موت کا جزیرہ جہاں حاملہ کنوریوں کو چھوڑ دیا جاتا تھا

Dead-Islandsافریقی ملک یوگنڈا میں ایک زمانے میں اگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے ہی حاملہ ہو جائے تو اسے خاندان کی بے عزتی تصور کیا جاتا تھا اور اسے مرنے کے لیے ایک چھوٹےجزیرے سے میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایک ایسی خاتون مودا کیتاارگابروے  ہے  جس کو  اس کے بھائی نے جزیرے پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا لیکن شادی کے متمنی ایک ملاح نے اسے بچا لیا تھا۔ مودا کیتا ارگابروے جب بارہ برس کی تھی تو  اس خاندان کو پتہ چلا کہ وہ  حاملہ ہو چکی ہے۔ ااس کے بھائی نے اسے ایک کشتی میں ڈال کر اکمپنی (سزا جزیرے) پر چھوڑ دیا۔  وہ وہاں چار راتیں ں بغیر پانی اور خوراک کے گذاری ۔ پانچویں روز ایک ملاح آیا تو اس نے مودا سے کہا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر چلو۔  مودا کو لگا کہ وہ  اسے  دھوکہ دے کر کشتی میں بٹھا لےگا اور پھر گہرے پانیوں میں پھینک دے گا۔ جب  وہ ہچکچائی تو اس نے صاف صاف بتا دیا کہ وہ  اسے اپنی بیوی بنانے کے لیے بچا رہا ہے۔ مودا کیتاارگابروے اب اس جزیرے سے جہاں سے اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا وہاں کشتی کے صرف دس منٹ کے سفر پر رہتی ہیں۔ مودا کیتاارگابروے کا کی عمراس وقت تقریبا80 برس ہے۔

یوگنڈا کی باکیگا معاشرے میں جوان عورت سے امید کی جاتی ہے کہ وہ شادی کے بعد ہی حاملہ ہو۔ اس سے اس کے خاندان کو اچھی قیمت ملتی تھی جو مال مویشیوں کی شکل میں ادا کی جاتی تھی۔ انیسویں صدی میں یوگنڈا پر انگریز راج کے باوجود یہ رواج جاری رہا۔ یوگنڈا میں پرانے زمانے میں عورتیں تیرنا نہیں جانتی تھیں اور اگر عورت اس جزیرے پر چھوڑ دی جائے تو اس کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو وہ پانی میں چھلانگ لگا کر ڈوب جائے یا پھر بھوک پیاس سے مرنے کے لیے تیار رہے۔ لیکن اس جزیرے پر ساری عورتیں مرتی نہیں تھیں۔ کچھ نوجوان جن کے پاس بیوی خریدنے کے لیے رقم نہیں ہوتی تھی وہ اس جزیرے کا چکر لگاتے رہتے تھے اور اگر انھیں کوئی عورت مل جائے تو اسے بچا کر اسے شادی کر لیتے تھے۔ مودا کیتاارگابروے اس شخص کے بارے میں بتاتی ہیں جس نے اسے موت جزیرے بچایا تھا۔ ‘وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے تمھیں بچایا اور تمھیں کوئی دکھ نہیں دوں گا۔ ہمارے ہاں چھ بچے پیدا ہوئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *