عظیم الشان

وزیر اعظم نریندر مودی نے کامیابی کے ساتھ تین سال پورے کر لئے ہیں۔ ان تین سالوں میں ملک میں کئی طرح کے رنگ بکھرے ہیں۔ کچھ گہرے ہیں، کچھ دھندلے ہیں،کچھ ملے جلے ہیں لیکن جو سب سے گہرا رنگ ہے ،وہ ہے یو پی اے کے آخری چار سال، جس میں ملک کا بھروسہ سرکار نام کے ادارے سے ہِل گیا تھا ۔ہر مہینے کوئی نہ کوئی گھوٹالہ۔سی اے جی کی رپورٹ، سی بی آئی کے اوپر الزام ، وزیر اور وزیر کے صاحبزادوں کی بد عنوانی میں ملوث ہونے کے امکانات،جس کے پختہ ثبوت نہیں بھی تھے تو بھی لوگوں نے اس پر پختہ جیسا ہی بھروسہ کیا اور جتنا بھروسہ انہوں نے یو پی اے کی بد عنوانی کے اوپر کیا تھا ، اتنا ہی بھروسہ کیا نریندر مودی کے وعدوں پر، اور تین سال کے دور حکومت میںنریندر مودی نے ملک کے لوگوں کو یہ بھروسہ دلا دیا کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں۔ ان کی کابینہ میں کوئی بدعنوانی نہیں ہوئی، کوئی گھوٹالہ نہیں ہوا اور وہ ملک کے عوام کے بھروسوں پر کھرے اترنے والے وزیر اعظم ہیں۔ نریندر مودی نے ملک کے ہر آدمی کے ذہن میں خودداری کی ایک نئی تعریف پیدا کی کہ ہم پاکستان کو اس کے گھر میں جا کر مار سکتے ہیں۔ اگر اس کا تجزیہ کریں کہ اپوزیشن کیوں اتر پردیش میں اتنی بری طرح ہاری تو اس کی ایک حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ جس چیز کو کامیابی کے ساتھ وزیر اعظم نے لوگوں کی خودداری سے جوڑ دیا ، اسی چیز کی مخالفت اپوزیشن نے کی تو شاید لوگوں کو لگا کہ یہ تو ملک کے مفاد کے خلاف باتیں کررہے ہیں جبکہ مودی ملک کے وقار کی بات کررہے ہیں۔ مودی کی اس مقبولیت نے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال کھڑا کیا کہ جو پاکستان کے اوپر ہوئی سرجیکل اسٹرائک کی مخالفت کرتے ہیں یا اس کے اوپر سوال اٹھاتے ہیں، وہ لوگ ہندوستان کے تئیں کم، پاکستان کے تئیں زیادہ پیار رکھتے ہیں۔

 
مشتعل قوم پرستی اور امیر مخالف جذبہ
مودی جن جذبات کے اوپر الیکشن جیت کر وزیر اعظم بنے تھے، ان جذبات کے مطابق مودی کے وعدے تو لوگوں کے سامنے تھے لیکن مودی ایک نفسیاتی لڑائی ہار رہے تھے، جس کا اظہار دہلی اور پھر بہار اسمبلی کے انتخابات میں ہوا۔شاید یہیں سے نریندر مودی اس سوچ میں پڑے ہوں گے کہ انہیں کس طرح اپوزیشن کو سیاسی طور پر مات دینی ہے۔ نریندر مودی کی اس سوچ نے انہیں دو جگہ پہنچایا۔ایک تو سرجیکل اسٹرائک کے ذریعہ انہوں نے ملک کے ذہن کو جذباتی قوم پرستی کی حد میں لا کر کھڑا کر دیا، دوسرا اقتصادی مورچے پر انہیں غریبوں کے پہلو میںلا کھڑا کردیا۔
نریندر مودی نے نوٹ بندی کا فیصلہ یہ سوچ کر لیا تھا کہ اس سے انہیں 4 لاکھ کروڑ روپے اکانومی میں واپس ،درستگی کے لئے مل جائیں گے اور موٹے طور پر 15 لاکھ کروڑ روپے ملیں گے جس میں 4 لاکھ کروڑ کی وہ رقم بھی ہوگی جو بلیک منی یا نقلی نوٹ کے نام پر بازار میں چل رہی ہے۔ دراصل انڈین مارکیٹ میںچلنے والی دو نمبر کی معاشی نظام کی بنیادی کرنسی میں آجائے گی، بینکوںمیں آجائے گی لیکن ایسا ہوا نہیں ۔4لاکھ کروڑ اضافی کرنسی آگئی۔ 15 لاکھ کروڑرائج تھے ، وہ پیسہ بھی سفید ہو گئے جو غیر قانونی تھے اور وہ پیسے بھی قانونی ہو گئے جو نقلی نوٹ کی شکل میں تھے۔ شاید سب سے پہلے یہی دو درجے کے روپے سفید ہوئے اور اس میں سسٹم نے جم کر نقلی نوٹ والوں اور کالے دھن والوں کا ساتھ دیا۔ یہ سچ ہے کہ اس سے دو نمبر کی اکانومی دو مہینے کیلئے ختم ہو گئی لیکن چونکہ اسے بنائے رکھنے کے لئے قدم نہیں اٹھائے گئے ،اس لئے آج ہم پھر وہیں کھڑے ہیں اور جتنا پیسہ اس وقت کالے دھن کی شکل میں سسٹم میں تھا، اتنا ہی پیسہ کالے دھن کی شکل میں بازار میں گھوم رہا ہے۔ اکانومی سے پیرالیل اکانومی کا جو عنصر ختم ہو گیا تھا، وہ وزارت خزانہ کی یا بینکوں کی کاہلی سے پھر اپنی پرانی شکل میں پہنچ گیا۔ وہ کیش جو اکانوی میں واپس آگیا تھا، نئے نوٹ جاری ہونے کے بعد، سارا کیش لوگوں کے پاس واپس پہنچ گیا۔ مانا جارہا ہے کہ تقریباً 80 فیصد پہنچ گیا۔ 20فیصد بھی دھیرے دھیرے باہر آجائے گا، ایسا مانا جارہا ہے۔

 
اکانومی کو تو نوٹ بندی کا کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو سیاسی فائدہ اس لئے ہوا کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کامیابی کے ساتھ لوگوں کے دماغ میں یہ بات بیٹھا دی کہ وہ اینٹی ریچ (امیروں کے خلاف ) ہیں اور ہندوستان کے لوگوں کے ذہن میں یہ بات پہنچنا بڑی بات ہے۔ہندوستان کے لوگوں کے لئے پرو پووَر( غریب پرور) ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا ’اینٹی ریچ‘(امیر مخالف )ہونا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اپنے کو اینٹی ریچ یعنی امیر مخالف شبیہ کی شکل میں عوام کے سامنے رکھا۔ غریب نریندر مودی کے حق میں آیا اور اس نے ان میں اپنے لیڈر کی شبیہ دیکھنی شروع کر دی۔اپوزیشن نے اپنی ساکھ یہاں بھی خراب کی۔ وہ نہ مودی کی حمایت کررہا تھا بلکہ زبانی طور پر مودی کی مخالفت زیادہ کررہا تھا جس نے غریبوں کے ذہن میں ایک اور بات ڈال دی کہ اپوزیشن اس آدمی کے خلاف ہے جو ہمارے لئے امیروں سے لڑ رہا ہے۔ نریندر مودی کی اس چال نے ہندوستان میں کلاس وار میں غریبوں کا حامی ہونے کا ایک مثبت پیغام دیا۔ مودی غریبوں کے ساتھ ہیں اور اپوزیشن امیروں کے ساتھ ۔یہ ماحول غریبوں کے ذہن میں مودی جی نے کامیابی کے ساتھ انٹری کرادیا۔ بی جے پی کے لیڈروں کا ماننا ہے کہ اب 2019 کو لے کرہندوستان کے عوام کے ذہن میں نہ کوئی شک ہے اور نہ ہچکچاہٹ ۔ ان کا ماننا ہے کہ 2019 میں دوبارہ بی جے پی کی سرکار بنے گی اور نریندر مودی وزیر اعظم ہوں گے۔
اتر پردیش کے انتخابات نے اس میں بہت بڑا رول نبھایا۔ پوری ووٹنگ بی جے پی کے حق میں گئی جبکہ کل ووٹوں کی تعداد کی اکثریت کانگریس، سماج وادی پارٹی اور مایاوتی کے حق میں ہے لیکن سیٹیں سب سے زیادہ بی جے پی کو ملی ہیں۔ اتر پردیش کے اس نتیجے نے آنے والے سات سالوں کے لئے ،نریندر مودی کا راستہ لگ بھگ صاف کر دیا ہے۔
جن دھن اور اجولا نے کیا بی جے پی کا بھلا
یوگی آدتیہ ناتھ کو اتر پردیش کا وزیر اعلیٰ بنانا بھی نریندر مودی کے حق میں گیا۔نریندر مودی کو اتر پردیش میں ایک ایسے سخت چہرے کی ضرورت تھی، جس کے اوپر بد عنوانی کا الزام نہ لگا ہو اور جو اپنے ذہن ،قول و فعل سے نریندر مودی کے بنائے ہوئے روڈ میپ پر چلنے میں آنا کانی نہ کرے۔یوگی آدتیہ ناتھ اس میں یکدم صحیح بیٹھے۔ بی جے پی کے لئے اتر پردیش اس لئے اہم ہے کیونکہ اگر اتر پردیش سے 73 سیٹیں بی جے پی کو نہ ملی ہوتیں تو مرکز میں ان کی سرکار نہیں بنی ہوتی۔دراصل نریندر مودی نے دو بڑے سیاسی رسک لئے۔ ایک نوٹ بندی اور نوٹ بندی سے فائدہ نہ ہونے کے باوجود اس نوٹ بندی کو سیاسی طور پر اپنے حق میں موڑنا اور دوسرا یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کا وزیر اعلیٰ بنانا جس نے بی جے پی میں یا ملک میں یہ اثر پیدا کیا کہ مودی میرٹ کے اوپر چلتے ہیں اور پارٹی کے اندر کی گروپ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔
اجولا یوجنا کا رول
بی جے پی کی اتر پردیش میں جیت کا کردار’ اجولا یوجنا ‘نے تیار کیا۔جس میں لکڑی کے چولہے کی جگہ گیس کا مفت چولہا عورتوں کو دیا گیا جس کے اثر کو اپوزیشن نہیں بھانپ پایا اور عورتوں نے اسی طرح نریندر مودی کے نام پر ووٹ دیا،جس طرح بہار میں عورتوں نے نتیش کمار کے نام پر ووٹ دیا تھا۔ دوسرا’ جن دھن یوجنا ‘نے غریبوں کے بہت بڑے حصے کو وزیر اعظم مودی کی طرف موڑ دیااور اس امید نے انہیں اور موڑا کہ اب انہیں کھاتوں میں 15 لاکھ روپے آئیںگے جس کا وعدہ مودی جی نے لوک سبھا انتخابات کے دوران کیا تھا۔ ایک اور افواہ اتر پردیش میں پھیلی کہ ان کھاتوں میں وہ 15 لاکھ آئیںگے، جو غریبوں کے حق میں وزیر اعظم نے نوٹ بندی کے ذریعہ امیروں سے چھینے ہیں۔ نتیجتاً اتر پردیش پوری طرح سے وزیر اعظم کے ساتھ گیا، جس کی توقع خود وزیر اعظم یا بی جے پی نے نہیں کی تھی۔ اپوزیشن تو ایک طریقے سے سیاسی کومہ میں چلا گیا۔اکھلیش یادو نے بھی نوجوانوں کو لیپ ٹاپ بانٹے تھے اور اکھلیش یادو کو اس کا فائدہ ملا۔ لیکن لیپ ٹاپ خاندان کی زندگی پر اثر نہیں ڈال رہے تھے، اس لئے بہتوں نے اپنے لیپ ٹاپ بیچ دیئے اور بہتوں کے دھول کی وجہ سے خراب ہو گئے۔لیکن گیس کے چولہے نے پورے خاندان کو ایک نئی دنیا دی، جس دنیا میں دھواں نہیں تھا، کنڈے نہیں تھے، لکڑی نہیں تھی، ایک صاف ماحول میں کھانا بننا تھا ۔یہ سب خاندانوں کو حیران کرگیا۔
تین سال میں معیشت کا نظام کیسے پٹری پر آئے، اس کے بارے میں سرکار کچھ خاص نہیں کر پائی۔ وزیر اعظم سے امید تھی کہ وہ بڑے بینک ریفارم کریں گے۔ بزنس یا کاروبار کے حق میں ماحول بنائیں گے۔یعنی ایسا ماحول بنے گا جس میں کارو بار چھوٹے سے لے کر بڑے تک تیزی سے بڑھ سکے۔لا انفورسمنٹ ایجنسی ، ای ڈی،انکم ٹیکس،پولیس یہ سب کاروبار کے حق میں ہوں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ الٹے صورت حال بد سے بد تر ہو گئی اور یہ ساری ایجنسیاں کاروباریوں کا ہی ان دنوں بری طرح رس چوس رہی ہیں۔ بی جے پی کے لوگوں کا صاف کہنا ہے کہ جتنی طاقت انکم ٹیکس اور ای ڈی کو دی جارہی ہے یا دی گئی ہے اور اس کا جتنا غلط استعمال ان دنوں ہو رہا ہے وہ ڈرائونا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ آگے اس کا اور بھی غلط استعمال ہوگا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ’ جن دھن یوجنا ‘دراصل کانگریس کے زمانے میں بنی تھی جس کے ذریعہ کانگریس ڈائریکٹ کیش ٹرانسفر غریبوں کے کھاتے میں کرنا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ چاہے وہ سبسڈی ہو، مدد ہو یا کسی بھی شکل میں پیسے کی مدد ہو، سب سیدھے کسانوں کو ملے۔ یہ اسکیم یو پی اے نے بنائی تھی لیکن اس کا فائدہ نریندر مودی کو ملا ۔
این پی اے سے معیشت کو دھکا
این پی اے نے بھی بینکوں کی ریڑھ توڑی اور معیشت کو بہت بڑا دھکا دیا۔سب سے بڑا سوال ان پی اے سے یہ اٹھا کہ کیا بینکوں کی ملی بھگت سے گزشتہ تین سالوں میں بینکوں سے رشتہ رکھنے والے بڑے کاروباریوں نے جان بوجھ کر بڑے لون لئے اور انہیں پھر این پی اے میں منتقل کیا ۔یہ سوال بہت گردش کررہا ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کے این پی اے کی کہانی ہے، ان میں سے بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کے پاس نوٹس جاہی نہیں پائے۔ریونیو سکریٹری اور فائننس سکریٹری، دونوں ہی پریشان ہو گئے کہ جن لوگوں نے لون لئے، ان کا نام اور پتہ کیوں نہیں مل رہا ہے؟ان کا پتہ ہے ہی نہیں ؟وہی لوگ جو اس ملک کو چھوڑ کر غیر ملکوں میں بسے ہیں، انہوں نے بینکوں سے ملی بھگت کر کے پیسے لیا اور این پی اے میں اس سارے پیسے کو ڈال دیا۔ اب بینک جانے، سرکار جانے، یہ پچھلے تین سال میں بہت ہوا اور اس نے معیشت کو بہت دھکا پہنچایا۔ این پی اے کی وجہ سے منی سرکولیشن ٹوٹ گیا اور بہت سارے لوگوں کا کاروبار، جسے دھندہ کہتے ہیں ،وہ بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا۔ اس صورت حال کو موجودہ سرکار کی وزارت خزانہ نہیں سنبھال پائی۔سرکار اس پوری صورت حال کا اندازہ ہی نہیں کرپائی کہ اگر یہ صورت حال پیدا ہوگی تو اس صورت حال کا سامنا کیسے کریں گے؟شاید ملک کی معیشت کو سب سے زیادہ اگر دھکا کسی ایک نکتے پر لگا ہے تو وہ این پی اے کا نکتہ ہے۔
نریندر مودی کے تین سال کی کامیابی یہ ہے کہ سیاسی بدعنوانی لگ بھگ بند ہوتی دکھائی دی۔ بند ہوا ہے کہ نہیں ہوا ہے،یہ پھر کبھی طے ہوگا لیکن آج تصور یہ بنا ہے کہ نریندر مودی کی سرکار میں وزیر بدعنوانی نہیں کررہے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ انہیں وزیر کے ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ اب بد عنوانی سکریٹری سطح پر یا نوکر شاہی کی سطح پر ہو رہی ہے، سیاسی بدعنوانی یعنی وزیروں کی بدعنوانی ،لین دین نہیں ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ لوگوں کے بیچ میں اس تصور کا بننا کہ سیاست داں جو اقتدار میں ہیں، بد عنوانی سے دور ہیں، یہ بڑا پرسیپشن ہے اور اس پرسیپشن نے وزیر اعظم کو کافی ساکھ دی ہے۔
ہریانہ اور راجستھان کی سرکاروں کے کام کاج نے ہریانہ اور راجستھان کے لوگوں کے من میں بی جے پی کو لے کر کافی خدشات پیدا کئے ہیں اور وہ لوگ اپنی ریاست کے کام کاج سے وزیر اعظم کے تین سال کے کام کاج کا موازنہ کررہے ہیں۔وقت پر فیصلہ نہ کرنا، جس میں شاید دونوں ہی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ شامل ہیں ،بھی بی جے پی کے خلاف ان ریاستوں میں گیا ہے لیکن یہ ناکامیاں لوگوں کے سامنے اس لئے نہیں آپائیں کیونکہ بی جے پی اتر پردیش میں بہت اچھی طرح کامیاب ہوئی لیکن کامیاب ہونا ساری ناکامیوں کوڈھک تو سکتا ہے لیکن ختم نہیں کرسکتا۔ ان کے نشان، ناکامی کی آوازبنے رہتے ہیں اور وہ کب اثر کریںگے،وہ بس وقت کی بات ہوتی ہے۔ اتر پردیش اور اترا کھنڈ کے انتخابات میں بی جے پی نے سب کچھ ٹھیک کیا، ایسا نہیں ہے۔دراصل سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی بھیانک غلطیوں کی وجہ سے بی جے پی جیت گئی ،لیکن جیت کے بعد وہ ان غلطیوں کا اندازہ نہیں کرپائی جواس نے ان انتخابات میں کی تھیں۔ کا میابی کا نشہ بہت خراب ہوتا ہے اور تین سال میں پہلی بار بی جے پی پر اتر پردیش انتخابات کے بعد کامیابی کا نشہ چڑھا ہے۔ آسام کے بعد وہ نشہ نہیں چڑھا تھالیکن اتر پردیش کے بعد پوری بی جے پی اور اس کے ذمہ دار لوگ کامیابی کے نشے میں جھوم رہے ہیں۔

 
عدم ربط اور کڑواہٹ سے بھروسہ بحال نہیں ہوگا
اگر تین سال کے دور حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یا خود واعظم مودی کی ناکامیوں کو دیکھا جائے تو ملک میں تنائو کا اور آپس میں اشتعال کا ماحول بنا ہوا ہے۔ اس ماحول کی جڑ میں صرف اور صرف ایک وجہ ہے عدم ربط ۔وزیر اعظم کا ربط اپوزیشن پارٹی سے نہیں ہے، کسی بھی اپوزیشن پارٹی سے نہیں ہے۔ قومی پارٹی مانی جانے والی کانگریس جو کہ پارلیمنٹ میں سب سے بڑا اپوزیشن ہے، اس کے ساتھ تو ہے ہی نہیں ۔کسی کے ساتھ بھی وزیر اعظم کا ربط نہیں ہے۔ جب ہم ربط کی بات کرتے ہیں تو اپوزیشن پارٹیوں کو چھوڑ دیجئے، وزیر اعظم کا ربط تو اپنی پارٹی کے لوگوں سے بھی نہیں ہے۔ وزیر اعظم سے کون وزیر مل پاتا ہے، کون وزیر بات کر پاتا ہے، کس وزیر کو وزیر اعظم بلاتے ہیں، یہ ان کا انتخاب ہوتا ہے لیکن اجتماعی طور پر وزیروں کے ساتھ صلاح و مشورہ وزیر اعظم نہیں کرتے۔ خود بی جے پی کے درمیان جتنی بھی تنظیم ہیں، چاہے وہ صدر سے نیچے کے عہدیدار ہوں، چاہے وہ ایگزیکٹیو ہوں ،چاہے وہ قومی ایوان نمائندگان ہوں،جتنے بھی حصے ہیں، وہ کوئی بھی وزیر اعظم سے یا خود صدر سے رابطہ میں نہیں ہیں۔ اب وہاں فیصلے نہیں ہوتے، اب وہاں فیصلے سنائے جاتے ہیں۔ جو پچھلے صدر کے وقت میں نہیں ہو پایا،وہ موجودہ صدر کے وقت پارٹی میں ہو گیا، جس سے پوری بی جے پی کے کارکنوں کے بیچ ایک عجیب سا ٹھہرائو آگیا ہے۔ بی جے پی کے اہم لیڈروں کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی بات چیت سے جن باتوں پر اتفاق ہوسکتا ہے، بات چیت نہ کرنے کی وجہ سے وہ بھی کڑواہٹ کے پوائنٹ بن گئے ہیں۔ بہت سے بی جے پی کے سینئر لیڈروں کا کہنا ہے کہ سیاسی ماحول کی کڑواہٹ ، ملک کے لئے اچھی نہیں ہے ۔اس چیز کو ختم کرنے میں سرکار کو جو کوشش کرنی چاہئے ، سرکار کوشش بالکل ہی نہیں کررہی ہے۔ پاکستان کا سوال ان میں سب سے اہم ہے۔ پاکستان کے ساتھ آل پارٹی میٹنگ بلانا ،تنائو کم کرنے کا طریقہ نہیں ہے۔یہ سرکار ٹریک 2 پر بھروسہ نہیں کر رہی ہے۔ٹریک 2 پر ربط اگر ہو، تو شاید پاکستان سے بھی کڑواہٹ کم ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیںکہ کنشنسیس کی، عام اتفاق رائے کی جو سمجھ ہونی چاہئے، وہ سمجھ اس سرکار میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ سیکورٹی، سرحد، پاکستان اور کشمیر کا سوال ،یہ ایسے سوال ہیں جن پر ملک کی سیاسی پارٹیوں میں اتفاق رائے بن سکتا ہے۔ لیکن وہ بنانے کی خواہش سرکار میں دکھائی نہیں دیتی اور یہ بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے بیچ تشویش کا موضوع ہے۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے مجھے کہا کہ بنیادی اپوزیشن پارٹی کانگریس سمیت اگر سات پارٹیوں کے ہی ساتھ سرکار اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرتی ہے اور اتفاق رائے بنا لیتی ہے تو سرکار کا مورل فیبرک بن جائیگا۔ اس ملک میں سرکار کو کام کرنے میں بہت آسانی ہوگی اور عوام کے بیچ بھروسہ کا بہت اچھا ماحول پیدا ہو جائے گا۔
گزشتہ تین سال میں بی جے پی کی تنظیم کی صورت حال بی جے پی کے ہی دستور کے مطابق گڑبڑا گئی ہے اور وہ اسکے حساب سے نہیں چل رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ملک کی سرکار سیاسی افراد کے ذریعہ نہیں چل رہی ہے، وزیروں کے ذریعہ نہیں چل رہی ہے، بلکہ سکریٹریوں کے ذریعہ چل رہی ہے۔ ہر وزیر ڈرا ہوا ہے کہ اس کا سکریٹری وزیر اعظم کے ساتھ میٹنگ میں اس کے بارے میں کیابول دے ۔ لگ بھگ ہر وزیر اس پریشان کن صورت حال میں ہے کہ وہ پیاز بھی کھا رہا ہے اور جوتے بھی کھا رہا ہے۔ وہ وزیر بھی ہے اور اپنا در د بھی وزیر اعظم سے نہیں کہہ سکتا کیونکہ وزیر اعظم یا امیت شاہ کسی وزیر کا درد سننے کے موڈ میں ہی نہیں ہیں، اس لئے وہ اپنی وزارت میں دراصل چائے پینے کے علاوہ کوئی اہم کام نہیں کررہا ہے۔یہ میرا الزام نہیں ہے،یہ بی جے پی کے لیڈروں میں تاثر ہے اور اسے ہندوستان کی جمہوری صحت کے لئے خود بی جے پی کے سینئر لیڈر اچھا نہیں مانتے۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہے کہ امیت شاہ جی کا یہ دوسرا ٹرم ہے۔نہ انہوں نے اپنے سارے آفس بیئررس بنائے اور نہ ایگزیکٹیو بنائے۔ ان کے ذریعہ وزیر اعظم کی خواہش آ جاتی ہے اور وہ مان لیا جاتاہے کہ وہ پارٹی کا فیصلہ ہے ۔نہ بات ہوتی ہے،نہ بحث ہوتی ہے،نہ غور و فکر ہوتا ہے۔ الیکشن کمیٹی، پارلیمانی بورڈ، آفس بیئررس ،ان میں اب کوئی بھی، یہ بس اب دکھانے کی بات رہ گئی ہے۔ان میں فیصلے نہیں ہوتے ۔ایک بڑے لیڈر نے مجھے کہا کہ جب آرگنائزنگ وِنگ بھی ایک آدمی پر مرکوز ہو جائے ،سرکار بھی ایک آدمی پر مرکوز ہو جائے تو یہ نظام کے لئے اچھا نہیں ہے،خود بی جے پی کے لئے اچھا نہیں ہے۔

 
وزیر بڑا یا پی ایم او
مجھے بی جے پی کے ایک بہت بڑے لیڈر نے بلٹ ٹو لاسٹ کتاب کی مثال دی اور کہا کہ اس کتاب کو پڑھنا چاہئے۔یہ کتاب کہتی ہے کہ جو تنظیم فرد پر مبنی تھی، وہ تو ختم ہو گئی لیکن جو تنظیم اقدار پر مبنی تھی یا سسٹم پر مبنی تھی، نظام پر مبنی تھی، وہ 100سال تک چلی۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی میں پہلے 100 سال چلنے کی صلاحیت تھی، لیکن اب یہ دھیرے دھیرے فرد پر مبنی پارٹی ہوتی جارہی ہے۔ اس لئے یہ کتنے دن چلے گی ،اس کا اندازہ لگانا’ بلٹ ٹو لاسٹ‘ کتاب کے فارمولے کے حساب سے بہت مشکل نہیں ہے۔
دراصل وزیروں کا درد سننے والا کوئی ہے نہیں ۔بہت سارے اچھے وزیر ہیں۔ان کی منصوبے ہیں ان کے ذہن میںتھا کہ وہ وزیر بنے ہیں تو سرکار میں یا ملک کے لئے وہ یہ یہ کریںگے،لیکن جس طرح کا سسٹم وزیر اعظم نے بنایا ہے، بیوروکریسی پر مبنی سکریٹریوں کے اوپر اس سے وہ اپنی خود داری کی توہین ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔اس وجہ سے سارا نظام پی ایم او پر مبنی ہو گیا ہے۔ ساری فائلیں پی ایم او میں ہیں۔ اتنے بڑے ملک میں کیا ہونا چاہئے ،کیا نہیں ہونا چاہئے ،وہ چاہے وزیر ہوں یا سکریٹری ہو، وہ پی ایم او کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔کوئی اپنی ذمہ داری اٹھانا نہیں چاہتا۔ جب پی ایم او سے ہدایت آجاتی ہیں تب اس کے اوپر کام شروع ہوتا ہے۔ فیصلے تاخیر سے ہوتے ہیں۔پی ایم او کی بھی ایک صلاحیت ہے۔ 48 گھنٹے کا کام 24 گھنٹے میں نہیں کیا جاسکتا ،یہ سینٹرلائزیشن بہت ساری چیزوں کے اوپر بیٹھا ہوا ہے اور پی ایم او کی وجہ سے بہت سارے فیصلے نہیں ہوپارہے ہیں۔ گجرات ماڈل سے آج کا ماڈل بالکل برعکس ہے ۔ گجرات میں کوئی بھی چیز چیف منسٹر سینٹریک نہیں تھی۔ سی ایم او سینٹریک نہیں تھا۔ ہر وزیر کی اپنی ذمہ داری تھی، اسے ٹارگیٹ دے دیا تھااس دور کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے۔ سب اپنا اپنا کام کررہے تھے، نتیجہ دے رہے تھے او رنریندر مودی جی ان کو مانیٹر کررہے تھے۔ لیکن جب وہ وزیر اعظم بنے تو انھوںنے بالکل اس سے الٹا کام کیا ۔ انھوںنے کسی کو کوئی ٹارگیٹ نہیںدیا،کسی کو کوئی ویژن نہیں دیا، موٹے موٹے پرنسپل دیے، لیکن ان کے اوپر کام کرنے کا اختیار سیاسی شخصیات کو نہیںبلکہ نوکر شاہوںکو دے دیا۔
وزیر اعظم آفس میں، جسے پی ایم او کے طور پر جانا جاتا ہے، تقرریوں میں پی کے مشرا کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے اور باقی چیزوں میںوزیر اعظم نرپیندر مشرا کی، جو ان کے کیبنٹ سکریٹری ہیں،ان کی صلاح کا بہت احترام کرتے ہیں۔ تیسرا سب سے بڑا نام اجیت ڈوبھال کا ہے جو ہرچیز پر اپنی رائے رکھتے ہیں اور وزیر اعظم مذہبی طور طریقہ کی طرح سے اس پر عمل کرتے ہیں۔ یعنی ملک نریندر مودی، نرپیندر مشرا، پی کے مشرا اور اجیت ڈوبھال کے کہنے پر چل رہا ہے۔ کابینہ میںپہلے یہ مانا جاتا تھا کہ ارون جیٹلی سب سے طاقتور وزیر ہیں اوروزیر اعظم ان سے بات کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ارون جیٹلی کی وزارت بھی ان کی اپنی وزارت نہیںہے۔ وہ بھی ایک عام وزیرکی طرح ہیں اور وزیر اعظم کے اپنے نوکرشاہوں کی ٹیم وزارت مالیات بھی چلا رہی ہے۔
وزیر اعظم کے نزدیکی وزیروںمیںسے پیوش گوئل اور دھرمیندر پردھان ہیں۔ وزارت مالیات، وزیر اعظم مودی خود چلاتے ہیں او روزارت داخلہ پورے طور پر اجیت ڈوبھال کے کہنے سے چلتی ہے۔ نتن گڈکری میںانرجی ہے او روزارت خارجہ باہر کے لوگوںکی صلاح سے چل رہی ہے۔ ریلوے منسٹر سریش پربھو کو ان کی حمایت حاصل ہے،لیکن وہ بہت کچھ کرنہیں پارہے ہیں۔ وینکیا نائیڈو کو جی حضور ہاں حضور جیسی شخصیت اس کابینہ میںمانا جاتا ہے۔ نریندر مودی جی نے ایک اور کمال کا کام کیا ہے۔ انھوںنے جتنی بھی وزارتیںتھیں، ان سب کی قدر میںکمی کردی۔ جن وزارتوںکو پہلے کابینہ وزیر دیکھتے تھے،اب ان وزارتوںکو وزیر مملکت آزاد چارج دیکھ رہے ہیں۔ ٹیلی کام، کول، پاور، یہ سب وزرائے مملکت کے ماتحت ہیں۔
سنگھ کے ساتھ کبھی ہاں، کبھی نہ والا رشتہ
سنگھ کے ساتھ وزیر اعظم کے رشتے عجیب و غریب ہیں۔ پہلے سنگھ میں سینئر لوگ ہوا کرتے تھے تو وہ پارٹی کو صلاح دیتے تھے، رہنمائی کرتے تھے۔ آج سنگھ کی قیادت اور حکومت کی قیادت یعنی وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ، ان کے وہ برابر ہیں ہم عمر ہیں۔ اس لیے نہ وہ ان کو اس طرح کی رہنمائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی نریندر مودی لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنگھ حکومت کے بہت سارے کاموںسے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی ان سے کنسلٹیشن نہیںکررہا ہے۔ وہیں دوسری طرف وزیر اعظم مودی تعلیم اور ثقافت کے شعبے میںپورے طور پر سنگھ کی ہدایات پر یا سنگھ کی رائے پر عمل کررہے ہیں۔ کیونکہ سنگھ کا انٹریسٹ ہے تعلیم و ثقافت میں۔ دونوںوزارتوںمیںسنگھ کے لوگ نیچے سے اوپر تک ہیں۔ چاہے وہ رائے دینے کا مسئلہ ہو یا عمل کرنے کا ۔ باقی وزارتوں میں سنگھ کی مداخلت نہ کے برابر ہے کیونکہ وزیر اعظم نے اس کی اجازت نہیں دے رکھی ہے۔ اب یہ رشتہ نہ بہت اچھا ہے اور نہ بہت برا ۔ اس کے باوجود سنگھ کی ذیلی تنظیمیں اپنی ناراضگی وقتاً فوقتاً ظاہر کرتی رہتی ہیںلیکن اس سے وزیر اعظم کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سنگھ ان کی حمایت میں کھڑا نہیںہوتا۔لیکن ان ذیلی تنظیموں کو اپنی بات کہنے سے سنگھ روکتا بھی نہیں ہے۔

 
کشمیر ،پاکستان اور مودی
ملک میںاس وقت سب سے تشویش کا موضوع کشمیر ہے او رجب کشمیر میںالیکشن ہوا تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور سنگھ کے سینئر لوگوںکا ماننا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو باہر رہ کر پی ڈی پی کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن امت شاہ اور رام مادھو اس رائے کے تھے کہ نہیں انھیںسرکار میںشامل ہونا چاہیے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تنظیم کے سینئر لوگوںکا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کشمیر کا کوئی حل نکلے اور اس کا کریڈٹ بی جے پی کو نہ ملے۔اسی لیے کشمیر میںاب بی جے پی اس اتحاد سے باہر آنا چاہتی ہے اور تقریباً یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ کشمیر میںصدر راج لگے گا تو محبوبہ مفتی نے آکر کچھ وقت اور مانگا اور شاید انھیں دو یا تین مہینے دیے گئے ہیں کہ اگر وہ کشمیر میںامن قائم نہیںکرپائیں تو بی جے پی اس اتحاد سے باہر آجائے گی۔ سنگھ کے کچھ اہم لوگوںکا کہنا ہے ،جو کشمیر معاملات کے ماہرہیں، کہ بی جے پی اگر سرکار سے باہر رہتی تو کشمیر کا حل نکلوانا، اس کے لیے پی ڈی پی کی سرکار سے آسان ہوتا۔ لیکن اب چونکہ وہ خودحکومت میںشامل ہے، اس لیے وہ حل نہیں نکل سکتا، صورت حال خراب ہوگی اور آخرکار بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس اتحاد سے باہر آنا ہی پڑے گا۔
سرجیکل اسٹرائک اور اس کے قاعدے کو حکومت میں کچھ وزیر نریندر مودی کی ساکھ میں لامحدود بڑھوتری مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نریندرمودی نے جس طرح سے لائن آف کنٹرول کو اپنے ملک کے عزت نفس کی حفاظت کے لیے اعلان کرکے کراس کیا ،اس نے ان کی ساکھ بہت بڑھائی۔ اور اسی بڑے شخص نے کہا کہ جب کارگل کی جنگ ہوئی تھی تو ہمارے فوجیوں کی شہادت میںبہت زیادہ بڑھوتری اس لیے بھی ہوئی تھی کیونکہ ہم نے ایئر پاور کا استعمال نہیںکیا تھا۔ اس وقت اٹل جی نے کہا تھا کہ کسی بھی قیمت پر ہم ایل او سی کراس نہیںکریں گے اور اگر ہم ایئر پاور کا استعمال کرتے تو طیاروں کو ایل او سی کراس کرنی پڑتی۔ لیکن اس بار نریندر مودی نے کھلا اعلان کیا کہ ہم ملک کے عزت نفس اور حفاظت کے لیے اگر ضرورت پڑی تو ایل او سی کو بھی کراس کریںگے۔ سرجیکل اسٹرائک کرنے کے بعد نریندر مودی نے اعلان کیا کہ ہم نے ایل او سی پار کی اور پاکستان کے فوجیوںکو مارا۔ ان دوست کا یہ تجزیہ ہے کہ کتنے لوگوںکو مارا، یہ اہم نہیںہے۔اہم ہے یہ اعلان کرنا کہ ہم نے ایل او سی کراس کی او رملک کی حفاظت اور عزت نفس کے لیے ہم نے سرجیکل اسٹرائک کی۔ جو لوگ کہتے ہیںکہ پہلے بھی سرجیکل اسٹرائک ہوتی تھی،وہ چوری چھپے جاتے تھے۔اس بار مودی نے اعلان کیا اور سرجیکل اسٹرائک کی اور یہ ذمہ داری لی کہ ہم نے لائن آف کنٹرول پار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک تاریخ میںدو ہی ملک ایسے ہوئے ہیںجنھوںنے یہ اعلان کرکے یہ کام کیا۔ ایک امریکہ،جس نے اپنی سرحد سے بہت دور ملکوںمیںاپنی حفاظت کے لیے حملے کیے اور دوسرا اسرائیل، جو اپنے ملک کی حفاظت کے لیے حملہ کررہا ہے۔ دنیا میںتیسرا ملک ہندوستان بنا جس نے یہ مانا کہ ہم نے ایل او سی کراس کی ہے۔
بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نریندر مودی کی اس سیاسی جرأت کی بہت تعریف ہوئی۔ کیونکہ اب تک کسی نے بھی یہ نہیںکہا تھا کہ ملک کی حفاظت اور عزت کے لیے ہم نے لائن آف کنٹرول پار کی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ہم پھر دوبارہ پار کریں گے۔ اسے دنیا نے نریندر مودی کی ایک بے مثال سیاسی جرأت کا نام دیا۔

 
آگے کاراستہ
نریندر مودی سرکار کے تین سال میں جمع کے کھاتے میںکم، خسارے والے کھاتے میںزیادہ نمبر ہیں۔ لیکن ان کی کوئی اہمیت اس لیے نہیںہے کیونکہ نریندر مودی نے سیاسی جنگ میںجو سبقت حاصل کی ہے،اس سبقت نے ہر غریب کے دل میںنریندر مودی کو اپنے سائڈ کا اور اپنے مفادات کا سب سے بڑا محافظ مان لیا ہے۔ نریندر مودی دائیںبازو کی آئیڈیا لوجی پر سوار ایک ایسے شخص ہیں جن کی زبان سماجوادی او رکمیونسٹ ہے اور انھوں نے کمیونسٹ اور سماجوادی یا بائیںبازو حامی عوام کو اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ اس لیے ان کا کوئی بھی وہ وعدہ جو وہ پورا نہیںکرپائے، لوگوںکے لیے تشویش کا موضوع نہیںہے۔ یہ تشویش کا موضوع اپوزیشن کے لیے ہوسکتاہے جو بغیر اسٹریٹجی کے یا بغیر تلوار بازی کا فن جانے تلوار چلارہا ہے۔ نریندر مودی نے جمہوریت کو ایک نئی تعریف بھی دی ہے۔ نریندر مودی نے میڈیا کو بھی اتنا متاثر کیا ہے کہ میڈیا بھی صحافت کی نئی تعریف لکھ رہا ہے۔ بغیر وزیر اعظم آفس کے چاہے بغیر نریندرمودی کے اشارہ کیے، آج ٹیلی ویژن انڈسٹری میںاور پرنٹ انڈسٹری میںایسے صحافیوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی ہے جو بے مثال نریندر مودی ،باہوبلی نریندر مودی،ان داتا نریندرمودی،بھگوان کا اوتار نریندر مودی جیسی صفات سے ہندوستان کے عوام کو نریندر مودی کی شخصیت کے ان پہلوؤںکو ظاہر کرارہے ہیں جو شاید خود نریندر مودی بھی نہیںجانتے۔ اور نریندر مودی کا میڈیا کے سر کے اوپر بیتال کی طرح گھس جانا نریندر مودی کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہم تھوڑے دنوں میں دیکھیںگے صحافت کی نئی تعریف، صحافت کے نئے الفاظ، صحافت کا نیا انداز، بے مثال نریندر مودی اور تین سال بے مثال جیسے لوگ اب صحافت کے تمام کردار کو بدلنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اچھا ہے اگر ہم ان اشاروںکو پہچانیں، دیکھیں او رکوشش کریںاور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کریں کہ اس کا نتیجہ مستقبل میںکیا ہوگا؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *