تین سال میں اقلیتوں کو کیا ملا؟

اقلیتوں کے تناظر میں نریندر مودی حکومت کے تین برس کا جائزہ لیتے وقت جو سوال سب سے پہلے ذہن میںآتا ہے،وہ یہ ہے کہ اس عرصہ میںاقلیتوں بشمول 2011 کی مردم شماری کے مطابق 172 ملین یعنی ملک کی کل آبادی کی 14.2 فیصد مسلم کمیونٹی کو کیا ملا؟
مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی فلاح کے لیے مرکزی بجٹ میںمختص رقم کو بڑھایا ہے۔اس ضمن میں2 فروری 2017 کو 2017-18 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے دعویٰ کرتے ہوئے بڑے فخر سے ٹویٹر پر کہا تھا کہ ’’بہت سالوںکے بعد یہ بجٹ 395 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔‘ جبکہ ان کا دعویٰ مجموعی اور معنوی اعتبار سے صحیح نہیںہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مودی حکومت نے اپنے تین برسوںمیںچار بجٹ پیش کیے،جن میں پہلا بجٹ ان کے اقتدار میںآنے کے فوراً بعد کا تھا۔ 2014-15 کے لیے اس عبوری بجٹ میںاقلیتوں کے لیے مختص کی گئی رقم 3089 کروڑ روپے اسی سال کے قبل کے منموہن سنگھ حکومت کے عبوری بجٹ میںمختص رقم 3511 کروڑ روپے سے 422 کروڑ روپے یعنی 16.76 فیصد کم تھی جو کہ کھلے طور پر مودی حکومت کی اقلیتوں کے تعلق سے مائنڈ سیٹ کی عکاسی تھی۔
جہاںتک مودی حکومت کے ذریعہ باقی تین بجٹوںمیںاقلیتوںکے لیے مختص کی گئی رقم کے ہر سال بڑھائے جانے کی بات ہے،وہ تو منموہن سنگھ حکومت کے زمانے میںبھی ہوا کرتا تھا اور وہ کوئی نئی بات نہیںہے۔ وہ تو دیگر شعبوں میںبڑھوتری کی طرح بڑھتا رہتا ہے۔نوٹس لینے کی یہ بات ہے کہ اقلیتوں کے لیے جو رقم مختص کی جارہی ہے، وہ بھی دیگر پسماندہ طبقات اور شعبوں کے بالمقابل بہت کم ہے اور اونٹ کے منہ میںزیرہ کے برابر ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2017-18 کے مرکزی بجٹ میں ملک کی کل 19 فیصد اقلیتوںکی فلاح کے لیے جو رقم مختص کی گئی ہے ، وہ کل بجٹ کا محض 0.2 فیصد ہے۔ لہٰذا محض اس کی بنیاد پر اقلیتوںکے امپاورمنٹ کی بات سوچنا خام خیالی اور دھوکا ہے۔
ان سب کا نتیجہ یہ ہے کہ اقلیتیںمجموعی طور پر زندگی کے ہر شعبہ میںامپاورمنٹ سے بہت دور ہیں۔ تعلیم، معیشت ہو یا صحت، ہرشعبہ میںیہ بری طرح پچھڑتی جارہی ہیں۔ گزشتہ 12 مئی 2017 کو ہرش مندر کی سربراہی والے سینٹر فار اکیوٹی اسٹڈیز (سی ای ایس) کی 310 صفحاتی انڈیا ایکسکلوزن رپورٹ 2016 (India Exclusion Report 2016) کو دیکھنے پر اور بھی مایوسی پیدا ہوتی ہے اور ایک شخص یہ جان کر چونک جاتا ہے کہ چار پبلک گڈس یعنی عوامی شعبوں جیسے پینشن برائے ضعیف العمر، ڈیجیٹل پہنچ، زراعت اور قانونی انصاف برائے انڈر ٹرائلزمیںاقلیتوں کی رسائی نہیںکے برابر ہے اور یہ اس تعلق سے دلت،آدیباسیوں اور جسمانی طور پر معذوروں کے ساتھ ان سہولیات اور ترقی سے محروم ہیں۔
ایک ایسے وقت جب مودی حکومت گزشتہ تین برسوں میںاپنی حصولیابی کے دعوے کرتے تھک نہیںرہی ہے،یہ انکشافاتی رپورٹ اس حکومت کا منہ چڑا رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق فی الوقت 52.60 فیصد مسلمان بغیر زمین کے ہیں۔ اس دوران کیے گئے لینڈ ریفارمز سے بھی انھیںکوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ ان محروم طبقات کی پہنچ ڈیجیٹل تک نہیںکے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس کے اواخر میںمودی حکومت کے ذریعہ کیش لیس معیشت پر زور ڈالنے کے باوجود ڈیجیٹل سہولیات سے محروم یہ طبقات مالیاتی طور پر بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس کا ان کی معیشت پر اثر بڑا خراب پڑا ہے اور ان کی اقتصادی حالت مزید چرمراگئی ہے۔
اقلیتوں کی ترقی کی دوڑ میںپیچھے ہونے اور ا ن کی محرومی کا یہ انکشاف ایک ایسے وقت میںہوا ہے جب ان کے امپاورمنٹ کے لیے متعدد اسکیمیںپہلے سے نافذ ہیں اور نئی نئی اسکیموں کا اعلان ہوتا رہتا ہے۔ گزشتہ 12 مئی کو بھی دو نئی اسکیموں کا اعلان کرتے ہوئے مختار عباس نقوی نے اپوزیشن کے برخلاف اقلیتوں کے بغیر منہ بھرائی کیے ہوئے امپاورمنٹ کا ایک بار پھر دعویٰ کیاہے ۔ انھوںنے کہا کہ وزارت اقلیتی امور نے سنگھ آڈیالاگ اور سابق جن سنگھ کے صدر پنڈت دین دیال اپادھیائے کی 25 ستمبر کی صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر ’استاد سمان سماگم‘ اسکیم لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اقلیتی کمیونٹیوں کے آرٹیزنوں (Artisans) کی ہمت افزائی ہوسکے اور انھیںمارکیٹ کا ایکسپوزر بھی دیا جاسکے۔دوسری اسکیم ’تحریک تعلیم‘ہے جسے سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام کی 15 اکتوبر کو 86 ویںیوم پیدائش کے موقع پر لانچ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا فوکس ملک کے 100اضلاع کے اسکول ہوں گے اور مقصد وہاں وافر اساتذہ، ٹفن اور بیت الخلاء کا انتظام کرنا ہوگا۔
قابل ذکربات تو یہ ہے کہ نقوی نے کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت پر یہ الزام بھی لگا ڈالا کہ اس نے2007سے لے کر2014 تک سات برسوں میںاقلیتوں کے لیے ایک بھی ڈگری کالج نہیںکھولا جبکہ ان کے دعویٰ کے مطابق مودی حکومت نے اقلیتوںکی گھنی آبادی والے علاقوں میں33 ڈگری کالج قائم کیے ہیں۔ نیز اسی 7 برس کے دوران یعنی 2007 تا 2014 منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ قائم کیے گئے 72 صنعتی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کے بالمقابل مودی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں97 صنعتی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کھولے ہیں۔ جب ان دعووں کے تعلق سے تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ منموہن سنگھ کے زمانے کے قائم کیے گئے انسٹی ٹیوٹس تو بحسن وخوبی چل رہے ہیں مگر مودی کے آنے کے بعد گزشتہ تین برسوںمیںکھولے گئے صنعتی اداروں کو ابھی ٹھوس شکل اختیار کرنا باقی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ کسی بھی اسکیم اور خاص طور سے اقلیتی اسکیموں کے اعلان کے بعدنفاذ کا وقت آنے میںلمبا عرصہ لگ جاتا ہے اور اسے کسی شکل کو اختیار کرنا تو ایک ہمالیائی ٹاسک ہوتا ہے۔ اس تعلق سے ایک سوال یہ بھی ہے کہ اقلیتوںکے تعلیمی ادارے خواہ وہ جنرل ہوں یا صنعتی اور تکنیکی، کی نگرانی کون کرے گا؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ اقلیتوںسے متعلق دو اہم کمیشن بحرانی دور سے گزررہے ہیں۔ ان میںسے ایک قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیم ادارہ جات (این سی ایم ای آئی ) ہے تو دوسرا قومی کمیشن برائے اقلیتی امور (این سی ایم) ہے۔ مودی حکومت کے آتے آتے این سی ایم ای آئی بغیر چیئرمین کا ہوگیا۔ ان تین برسوں میںبار بار سوال اٹھائے جانے کے بعد اب تک جسٹس سہیل اعجاز صدیقی کے ٹرم ختم ہوجانے کے بعد کسی نئے چیئرمین کی تقرری نہیںہوسکی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق معاملات کو دیکھنا اسی مخصوص کمیشن کا کام ہے۔ چیئرمین کی غیر موجودگی میںاس کا کام بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ دوسرا کمیشن این سی ایم ہے۔ سات رکنی این سی ایم میں بھی اس وقت نہ کوئی چیئرمین ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ سبھی کی رکنیت کی مدت ختم ہوچکی ہے۔ اس سال کے اوائل میں چیئرمین نسیم احمد اور آخری رکن دادی ای مستری جو کہ پارسی ہیں، کے رخصت ہوجانے کے بعد پارلیمنٹ کے قانون سے بنا یہ قومی کمیشن یتیم بنا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں اقلیتوںکی عمومی حالت اور اقلیتی تعلیمی اداروں کی خصوصی طور پر کون خبرلے گا اور ان سے متعلق ایشوز کو کون دیکھے گا؟ مختار عباس نقوی کا تو اس تعلق سے اتناہی کہنا ہے کہ این سی ایم ، این سی ایم ای آئی اور اقلیتوں سے متعلق دیگر ایشوز سے وزارت اقلیتی امور حکومت کو مطلع کرتی رہی ہے اور یہ تمام ایشوز اس کے زیر غور ہیں۔
جہاں تک اقلیتی اسکیموں کا معاملہ ہے، ان کی فہرست تو اتنی لمبی ہے کہ اسے دیکھ کر ایک شخص اس میںکھوجاتا ہے اور مرعوب ہوتا ہے۔ وزارت اقلیتی امور کے دعووں کا معاملہ تو اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان دعووںکے مطابق زمینی سطح پر کوئی ترقی یا امپاورمنٹ قطعی دکھائی نہیںپڑتا ہے۔ مثال کے طور پر ایم ایس ڈی پی (ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام) اور 15 نکاتی وزیر اعظم پروگرام کے تحت اقلیتوں کے لیے بجٹ میں مختص رقم کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مختص کی گئی رقم کا بڑا حصہ اقلیتوں کے تعلیمی امپاورمنٹ کو جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود دوسری کمیونٹیوں کے مقابلے اقلیتی کمیونٹیوں میںتعلیم کی مختلف سطحوں پر ڈراپ آؤٹ اب بھی بڑے پیمانے پر ہورہا ہے اور اقلیتوںمیںمسلمان ڈراپ آؤٹ میں سب سے آگے ہیں۔ وزارت اقلیتی امور کے تحت سوشل جسٹس کے تعلق سے محکماتی اسٹینڈنگ کمیٹی اپنی 32 ویں رپورٹ میںاس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرچکی ہے کہ آخر اسکالر شپ پروگرام، ایم ایس ڈی پی اور 15 نکاتی وزیر اعظم پروگرام کے دس برسوں بشمول تین برسوںسے چلنے کے باوجود یہ پسماندگی دور کیوں نہیں ہورہی ہے؟ علاوہ ازیں نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (این ایس ایس او) نے بھی اسکول نہ جانے والے افراد کے بارے میں اپنی 575 ویں رپورٹ میںجو تعداد بتائی ہے،وہ بھی چونکانے والی ہے اور اسی لائن پر ہے۔
سب سے عجب بات تو یہ ہے کہ جو بھی بجٹ ہرسال گزشتہ تین برس سے پیش کیا جاتا ہے، اس میںایسا کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہو کہ مسلم کمیونٹی کے امپاورمنٹ کے لیے سچر کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی تھیں،اس تعلق سے مودی حکومت سنجیدہ اور مخلص ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات میں مسلمانوں میں پسماندگی سے متعلق مخصوص مسائل سے نمٹنے کے لیے تعلیم، اقتصادی ترقی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کے میدانوں میںمسلم کمیونٹی کے اندر ترقی کے ایشوز پر خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا تھا۔ اس کمیٹی نے اس سلسلے میںدیگر عمومی پالیسی پیش رفتوں بشمول نیشنل ڈاٹا بینک، یکساں مواقع کمیشن (ای او سی) اور ڈائیورسٹی انڈیکس کی بھی سفارش کی تھی تاکہ سرکاری اداروں میںعدم شمولیت کے شکار مسلمانوںکو ترقی کے دائرے میںلایا جاسکے لیکن اس سمت میں کچھ بھی کام نہیں ہوا۔
مودی کے تین برس کے جو چار بجٹ ہیں،ان میںمنموہن سنگھ حکومت کے دونوں ادوار کی طرح ایسا کچھ بھی نہیںہے جس سے سچر رپورٹ کی روشنی میںمسلمانوںکی مجموعی صورت حال کو درست کیا جاسکے۔ جب ہم مودی حکومت کی تین برسوں میںمسلمانوں کے تعلق سے کوششوں پر غور کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سابقہ منموہن سنگھ حکومت کی طرح سچر رپورٹ کے بعد سے وزیر اعظم کے نئے پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت اقلیتوں کے چند فلیگ شپ پروگراموں پر اسکیموں جو کہ تعلیم، روزی روٹی، سرکاری سہولیات تک رسائی، کریڈٹ اور مہارت ابھارنے سے متعلق ہیں،کو ہی ٹارگیٹ کرتی آرہیہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وزار ت اقلیتی امور کے تحت اسکالر شپ، کمیونٹی لیڈر شپ اور علاقے کی ترقی کے لیے نئی ترقیاتی اسکیم اور پروگرام بنائے جاتے ہیں جن میںعلاقہ کے ترقیاتی پروگرام جیسے ایم ایس ڈی پی سب سے اہم ہوتا ہے لیکن یہ تمام سرکاری پروگرام مسلمانوں پر فوکس کرنے کے بجائے اقلیتوں کو ٹارگیٹ کررہے ہوتے ہیں جس سے مسلمان ترقی کی دوڑ میں سچر رپورٹ کی سفارشات کے باوجود محروم رہ جاتا ہے۔
فی الوقت وزارت اقلیتی امور تعلیمی امپاورمنٹ،مہارت اورروزی روٹی،اقلیتوںکے لیے خصوصی پروگرام اور ایم ایس ڈی پی جیسے علاقائی ترقیاتی پروگرام کو چلانے میںمصروف ہے۔ ذرا غور کیجئے، 12 پلان میں وزارت اقلیتی امور کے لیے مجوزہ مختص رقم 17 ہزار کروڑ روپے کے آس پاس تھی، جن میںتقریباً 15 ہزار 771 کروڑ روپے کی وزارت اقلیتی امور کے ذریعہ نشاندہی کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ وزارت اقلیتی امور کے لیے مختص رقم 2016-17 میں3 ہزار 827 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2017-18 میں4 ہزار 195 کروڑ کردی گئی ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ 9 فیصد کا 2017-18 میں اضافہ کیا گیا ہے۔مگر یہ کیسی عجب بات ہے کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق جو اقلیتیں ملک میں 19 فیصد سے زیادہ ہیں، ان کے لیے مکمل بجٹ کا محض 0.2 فیصد 2017-18 کے بجٹ میںمختص کیا گیا ہے۔ ان سب سے واضح طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘ نعرہ کا پول کھل جاتا ہے اور یہ بات سامنے آتی ہے کہ تمام اسکیموں کے باوجود یہ ان کی ترقی ا ور امپاورمنٹ کے لیے سنجیدہ اور مخلص نہیںہے۔

نئی روشنی اسکیم فلاپ رہی
’نئی روشنی‘اقلیتی خواتین کے لیے لیڈر شپ ڈیولپمنٹ کا پروگرام ہے جسے 2012-13 میںشروع کیا گیا تھا۔ اسے این جی اوز کے ذریعہ چلنا تھا مگر یہ ناتجربہ کار این جی اوز اور فنڈ کی کمی کی وجہ سے عدم کارکردگی کا شکار ہوگیا اور اپنے ٹارگیٹ میںبری طرح ناکام رہا۔ اس تعلق سے نیتی آیوگ کے ڈیولپمنٹ مانیٹرنگ اور ایویلوایشن آرگنائزیشن (ڈی ایم ای او) نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ بہتر کارکردگی نہ ہونے میںایک اہم رکاوٹ یہ رہی کہ ’نئی روشنی‘ کے تحت ٹریننگ پروگرام کو چلانے کے لیے تجربہ کار این جی اوز کا انتخاب نہیںکیا گیا۔ مذکورہ آیوگ کی تحقیق کے مطابق، منتخب این جی اوز میںسے 55 فیصد این جی اوز کے پاس محض ایک سے دو برس کا تجربہ تھااور صرف 30 فیصد ہی تجربہ کی لازمی تین برس کی شرط کو پورا کررہے تھے۔
ڈی ایم ای او کی اسٹڈی8 ریاستوں کے 15 اضلاع، 30 بلاک، 87 گاؤں اور متعدد این جی اوز پر محیط تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ صرف تعلیم یافتہ اور سیلف امپلائڈ خواتین کو ہی ٹارگیٹ کرنے کے سبب اسکیم کا فائدہ بہت محدود رہا۔ اسٹڈی کے مطابق، ’نئی روشنی‘ اسکیم سے استفادہ کرنے والوں میں25.5 فیصد میٹرک پاس، 16 فیصد انٹرمیڈیٹ ، 7.5 فیصد گریجویٹ اور 1.7 فیصد پوسٹ گریجویٹ تھے۔ لہٰذا اس اسٹڈی سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیر تعلیم یافتہ لڑکیوں اور خواتین اس اسکیم سے مجموعی طور پر محروم رہیں۔
علاوہ ازیں تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ دھوم دھام سے پانچ برس قبل لانچ کی گئی یہ اسکیم شروع سے ہی فنڈ کی کمی کا بری طرح شکار رہی۔ اسٹڈی کے لیے منتخب تمام این جی اوز (صدفیصد) کی تحریری طور پر شکایت رہی کہ ریزیڈنشیل پروگرام کے لیے بھی موجودہ فنڈ کم ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ 93 فیصد این جی اوز کی یہ بھی شکایت ہے کہ اس اسکیم کے نفاذ کی ذمہ داروزارت رقم کی قسط وقت پر ریلیز نہیں کرتی ہے، جس کے سبب یہ این جی اوز اس اسکیم کے تحت مزید ٹریننگ پروگراموں کے لیے اپلائی کرنے سے جھجک رہی ہیں۔ گرچہ یہ پروگرام منموہن سنگھ حکومت کے آخری دو برس میںشروع ہوا تھالیکن اس کے بعد اس کا دور مودی حکومت کے دوران ہے۔ مگر نیتی آیوگ کی اسٹڈی میں مودی حکومت کے صرف ڈیڑھ برس کور ہوئے ہیں۔
اس طرح تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ’نئی روشنی‘ اسکیم سخت بحران کا شکار ہے۔ چونکہ اس اسکیم کا مقصد یہ تھا کہ مسلم خواتین کو علم، ٹولز اور تکنیک سے لیس کیا جائے تاکہ وہ سرکاری سسٹم، بینکوں اور دیگر اداروںسے تمام سطحوںپر رابطہ پیدا کرسکیں یعنی انہیںامپاور کیاجائے،اس لیے نیتی آیوگ نے مایوس کن نتیجہ کے باوجود ’نئی روشنی‘ پروگرام کو جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔’نئی روشنی‘ اسکیم کی ناکامی سے یہ بات تو ثابت ہوہی جاتی ہے کہ مسلم خواتین کو بھی مودی حکومت کے تین برس میںمجموعی طور پر کچھ نہیںملا ہے۔

auasif asif

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
auasif asif
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *