گئو رکشا کے نام پر ‎ظلم ملک کو شرمسار کررہا ہے: ہیومن رائٹس واچ رہورٹ

ہندوستان کی موجودہ صورت حال اور گئو کشی کے نام پر بے قصوروں کی پٹائی،مظالم اور لوٹ پار پر ہیومنرائٹس واچ رپورٹ نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں جلد Gau-Rakshakسے جلد معاملے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔اس صورت حال نے دلتوں اور اقلیتوں کو بہت زیادہ خوفزدہ کردیا ہے جو کہ ملک کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔مزید براں ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے بھی ملک بھر میں گائے کے نام پر دلتوں، اقلیتوں اور سماج کے دبے کچلے افراد پر مظلم کے واقعات میں اضافہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئےہ کیا ہے کہ گؤر کشا جیسی غیر قانونی تنظیم پر ملک بھر میں پابندی عائد کی جائے۔

ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم مودی کے نام خط میں کہا ہے کہ گؤرکشا جیسی جماعتیں ملک میں متوازی حکومت و عدالت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے اور اس طرح کی تنظیمیں بے دریغ ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر ایک ساتھ مدعی و منصف کا کردار ادا کررہی ہیں۔اس طرح کی سرگرمیاں کسی بھی جمہوری ملک کیلئے نقصان دہ ہیں اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس طرح تنظیموں پر لگام نہ کسی گئی تو وہ ملک کیلئے خطرہ بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔
اور اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کیلئے ایک علاحدہ میکانزم بنانے کی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہاکہ  ملک کے مختلف حصوںمیں گائے کے نام پر مظالم اور لوٹ پات سے نہ صرف اقلیتوں میں بے اطمینانی اور بھروسے معدوم ہورہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *