سمجھوتہ دونوں ملکو ں کے لئے فوجی رسد کو شیئر کرنے کے لئے ایک خاکہ طے کر سکتا ہے۔ یہ سمجھوتہ نئی دہلی اور واشنگٹن دونوں کو نارمل فوجی رسد کے ساتھ ایک دوسرے کے فوجی دستوں کو تعاون کرنے کی صلاحیت پید اکرے گا۔ مثال کے طور پر ہندوستان کا رسد سپورٹ امریکی بحریہ کے لئے ہند مہا ساگر کے علاقے میں اہم ثابت ہوگا۔ سی آئی ایس ایم او اے، امریکہ کے لئے ہندوستان میں اپنے مالکانہ انکرپٹیڈ کمیونیکیشن ایکوائپمنٹ اور سسٹم کی فراہمی کے دروازے کھولے گا۔ یہ دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی فوجی کمانڈروں کے درمیان جنگ کے وقت اور امن کے وقت محفوظ رابطہ کرنے کی منظوری دے گا۔ سی آئی ایس ایم او اے ،اس صلاحیت کی توسیع ہندوستان اور امریکی فوج ،جائیدادوں، جہازوںاور طیاروں میں بھی کرے گا۔ بی ای سی اے ،ایک ایسا اسٹیج تیار کرے گا جس کے ذریعہ سے یونائٹیڈ اسٹیٹ امریکہ ہندوستان کے ساتھ نیوی گیشن اور ہدف لگانے میں مدد کے لئے حساس اعدادو شمار کو شیئر کرسکے گا۔
ہندوستان نے فوجی نگرانی کے لئے امریکہ سے پریڈیٹر ڈرون طیارہ خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ جنرل اٹامکس ایم کیو 1 پریڈیٹر ایک خود کار ہوائی گاڑی ( یو اے وی ) ہے۔ اسے جنرل اٹامکس نے بنایا ہے اور امریکی خفیہ ایجنسی ( سی آئی اے ) اور امریکہ کی فضائیہ اس کا بنیادی طور سے استعمال کر رہی ہے۔ ہندوستان نے امریکہ سے چینوک اور اپاچے ہیلی کاپٹر خریدنے کا بھی سمجھوتہ کیا۔ پچھلے سال ہندوستان نے 15 چینوک ہیوی لفٹ ہیلی کاپٹر اور 22 اپاچے حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی خرید کے لئے امریکہ کی بڑی ہوائی کمپنی بوئنگ اور امریکی سرکار سے تین ارب ڈالر کا سمجھوتہ کیا تھا۔ اپاچے لونگابو ہیلی کاپٹرس سب سے بہترین کثیر مقاصد لڑاکو ہیلی کاپٹروں میں سے ایک ہے۔یہ ہیلی کاپٹر رات میں اڑان بھر سکتے ہیں اور خراب موسم میں بھی کام کر سکتے ہیں۔ ان میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں 128 اہداف کو پہچاننے اور نشانہ لگانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ہندوستان نے 15 چینوک ہیوی لفٹ ہیلی بھی خریدا ہے جو 9.6 ٹن کارگو ، توپوں، بھاری مشینوں اور ہلکے بکتر بند گاڑیوں کو پہاڑی جگہوں پر لے جاکر ڈراپ کر سکتے ہیں۔ اس کا اہم رول توپ خانے لگانا، فوج کی مہم اور جنگ کے میدان میں فراہمی کرنا ہے ۔چینوک کا استعمال توپوں، ضروری سپلائی اور دیگر بھاری فوجی آلات کو شمال مشرق کے دور دراز علاقوں میں پہنچانے کے لئے کیا جائے گا۔
ہندوستان اور فرانس کے درمیان رافیل لڑاکو جیٹ طیارہ خریدنے کا معاہدہ بھی اہم ہے۔ ہندوستان نے 36رافیل جیٹ طیاروں کے لئے فرانس کے ساتھ 7.8 ارب بیرو کا سمجھوتہ کیا ۔یہ طیارہ ماڈرن راڈار سسٹم سے لیس ہے جو ڈیڑھ سو کلو میٹر تک ہدف پہچاننے اور نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں لگے میزائیلوں کا استعمال دشمنوں کے طیاروں اور کروز میزائیلوں کو مار گرانے کے لئے کیا جاسکتا ہے ۔رافیل جیٹ طیارہ 2000 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے اڑان بھر سکتا ہے جو زیادہ تر میزائیلوں کے مقابلے زیادہ ہے۔
مودی کے اسرائیلی دورے سے دفاعی شعبے کو امیدیں
وزیر اعظم نریندر مودی کا جولائی مہینے میں اسرائیل کا متوقع دورہ تجویز میں ہے۔ مودی کے اسرائیل دورے کے پہلے قومی دفاعی صلاح کار اجیت ڈوبھال اسرائیل جاکر جائزہ لے چکے ہیں اور وہاں کے دفاعی صلاح کار سے ملاقات کر چکے ہیں۔ ہندوستان اور اسرائیل کے سیاسی رشتوں کے 25سال پورا ہونے کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامین نتنیاہو ملیں گے اور دفاعی مسئلوں پر بات چیت کریں گے۔ مودی پہلے ہندوستانی وزیر اعظم ہیں جو کہ اسرائیل جا رہے ہیں۔ اس تاریخی دورے پر دنیا بھر کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ ویسے مودی سرکار آنے کے بعد سے ہندوستان اور اسرائیل کافی قریب آئے ہیں۔
مودی کے اسرائیل دورہ کی اہمیت اس بات سے ہی سمجھی جاسکتی ہے کہ گزشتہ ہی دنوں مرکزی سرکار کی دفاعی پرچیز کمیٹی نے اسرائیل سے ہندوستانی بحریہ کے لئے براک میزائیلیں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے 860 کروڑ روپے سے زیادہ کے دفاعی سودوں کو منظوری دی ہے۔ براک میزائیلوں کی ضرورت ہند مہا ساگر کے علاقے میں بدلتے دفاعی منظر کے مد نظر ہندوستان کی سمندری صلاحیت بڑھانے کے لئے کافی اہم ہے۔ براک درمیانی رینج کی سطح سے فضا میں مار کرنے والی میزائیل ہے جو بحریہ کے جنگی جہازوں میں لگائی جاتی ہے۔ براک 1 میزائلیں اسرائیل کی رافیل کمپنی سے خریدی جائیںگی۔ کل 100 براک میزائلوں کی قیمت 500 کروڑ روپے ہوگی۔ اس کے بعد ہندوستانی بحریہ کے تقریباً سبھی جہاز ان میزائلوں سے لیس ہو جائیں گے۔ اسرائیل دور ے کے دوران نریندر مودی فلسطین علاقے کا دورہ نہیں کریں گے۔ ان کا دورہ اسرائیل تک ہی محدود رہے گا۔ اسرائیل کو لے کر مودی نے اپنی خارجہ پالیسی بدلی ہے۔ 2015 میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی جب اسرائیل کے دورے پر گئے تھے تو انہوں نے فلسطین علاقوں اوراردن کا بھی دورہ کیا تھا۔
مرکز کی موجودہ بی جے پی سرکار بھی الگ فلسطینی ریاست کی حمایت کرتی ہے اور مشرق وسطی میں تنازعات کو پرامن طریقے سے نمٹانے کی حمایت کرتی ہے۔ کارگل جنگ کے بعد ہندوستان کے دفاعی نظام میں اسرائیل کے مثبت کردار کے بعد اسرائیل اور ہندوستان کے رشتوں میں کافی گرماہٹ آئی ہے۔ آج ہندوستان اسرائیل سے دفاعی آلات خریدنے والادنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ سرحدی سیکورٹی نظام، قومی سیکورٹی اور دہشت گرد سے مقابلہ کرنے میں اسرائیل ہندوستان کی مدد کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈیری، سینچائی، توانائی ، انجینئرنگ اور سائنس کے میدان میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون تیزی سے بڑھا ہے۔
باکس
ڈیفنس پروڈکشن میں پرائیویٹ یا غیر ملکی سرمایہ کاری خطرناک
دفاعی معاملوں کے ماہرین ڈیفنس پروڈکشن کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت کو سیکورٹی اور خود انحصاری ، دونوں نقطہ نظر سے نامناسب مانتے ہیں۔ ان کا سوال ہے کہ کیا ہندوستان کے ادارے غیر ملکی تکنیک کے تعاون سے بہترین قومی سامان نہیں بنا سکتے؟کیا ہم اپنی صلاحیتوں اور وسائل سے دفاع کے معاملے میں خود پر منحصر نہیں ہوسکتے؟ ڈیفنس سیکورٹی کے شعبے میں ہماری خود انحصاری دفاعی پرچیزنگ میں بڑی رشوت خوری کی وجہ سے ڈیولپ نہیں کرپائی ۔ آزادی کے بعد سے آج تک بد عنوان لیڈروں اور نوکر شاہوں نے بھاری رشوت اور عیاشی کے لئے دفاعی شعبے کو خود انحصار بننے نہیں دیا۔ ملک میں دفاعی آلات بڑی سطح پر تیار ہوتے تو ہم دفاعی شعبے میں خود پر منحصر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیفنس پروڈکشن کے بڑے سیلر بھی ہوجاتے۔ اس سے ہم اب تک اسرائیل کی طرح مضبوط ہوئے ہوتے اور دفاعی معاملے میں روایتی طریقے سے ہوتی چلی آرہی دلالی سے بچ سکتے تھے۔ بے روزگاری کے مسائل بھی دور ہو جاتے ۔ ڈیفنس پروڈکشن کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے اس ملک کا ہمارے ملک پر دفاعی تسلط قائم ہوگا اور ہمیں اس کی غلط پالیسیاں بھی برداشت کرنی پڑیںگی۔ سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہمیں دوم درجے کی تکنیک اور آلات مہیا کرائے گا اور ہمیں برداشت کرنا پڑے گا۔ امریکہ کی مثال سامنے ہے کہ اسے جب اپنی فضائیہ کا ماڈرنائزیشن کرنا تھا تو اس نے پانے ایف 16 طیاروں کا کوڑا پاکستان کو بیچ دیا اور اپنا بیڑا ماڈرنائز کرلیا۔ دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی کے بڑے صنعتکار آسکر سکنڈلر کو ہٹلر کی سرکار نے بڑے پیمانے پر ہتھیار بنانے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ سکنڈلر نے ایسے گولے بنائے جو جنگ میں پھٹے ہی نہیں ۔ اس سے جرمنی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور ہٹلر کو ہار اور موت کا سامنا کرنا پڑا۔ سکنڈلر نے دشمن ملکوں سے رشوت لی ہو یا اس نے ہٹلر کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہو، جو بھی ہو، لیکن اس کی کرتوت نے پوری دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور ضرور کیا کہ سرکاروں کو ملک کے ڈیفنس پروڈکشن کا حساس کام ملکی یا غیر ملکی صنعتکار گھرانوں کو نہیں دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ ہمیشہ خطرے کا اشارہ دیتا رہے گا۔
فوج سرکاری نظر اندازی کی شکار
ہندوستانی فوج سرکار کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کی شکار ہے۔چاہے کانگریس ہو یا بی جے پی، حکومت کا طریقہ وہی ہے، بالکل بے کردار۔کہتی کچھ اور کرتی ٹھیک اس کے الٹے ہے۔ ملک کے اندرونی حصوں سے لے کر وسیع و عریض سرحدی علاقے تک برسرپیکار ہندوستانی فوج سرکاری ناکارہ پن اور نوکر شاہی کی پینچوں کے سبب برباد ہورہی ہے۔ فوج کے تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ بھی سرکار کا بیوقوفانہ رویہ جاری ہے۔ فوج کے تنظیمی ڈھانچے کو درست کرنے کا کام نوکر شاہی سازشوں کے سبب آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے مائونٹن اسٹرائک کور کی تعمیر تو محض ایک مثال ہے جو اقتدار کی پینچوںمیں پھنس گیا ہے۔ فوج کی جدیدکاری کی سمت میں مرکزی سرکار کی بے شرمی آنے والے وقت میں ہندوستانی فوج کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ 90 ہزار ماہر فوجیوں کی صلا حیت والے مائونٹن اسٹرائک کور کو فعال کرنے کی بات 2013 سے ہی چل رہی ہے، لیکن سرکاریں ہی اس میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ صرف موجودہ سرکار ہی نہیں، پیشرو کانگریس سرکار نے بھی مائونٹن اسٹرائک کور کی تشکیل کے لئے 64 ہزار کروڑ روپے منظور نہیں کئے تھے۔
مائونٹن اسٹرائک کور کی تشکیل کی تجویز کو 2013 میں یو پی اے سرکار سے ہی ہری جھنڈی ملی تھی۔ اس کور کو خاص طور پر ہمالیہ علاقے میں اور تبت کے پٹھاری علاقے میں کارگر جنگ کے مد نظر تیار کیا جارہا تھا۔ امید تھی کہ سرکار سے بجٹ کی منظوری مل جائے گی لیکن وہ نہیں ملی اور موجودہ سرکار بھی ا س پر کونڈلی مار کر بیٹھ گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی فوج کے کمانڈروں کے سمینار میں اس مسئلے پر اپنی ہچکچاہٹ ظاہر کی اور اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کو یہ کہنا پڑا تھا کہ مائونٹن اسٹرائک کور اب 2021 کے پہلے فعال نہیں ہو پائے گا۔ صورت حال یہ ہے کہ ملک کے چار اسٹرائک کور میں سے ایک 17 ویں اسٹرائک کور جھارکھنڈ میں ناکارہ پڑی ہوئی ہے۔ تین دیگر کور پاکستان کی مختلف سرحدوںپر تعینات ہیں۔ اسٹرائک کور کو پیس ایریا میںڈالنا غلط پالیسی کا نتیجہ مانا جاتاہے۔ ایک اعلیٰ فوجی آفیسر نے 17ویں اسٹرائک کور کو ناکارہ اور ادھورا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کور میں کم سے کم 2 ڈویژن ہونے چاہئے،جبکہ 17ویں اسٹرائک کور کے پاس صرف ایک ہی ڈویژن ہے۔ مذکورہ آفیسر دفاع کے مد نظر ہندوستان کے مستقبل کو خدشات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
اوپر ہم چرچا کرچکے ہیں کہ ہندوستانی فوج کے لئے مرکزی سرکار نے جوکہانی رچا ہے ،وہ کم مضحکہ خیز اور قابل مذمت نہیں ہے۔2.47لاکھ کروڑ کے فوجی بجٹ کا 70فیصد حصہ فوج کی تنخواہ اور نظم و نسق پر خرچ ہو جاتاہے۔ محض 20فیصد حصہ فوجی آلات کی خرید کے لئے بچتا ہے۔ فوج کو ہر سال صرف آلات کی خرید کے لئے کم سے کم 10 ہزار کروڑ روپے کی ضرورت ہے، جبکہ اس کے پاس بچتے ہیں صرف 15 سو کروڑ روپے۔ ہندوستانی فوج کے لئے رائفلیں، گاڑیاں، میزائیلیں، توپیں اور ہیلی کاپٹر خریدنے کے لئے لازمی طور پر 4 لاکھ کوڑ روپے ملتوی پڑے ہوئے ہیں جبکہ فوج کی جنگی صلاحیت کو عالمی سطح پر درست رکھنے کے لئے یہ کام نہایت ضروری ہے۔ اب تو پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کی طرف سے بھی خطرہ تیزی سے گھرتا جارہاہے۔ ایسے میں یہ کام پہلی ترجیحات پر ہونا چاہئے۔
یو پی اے سرکار کی ہی طرح این ڈی اے سرکار کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی مائونٹن اسٹرائک کور کو فعال کرنے کے لئے ضروری 64 ہزار روپے منظور نہیں کئے ہیں۔ اس وجہ سے نہ فوج مضبوط ہو پارہی ہے اور نہ چین سے لگی عالمی سرحد پر سیکورٹی بندوبست پختہ ہو سکا ہے۔ مودی نے تو مائونٹن اسٹرائک کور کی تشکیل کی تجویز کو ہی دوبارہ ری ویو میں ڈال دیا اور سیکورٹی صلاح کار اجیت ڈووال کو اس کی ذمہ داری دے دی۔ ڈووال نے تو 17ویں کور کو ناکارہ کرنے کی ہی سفارش کر دی۔یہ دفاعی نظام کے تئیں ہندوستانی سرکاری کے نقطہ نظر کی اصلیت ہے۔
مائونٹن اسٹرائک کو ر کا قیام
آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ 1986 میں ارونا چل پردیش کے سومڈورونگ چو گھاٹی میں چینی فوج کے ساتھ ہوئی آمنے سامنے کے تنائو میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل کے سندر جی نے آپریشن فالکن کے تحت پوری ایک انفنٹری بریگیڈ کو فضائیہ کے جہازوں کے ذریعہ اتار دیا تھا۔اس کے بعد ہی اسٹرائک کور کی اسکیم پر فوجی پالیسی ساز تیزی سے کام کرنے لگے۔ 2003 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل این سی ویج کے دور کار میں پاکستان اور چین، دونوں سرحدوں پر نئی سیکورٹی پالیسی اپنانے کی اسکیم بنی۔ تبھی یہ اسکیم بن گئی کہ 12ویں پنج سالہ منصوبہ ( 2012-2017) میں مائونٹن اسٹرائک کور کو وجود میں لایا جائے گا۔ اس کے بعد بھی ہندوستان کو چین کی طرف سے کئی تیکھے اور توہین آمیز رویہ جھیلنے پڑے۔ چینی فوج ہندوستانی علاقہ میں 19 کلو میٹر اندر تک گھس آئی، لیکن ہم کچھ نہیں کر پائے ۔اپریل ، مئی 2013 کے واقعہ سے خود ہندوستانی فوج بھی شرمسار ہوئی۔ فوجی صدر جنرل بکرم سنگھ نے سیکورٹی معاملوں کی کابینہ کمیٹی کے سامنے خود حاضر ہوکر سرحد کی متضاد صورت حال کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور دیگر سینئر وزیروں کو واقف کرایا۔ تب جاکر جولائی 2013 میں یو پی اے سرکار نے مائونٹن اسٹرائک کور کی تجویز کو سرکاری منظوری دے دی۔لیکن کور کو فعال کرنے کے لئے ضروری فنڈ کی منظوری نہیں دی۔ یو پی اے کے بعد مرکز ی حکومت میں آئی این ڈی اے کی سرکار نے بھی اس کی منظوری نہیں دی اور الٹا کور تشکیل کی تجویز کو ہی پینچ میں الجھا دیا۔ وزارتِ دفاع کچھ آفیسر اب مائونٹن اسٹرائک کور کے 2021 میں وجود میں آنے کی امید ظاہر کرتے ہیں،لیکن اسے پکا نہیں بتاتے۔ وہ یہ بھی خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ تب تک کہیں دیر نہ ہو جائے۔چین سے لگنے والی حساس سرحد میں فوج کی رسائی پذیری کے کے لئے ڈھانچے کی ترقی کی رفتار ہی اتنی ڈھیلی ہے کہ چین بڑی آسانی سے ادھر آکر ہندوستانی دفاعی سسٹم کو تہس نہس کر سکتا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ وسیع چین سرحد تک پہنچنے والی انتہائی حساس 75 سڑکوں میں سے صرف 21سڑکیں ہی اب تک تیار ہو پائی ہیں۔54 سڑکوں کی تعمیر کا کام ابھی شروع بھی نہیں ہوا ہے۔ 2010 میں ہی چین سرحدی علاقے میں 28ریلوے لائنیں بچھانے کی تجویز منظور کی گئی تھی۔ لیکن آج تک اس پروجیکٹ پر کام شروع نہیں ہوا ۔یہ پارلیمنٹ میں رکھے گئے سرکاری دستاویز سے لی گئی اطلاع ہے۔ اسٹرائک کور کی خاصیت دشمن پر سیدھے حملہ کی ہوتی ہے۔ 1962 کی جنگ میں ہندوستانی فوج نے دفاعی سسٹم کا خمیازہ بھگت لیا تھا۔ اس لئے دشمن پر سیدھا حملہ کرنے اور دشمن کے علاقے میں گھس کر تباہی مچانے کی پالیسی پر کام شروع ہوا۔ اسٹرائک کور اسی تبدیل شدہ پالیسی کا حصہ ہے، لیکن سرکار کی ناعاقبت اندیشی کے سبب اس پر گہن لگا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *