شام کو آزاد کرانے میں روس کس حد تک معاون ہوگا؟

damiروس اسد حکومت کی حمایت میں کھڑا ہے۔وہ باغیوں کو کچلنے کے لئے طاقت کا بھرپور استعمال کررہا ہے۔ آخر روس کی اس دلچسپی کے پیچھے کا راز کیا ہے؟دراصل روس کی شام کی مدد کے پیچھے اس کی اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو لوٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔اس کے لئے وہ شام کے کندھے پر بندوق رکھ کر کام کررہا ہے مگر اس کے لئے اسے جتنی مالی تعاون کی ضرورت ہے ،یہ اس کی بس سے باہر کی بات لگتی ہے۔کیونکہ اگر روس نے طاقت کا استعمال کرکے باغیوں کو مکمل طور پر پسپا کردیا اور شام کی حکومت کی باگ ڈور بشار الاسد کے ہاتھوں میں دے دی تو اس کے بعد وہاں پیدا ہونے والی خانہ جنگی کو دبانے کے لئے اسے مزید فوجی اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ خطے کی جو صورت حال ہے، اس کو دیکھتے ہوئے فوجی طاقت کے بغیر نہ تو اسد کی حکومت کو مشرق وسطی میں مستحکم کیا جاسکتا ہے اور نہ مشرق وسطیٰ میں مخالف ملکوں کے بیچ اس کو پُرامن بنایا جاسکتا ہے۔
پوتن کے اعلان کے مطابق روس نے ستمبر 2015 سے مارچ 2016 تک یعنی شام میں روسی مداخلت کے آغاز سے اس نے 484 ملین ڈالر خرچ کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ رقم امریکہ نے جو افغانستان اور عراق پر حملہ کرنے کے پہلے سال میں خرچ کیا ہے ، اس کا مٹھی بھر بھی نہیں ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں پہلے سال 33بلین اور عراق میں 51 بلین ڈالر خرچ کیا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دونوں ملکوں یعنی امریکہ اور روس کی مالی حالت میں بہت فرق ہے۔ امریکہ اقتصادیات کے پہلے پائدان پر کھڑا ہے جبکہ روس جو کہ 1990 میں دنیابھر میں اقتصادیات میں تیسرے نمبر پر تھا ، 2015 میں علاقائی پیداوار کی بنیاد پر چھٹے نمبر پر آگیا ہے اور فی الوقت اس میں بہتری کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے تو وہ شام میں امریکہ کی طرح اخراجات برداشت کرکے کیسے اسد حکومت کو پُرامن اور مستحکم بنا پائے گا؟ایسی صورت میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا روس اسد حکومت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنی فوجی کارروائی کو مستقبل میں برقرار رکھ سکے گا اور فوجی اخراجات کا بوجھ برداشت کرکے شام میں فوجی اداروں کو مضبوط کرسکے گا؟یقینا یہ ماسکو کے لئے ایک دشوار کن مرحلہ ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بھی سمجھنے والی بات ہے کہ جس وقت امریکہ نے افغانستان میں 9/11 کے بعد فوجی کارروائی کی تھی تو اتحادی فوج اس کے ساتھ تھی۔ان اتحادیوں نے امریکہ کی بھرپور مدد کی۔ جہاں تک روس کی بات ہے تو اس کے پاس اتحادی بہت کم ہیں۔بلکہ اس کے اتحادیوں کی بہ نسبت مشرق وسطیٰ میں اسد مخالف ممالک کی تعداد بڑی ہے اور یہ سب باہم متحد ہیں جبکہ روس کے ساتھ صرف ایران اور اس کے کچھ حلیف ہیں۔ روس کے حلیفوں کا مقصد بس ایک ہے اور وہ ہے اسد کی حکومت کو باقی رکھنا جس کا لازمی اثر یہ ہوگا کہ روس پر مالی بوجھ بڑھے گا،جس سے روس کے لئے نئی مشکلات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ شام میں لڑائی اور خانہ جنگی کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ مزید یہ کہ ایران اور حزب اللہ پر اقتصادی پابندی میں مزید سختی آسکتی ہے۔کیونکہ امریکہ اب اس غلطی کو نہیں دوہرائے گا جو اس نے عراق سے صدام کی معزولی کے بعد کیا تھا۔ صدام کی معزولی کے بعد امریکہ نے ایران پر پابندی میں سختی نہیں کی،اس کا فائدہ اٹھا کر ایران نے عراق میں اس خلاء کو اپنے ہمنوائوں سے پُر کردیا جو صدام کے جانے کی وجہ سے خالی تھی۔ اب موجودہ وقت میں داعش پر شدید حملے کے نتیجے میں جو خلا پیدا ہورہی ہے ،اس کو بھرنے کے لئے امریکہ ایران کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑے گا اور اس پر ماسکو کی بھی اس کو تائید مل سکتی ہے۔کیونکہ داعش کے خاتمے کے نام پر ہی روس کی انٹری ہوئی ہے۔
روسی اسٹاف اور روسی فیڈرل سیکورٹی فورس نے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ 4ہزار ریگولر رسین سولڈر اور فارمرسویت ری پبلک کی 5 ہزار فوج شام میں ہیں۔ اب اگر ہم امریکہ کی سابق کارکردگی کی بنیاد پر بات کریں تو کہا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں روس کو مزید فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ شام کو خانہ جنگی حالات سے باہر لاسکے۔خاص طور پر جب روس اسد کی حکومت کو سابقہ پوزیشن میں لانا چاہے گا تو اسے یہ کرنا ہی ہوگا ۔جو شہر اور علاقہ باغیوں اور دہشت گردوں کے قبضہ میں رہے ہیں اور جو دہشت گرد تنظیمیں اپنی کمین گاہوں میں روپوش ہیں ،ان کو باہر لانے کے لئے روس کو مزید فوج کی تعینات ناگزیر ہوگی۔
اب اگر روس مالی دبائو میں ایسا نہیں کرتی ہے اور اسد کی حکومت کو غیر مستحکم چھوڑ دیتا ہے تو خانہ جنگی مزید گہرائے گی جس سے اس کی حکومت کو ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا اورجوں جوں وقت گزرتا جائے گا،اس پر کنٹرول کرنے کے لئے مالی اخراجات کا بوجھ زیادہ ہوتا جائے گا۔روس کو مشرق وسطیٰ کے ممالک اور ترکی کی دخل اندازی کے علاوہ اندرونی شرکش تنظیموں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ اس کے علاوہ اسرائیل ،اسد حکومت کو ناپسند کرتا ہے، اس کو بھی دیکھنا ہوگا۔یہ تمام صورت حال کے میں گھری اسد حکومت کو ایران اور روس کے سامنے خود سپردگی کرنی ہوگی۔یعنی بظاہر جو حکومت اسد کی ہوگی، اس پر بالواسطہ کنٹرول ایران اور روس کا ہی ہوگا۔مگر اس کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لئے اسے مزید مالی وسائل کی ضرورت پڑے گی جس کا متحمل روس ہوسکے گا یا نہیں ؟اس کے بارے میں ماہرین اقتصادیات کی جو رائے ہے ،وہ روس کے حق میں نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق پر جو خرچ کیا ہے ، اس کا 50فیصد بھی روس خرچ نہیں کرسکتا ۔مطلب یہ ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 15برسوں میں افغانستان میں جو 744 بلین اور عراق میں 821 بلین ڈالر خرچ کیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ روس کی مالی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ وہ اسد نظام کو مستحکم کرنے میں اتنا بڑا حوصلہ کر سکے اور یہی مالی دشواری اس کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بنے گی۔
2010 میں پوتن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملٹری ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے لئے 343 بلین ڈالر خرچ کرے گا اور 2020 تک وہاں فوجی آلات اور لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنادے گا لیکن اس کے لئے روس کو 2016 سے ہی اپنے دفاعی بجٹ میں 10گنا اضافہ کرنا ہوگا۔ لیکن پٹرول کی قیمتوں میں کمی، روس پر اقتصادی پابندی ، روبل کے ویلیو میں کمی کی وجہ سے اسے اپنے بجٹ کو بہت سنبھل کر پیش کرنا پڑا ۔نتیجتاً پوتن کا یہ اعلان عمل درآمد ہونے سے پیچھے رہ گیا۔
2013 میں روس نے فوجی ادارے کے معیار کو کچھ بہتر کیا تھا ۔اس کی وجہ یہ رہی کہ اس نے 2013 میں 54فیصد ترقی تیل اور اس کے متعلقات کو ایکسپورٹ کرکے کیا تھا لیکن اب تیل ایکسپورٹ کرنے والے ممالک شام میں روس کے خلاف خانہ جنگی کو فروغ دینے لئے تیل کے بدلے ہتھیار کا استعمال کرسکتے ہیں۔ایسے ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں سعودی عرب و دیگر خلیجی ممالک 7 سال سے شام میں خون ریزی اور لاکھوں شامی شہریوں کو نقل مکانی کرانے والے اسد کو حکومت میں برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ چونکہ روس اسد حکومت کی مدد کرتا ہے، اس لئے سعودی عرب جو کہ سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، وہ تیل کی قیمت کو اٹھانے کے لئے اس کی پیداوار میں کمی تو کرے گا لیکن اتنی کمی کرنے سے گریز کرے گا کہ روس اپنے تیل کو ایکسپورٹ کرکے اپنے دفاعی بجٹ کو بڑھا پائے اور اس کا استعمال شام میں کرے۔ظاہر ہے یہ صورت حال روس کے لئے مشکلیں پیدا کرے گی۔
ظاہر ہے روس کی مالی حیثیت ایسی نہیں ہے کہ وہ اسد حکومت کو بچانے کے لئے اپنے بجٹ میں اضافہ کرے ۔یہی وجہ ہے کہ پوتن نے دفاعی بجٹ میں جو اضافے کا اعلان کیا ہے ،اس کے خلاف روس میں احتجاج ہورہے ہیں بلکہ ان کے استعفیٰ کا مطالبہ ہورہا ہے۔کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں روس کی اقتصادی حالت مزید کمزور ہوئی ہے۔یہ احتجاجات اس بات کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ روس کے عوام شام میں روسی مداخلت کو پسند نہیں کررہے ہیں۔کیونکہ ابھی حال ہی میں ایران کے صدر حسن روحانی ماسکو گئے تھے ۔ ان کے دورے کا مقصد ایران اور یوروایشیا میں تجارتی معاہدہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ روس ایران کو اسلحہ دینے والا پرانے ملکوں میں سے ہے لیکن جب ایران پر پابندی عائد ہوئی تھی تو وہ رک گیا تھا ۔اس سے یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ روس ایران کو تب تک ہی اپنا دوست رکھے گا جب تک اسے شام میں اسد حکومت کے تعلق سے حمایت کی ضرورت ہے اور اسد حکومت کے پُر امن ہوجانے کے بعد وہ ایران کو بے دخل کرنے کی پالیسی اختیار کرلے گا۔کیونکہ ماضی میں پابندی کے دوران اس کے رویے کو دیکھا جاچکا ہے کہ اس نے اسلحہ دینے سے منع کردیا تھا۔ بہر کیف روس نے اسد حکومت کو پُرامن بنانے کا بیڑہ تو اٹھایا ہے لیکن حالات اور اس کی اقتصادی حیثیت کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ اس کے لئے بہت دشوار کن ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *