نارتھ -ایسٹ کی ترقی کیسے ؟

شمال مشرقی ہندوستان کی ترقی کی رفتار ملک کے باقی حصوں کے بالمقابل بہت سست ہے۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں بھی سرکار کی فلاحی اسکیموں کی جانکاری وہاں تاخیر سے پہنچتی ہے۔ فائدہ تو دور کی بات ہے ،کہہ سکتے ہیں کہ 100 سال پہلے وہاں کی جو صورت حال تھی، وہی آج بھی ہے۔ سڑک اور ریل لائن تاخیر سے پہنچنے کے سبب شمال مشرقی کا یہ حصہ بقیہ ہندوستان سے کٹا سا لگتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ گزشتہ سال 2016 کو ارونا چل پردیش ،میگھالیہ اور تریپورا تک ریل پہنچا ہے۔ اب بھی منی پور ، میزورم اور ناگالینڈ میں ریل نہیں ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی برابر کہتے ہیں کہ اگر ہم ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے شمال مشرقی حصے پر دھیان دینا ہوگا۔ ان کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے تین سال پورے ہو چکے ہیں ۔اس عرصے میں کئی اسکیمیں شمال مشرقی کے لئے لاگو کی گئیں۔ ان تین سالوں میں اس خطے کی کتنی ترقی ہوئی، اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

’ لُک ایسٹ پالیسی ‘ ہندوستان کے ذریعہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ اقتصادی اور سماجی تعلقات کو توسیع دینے، ہندوستان کو ایک علاقائی طاقت کی شکل میں قائم کرنے اور اس علاقے میں چین کے اثرات کو متوازن کرنے کے لئے بنائی گئی تھی۔ 1991 میں نرسمہارائو سرکار کے ذریعہ شروع کی گئی اس پالیسی کو خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک نئی سمت کی شکل میں دیکھا گیا۔اس پالیسی کو آگے بڑھاتے ہوئے مودی سرکار نے ہند- میانمار- تھائی لینڈ ٹرائی لیٹرل ہائی وے کی اسکیم کو آگے بڑھایا ۔ اس اسکیم کے تحت ہند- میانمار – تھائی لینڈ اور کمبوڈیا ہوتے ہوئے ویتنام تک سڑک کے ذریعہ پہنچا جاسکتا ہے۔ اس ٹرائی لیٹرل ہائی وے کو ڈیولپ کرنے کے لئے جوائنٹ ٹاسک فورس بنایا جارہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ماننا ہے کہ ہم اب’ لوک ایسٹ پالیسی ‘سے ’ایکٹ ایسٹ پالیسی ‘کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے ایک آفیسر بتاتے ہیں کہ اس پروجیکٹ پر سات، آٹھ سال سے کام چل رہا ہے۔ یہ کولکاتا کو سیدھے تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک سے جوڑ دے گا۔ لیکن اس پروجیکٹ کے لئے شمال مشرقی خطوں کے تحفظ اور دہشت گردی کا خطرہ ایک اہم چیلنج ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان نے میانمار کو سڑک سے جوڑے جانے کی مدت آگے بڑھا دی ہے۔
ایک انگریزی اخبار کے مطابق مرکزی سرکار نے ہندوستان سے میانمار میں 150 کلو میٹر تک سڑک (منی پور سے میانمار کے تامو کلیوا تک ) کے پروجیکٹ کی مدت کو آگے بڑھا دیا ہے۔ 2019 تک میانمار میں دو بڑے ٹریفک پروجیکٹ کا کام پورا ہو جانا تھا۔ اس پروجیکٹ میں کلادان ملتی ماڈل ٹرانسپورٹ پروجیکٹ اور انڈیا – میانمار -تھائی لینڈ کا ہائی وے شامل تھا۔ تین ملکوں سے ہوکر گزرنے والے ہائی وے پر ہندوستان نے 70 پلوں کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا۔ تھائی لینڈ نے اپنا حصہ بنا دیا ہے، وہیں برما نے بھی اس کی شروعات کر دی ہے۔ ہندوستان اس معاملے میں پچھڑ گیا ہے۔ اس پورے معاملہ میں ایک بڑا مسئلہ بہتر مینجمنٹ کو لے بھی ہے۔ جانکاری کے مطابق ان پروجیکٹس کو وزارت خارجہ کی نئی ڈیولپمنٹ اسکیم کے محکمہ کے تحت لگایا گیا تھا۔ تین ملکی سڑک موریہہ (منی پور ) سے شروع ہوکر مئی سوت (تھائی لینڈ ) میں ختم ہونا ہے۔ ہندوستان نے اس خطے میں تقریباً 130 کلو میٹر کی سڑک بنا دی ہے، لیکن 30 کلو میٹر کی سڑک باقی رہتے ہی کام روک دیا گیا ہے۔ جب تک اس پروجیکٹ کو پورا نہ کیا جائے گا، تب تک ’لُک ایسٹ پالیسی‘ کیسے کامیاب ہوگی۔
شمال مشرقی اور سیکورٹی سے جڑے معاملے
ارونا چل پردیش کی سرحد چین سے لگی ہونے کے سبب کافی حساس ہے۔ چینی مداخلت کا مسئلہ شمال مشرقی ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے لئے تشویشناک ہے۔ ارونا چل کے پاسی گھاٹ میں انتخابی ریلی کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ یہاں کے لوگ اکیلے اپنے دم پر چین کے خلاف ڈتے ہیں۔ لیکن چینی مداخلت ابھی تک نہیں رکی ہے۔ حال میں تبت کے جلا وطن مذہبی پیشوا دلائی لامہ کی ارونا چل آمد کے ٹھیک ایک مہینے پہلے چینی فوج برما تک گھس آئی تھی۔ دلائی لامہ کے جانے کے بعد بوکھلائے چین نے ارونا چل پردیش کے 6 علاقوں کا چین میں نام بدل دیا تھا۔
شمال مشرقی سرحدیں چین، میانمار ، بھوٹان ،بنگلہ دیش اور نیپال سے ملتی ہیں۔ آسام کو غیر قانونی تارکین وطن نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ریاست کے 27اضلاع میں سے 9 تارکین وطن کے مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔اسمبلی کی 126 میں سے 60 سیٹوں پر ان کا غلبہ قائم ہوگیا ہے۔ ریاست کی جنگلاتی زمین پر کئے گئے قبضہ میں 85 فیصد بنگلہ دیشیوں کی حصہ داری ہے۔ ان علاقوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے ہوا ہے۔ناگالینڈ میں بھی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی تعداد بے تحاشہ بڑھی ہے۔ اس سے مقامی لوگ پریشان ہیں اور سیکورٹی کی وجہ سے لوگ گروپوں میں بٹ رہے ہیں۔ تریپورا بھی تارکین وطن کے مسئلے سے دو چار ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی وجہ سے تریپورا کے بنیادی لوگوں کی پہچان مٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ سینکڑوں دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آ گئی ہیں۔ میزورم میں بھی باہری لوگوں کے مخالف جذبات مختلف اسٹوڈنٹس موومنٹ کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔
ارونا چل پردیش ہندوستان-چین تنازع میں الجھ کر رہ گیا ہے جبکہ مرکزی سرکار کو ارونا چل پردیش کی مجموعی ترقی پر دھیان دینا چاہئے۔ صرف انتخاب کے دوران انہیں اپنا بتانے سے کام نہیں چلتا ، اسے ترقی اور خوشحالی کے ذریعہ اپنابنانے کی کوشش کرنا ہوگا۔
ارونا چل میں پن بجلی اور معدنیات کے بے تحاشہ امکانات ہیں۔ چین نے ارونا چل ریاست کی سرحد سے لگے اپنے علاقوں میں کئی شہر بنائے ہیں۔ وہ اتنے ترقی یافتہ ہیں کہ ارونا چل کے لوگوں کو بھی وہ چینی شہر لبھاتے ہیں۔ شمال مشرقی کو ہندوستان مخالف تنظیم بھی اپنا اڈہ مانتی ہیں۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی شمال مشرقی کو اپنا محفوظ ٹھکانا مانتی ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے بیچ 4096 کلو میٹر لمبی سرحد پر سیکورٹی کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہے۔اس وجہ سے شمال مشرقی علاقے میں آبادی کا نمونہ ہی بدلتا جارہاہے۔ہندوستانی سرکار نے اگر سنجیدگی سے اس طرف دھیان نہیں دیا تو شمال مشرقی کو کشمیر بننے میں دیر نہیں لگے گی۔
گونجے گی یہاں ریل کی سیٹی
شمال مشرقی خطہ میں ترقی کی سب سے بنیادی ضرورت ہے ریل اور روڈ ٹرانسپورٹ کی ترقی۔ اس کے فقدان میں شمال مشرقی کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔وزیر اعظم شمال مشرقی کو سائوتھ ایسٹ ایشیا کا گیٹ وے بنانا چاہتے ہیں۔ 7 ریاستوں میں روڈ اور ہائی وے کو سدھارنے کے لئے 40 ہزار کروڑ روپے کی سرمایا کاری کی بات نتین گڈکری نے بھی کہی ہے ۔ ریل کی بات کریں تو جریبام سے امپھال تک کا ریل پروجیکٹ 110.63 کلو میٹر لمبا ہے۔یہ سلچر، ہاف لونگ ، لمڈنگ اور گواہاٹی ہوکر امپھال سے گزرے گی۔ اس کا تخمینہ 6570.75 کروڑ روپے ہے۔ اس پروجیکٹ کا کام اب تک 33 فیصد ہی ہو پایا ہے۔ فیز 1 (جیری ، توتول ) مارچ 2018 تک اور فیز 2 (توتول ، امپھال) مارچ 2019 تک کا ہدف رکھا گیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہتقریباً 33 انڈر گرائونڈ دہشت گرد گروپس اس پروجیکٹ ایریا میں فعال ہیں۔ آئے دن اقتصادی ناکہ بندی اور بند ان علاقوں میں عام بات ہے۔ اس پروجیکٹ میں شامل ملازموں کو دہشت گرد تنظیم اغوا کرلیتے ہیں۔این ایچ 37 کی بری صورت حال ہونے کے سبب پروجیکٹ میں استعمال ہونے والے سامانوں کو لانے و لیجانے میں تاخیر ہوتی ہے۔ میگھالے کی راجدھانی شیلانگ تک کے ریل پروجیکٹ کی لمبائی 129.9 کلو میٹر ہے، جس کا تخمینہ 5804.14 کروڑ روپے ہے۔ فیز ون میں دیگاو، بیرنی ہاٹ، جس کی لمبائی 21.50 کلو میٹر ہے اور تخمینہ 496.24 کروڑ روپے ہے۔اب تک اس پروجیکٹ پر 22 فیصد ہی کام ہوا ہے۔ فیز 2 میں بیرنی ہاٹ ، شیلانگ تک کی لمبائی 108.4 کلو میٹر ہے جس کا ہدف مارچ 2020 تک کا ہے۔
ناگالینڈ کی راجدھانی کوہیما ریلوے پروجیکٹ کے تحت جوبجا ، راجدھانی سے 18 کلو میٹر آگے تک ریلوے لائن بننا ہے۔ اس کی لمبائی 91.75 کلو میٹر ہے اور اس کا تخمینہ 2317 کروڑ روپے ہے۔ اس کا سروے پورا ہو چکاہے ۔ اس کام کے پورا ہونے کا ہدف مارچ 2020 تک رکھا گیا ہے۔لیکن ناگالینڈ میں اینر لائن پرمٹ لاگو ہونے کے سبب باہری لوگوں کو پرمٹ کی ضرورت پڑے گی۔ امپھال کو ملک کے ریلوے میپ پر لانے کے پروجیکٹ کے تین سال تاخیر سے چلنے کے ساتھ ہی ہندوستانی سرکار اب تک منی پور – میانمار سرحد پر موجود پہاڑی علاقے موریہہ تک 110 کلو میٹر ریلوے ٹریک کو لے جانے کی سمت میں بھی کوئی قدم نہیں اٹھا پائی ہے۔ جب تک موریہہ کو ریل سے جوڑا نہیں جائے گا، تب تک میانمار کے ریلوے سسٹم سے جڑنے کی بات ممکن نہیں ہے۔ ریلوے افسروں کا کہنا ہے کہ امپھال ریلوے کو امپھال کے آگے لے جانے کا کوئی پلان نہیں ہے۔ امپھال موریہہ روٹ کا سروے کیا گیا ہے۔ مودی سرکار جب تک امپھال موریہہ روٹ کو میانمار ریولے کے ساتھ لنک نہیں کرے گی، تب تک ٹرانس ایشین ریلوے کا خواب ادھورا رہ جائے گا۔ منی پور کے پاس ابھی صرف جیری بام تک ہی ریلوے پہنچا ہے ، جو آسام میں 1.5 کلو میٹر لمڈنگ ، سلچر میٹر گیج ڈویژن کی ہی توسیع ہے پروجیکٹ کے پہلے مرحلہ میں جیریبم ، توتول کے 84 کلو میٹر علاقے کو شامل کیا گیا ہے۔
افپسا کا سامنا کرتا شمال مشرقی خطہ
افسپا کو لے کر گاہے بگاہے جموں و کشمیر سمیت شمال مشرقی کی کئی ریاستوں سے مخالفت کی آواز اٹھتی رہی ہے۔ ریاستی اور مرکزی سرکار کے بیچ افسپا ہمیشہ ایک تنازع کا ایشو رہا ہے۔ آسام میں حال ہی میں ریاستی سرکار نے افسپا ہٹانے کی کوشش کی، لیکن مرکزی سرکار نے افسپا قانون کے تحت پورے آسام کو مزید تین مہینوں کے لئے ہنگامہ خیز خطہ اعلان قرارد ے دیا۔ مرکز نے یہ قدم مخالف گروپ اُلفا ( یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام ) ، این ڈی ایف بی ( نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ ) اور دیگر مخالف گروپوں کی مختلف پُرتشدد سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اٹھایا ہے۔وزارت داخلہ نے اس فیصلے کو یہ کہہ کر صحیح ٹھہرایا ہے کہ ان علاقوں میں این ایس سی این ( آئی ایم )، این ایس سی این (کے ) ، اُلفا، این ڈی ایف بی جیسے گروپ تشدد پھیلا رہے ہیں۔ ایک طرف ریاستی سرکار کہہ رہی ہے ، تو دوسری طرف مرکزی سرکار نے مخالف گروپوں کی مختلف پُر تشدد سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے افسپا کو پوری ریاست میں تین مہینے بڑھانے کا فیصلہ لیا ہے۔ 3 جنوری 2017 کو ناگالینڈ میں بھی مرکزی سرکار نے ہنگامہ خیز ریاست بتا کر افسپا 6 مہینے کے لئے بڑھا دیا تھا۔
دوسری طرف منی پور میں بھی کئی دہائیوں سے اس قانون کو ہٹانے کو لے کر مخالفت ہورہی ہے۔ وہاں کی 10 خواتین نے آسام رائفل کے سامنے ننگا احتجاج بھی کیا تھا۔ ایروم شرمیلا اس قانون کے خلاف 16 سال تک بھوک ہڑتال کر چکی ہیں۔ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی افسپا کو لے کر مرکزی سرکار کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ ریاست کی نئی پارٹی بی جے پی سرکار بھی جب تک افسپا ہٹانے کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ریاست میں 20 ہزار ایسی بیوائیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہر مسلح لڑائی میں گنوا دیا ہے۔ 2007سے2015 کے درمیان پورے شمال مشرقی خطے میں 8830 پُر تشدد واقعات ہوئے۔ جن میں 2764 شدت پسند اور 2148 عام شہری مارے گئے۔ میزورم ہی صرف ایسی ریاست ہے جہاں پرشدت پسند اور عام شہریوں کے مارے جانے کے اعداو شما رسب سے کم ہیں۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے یہ کہہ کر کہ افسپا ریاستی سرکار کی ایماندار کوشش سے ہی ہٹے گا، اپنا پلہ جھاڑ لیا۔ افسپا کی آڑ میں ہوئی فرضی مڈبھیڑ کو لے کر سپریم کورٹ میں کئی معاملے کی سنوائی چل رہی ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے بھی صاف کہہ دیا ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں آرمی کے جوان زیادتی کررہے ہیں۔ لیکن آرمی نے اس کو سپریم کورٹ کا متعصبانہ جواب بتایا ہے۔
ناگا پُرامن ماحول میں آخر ہوا کیا
3اگست 2015 کو مرکزی سرکار اور نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (ایم ) کے سکریٹری تھوئنگا لینڈ موئیوا کے بیچ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔ اس جنگ بندی معاہدہ کی بنیاد 1997 میں سابق وزیر اعظم آئی کے گجرال کے دور حکومت میں پڑی تھی لیکن گزشتہ 18 سالوں میں اس سلسلے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ مودی سرکار نے اس سمجھوتے کو ایک تاریخی قدم بتایا تھالیکن اس کا کوئی نتیجہ اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔
مرکزی سرکار اب تک اس سمجھوتے کا کوئی بنیادی نکتہ نہیں بتا رہی ہے۔ ریاستی سرکاروں کے پاس بھی اس کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے صرف اتنا بتایا کہ اس فریم ورک اگریمنٹ میں پڑوسی ریاستوں کا پورا خیال رکھا گیاہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی سرکار ناگائوں کی مانگیں پوری کرکے اس خطے میں امن قائم کرپانے میں کامیاب ہوگی؟موجھوا کی مانگ ایک وسیع ناگالینڈ کی ہے جس میں پڑوسی ریاستوں،منی پور کے چار اضلاع، ارونا چل پردیش کے دو ضلعے اور آسام کے دو پہاڑی ضلعے بھی شامل ہیں۔ اس مانگ کو لے کر تینوں ریاستوں میں مخالفت چل رہی ہے۔ آخر مرکزی سرکار اس معاہدے کو خفیہ کیوں رکھنا چاہتی ہے؟نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (ایم ) اور مرکزی سرکار کے بیچ جاری یہ بات چیت تبھی پُرامن بات چیت کہلائے گی جب اس سمجھوتے میں پڑوسی ریاستوں کا بھی مکمل خیال رکھا جائے گا۔ورنہ پورے شمال مشرقی خطہ میں خون خرابے کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *