اسامہ بن لادن کیسے مرا

Robertچند روز قبل روبرٹ اونیل کی کتاب ‘ دی آپریٹر’ منظر عام پر آئی ہے۔اس کتاب میں روبرٹ نے ایبٹ آباد کے تین منزلہ کمپاونڈ میں بن لا دن  کی زندگی کے آخری لمحات کا ذکر کیا ہے۔ جہاں  اسامہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ چھپا ہوا تھا۔روپرٹ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک گولی سے اس کا چہرہ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اس کو مار ڈالا۔ روبرٹ اونیل نے مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں ہونے والے آپریشن کا خلاصہ بیان کیا۔ یہ آپریشن القاعدہ تنظیم کے سابق سربراہ اور بانی اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس مشن کی تفصیلات کے بارے میں اونیل کا کہنا ہے کہ امریکی اسپیشل فورس کمپاؤنڈ میں داخل ہوئی تو اسامہ کا بیٹا خالد فوری طور پر چھپ گیا۔ ٹیم کے ایک اہل کار نے عربی میں خالد کو آواز دی اور جیسے ہی وہ سامنے آیا اسے فوری طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔اونیل کے مطابق ” امریکی ٹیم نے تیسری منزل پر پہنچ کر اسامہ کے سونے کے کمرے پر دھاوا بول دیا”۔اس موقع پر مذکورہ فوجی نے خود کو اسامہ بن لادن کے بالکل سامنے پایا جو اس اندھیرے کمرے میں اپنی سب سے کم عمر بیوی کے ساتھ موجود تھا۔ اونیل نے فوری طور پر القاعدہ کے سربراہ کے سر میں گولی ماری جس سے سر کے ٹکڑے ہو گئے۔ اس کے بعد اس نے اسامہ کے سرم میں مزید ایک گولی ماری تاکہ اس کی موت کا یقین ہو جائے۔ان لمحات کے بارے میں سابق امریکی میرین یہ باور کراتا ہے کہ اسے ہر گز یہ احساس نہیں تھا کہ وہ ایک تاریخی لمحے کا حصہ بننے جا رہا ہے. !

یاد رہے کہ اس سے قبل اسامہ بن لادن کی موت کا سبب بننے والی گولی چلانے والے شخص کے بارے میں کئی کہانیاں گردش میں رہیں تاہم تمام تر رپورٹیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ گولی چلانے والا روبرٹ اونیل ہی تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *