ہندو مسلم اتحاد کی شاندارمثال

Dargahجہاں ایک طرف شر پسند عناصر ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کے درپئے ہیں وہیں ریاست راجستھان کا ضلع الور ہندو مسلم اتحاد کی شاندار مثال پیس کررہا ہے۔ یہاں یہاں موتی ڈونگری پہاڑی  پر سید دربار اور  سنکت مورچہ ویر ہنومان مندر  ایک دوسرے کے پہلو میں شدت پسندوں کو دعوت عبرت دے رہے ہیں۔۔ان دونوں مذہبی مقامات کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہے ۔دونوں مذاہب کے ماننے والے یعنی ہندو اور مسلمان یہاں آکر روحانی تسکین پاتے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہنومان مندر میں جس لائوڈ اسپکر کو بھجن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ،بھجن ختم ہونے کے بعد اسی لائوڈ اسپکر کو مزار پر قوالی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔مزید برآں کمپائونڈ کو جس رنگ سے مزین کیا گیا ہے اس میں ھبی مذہبی ہم آہنگی کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اس کا کمپائوڈ سبز رنگ سے جو کہ مسلمانوں کا علامتی رنگ ہے رنگا گیا ہے اور سیفرون سے جو کہ ہندوئوں کا علامتی رنگ ہے سے رنگا گیا ہے اور دونوں رنگ کے جھنڈے ایک ساتھ لہرتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے وقت میں جب فرقہ وارانہ ذہنیت عروج پرہے، اس طرح کا عمل یقینا قابل ستائش ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *