حج کوٹہ میں اضافہ کی بات دھوکہ ہے

حج کوٹہ میں پہلے جو 20 فیصد کٹوتی کی گئی تھی، اس کو اب بحال کردیا گیا ہے۔ یہ بحالی سعودی حکومت کی طرف سے ان تمام ملکوں میں کی گئی ہے ،جہاں جہاں کٹوتی ہوئی تھی ،مگر ہندوستان کی حکومت اس بحالی کو اضافے کا نام دے کر کریڈٹ لینا چاہتی ہے ۔مناسب یہ تھا کہ ہندوستان کے لئے جو کوٹہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق ہے ،اس میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق اضافہ کرانے کی کوشش ہونی چاہئے تھی تاکہ واقعی سابقہ تعداد میں کچھ اضافہ ہو ،مگر حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں ی۔
حج کے تعلق سے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ سعودی حکومت نے 2013 میں ہندوستانی حاجیوں کی تعداد میں جو 20 فیصد کٹوتی کی تھی ، اس کو حج 2017 سے از سر نو بحال کردیا گیا ہے۔ یہ کٹوتی حرم شریف میں توسیع کے لئے جاری کام کے مقصد سے کی گئی تھی۔ کام مکمل ہوچکا ہے اور حرم کی توسیع پوری ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس سال سے سابقہ تعداد کو بحال کردیا گیا ہے۔وزارت اقلیتی بہبود کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ سعودی عرب نے ہندوستان کے حج کوٹہ میں 34,500 کا اضافہ کردیا ہے اور یہ 1988 کے بعد ہندوستانی حج کوٹہ میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اضافے کی جو بات کہی جارہی ہے ، کیا وہ حقیقت میں اضافہ ہے بھی یا نہیں ؟دراصل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میںتوسیع کا کام شروع ہونے کی وجہ سے سعودی حکومت نے ان تمام ملکوں سے جہاں سے حجاج بڑی تعداد میں آتے ہیں، کل تعداد میں 20فیصد کٹوتی کردی تھی۔اس طرح سے ہندوستان سے ہر سال جانے والے ایک لاکھ 70 ہزار حاجیوں کی تعداد میں کٹوتی کرکے اسے ایک لاکھ 36 ہزار 20 کردیا گیا تھا ۔2017 میں توسیع کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ لہٰذا معاہدے کے مطابق سابق تعداد کو از سر نو بحال کردیا گیا ہے اور سابقہ تعداد میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت اس بحالی کو اضافے کا نام دے کر کریڈٹ اپنے نام کرنا چاہتی ہے جبکہ اس عمل میں اس کا کوئی رول ہے ہی نہیں۔اس سلسلے میں گیارہ مئی کونئی دہلی کے اسکوپ سینٹرل ہال میں حج ہائوس کی جانب سے منعقد کانفرنس میں ’’ چوتھی دنیا ‘‘ کے نمائندہ نے سعودی عرب میں ہندوستان کے سفیر احمد جاوید سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت امسال اضافہ ہوا ہے، اس لئے اضافہ بولا جارہا ہے ۔جب نمائندہ نے کہا کہ یہ تو اضافہ نہیں بلکہ سابقہ عدد کی بحالی ہے تو انہوں نے اس سوال کو نظر انداز کردیا ۔
سچ تو یہ ہے کہ 2012 تک جو ایک لاکھ 70ہزار حاجیوں کی اجازت تھی وہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق تھی،لہٰذا اگر حکومت واقعی اس سلسلے میں سنجیدہ اور مخلص ہے تو اسے سعودی حکومت سے اپیل کرنی چاہئے کہ 2017 میں حاجیوں کی تعداد کو مردم شماری 2011 کے مطابق کر کے پہلے کی تعداد ایعنی یک لاکھ 70 ہزار میں مزید اضافہکرے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔پھر بھی حکومت اپنی پیٹھ آپ تھپتھپا رہی ہے اور کہتی ہے کہ 1988 کے بعد یہ سب سے بڑا اضافہ ہے۔جب ’’چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی سے سوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پروسیس کے مطابق ہم نے 2011 کی مردم شماری میں مسلمانوں کے اعدادو شمار کی کاپی اقوام متحدہ میں بھیج دی ہے ۔وہاں سے تصدیق آنے کے بعد ہی سعودی حکومت اسے تسلیم کرے گی اور پھر اس کے بعد کوٹہ میں مزید اضافہ پر بات چیت ہوسکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حج 2016 میں پورے ہندوستان کے 21 مراکز سے تقریباً 99,903 عازمین نے حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ حج کی سعادت حاصل کی تھی جبکہ تقریباً 36 ہزار عازمین نے پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج ادا کیا۔ البتہ حج 2017 کے لئے سعودی عرب کی طرف سے کوٹے میں کئے گئے اضافہ کے بعداس سال حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعے 1,25,025عازمین سفر حج پر جائیں گے جبکہ 45,000 عازمین پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے سفر حج پر روانہ ہوں گے۔ اس طرح اس سال جملہ 1,70,020ہندوستانی عازمین سفر حج پر جائیں گے۔اس کے علاوہ تقریباً 5 ہزار عازمین خصوصی کوٹے سے جاتے ہیں۔
بہر کیف جو ہی ملا ہے ،وہ غنیمت ہے اور گزشتہ سال کی بہ نسبت تمام ریاستوں کو اس اضافے کا فائدہ ملے گا۔ سال 2016 میں گجرات کا حج کوٹہ 7044تھا جو کہ اس سال بڑھ کر10,877 ہو گیا ہے۔ اتر پردیش کا کوٹہ 21,828سے بڑھ کر 29,017ہو گیا۔ ہریانہ کا کوٹہ 1011 سے 1343 کر دیا گیا ۔ جموں و کشمیر کا حج کوٹہ 6359 سے بڑھا کر 7960 کردیا گیا۔ کرناٹک کا کوٹہ 4477سے بڑھا کر 5951کردیا گیا۔ اسی طرح مہاراشٹرا سے گزشتہ سال کے 7357عازمین سفر حج پر گئے تھے جس میں اضافے کے بعد اس بار 9780عازمین سفر حج پر جائیں گے۔ تمل ناڈو کا کوٹہ 2399سے بڑھ کر 3189 ہو گیاہے۔ مغربی بنگال کا کوٹہ 8905 سے بڑھ کر 9940 ہو گیا ہے۔
کوٹے کی اس بحالی کے بعد انڈین حج ہائوس کو اس سال سفر حج پر جانے کے لئے مجموعی طور پر 4 لاکھ 48 ہزار 268 افرادکی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ درخواستیں کیرالہ (95236) سے موصول ہوئی ہیں۔ دیگر ریاستوں میں مہاراشٹر (57246)، گجرات (57225)، اترپردیش (519375)، جموں و کشمیر (35217)، مدھیہ پردیش (24875)، کرناٹک (23514)، تلنگانہ (20635) سے درخواستیں آئی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ پہلی بار حج درخواست کے عمل کو پوری طرح ڈیجیٹل کیا گیا جس کے تحت مرکزی وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے جنوری 2017 میں حج کمیٹی آف انڈیا موبائل ایپ لانچ کیا ۔ مرکزی حکومت نے عازمیں حج کے آن لائن درخواست دینے کے عمل کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کی تاکہ اس عمل کو آسان اور صاف وشفاف بنایا جاسکے۔
مرکزی حکومت کی طرف سے آن لائن حج درخواست دینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کئے جانے کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں اور مجموعی طور پر موصولہ درخواستوں میں ایک لاکھ 29 ہزار 196 درخواستیں آن لائن پیش کی گئی ہیں۔سب سے زیادہ آن لائن درخواستیں کیرالہ (34783) سے موصول ہوئی ہیں، مہاراشٹرسے 24627، اترپردیش سے 10 ہزسار 215، گجرات سے 10071، جموں و کشمیر سے 8227 اور راجستھان سے 8091 درخواستیں آن لائن آئی ہیں۔
مذکورہ کانفرنس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سال 2018 سے بذریعہ پانی جہاز عازمین کو حج پر بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ جو لوگ کم پیسے میں حج کرنا چاہتے ہیں،ان کے لئے راستہ پیدا کیا جائے۔ قابل ذکر ہے کہ 1994 تک پانی جہاز ممبئی سے جدہ 2 ہزار 3سو میل کا فاصلہ 7 سے 10دنوں میں طے کرتا تھا،جس کی وجہ سے عازمین نہ صرف پریشان ہوتے تھے ،بلکہ ان میں سے کئی بری طرح بیمار بھی ہوجاتے تھے۔ اس پریشان کن صورت حال کی وجہ سے حکومت ہند نے پانی جہاز کے سفر کو روک دیا تھا،لیکن اب ماڈرن ٹکنالوجی سے تیار پانی جہاز اس مسافت کو محض دو سے ڈھائی دنوں میں طے کرلیں گے اور اس میں ایک ساتھ تقریباً 5 ہزار عازمین ایک ساتھ سفر کرسکیں گے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ان کی ٹریننگ اور حج کے ارکان کی جانکاریاں ایک ساتھ دی جاسکیں گی۔اس سلسلے میں حکومت ہند نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ حج 2017 سمیت حج 2018 میں حاجیوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنے کے امکانات پر غور کرے گی۔
حج کے دوران حاجیوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ان میں سے ایک مسئلہ خدام کا بھی ہے۔ دراصل تمام ریاستوں سے خدام کو حاجیوں کی خدمت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ لیکن اترپردیش ایک ایسی ریاست ہے جہاں سے کئی برس سے حاجیوں کی خدمت کے لئے خدام نہیں بھیجے جاتے ہیں۔ ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی حقیقت کو جاننے کے لئے ’’ چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے اترپردیش کے وزیر برائے حج محسن رضا سے پوچھا کہ وہ حج 2017 میں کیا فیصلہ لینے والے ہیں ؟تو انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس مرتبہ خدام بھیجے گی۔ البتہ حج کمیٹی کی ہدایت کے مطابق یہ تمام خدام سرکاری ملازمین ہی ہوںگے۔
جہاں تک خدام کے سرکاری ملازم ہونے کی بات ہے تو اس سلسلے میں متعدد ریاستی حج چیئر مین نے کمیٹی کے عہدیداروں کے سامنے اعتراض کیا کہ یہ فیصلہ درست نہیں ہے جن میں اترپردیش کے محسن رضا بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خدام میں ایسے لوگوں کو بھیجا جائے جو ارکان حج سے واقف ہوں اور وہ موقع بموقع اپنی ریاست کے عازمین کی رہنمائی کرسکیں۔گجرات حج چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت سرکاری ملازمین کی شرط کو ختم کرنا نہیں چاہتی ہے تو اسے کم سے کم 50فیصد تک محدود کردے تاکہ 50فیصد غیر سرکاری ملازمین خدام بن کر جاسکیں جبکہ راجستھان کے سابق وزیر عبد العزیز نے کہا کہ خدام میں ایسے لوگوں کوبھیجنا چاہئے جو وقت پڑنے پر حاجیوں کی طبی امداد کرسکیں ۔خاص طور پر منیٰ جہاں پر ہندوستان کیمپ میں صرف فرسٹ ایڈ کا ہی بندوبست ہوتا ہے اور یہاں حاجیوں کو کیمپ میں تین دنوں تک قیام کرنا پڑتا ہے ۔اگر خدام میں ڈاکٹر شامل ہوں تو ضرورت پڑنے پر ان کی مدد ہوسکتی ہے۔
فریضہ حج کے لئے جانے والے عازمین کو سعودی عرب میں جن مسائل کا باربار سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ایک مسئلہ ہے رہائش کا اور دوسرا ہوائی سفر کا۔ گزشتہ سال حج کمیٹی نے مکمل یقین دہانی کرائی تھی کہ حاجیوں کو رہائش کے تئیںکوئی دشواری نہیں ہوگی ،مگر شکایت یہ ملی کہ گرین کیٹیگری والوں کو بھی 1.5کلو میٹر سے دور العزیزیہ میں رہائش دی گئی۔اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں العنابیہ، شارع ستین سے بہت دور انہیں ٹھہرایا گیا؟ اس کے جواب میںسی جی آئی جدہ نور رحمن نے کہا کہ اس مرتبہ مکہ مکرمہ میں گرین کٹیگری والوں کو ایک کلو میٹر کے اندر اور بی کلاس کو العزیزیہ میں رکھنے کے لئے عمارتوں کا تعین ہوچکا ہے اور مدینہ منورہ میں تمام حاجیوں کو المرکزیہ میں رکھنے کا معاہدہ ہوچکا ہے۔انہوں نے اسکرین پر ان عمارتوں کے فوٹوز بھی دکھائے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بار بار رہائش بدلنی پڑتی ہے تو قونصل لانگ ٹرم اکوموڈیشن کیوں نہیں کرتی ؟اس پر انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت لانگ ٹرم اکوموڈیشن کی گارنٹی لینے کے لئے تیار نہیں ہے لہٰذا ایسا کرنا قونصل کے لئے رِسکی ہوسکتا ہے ۔
جہاں تک ہوائی سفر کی بات ہے تو ممہاراشٹر کے ابراہیم شیخ نے کہا کہ یہ عالمی قانون ہے کہ فلائٹ تاخیر ہونے کی صورت میں ایئر لائن مسافروں کو کھانا اور فائیو اسٹار ہوٹل فراہم کرے،مگر 2014 میں جو بڑی تاخیر ہوئی اور ایئر انڈیا نے حاجیوں کو عالمی ہدایتوں کے مطابق کوئی معاوضہ نہیں دیا،حکومت ہند سے اس کی شکایت کی گئی مگر اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔کیا گارنٹی ہے کہ اس مرتبہ اس طرح کا واقعہ نہ ہو، اس سوال پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ 2014 کے معاملہ پرخصوصی توجہ دی جائے گی ،جہاں تک امسال کے حج کی بات ہے تو تمام متعلقہ ایئر لائنز نے اس بات کی گارنٹی دی ہے کہ حاجیوں کو کوئی ایسی دشواری نہیں ہوگی۔
بہر کیف امسال کوٹے میں جو بحالی ہوئی ہے اس بحالی سے سعودی عرب کے تاجروں میں بھی خوشی ہے ۔چیمبر آف کامرس کے رکن ماہیر جمال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 4سالوں میں حج کوٹہ کی پابندی کے بعد سے لے کر اب تک بزنس انڈ سٹری کو 60ارب ریال کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے جوکہ سالانہ 15ارب ریال بنتا ہے۔حالیہ بحالی کی وجہ سے 60 ارب ریال خسارے کی تلافی ہوگی۔ سعودی عرب کو حج کوٹہ کم کرنے سے سالانہ 15 ارب ریال کا خسارہ ہورہا تھا۔ مگر اس فیصلے سے مکہ مکرمہ میں بڑے پیمانے پر خوشحالی آنے والی ہے۔ 4 برس تک حج کوٹے میں کمی کا نقصان مکہ مکرمہ کے شہریوں کو ہورہا تھا۔ جمال نے واضح کیا کہ سعودی حکومت حاجیوں کی خدمت بہتر طریقے سے کررہی ہے۔ مسجد حرام ، مطاف اور صحنوں میں توسیع جیسے منصوبے زائرین کی سہولت اور آرام و راحت کے لئے ان پر اربوں ریال خرچ کئے گئے ہیں۔ ماہر جمال نے توجہ دلائی کہ حج کوٹے کی بحالی کے خوشگوار اثرات پوری دنیاپر پڑیں گے اور سعودی عرب آنے جانے والے پروازوں کی طلب بڑھے گی۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران حج کوٹے کی کمی کے باعث اخراجات کی شرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کے حالیہ حج کوٹے کی بحالی سے اقتصادی فوائد ہوںگے بلکہ حج کی ادائیگی کے لئے کثیر تعداد میں آنے والے مسلمانوں کی وجہ سے مادی طور پر فائدے ہوں گے اور سب سے زیادہ فائدہ رہائشی منصوبوں کے مالکان کو ہوگا۔ ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کے کاروبار میں بھی وسعت پیدا ہوگی۔ صحت کی خدمات پیش کرنے والے بھی فیضیاب ہوںگے ۔غرضیکہ پرانے کوٹے کی بحالی سے جہاں حاجیوں میں خوشی کی لہر ہے ، وہیں مکہ اور مدینہ کے عوام اور تاجروں میں بھی جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *