کسانوں کی امیدوں کو مرنے مت دیجئے

کسانوں کے سوال پرانتخاب لڑا جاتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو مینیمم سپورٹ پرائس دینے کی بات کی اور یہ بھی کہا کہ کسانوں کی آمدنی 2022 تک دوگنی ہو جائے گی۔ کسانوں کے سوال پر بہار کا الیکشن لڑا گیا، جسے لالو یادو اور نتیش کمار نے جیتا۔ کسانوں کے سوال پر ہی اتر پردیش کا الیکشن لڑا گیا، جسے بی جے پی نے جیتا۔کسانوں کے سوال متعدد کسان تنظیمیں اٹھا رہی ہیں۔سوال وہی ہے ،کسانوں کو بیج نہیں ملتا۔ کسانوں کو کھاد مہنگے داموں پر ملتا ہے۔بیج ملتا ہے تو خراب بیج ملتا ہے یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بیج ملتا ہے، جو دوبارہ فصل پیدا کرنے کے لائق نہیں رہتا۔کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔سرکاری خرید میں دھاندلی ہوتی ہے۔ جب فصل پیدا ہوتی ہے ،تب سارے تاجر مل کر اس کی قیمت گرا دیتے ہیں اور پھر وہ قیمتیں بڑھتی ہیں،لیکن اس کا کوئی فائدہ کسان کو نہیں ملتا۔
کسانوں کے سوال کیوں الجھے ہوئے رہ جاتے ہیں؟ہر پارٹی کے پاس کسانوں سے جڑی ذیلی تنظیم ہے۔بی جے پی ،کانگریس ہو یاسماج وادی پارٹی ،ہر پارٹی میں کسانوں سے جڑی ہوئی ایک الگ تنظیم ہے۔وہ جب اقتدار میں نہیں ہوتی ہے تو کسانوں کی لڑائی بہت زور و شور سے لڑتی ہے۔ لیفٹسٹ پارٹیاں کسان سبھا کے نام سے کسانوں کو منظم کرتی ہیں، لیکن کسان منظم ہو نہیں پاتے۔ اب پھر کسانوں کے سوال کو لے کر مختلف تنظیمیں اپنی آوازیں اٹھا رہی ہیں۔
کسان قرض کے جال میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ وہ خود کشی کرنے لگتا ہے۔پہلے وہ گائوں کے ساہو کار کے قرض کے جال میں پھنس کر خود کشی کرتا تھا، آج کل بینکوں کے قرض کے جال میں الجھ کر خود کشی کررہا ہے۔ کسان جس ماحول میں رہتا ہے ، وہاں سماجی عزت بہت بڑی چیز ہے۔ اگر اس کا سماجی وقار گرتا ہے تو وہ یہ مان لیتا ہے کہ اس کے جینے کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔وہ خود مرکر تو اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے لیکن اپنے خاندان کو ایک ایسی لڑائی میں جھونک دیتا ہے جس میں صرف اور صرف بربادی ہی ہوتی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے تین سال پورے کر لئے ہیں۔ کامیابی کا جشن جاری ہے، لیکن اس جشن میں کسان کہاں ہے؟دہلی میں تمل ناڈو کے کسان احتجاج کرکے جا چکے ہیں، اب مہاراشٹر کے کسان احتجاج کررہے ہیں۔ کسانوں کے قرض معافی کے سوال پر بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ راجو شیٹی پونا سے ممبئی تک کا مارچ نکالنے جا رہے ہیں۔وہ اس میں دوسری تنظیموں کے لیڈروں کو آنے کے لئے بھی مدعو کررہے ہیں۔ راجو شیٹی تو بی جے پی میں ہیں اور میرا اندازہ ہے کہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ میں 80 فیصد سے زیادہ وہ ممبران ہیں، جو خود کھیتی کرتے ہیں، کسان ہیں۔ لیکن راجو شیٹی کے ساتھ یہ سبھیلیڈر شامل نہیں ہیں۔ قرض معافی کے سوال پر بی جے پی نے اپنی کوئی پالیسی نہیں بنائی ہے ۔ ہونا یہ چاہئے کہ قرض معاف کرنے کی جگہ پر کسانوں کو سہولت اور موقع دینے کا منصوبہ بنے، کسانوں کو بھکاری بنانے کی جگہ خود کفیل بنانے کا منصوبہ بنے۔
آزادی کے بعد سے اب تک تقریباً سبھی سرکاریں مرکز میں اقتدار سنبھال چکی ہیں،لیکن کسان وہیں کا وہیں ہے۔ تقریباً سات سال اٹل جی وزیر اعظم رہے۔ انہیں مکمل اکثریت نہیں تھی، شاید اس لئے وہ کسانوں کے لئے کچھ نہیں کر پائے۔ اب مرکز میں بی جے پی کی سرکار ہے۔ اس پارٹی سے میں صرف قرض معافی کی امید نہیں کرتا، بلکہ بی جے پی ، جس کی دو تہائی سے زیادہ اکثریت پارلیمنٹ میں ہے، اس سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ کسانوں کو لے کر ایک جامع کسان پالیسی بنائے، کسان کمیشن بنائے۔ اسے آئینی درجہ دے، تاکہ اس کمیشن کے ذریعہ کسانوں کے مسائل مرکزی سرکار کے کانوں تک پہنچ سکے۔ دہلی کا جنتر منتر ایک ایسی جگہ ہے ،جہاں آپ کتنا بھی چلائیں، ایک فرلانگ دور کنگورے پر بیٹھی ہندوستانی سرکار یا ہندوستان کی پارلیمنٹ کے کانوں میں وہ آواز نہیں پہنچتی ۔اس آواز کو وہاں تک پہنچانے کے لئے کوئی آئینی حیثیت سے لیس تنظیم ہونی چاہئے۔ آپ چاہے اس کا نام دین دیال اپادھیائے کسان آیوگ کر دیجئے لیکن کسان کمیشن بنائیے۔تاکہ پارلیمنٹ کے سامنے کسانوں کے مسائل کا پائیدار تجزیہ پہنچ سکے اور کسانوں کو کیا سہولتیں ملنی چاہئے، اس کی بھی پالیسی کا تعین ہوسکے۔
مہاراشٹرمیںاورنگ آباد اور ناسک کے کسانوں نے ایک نئی پالیسی اپنائی ہے۔ تقریباً 700-800 گائوں نے میٹنگ کرکے یہ طے کیا ہے کہ وہ ممبئی شہر کو پھل اور دودھ نہیں بھیجیں گے۔اتنا ہی نہیں، انہوں نے یہ طے کیا ہے کہ زیادہ تر کسان ایک ایکڑ میں اتنی ہی فصل پیدا کریں گے ، جتنی فصل ان کے خاندان کے کھانے کے کام آسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہمیں فصل کی قیمت نہیں ملتی ، ہمیں فصل جلانی پڑتی ہے، پیاز اور ٹماٹر سڑک پر پھینکنا پڑتا ہے، گنے کو جلانا پڑتا ہے،تو ہم اسے کیوں پیدا کریں؟ہم سارے کھیت بنجر چھوڑ دیں گے، صرف ایک ایکڑ میں کھیتی کریں گے۔اگر یہ بات ملک کے کسانوں نے قبول کر لیا تو ممبئی یا دہلی جیسے شہر کو یا جتنے بھی شہر ہیں، ان کے سامنے روٹی کا بحران کھڑا ہو جائے گا۔ تب سرکار غیر ملکوں سے بڑی مقدار میں اناج درآمد کرے گی۔ میرا ماننا ہے کہ سرکار اپنی حساسیت تھوڑی اور بڑھائے۔ کسانوں کی زندگی میں روز آنے والی دشواریوں کو دور کرنے کے لئے سرکار کوئی قدم اٹھائے، کم سے کم ان کی بات تو سنے۔ ہندوستان کا کسان کشمیر نہیں ہے کہ جس کی بات نہیں سنی جانی چاہئے۔ ہندوستان کا کسان ملک کا غدار بھی نہیں ہے۔ہندوستان کا کسان تو سرکار بنانے میں اپنا سب سے بڑا کردار نبھاتا ہے۔ پھر کیوں سرکار، جو مرکز میں ہے، وہ کسانوں کی بھلائی کے لئے کچھ نہیں کرتی۔ ان کی تکلیفوں کے ازالے میں آگے بڑھ کر حصہ کیوں نہیں لیتی ؟
مرکزی سرکار کے تین سال پورے ہونے کی اس خوشی کے موقع پر میں یہ اداریہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ اگر کوئی ذمہ دار ممبر پارلیمنٹ اس اداریہ کو پڑھے اور وزیر اعظم مودی سے گزارش کرے کہ تین سال پورے ہونے کے اس خوشی کے موقع پر آپ ان کسانوں کو مت بھولئے، جنہوں نے آپ کو اتنی زبردست جیت دلانے میں بہت بڑا رول نبھایا ہے۔کسان نے جب اچھے دن کی بات پر بھروسہ کیا، تو اسے لگ رہا تھا کہ پہلے سال نہیں ، دوسرے سال نہیں تو تیسرے سال اسے پیداوار کے وعدے کے مطابق دام ملے گا۔ اسے سستی بجلی ملے گی، اسے پانی ملے گا، اس کی فصل کو پروسیس کرنے کا کارخانہ اس کے بلاک میں لگے گا۔ اسے کم سے کم اتنا پیسہ مل جائے گاتاکہ وہ اپنے بچے کو پڑھا سکے اور اپنی بیٹی کی شادی کر سکے اور تھوڑی عزت کے ساتھ زندگی جی سکے، لیکن ایسا ہوانہیں۔ شاید اس لئے کسان احتجاج کررہے ہیں جس کی قیادت بی جے پی سے جڑے ممبر پارلیمنٹ تک کررہے ہیں۔
میں صرف اور صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ کسانوں کے مَن سے اگرامید کی ڈور ٹوٹ گئی تو نئے سرے سے پورے ملک میں خود کشی کا دور شروع ہو جائے گا۔ ابھی جو کسان جنتر منتر پر اپنا رونا لے کر آئے ہیں، یہ وہی جگہ ہے جہاں وزیر اعظم ، وزیر اعظم بننے کے بعد گئے تھے اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ میں صورت حال کو بدل دوں گا۔ لیکن دہلی ایسی دلکش جگہ ہے کہ ایمانداری سے وعدہ کرنے والا بھی جب دہلی آتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے،چاہے وہ اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں۔کسانوں کے سوال کو اپوزیشن بھی اہم نہیں مانتا۔ کسانوں کے سوال پر اپوزیشن آپس میں بات چیت نہیں کرتا۔ کسانوں کے سوال پر اپوزیشن لڑائی کا منصوبہ نہیں بناتا اور کسانوں کے سوال پر علامتی انشن یا آندولن بھی اپوزیشن نہیں کرنا چاہتا ۔کسانوں کے بنیادی مسائل کو لے کر کسان ممبر پارلیمنٹ تو کم سے کم وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کے پاس جاسکتے ہیں،لیکن ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ میں جاکر کسان اپنے کو کسان کہنے میں شرم محسوس کرنے لگتا ہے۔ شاید تبھی وہ سرکار کے سامنے منظم ہوکر اپنی بات نہیں کہتا۔ کسانوں کے مسائل نہ بھگوا ہیں، نہ لال ہیں، نہ ہرے ہیں، نہ نیلے ہیں اور نہ پیلے ہیں۔
کسانوں کے مسائل زندگی کے مسائل ہیںجس کا کوئی رنگ نہیں ہے۔ ان مسائل کو لے کر ، تمام پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ جن کا رشتہ کھیت سے ہے، گائوں سے ہے، کیوں سرکار کے اوپر دبائو نہیں ڈالتے ؟منموہن سنگھ کے دس سال گزر گئے ۔اس کے پہلے اٹل جی کے آٹھ سال بیت گئے۔ اس سے پہلے گجرال صاحب اور دیو گوڑا کے ایک ایک سال گزر گئے۔ نرسمہارائو کے پانچ سال گزر گئے، لیکن کبھی کسانوں کے سوال کو لے کر ممبران پارلیمنٹ منظم نہیں ہوئے تو کیا پارلیمنٹ بلڈنگ میں ہی کچھ تصوراتی جادو ہے کہ وہاں اگر کسان جاتا ہے تو بھول جاتاہے کہ وہ کسان ہے۔ ہم وزیر اعظم سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ کسانوں کی امیدوں کو مرنے مت دیجئے۔ آپ نے جو وعدے کسانوں سے کئے ہیں، اگر وہ آپ پورا کر دیں گے تو ملک کا کسان مسکرانے لگے گا اور جب کسان مسکرائے گا تبھی ملک مسکرائے گا، وزیر اعظم صاحب ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *