ہندو مسلم اتحاد کی انوکھی مثال

Communal-hormonyجہاں ایک طرف ملک میں سیاسی پارٹياں مندر اور مسجد کے معاملہ پر لوگوں کو لڑانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ، وہیں بہار کے گوپال گنج میں ایک مسلمان کنبہ نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی میل جول کی ایک منفرد مثال پیش کی ہے۔ اس کنبہ نے مندر تعمیر کیلئے کروڑوں روپے کی زمین عطیہ کی ہے۔مسلم کنبہ کے مطابق اگر دونوں فرقہ کے لوگ آپس میں مل بیٹھ کر ایودھیا مسئلہ پر بھی بات کریں ، تو ایک مثبت فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔کوچائےكوٹ کے بتھناكٹي کے رام جانكي مندر کے پاس مسلمانوں کی زمین ہے۔ مسلمانوں کی زمین ہونے کی وجہ سے یہاں مندر کی تعمیر کو لے کر آئے دن تنازع دیکھنے کو ملتا تھا۔ لیکن مسلم برادری کے لوگ مقامی جے ڈی یو ایم ایل اے پپو پانڈے کی پہل پر نہ صرف مندر کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی قیمتی زمین بھی مندر کی تعمیر کے لئے عطیہ کر دیا۔زمین عطیہ کرنے والے منو شاہ عرف منو دیوان کے مطابق ان کی زمین بتھناكٹي میں رام جانكي مندر کے سامنے تھی، کوئی تنازعہ نہ ہو ، اس کیلئے انہوں نے اپنی زمین مندر کمیٹی کو دینے کا فیصلہ کیا۔ منو شاہ نے کہا خواہ ہندو ہو یا مسلمان ، باہمی تال میل ہو تو دنیا میں کوئی تنازع ہو ہی نہیں سکتا۔ مندر کی تعمیر کے لیے مسلم کنبہ نے ہائی وے کے کنارے کی 2 كٹھا 9 دھور زمین دیدی ۔ اس زمین کی قیمت کروڑوں میں ہے۔ادھر رام جانكي مندر کمیٹی کے آرگنائزر کے مطابق یہاں مسلم کنبہ کی طرف سے زمین دینے کے فیصلہ سے ہر فرقہ کے لوگ خوش ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے امید ظاہر کی اسی طرح ایودھیا کے مسئلے کو بھی تمام کمیونٹی اور تنظیموں کو سامنے آنا چاہئے اور مندر مسجد کے مسئلے کو فوری طور پر حل چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *