کام نہیں ہاتھ میں تو ترقی کیسی؟

آئندہ تین سال کے دوران ہندوستان کی آئی ٹی کمپنیوں میںکام کر رہے 6 لاکھ لوگوں کی نوکری خطرے میں ہے۔ ایسی رپورٹیں آرہی ہیں کہ کچھ آئی ٹی کمپنیوں نے فروری سے ہی چھٹنی شروع کردی ہے۔ کچھ لوگوںکو نوٹس دے دیا گیا ہے اور جلد ہی چھٹنی کا کام شروع ہوجائے گا۔ غور طلب ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکیوں کے مفادات کو دیکھتے ہوئے آئی ٹی و دیگر کمپنیوں میںمقامی لوگوں کو نوکری دینے پر زور دیا ہے۔ اس کے لیے امریکہ نے ایچ 1 بی ویزا کے ضابطوں پر سختی کرنی شروع کردی ہے۔ اس کے تحت امریکہ میں واقع آئی ٹی کمپنیوں میںہندوستانی ملازمین کی چھٹنی کرکے امریکی ملازمین کو بھرتی کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
بہرحال، یہ حالت تو منظم سیکٹر ( آرگنائزڈ سیکٹر) کی ہے لیکن اگر ہم غیر منظم سیکٹر (اَن آرگنائزڈ سیکٹر) کی بات کریں اور خاص طور سے نوٹ بندی کی روشنی میں یہ دیکھنے کی کوشش کریں کہ اس کا نوکریوں پر کیا اثر پڑا، تو تصویر کافی خوفناک نظر آتی ہے ۔ ایک مطالعہ کے مطابق ہندوستان میں اکتوبر 2016 سے لے کرجنوری 2017 کے درمیان 1.52 لاکھ عارضی نوکریاں اور 46,000 پارٹ ٹائم نوکریاںختم ہوگئیں۔ ملک میںنوٹ بندی کی مار سب سے زیادہ غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے لوگوں پر پڑی۔ اس سے چھوٹی صنعتی اکائیوں میںکام کررہے ہزاروںلوگ بے روزگار ہوگئے۔ ایک مشہوربزنس اخبار کے مطابق، سہ ماہی روزگار سروے میں نوٹ بندی کا وقت بھی شامل ہے۔ اس دوران سب سے زیادہ اثر عارضی نوکریوں پر ہوا تھا۔ کنسٹرکشن کے شعبہ میںتقریباً 1.13 لاکھ نوکریاں ختم ہوئی تھیں جبکہ آئی ٹی اور بی پی او میںبھی 20,000 نوکریاں متاثر ہوئیں۔ اس دوران کنسٹرکشن شعبہ میںپارٹ ٹائم نوکری کرنے والے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ سروے کے مطابق جنوری سے مارچ 2017 کے دوران ہوئے سروے میں کنسٹرکشن، ٹریڈ، ٹرانسپورٹ، آئی ٹی- بی پی او تعلیم اور صحت کے شعبے میں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ حالانکہ رہائشی اور ریستوراں کے شعبوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس پوری سہ ماہی میںکل ملا کر محنت کشوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جہاں مستقل محنت کشوںکی تعداد 1.39 لاکھ ہوئی۔ نریندر مودی حکومت کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ مودی نے پارلیمانی انتخابا ت کے دوران ہر سال تقریباً 2 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق 16.5 فیصد سے زیادہ ہندوستانی مزدور مستقل تنخواہ حاصل نہیںکرپاتے ہیں۔ اسی رپورٹ میں ایک اندازے کے مطابق چار ہندوستانی خاندانوں میںسے تین یعنی 78 فیصد کے پاس مستقل مزدوری یا تنخواہ کا کوئی ذریعہ نہیںہے۔ کیجوئل مزدوروںکا تناسب 30.9 فیصد سے زیادہ ہے۔ جہاں جاب سیکورٹی کی بات ہونی چاہیے تھی، وہاں ہندوستان میں کنٹریکٹ اور کیجوئل کام میںاضافہ ہورہا ہے۔ سال 1999 سے لے کر 2010 کے درمیان منظم روزگار میں کل کنٹریکٹ مزدوروں کا حصہ 10.5 سے بڑھ کر 25.6 فیصد ہوگیا ہے۔ لیکن اسی مدت کے دوران سیدھے کام کرنے والے ورکروں کی حصہ داری 68.3 فیصد گھٹ کر 52.4 فیصد ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ مستقل مزدوروں کی مختصر مدت کے کنٹریکٹس پر تیزی سے تقرری کی گئی، جن میں بہت کم یا پھر برائے نام سماجی تحفظ تھا۔ اس طرح منظم لیبرمارکیٹ میں بڑھتی ہوئی انفارملٹی نے فارمل اور انفارمل لیبرکے بیچ کے فرق کو کم کردیا ہے۔
انفارمل سیکٹر، منظم اور غیر منظم سیکٹر، دونوں کو ملا کر ہندوستان کی جی ڈی پی (گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ) کا تقریباً 50 فیصد روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ اس سے ملک کے 90فیصد سے زیادہ لوگوںکو کام ملتا ہے۔ غیر منظم سیکٹر میںرسمی اور غیر رسمی روزگار کے لیے کل اعداد وشمار 82.7 فیصد ہیں۔ 47.5 کروڑ کی موجودہ افرادی قوت میںتقریباً 40 کروڑجو کہ یونائٹیڈ اسٹیٹ کی آبادی کے مقابلے میںکافی بڑی ہے، کو لیبر لاء سسٹم کے تحت طے سیکورٹی کا بہت کم فائدہ یا بہت کم رسمی حق ملتا ہے۔ روزگار کے زیادہ امکانات پیدا کرنے کے حکومت کے وعدے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ روزگار میںزیادہ غیر یقینی کی صورت حال بنی ہے، کم نوکریاں ہیںاور اس سے بھی کم سیکورٹی ہوگئی ہے۔ یہاںتک کہ سرکار نے خود قبول کیا ہے ، معیشت کے سدھار کی شرح میںاضافہ ہواہے، روزگار کے مواقع امید افزاہیں، حالانکہ سبھی شعبوںمیںاس کا اثر نہیںدکھائی دے رہا ہے۔ 1999 سے 2010 کے دروران جب جی ڈی پی ترقی کی شرح سالانہ 7.52 تک پہنچ گئی، تب روزگار میں اضافہ صرف 1.5 فیصد ہی رہا۔ تحریری جاب ایگریمنٹ ہندوستان میںتیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق تقریباً 93 فیصد کیجوئل محنت کشوں اور 68.4 فیصد کنٹریکٹ ورکرز کے پاس کوئی تحریری معاہدہ نہیںہے۔ یہاں تک کہ زیادہ رسمی مزدوری / تنخواہ لینے والے ملازمین کے درمیان، تقریباً 66 فیصد لوگوںنے رٹین جاب ایگریمنٹ کے بغیر کام کرنے کی بات کہی ہے۔
نقلی نوٹ، کالا دھن اور نوٹ بندی
نوٹ بندی کا ایک اہم سبب نقلی نوٹوں پر روک لگانا اور کالا دھن واپس لانا تھا۔ اس بات کو خود وزیر اعظم نے کہا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نوٹ بندی سے ایسا ممکن ہوا؟ سرکاری اعداد و شمار پر ایک ادارہ (انڈیا اسپینڈ) کے ذریعہ کیے گئے ایک تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں 2015-16 میں ہر 250 نقلی نوٹ میںسے صرف 16 کا پتہ لگایا گیا ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے یہ بھی کہا تھا کہ پرانے نوٹوں کو بند کرنے کی اہم وجہ نقلی نوٹوں پر روک لگانا ہے،جس سے دہشت گردی کو فروغ ملتا ہے۔نوٹ بندی کے وقت 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی کرنسی سرکولیشن میں86 فیصد حصہ داری تھی۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق 2015-16 میں90.26 بلین ہندوستانی کرنسی چلن میں تھی، اس میں سے 0.63 ملین نوٹ (یعنی 0.0007 فیصد) سے زیادہ نقلی نوٹ نہیںپائے گئے تھے۔ 2015-16 میںان نقلی نوٹوں کی قدر 29.64 کروڑ روپے تھی، جو چلن میں16.41 لاکھ کروڑ روپے کی 0.0018 فیصد ہے۔ ان اعدادوشمار میںپولیس اور دیگر انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ذریعہ ضبط کیے گئے نوٹ شامل نہیںہیں۔
18 نومبر 2016 کو پارلیمنٹ میںنیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے ذریعہ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق2015 میں 0.88 ملین نقلی نوٹ ضبط کیے گئے، جس کی ویلیو 43.8 کروڑ روپے تھی۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 30 ستمبر 2016 تک 27.8 کروڑ روپے کے نقلی نوٹ ضبط کیے گئے۔ انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ اور قومی جانچ ایجنسی کے ذریعہ سال 2015 میںکی گئی جوائنٹ اسٹڈی کے مطابق کسی بھی وقت چلن میںنقلی کرنسی کی قدر 400 کروڑ روپے ہوتی ہے۔ ہر 10 لاکھ نوٹ میں 250 نوٹ نقلی ہوتے ہیں۔ مطالعہ میںاندازہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 70 کروڑ روپے کی قدر کے نقلی نوٹ ہر سال چلن میںآتے ہیں۔ اس میںسے صرف ایک تہائی کی پہچان ہی ایجنسیوںکے ذریعہ ہوپاتی ہے۔ نقلی نوٹوںکا پتہ خاص طور سے کامرشیل بینکوں کے ذریعہ لگایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نوٹ بندی کے دوران کتنے فیصد نقلی نوٹ کا پتہ لگایا گیا ، یہ اعداد وشمار عام کیوںنہیںکیے جارہے ہیں۔؟
دوسرا مدعا کالے دھن کاہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ بلیک اکانومی یعنی کالی معیشت میںنقد کا حصہ 3 سے 7 فیصد کے بیچ ہوتا ہے۔ سال 2012 میں اس دور کے وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے ہندوستان کے کالے دھن پر ایک وہائٹ پیپر جاری کیا تھا۔پیپر سے پتہ چلتا ہے کہ نامعلوم آمدنی کانقد جزو 3.7 فیصد سے 7.4 فیصد کے بیچ ہے۔ یہ اعداد وشمار مرکز کے ڈائریکٹ ٹیکس بورڈ کے ذریعہ دی گئی رپورٹ پر مبنی تھے۔ وہائٹ پیپر کے مطابق مالی سال 2011-12 میں 9289کروڑ روپے کی منظور شدہ غیر اعلانیہ آمدنی میںسے 499 کروڑ روپے (5.4 فیصد) سے زیادہ نقد میں نہیں پائے گئے تھے۔ 1 اپریل سے 31 اکتوبر 2016 کے درمیان انکم ٹیکس جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ کالا دھن ہولڈرس نے 7700 کروڑ روپے کی قدر کی بے حساب جائیداد ہونے کی بات قبول کی ہے۔ اس میںسے 408 کروڑ روپے یا 5 فیصد نقد تھے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتاہے کہ باقی پیسے بزنس، اسٹاک، ریئل اسٹیٹ اور بے نام بینک کھاتوں میں انوسٹ کیے گئے۔سال 2015-16 میںجب سب سے زیادہ کالا دھن پتہ چلنے کی رپورٹ ہوئی ہے، تب اس میںنقد کے حصہ داری 6 فیصد تھی۔ ادھر، نوٹ بندی کے بعد اب یونائٹیڈ نیشن یعنی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کہتی ہے کہ ہندوستان میںبلیک منی پر روک لگانے کے لیے صرف نوٹ بندی سے ہی کام نہیں چلے گا۔ یونائٹیڈ نیشن کی اکانومک اینڈ سوشل سروے آف ایشیا اینڈ پیسفک کی ایک رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ ہندوستان میں متوقع طور پر بلیک منی ملک کی جی ڈی پی کی 20 سے 25 فیصد کے آس پاس ہوسکتی ہے۔ ان میںویلیو کے لحاظ سے کیش کا حصہ صرف 10 فیصد کے آس پاس ہی ہے۔ ایسے میں نوٹ بندی بلیک منی پر پوری طرح سے کنٹرول کرنے کا طریقہ نہیںہوسکتی ہے۔ اس کے لیے حکومت کو دوسرے طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔ اقوا م متحدہ کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی سبھی طرح کی بلیک منی پر کنٹرول کرنے کے لیے کافی ثابت نہیںہوئی ۔ کیش کے علاوہ دوسری طرح کی جائیداد کی شکل میں بھی لوگوںکے پاس غیر اعلانیہ املاک ہے۔ یو این کی رپورٹ کے مطابقپراپرٹی کے رجسٹریشن کے عمل میںتبدیلی کرنے کی ضرورت ہے، جس سے کہ پراپرٹی میںانوسٹمنٹ کو لے کر شفافیت آئے۔ وہیںشفافیت کے لیے سبھی طرح کے ٹیکس، انکم ڈکلیئریشن اسکیم اور ٹیکس پیئر آئیڈنٹی فکیشن نمبرکے ذریعہ ہائی ویلیو کے لین دین پر نظر رکھنا شامل ہے۔
کسانوں کو نہ قرض مل رہا ہے ، نہ فروخت ہورہی ہے فصل
مندسور ضلع کے سیکڑوں کسان اب بھی نوٹ بندی کی زد میںہیں۔ ریاست کے مالواعلاقہ میںاس کا اثر اب بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دراصل یہاںکے کئی کسان ہر سال کوآپریٹو کمیٹیوںکے ذریعہ فصلوںکا لون دیتے ہیں۔ گزشتہ سال کا لیا گیا لون تمام کسانوں نے جمع بھی کرادیا لیکن کیش کی کمی کی وجہ سے کوآپریٹو کمیٹیاں انھیں دوبارہ لون نہیںدے پارہی ہیں۔مدھیہ پردیش کے کوآپریٹو بینکوں کی طرف سے کسانوںکو دیے جانے والے لون میںسالا نہ 2500 کروڑ روپے کی بھاری کمی آئی ہے۔ 2015-16 میں جہاںان بینکوں نے 13,900 کروڑ روپے کا قرض بانٹا تھا،وہیںگزشتہ مالی سال میںیہ رقم گھٹ کر 11,400 کروڑ روپے رہ گئی۔ حالانکہ اس سال 15,000 کروڑ روپے کے لون بانٹنے کا ہدف رکھاگیا تھا لیکن نوٹ بندی اور وقت پرنابارڈ کی سرحد نہیںمل پانے کی وجہ سے ہدف حاصل نہیںکیا جاسکا۔ گزشتہ مالی سال میںکوآپریٹو بینکوں نے خریف سیزن میں تقریباً 8000 کروڑ روپے اور ربیع سیزن میں3400 کروڑ روپے کا قرض تقسیم کیاجبکہ سال 2015-16 میںیہ آنکڑہ بالترتیب 9400 کروڑ روپے اور 3500 کروڑ روپے تھا۔ ادھر ربیع کے سیزن میں نوٹ بندی نے لون ڈسٹری بیوشن پر اثر ڈالا۔ ریاست کے کسانوں کو نوٹ بندی کی وجہ سے لون لینے میں دقت پیش آئی۔ جب تک نوٹ بندی ختم ہوئی تب تک کسانوںکی ضرورت بھی ختم ہوچکی تھی۔
بہر حال نوٹ بندی کے دوران کسانوںکی حالت یہ تھی کہ انھوںنے اپنے کھیتوںکی پیداوار مویشیوںکو کھلادی کیونکہ فائدہ اور لاگت تو دور، اسے بیچنے پر ملنے والے پیسوں سے بازار تک مال پہنچانے کا خرچ بھی نہیںنکل سکتا تھا۔ نوٹ بندی کے بعد سبزیوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کسان مجبوری میں اونے پونے داموں میںاپنی سبزیاں، پھل اور دال بیچنے کو مجبور ہوئے۔ ایم ایس پی میںکمی دیکھنے کو ملی اور اب بھی ایم ایس پی نہیںمل پارہی ہے۔ لگاتار دو سال کی خشک سالی کے بعد کسان ابھی حالات سے ابھر ہی رہے تھے کہ انھیںنوٹ بندی کی مار جھیلنی پڑ گئی۔ نوٹ بندی سے قبل 50 دنوںکی بات کریں تو اس دوران کسانوںکی آمدنی میں50-60 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ارہر دال اگانے والے کسانوںکو 5050 روپے ایم ایس پی کے مقابلے میں صرف 3 ساڑھے تین ہزار روپے فی کونٹل دال فروخت کرنی پڑی۔
ربیع فصل کی ریکارڈ بوائی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ نے کہا تھا کہ گزشتہ سال 438.90لاکھ ہیکٹیئر کے مقابلے میں اس سال 472.43 لاکھ ہیکٹیئر میں ربیع کی بوائی ہوئی ہے جو کہ گزشتہ سال سے 7.64 فیصد زیادہ ہے۔حکومت نے صرف ان اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کھیتی کسانی پر نوٹ بندی کا کوئی اثر نہیں پڑا، جبکہ سچائی یہ ہے کہ کسان بوائی سے پہلے ہی بیج اور کھاد کے لیے پیسوںکا انتظام کرلیتے ہیں۔ اس بار بھی یہی ہوا تھا۔ کسانوں نے پہلے سے منظم وسائل کے ذریعہ کھیتوں میں بوائی کرلی تھی۔ لیکن مسئلہ اب سامنے آرہا ہے، جب کسانوں کی فصل تیار ہوگئی ہے اور انھیںاپنی فصل کا کوئی خریدار نہیںمل رہا ہے۔ سرکاری سطح پر بھی دیکھیں تو گیہوں کی خریداری کا کام بہت دھیمی رفتار سے چل رہا ہے۔ مثال کے طور پر یوپی حکومت نے اس سال اعلان کیا تھا کہ وہ کسانوںسے 80 لاکھ ٹن گیہوں خریدے گی لیکن اترپردیش حکومت ابھی تک محض 16 لاکھ ٹن ہی گیہوںخرید پائی ہے۔
مینوفیکچرنگ سیکٹر بری طرح متاثر ۔
میک اِن انڈیا جیسے لبھانے والے نعروں کے بعد بھی 2015-16 کے دوران تیارچیزوںکی فروخت میں 3.7 فیصد کی گراوٹ درج ہوئی ہے۔ آنے والے وقت میںاس سیکٹر میں ملازمین کی اور چھٹنی اور قرض کے معاملے میں ڈیفالٹر ہونے کا امکان دیکھا جاسکتاہے۔ عالمی کساد بازاری اور مانگ کی کمی کی وجہ، نوٹ بندی سے قبل ہی مینوفیکچر کی گئی چیزوںکی فروخت میںگراوٹ ہورہی تھی، جس کا اثر ملبوسات سے لے کر چمڑے اور اسٹیل کے شعبوںپر بھی ہواہے۔ نتیجتاً ستمبر 2016 تک چھ مہینے میں انجینئرنگ کمپنی لارسن اینڈٹُبرونے تقریباً 14,000 ملازمین کی چھٹنی کی ہے۔
نوٹ بندی سے قبل 34 دنوںمیںمائیکرو اینڈ اسمال اسکیل انڈسٹریز کو ریونیو میں 35 فیصد اور 50 فیصد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عالمی اتھل پتھل بھی مینوفیکچرر کے لیے مسائل کا سبب بنی ہوئی ہے۔ فارن ایکسچینج مارکیٹ میںاتار چڑھاؤ رہا ہے اور اس سے سیل میں کمی ہوئی ہے۔ اس کا فائدہ مارجن پر منفی اثر پڑا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے یہ بھی کہا کہ انڈین مینوفیکچرر پر 6.9 لاکھ کروڑ روپے کا مجموعی طور پر قرض ہے۔ پچھلے چار سالوں میں 1707مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی تعداد جن کی لون ایکوئٹی کا تناسب 200 فیصد سے زیادہ ہے، 2012-13 میں 215 سے بڑھ کر 2015-16 میں 284 ہوگیا ہے، یعنی اس میں 32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ہائی ڈیبٹ ایکوئٹی ریشو کا مطلب ترقی کے لیے کمپنیوںکا جارحانہ طریقے سے ادھار کے پیسے کا استعمال کرنا ہوتا ہے، جس میں ڈیفالٹ کا بڑا خطرہ بھی بنا رہتا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ بنیادی ڈھانچے میںزیادہ انوسٹمنٹ اور معیشت کا دوبارہ مونیٹائزیشن اور دیگر قدم اٹھاکر نوٹ بندی سے ہوئے نقصان کی بھرپائی کرنے کے لیے سرکار کو کوشش کرنی چاہیے۔ سرکار کو جلد سے جلد فنانشیل سسٹم کے مونیٹائزیشن کرنے کی ضرورت ہے، جس میںمینوفیکچرنگ سیکٹر کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مکڑجال میںترقی
8 نومبر کو جب وزیر اعظم نے نوٹ بندی کا اعلان کیا تب یہ مانا گیا کہ معیشت پر اس کا اثر کافی وسیع ہوسکتا ہے۔ لیکن حکومت ہندکے اعداد وشمار سے یہ پتہ چلتا ہے کہ گراوٹ ایسی نہیںہے جس کا تصور اقتصادی ماہرین نے کیا تھا۔ سرکار کے ذریعہ جاری تازہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2016-17 کی تیسری سہ ماہی میںیعنی اکتوبر سے دسمبر 2016 کے بیچ شرح ترقی 7 فیصد رہنے کی امید ہے۔ اس پورے سال کی متوقع شرح ترقی 7.1 فیصد بتائی جارہی ہے جبکہ سال 2015-16 میں یہ شرح 7.9 فیصد تھی۔
خاص بات یہ ہے کہ کھیتی میںاچھا خاصا اضافہ دیکھا جارہا ہے، حالانکہ مائننگ اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میںگراوٹ ہے۔ 2016-17 میںکھیتی کی متوقع ترقی کی شرح سال رفتہ کے 0.8 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہوگئی ہے۔ حالانکہ مینوفیکچرنگ میں 10.6 فیصد کی شرح ترقی اس سال 7.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ کنسٹرکشن کے شعبے میںمعمولی بڑھوتری ہے،یہ 2.8 سے بڑھ کر 3.1 فیصد ہوئی ہے۔
ادھر فکی کی ذریعہ مارچ اور اپریل 2017 میں کیے گئے سروے کے بعد اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک کی جی ڈی پی کے اضافہ کی شرح سال 2017-18 میں تقریباً 7.4 فیصد رہے گی۔ اس کی زیادہ سے زیادہ سطح 7.6 فیصد اور کم سے کم 7 فیصد رہ سکتی ہے۔ فکی کے اکانومک سنیریو سروے میںکہا گیا ہے کہ مالی سال 2017-18 کے دوران زرعی شعبے میںاضافہ کی شرح 3.5 رہے گی اس کے ساتھ ہی صنعت اور سروس سیکٹر میںبہتری سے بھی جی ڈی پی کو تائید ملے گی۔سروے کے نتائج کے مطابق مالی سال 2017-18 کے دوران کنزومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی شرح 4.8 رہنے کا اندازہ لگایاگیاہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ہندوستان کوسدھاروںپر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میںانوسٹمنٹ کے ماحول کو سدھارنے کی ضرورت ہے، جو ابھی پٹری سے اترا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
نوٹ بندی کی اصل وجہ
کالے دھن کا پتہ کیسے لگایا جائے،یہ سوال مرکزی سرکار کے سامنے سُرسا کے منہ کی طرح کھڑا تھا،اس لیے سرکار نے انکم ڈسکلوزر اسکیم لانچ کی تھی۔ لیکن اس اسکیم کے تحت کالے دھن کا پتہ لگانے کی کوششوں کے دوران یہ پتہ چلا کہ خود ملک کے مختلف بینکوںکے ذریعہ ہی بہت بڑی تعداد میںکالے دھن کا ٹرانزیکشن ہورہا ہے۔ کئی سارے بینک پین نمبر درج کیے بغیر کروڑوں اور اربوں روپے کے لین دین کررہے ہیں۔ ایسے سات لاکھ ٹرانزیکشن سے جڑے لوگوں کو سرکار کی طرف سے نوٹس بھیجا گیا۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے 6 لاکھ 90 ہزار نوٹس ’ایڈریسی ناٹ فاؤنڈ‘ یعنی پتہ نہیں ملا،لکھ کر واپس آگئے۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ ان ٹرانزیکشنس میںجو پتے بتائے گئے تھے، ان پتوںپر کوئی رہنے والا نہیں تھا یعنی یہ سبھی پتے فرضی تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی حالت میںسرکار کیا قدم اٹھائے؟ کن لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے؟ غور طلب ہے کہ 90 لاکھ بینک ٹرانزیکشن پین نمبر کے بغیر کیے گئے تھے۔ ان میں 14 لاکھ ہائی ویلیو ٹرانزیکشن ہیں۔ ان میںسات لاکھ بڑے ٹرانزیکشن ہائی رسک والے ہیں ۔ ان ہی سات لاکھ ٹرانزیکشن کے سلسلے میں نوٹس جاری ہوئے تھے اور پتہ نہیںملنے پر واپس آگئے تھے۔
جب کالا دھن پکڑنے کی سبھی اسکیمیں فیل ہوگئیں تو یہ سوال اٹھا کہ آخر اس کا حل کیا ہوگا؟ واپس لوٹ کر آئے نوٹسوںکا انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کیا کرے، یہ بھی ایک بڑا سوال تھا؟ کیسے کالے دھن کے ان چوروں کے خلاف کارروائی ہو؟ اتنی زیادہ تعداد میںلوگوںسے پوچھ تا چھ کیسے کی جائے؟ کیا اس کے لیے بینکوں کے خلاف کارروائی بھی کی جائے؟ اقتصادی معاملوں کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تب اتنے بڑے پیمانے پر بینکوںکے خلاف کارروائی کی جاتی تو پورے بینکنگ نظام کے مسمار ہونے کا خطرہ تھا ۔ سرکار اتنا بڑا خطرہ نہیںلے سکتی تھی۔ ظاہر ہے ،اس کا واحدراستہ جو سرکار کو دکھائی دیا، وہ نوٹ بندی جیساقدم اٹھانا ہی تھا۔ نوٹ بندی ہی ایک ایسا عمل تھا جس کے ذریعہ مذکورہ غیر قانونی ٹرانزیکشن پر وار کیا جاسکتا تھا۔ حالانکہ وہ وار کتنا کامیاب ہوا اور کتنا ناکام، یہ کہنا تب تک مشکل ہے جب تک کہ آر بی آئی یا سرکار کی طرف سے ٹھوس اعدادوشمار پیش نہیںکیے جاتے ہیں۔ لیکن نوٹ بندی کا ایک فوری سبب یہ مذکورہ غیر قانونی ٹرانزیکشن بھی تھا۔
وعدہ تیرا وعدہ
-1 غیر ممالک میں جمع کالے دھن کی جانچ کرائیںگے۔ کالا دھن ملک میں واپس لاکر اسے ترقیاتی کاموںمیں لگائیںگے۔
-2وارانسی کو ملک کی ثقافتی راجدھانی بناکر اسے دنیا کے نقشہ پر چمکایا جائے گا۔
-3 ندیوں کو جوڑا جائے گا۔ ساحلی علاقوں کی ترقی،ساحلوںکو جوڑنے کے لیے ساگر مالا پروجیکٹ لایا جائے گا۔
-4 ملک بھر میں بلیٹ ٹرین چلائی جائیںگی۔
-5 100 نئے شہر بسائے جائیں گے۔
-6 کرپشن دور کریں گے۔ اس کے لیے نئی تکنیک کا استعمال کیا جائے گا۔
-7 مہنگائی کم کی جائے گی۔ ایسی اسکیمیں بنائی جائیںگی جن سے مہنگائی کم ہوسکے۔
-8 سب کو پکا گھر اور ہر گھر میںپانی۔
-9 پٹنہ، رانچی، وارانسی اور کولکاتا کو نارتھ ایسٹ کا مرکز بنا کر نارتھ ایسٹ کی ریاستوںکی ترقی۔
-10گجراتی ماہی گیروں کی پاکستان سے حفاظت کی جائے گی۔
-11 کسانوںکو 50 فیصد اضافی ایم ایس پی
-12 ہر سال دو کروڑ روزگار

کارپوریٹ لون میں کمی کیوں؟
آر بی آئی کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ چھ سالوں کے دران این پی اے میں اضافہ اور سست اقتصادی ترقی سے کارپوریٹ ادھار میں600 فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔ آٹو موبائل کمپنیوں کے ذریعہ ڈیلروںکو گاڑی تقسیم کرنے میںکافی پریشانی ہورہی ہے۔ پچھلے چھ سالوں میں گھر کی فروخت سب سے نچلی سطح پر ہے۔ جنوری 2017 کو ریزرو بینک کے ذریعہ جاری کیے گئے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک رپورٹ کہتی ہے کہ سال 2016-17 سے قبل آٹھ مہینوں میںبنیادی ڈھانچے والی کمپنیوںکے لیے بینک لون میں لگاتار گراوٹ آئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ 12 لاکھ کروڑ سے بھی زیادہ جب بینکوں میں واپس آگئے ہیں تب بھی کارپوریٹ سیکٹر کو ادھار دینے میںمشکلیںکیوں پیش آرہی ہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے خالص قرض میں 77 فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔ این پی اے میں اضافہ کارپوریٹ ادھاری میں گراوٹ کا ایک سبب ہے۔ ادھر اقتصادی کساد بازاری اور موجودہ صنعتی صلاحیت میںکمی کی وجہ سے مانگ میں گراوٹ سے لون دینے میںگراوٹ آئی ہے۔ نوٹ بندی نے اسمال انڈسٹری کے بحران کو اور بڑھا دیاہے۔ اکھل بھارتیہ نرماتا سنگٹھن کے ذریعہ کیے گئے ایک مطالعہ کے مطابق نوٹ بندی سے قبل 34 دنوں میںچھوٹے اور اسمال انڈسٹریز میں 35 فیصد نوکریوں کا نقصان ہوا ہے اور ریونیو میں50 فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *